ریاست مدینہ کا تصور اور خد وخال (شجاع الدین شیخ)

masjid e nabviیہ مثبت پہلو ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی ابتدائی چند تقریروں میں رسول اللہ ﷺ کو اور آپﷺ کی قائم کردہ ریاست مدینہ کو رول ماڈل قرار دیا ۔ان کی تقاریر میںمستقل وہ آیت قرآنی تلاوت کی جارہی ہے جس میں ہمارے لئے رسول اللہ ﷺ کے اسوئہ حسنہ کو بہترین اسوہ قرار دیا گیا ہے اور اسی طرح اپنی تقاریر کے آغاز میں وہ ”ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں“جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس کو مثبت انداز میں لیں ،اس کی تحسین کریں کہ حکمرانوں اور ذمہ داروں کی طرف سے بیانات اور کچھ اہداف کے بیان کی حد تک مثبت باتیں سامنے آرہی ہیں ۔اس میں اپنا جو حصہ بھی ڈال سکتے ہیں وہ ضرور ڈالیں۔اسی کا اصول ہمیں قرآن میں عطا کیا گیا ہے سورہ مائدہ کی آیت میں کہ نیکی اور تقویٰ کی باتوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی کے بارے میں تعاون نہ کرو‘‘۔
ہمدردی کے جذبے کے ساتھ جیسے صحیح مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ دین تو نصح و خیرخواہی کا نام ہے اور حدیث مبارکہ میں آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ، اس کے رسول ﷺ ،اور مسلمانوں کے آئمہ سمیت عوام الناس کے ساتھ نصح و خیرخواہی کا جذبہ اختیار کیا جائے ،یہ دین کا تقاضا ہے۔جب ہم ریاست مدینہ کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف جاتی ہے اور آپﷺجو دین لے کر آئے اس کی تعلیم، ریاست کی اجتماعی اور نظام کی سطح پر بھی ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ پورے کے پورے دین پر عمل کیا جائے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت208میں ارشاد ہوا کہ اے یمان والو!دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاﺅ۔
نبی اکرم ﷺ کی مشن کا بیان قرآن میں تین مقامات سورہ توبہ کی آیت 33،سورہ فتح کی آیت 28 اور سورہ صف کی آیت 9 میں جس میں فرمایا گیا کہ وہی ہے (اللہ) جس نے اپنے رسول کو بھیجا الہدیٰ مکمل ہدایت نامہ قرآ ن اورمکمل نظام زندگی دے کر تاکہ تاکہ آپﷺ اسے کل کے کل نظام زندگی پر غالب فرمادیں بیان ہوا اس مشن کی تکمیل کے نتیجے میں ریاست مدینہ ہمیں قائم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
حضور ﷺ کی اس مشن کی تکمیل کے لئے 23برس کے عرصے پر محیط جو عظیم جدوجہد فرمائی وہ بھی ہمارے سامنے رہے ۔اس کے پیچھے13برس کی مکی دور کی قرآن کی محنت ہے ۔قرآن کی آیات کی تلاوت، اس کے احکام کے ذریعہ تزکیہ اور حکمت و دانائی کی باتیں سکھا ئے جانے کا بنیادی طریقہ ہے یعنی افراد قرآن حکیم کی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں میسر آئے۔اس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ نے ان کا تزکیہ فرمایا جس کے نتیجے میں وہ جماعت میسر آئی جو میدان بدر میں اللہ پر توکل کرکے اتری۔ ان میں توکل قرآن کے ذریعے پیدا ہوا۔
اگلی بات یہ ہے کہ اسلام جو اپنا غلبہ چاہتا ہے تو اس تناظر میں ریاست کی ضرورت کیوں ہے۔ ایک مخمصہ ہمارے معاشرے میں پچھلے دو تین سو سال کی محنتوں کے نتیجے میں ہمارے ذہنوں میں راسخ ہوچکا ہے کہ مغرب سے درآمد شدہ جملہ چلا آتا ہے کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس کا امور سلطنت میں کوئی کردار نہیں۔ ریلیجئن جس کا ہم ترجمہ مذہب کردیتے ہیں، مذکورہ بات دنیا کے دوسرے مذاہب کے بارے میں تو درست ہوسکتی ہے لیکن اسلام کے بارے میں بالکل غلط ہے۔ اسلام محض ایک مذہب ہی نہیں جو انسان کے صرف انفرادی معاملات میں رہنمائی دیتا ہو بلکہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کے معاملات کے لیے بھی رہنمائی عطا کرتا ہے اور اس تعلق سے اپنا غلبہ چاہتا ہے۔آج اگر مسلمان نماز قائم کرنے کے مطالبے کے نتیجے میں نماز ادا کرکے مطمئن ہوجائے تو یہ اسلام نہیں ہے۔
یہ اسلام کا ایک جز ہے جس پر عمل کیا جارہا ہے جو اسلام یہ کہتاہے کہ نماز قائم کرو، وہی اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کرو۔ دین کے بہت سارے احکامات وہ ہیں جن پر ہم انفرادی سطح پر عمل نہیں کرسکتے۔ مثال کے طور پر نماز قائم کرنے کے حکم کے ساتھ زکوٰة قائم کرو کا تقاضا بھی ہے جس کی وصولی ہوگی پھراس کی تقسیم کا معاملہ ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ایک اجتماعی نظم چاہئے۔ قرآن کہتا ہے کہ اگر سودی لین دین نہیں چھوڑتے تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہوجاﺅ۔ اگر ہم اپنے آپ کوکرنٹ اکاﺅنٹ تک محدود کرلیں گے تب بھی ہم سودی نظام کا حصہ بننے پر مجبور ہیں۔ پورا سودی نظام کو اکیلے اکیلے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ریاست کی قوت جس کو قوت نافذہ کہتے ہیں کا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح دین کے بہت سارے احکامات کے لیے ریاست اور اس کی مشنری کاموجود ہونا ضروری ہے۔ رسالت مآب ﷺ ہجرت فرمارہے ہیں اور قرآن دعا سکھا رہا ہے کہ اے اللہ! اپنی جناب سے مجھے وہ نصرت عطا فرما جس سے غلبہ حاصل ہو تاکہ اللہ کے احکامات کا بالفعل نفاذ ہوسکے۔ ورنہ قرآن کہتا ہے کہ جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی توکافر ،وہی تو ظالم اور وہی تو فاسق ہیں۔ یہ وہ اللہ کی جانب سے تقاضے ہیں جو قرآن حکیم میں جابجا بیان کیے گئے ہیں۔
حضور ﷺ کی 23برس کی جدوجہد کے دوران بدر اور احد کے میدان بھی سجتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جہاں طائف کی گلیوں میں آپﷺ کا مقدس ترین خون بہتا ہوا دکھائی دیتاہے، احد کے میدان میں ستر صحابہ کے لاشے بھی اٹھانے پڑتے ہیں، جدوجہد کے دوران کم و بیش 259صحابہ کرام ؓ کی زندگی کی قربانی ہے تب قرآن کہتا ہے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اوربیشک باطل تو ہی مٹنے والا۔ پہلے سرداروں کے قوانین چلتے تھے، اب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قوانین چلتے ہیں ۔اب دین اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ہوا۔ یہ اہم ترین ہدف تھا جس کے نتیجے میں ریاست مدینہ قائم ہوئی۔

رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمارہے ہیں اور قرآن ایک منشورسورہ حج کی آیت 41میں عطا کررہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنہیں ہم زمین پر تمکن عطا کریں گے وہ نماز قائم کریں گے، زکوةدیں گے مراد زکوٰة کا پورا نظام، اسی میں فلاح کا تصور بھی آئے گا اور وہ نیکی کاحکم دیں گے اوربدی سے روکیں گے اور تمام معاملات کا لوٹنا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے۔ مدینہ منورہ رسول اللہﷺ تشریف لائے ہیں جہاں اختیار ملا ہے۔ یہود قبائل کے ساتھ مشترکہ دفاع کا معاہدہ بھی ہوا۔ آپﷺ کی حاکمیت کو تسلیم بھی کیا گیا ہے البتہ بتمام و کمال جسے ہم ریاست کہتے ہیں اس کا ظہور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ فتح مکہ کے بعد ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس منشور میں نمازکا حکم پہلے ہے، اللہ کے حق نظام زکوٰة کی بات دوسرے نمبر پر آئی نیکی کا حکم اور بدی سے روکنا میں یہ داخل ہے کہ نیکی کس کے نزدیک نیکی ہے۔ بدی کس کے نزدیک بدی ہے۔اب العالمین کے قوانین ہیں جن کا نفاذ ہونا چاہئے۔ اب اگر آج کوئی ریاست مدینہ کی طرف پیشقدمی کرنا چاہتا ہے تو اس منشورپرتوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔

 

رسول اللہ ﷺ نے جو 23برس کی مستقل جدوجہد فرمائی اس کا اولین ہدف افراد کی کردار سازی ہے۔ ان کے دلوں میں ایمان کی آبیاری ہے۔ ہجرت کے بعد انصار و مہاجرین کے ساتھ مواخات کا رشتہ قائم کیا جاتا ہے۔ اگر آپ اسے معاشی نقطہ نظر سے دیکھیں تو وہ یہود جو لوگوں کی ضروریات کے لیے ان کو قرض دے کر سود کمایا کرتے تھے، ان کی طرف توجہ نہیں گئی کہ ان سے قرض لے کر مسلمانوں کے معاشی مسائل کو حل کیا جائے بلکہ آپ میں ایک رشتہ قائم کرکے ایک معاشرت کی تعلیم کے ذریعے اس مسئلے کو رسول اللہ ﷺ نے حل فرمایا ہے۔

اشارہ یہ کرنا مقصود ہے کہ فرد پر توجہ ، افراد کے جوڑ کے ذریعے ایک معاشرے کی تشکیل اور یہ بدلے ہوئے افراد قرآن اور اسوئہ رسول ﷺکی بنیاد پر بدلے ہیں جن کا اصل مقصد اللہ کی رضا کا حصول اور جن کا اصل ٹارگٹ آخرت کی کامیابی ہے۔ یہ بدلے ہوئے افراد جب نہتے ہوکر بھی میدان بدر میں کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور جو تمام تر دنیوی اسباب کے ساتھ آتے ہیں اللہ ان کے مقابلے میں ان بدلے ہوئے نہتے لوگوں کو ایک ہزار کے مقابلے میں غلبہ عطا فرماتا ہے اور جب اللہ اپنے کلام کو فرقان کہتا ہے تو بدر کے میدان کو یوم الفرقان قرار دیتا ہے۔ معاشرہ اور بدلے ہوئے افراد کی جماعت کے ذریعے ایک انقلاب کا برپا ہونا جس کی برکات کا کامل ظہور ہے جو سیدنا عمر فاروق ؓ کے دورمیں ہمیں ملتا ہے۔

 اس ریاست مدینہ کے کسی ایک خد و خال کا بیان کرنا تو دور کی بات ہے ،مکمل فہرست تیار کرنا بھی مشکل ہے۔ لہٰذا میںچاہتا ہوں کے دو تین خدوخا ل اور ان کے چندنکات آپ کے سامنے رکھ دوں۔ اول اور اہم ترین بات یہ کہ ریاست مدینہ ایک نظرئیے کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ اسے آپ نظریہ توحید کہہ سکتے ہیں۔یہ نظریہ ریاست مدینہ کو دنیا کے دیگر ریاستوں سے ممتاز کرتی ہے۔ اصول تو یہی ہے اور باقی ساری باتیں اس کے تابع ہوں گی۔جیسے سورہ حجرات کی پہلی آیت میںارشاد ہوا کہ اے ایمان والو!اپنے معاملات کو اللہ اور اس کے رسول ﷺسے آگے نہ بڑھاﺅ۔ قرآن نے معاملات کی تخصیص نہیں کی۔ ہر معاملے میں اپنے آپ کو ان سے پیچھے رکھنے کا حکم ہوا۔تعلیم کی بات ہو یا معیشت کی، معاشرت اور عدالت کی بات ہو، غیر مسلم ریاستوں سے تعلقات کی بات ہویا عورتوں اور غلاموں کے حقوق کی بات ہو ،انسانی حقوق کی بات ہو ہرمعاملے پر اس حکم کا اطلاق ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبوی ہی کو اپنا سکریٹریٹ قرار دے دیا۔یہاں امامت و خطابت بھی ہورہی ہے، وفود آکر ملاقاتیں بھی یہیں کررہے ہیں۔ جہاں مشاورت ہورہی ہے۔ جہاں انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے پکار بھی لگ رہی ہے۔ جہاں غزوات کے لئے رسول اللہ ﷺ نکل رہے ہیں، سرایہ کے لئے کسی صحابی ؓ کو امیر بناکر بھیجا جارہا ہے وہیں لوگ آکر اسلام کے حوالے سے باتیں کررہے ہیں۔ یہ سارے جو سکریٹریٹ کے معاملات ہیں ان کو نبی ﷺ نے مسجد نبوی میں انجام دیا۔ اگر آج کوئی ریاست مدینہ کی بات کررہا ہے تو بات دو اور دو چار کی طرح واضح ہے۔نظریہ توحید کی اشاعت اور معاملات کو اللہ کے گھر سے جوڑنا پڑے گا۔

قانونی مساوات کے حوالے سے ہم آج دیکھتے ہیں کہ صدر مملکت، گورنر زوغیرہ کو قانونی کاروائی سے استثنیٰ دے دیا جاتا ہے۔با۔جب ایک فاطمہ نامی عورت چوری کرتی ہے اور رسول اللہﷺ کے سامنے کچھ سفارشیں آنا شروع ہوگئیں کیونکہ وہ ایک بڑے خاندان کی عورت تھی۔تو رسول اللہ ﷺ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے قومیں اسی لیے برباد ہوئیں کہ جب چھوٹا جرم کرتا تو اسے سزا دیتے اور جب بڑا جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ کی قسم بالفرض اگر فاطمہ ؓبنت محمد ﷺنے چوری کی ہوتی تو اس کے لئے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔ سیدنا عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میںگورنر کے بیٹے کو کوڑے لگوائے گئے۔ یہ ہے قانون کی نظر میں سب کے برابر ہونے کی مثالیں جس کی آج ہم سب کو ضرورت ہے۔ گھسے پٹے جملے جو ہمارے معاشروں کی ترجمانی کرتے ہیں کہ آپ اگر دو چار لاکھ کا غبن کریں گے توآپ پکڑے جائیں گے۔

اگر دو چار ارب کا غبن کریں تو آپ آرام سے چھوٹ جائیں گے اس کی مثال بن جائیں گے کہلے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کے رشوت چھوٹ جا۔کہتے ہیں کہ ہم وکیل نہیں کرتے بلکہ جج کرتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے پہلے خطبہ خلافت میں فرمایا تھا کہ تمہار ا ہر طاقتور میرے نزدیک کمزور ہے جب تک کہ اس سے حق لے کر کمزور کو نہ دلوادوں ۔تمہار ا ہر کمزور میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک کہ طاقتور سے حق لے کر کمزور کو نہ دلوادوں۔

قرآن کہتا ہے کہ سورہ مائدہ کی آیت 66میں کہ اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم کرتے یعنی ان کے احکامات کو نافذکرتے اپنے اوپر سے بھی کھاتے اور اپنے نیچے سے بھی کھاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ کی حدود میں سے ایک حد ایک مرتبہ جاری ہوتی ہے تو اللہ چالیس دن برسنے والی بارش سے زیادہ خوشحالی زمین والوں کو عطا فرماتا ہے۔مقصود یہ رہے کہ اللہ راضی ہوجائے اور اللہ کو راضی کرنے کے لیے اس کے دین کے نفاذ کی جدوجہد ہم پر لازم ہے۔ معاشی کفالت کے معاملے کا ریاست مدینہ میں تصور موجود تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں کم از کم دو مرتبہ مردم شماری ہوئی۔بوڑھوں، بچوں اور جوانوں کی تعداد اور ہتھیار کتنے لوگوں کے پاس تھے اور لڑنے والے کتنے تھے۔ اس سارے اعداد و شمار کے جمع کئے جانے کے مقاصد بہت تھے۔

یہ گوشہ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں بتمام و کمال دکھائی دیتا ہے۔ آج ہم کہتے ہیں کہ یہ تو ڈنمارک اور دیگر یورپی ملکوں میں ہوتا ہے۔ ان کو بھی ماننا پڑتا ہے کہ ہم بھی سیدنا عمر ؓ کے دیے ہوئے قوانین کو نافذ کررہے ہیں۔ اس دو ر میں اگر ایک شخص معذور ہوتا تو اس کا وظیفہ بیت المال سے جاری ہوتا۔ اگر کسی کے ہاں بچے کی ولادت ہو جس کا باپ بیروزگار ہے یا کوئی معذوری کا معاملہ ہے تو اس بچے کا وظیفہ بھی بیت المال سے ملتا۔خلافت کے ذریعے پانچ پانچ معذورین پر ایک شخص کو مامور کیا جاتا تھا کہ ان کے حالات کو معلوم کرے اور ریاست کے انتظام کے تحت پورا کرے۔مشہور واقعہ ہے کہ ایک بوڑھے یہودی کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ تم بھیک کیوں مانگتے ہو؟ اس نے کہا کہ جب تک میں کمارہا تھا، حکومت کوجزیہ دے رہا تھا۔اب میں کمانے کے قابل نہیں۔

انہوں نے بڑا تاریخی جملہ فرمایا کہ جب تک تو کمارہا تھا، جزیہ دے رہا تھا، اب ہمارے دینے کی باری ہے۔تو گھر بیٹھے گا اور تیرا وظیفہ بیت المال سے جاری ہوگا۔ اس وقت جو ہمارے حکمراں طبقے کی طرف سے بات آئی ہے جس میں کوئی اچھائی ہے تو ہم اس کی تحسین کریں لیکن ریاست مدینہ کا صرف یہ تصور کہ کرپشن کا خاتمہ ہوجائے جو کہ ہونا چاہئے اور لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوجائے تو ریاست مدینہ کی برکات کے حوالے سے یہ بہت ہی محدود تصور ہے۔ اگر ہم معاشی عدل دینا چاہتے ہیں تو یہ مبارک بات ہے مگر ریاست مدینہ سیاست اورعدالت کے اصول بھی دے رہی ہے۔ وہ معاشرتی نظام بھی عطا کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہورہی ہے۔ پہلی وحی میں اللہ کے مبارک نام سے پڑھنے کا حکم آیا۔ اس طرح علم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے معلم بناکر مبعوث کیا گیا۔ آپﷺ نے حیات طیبہ میں اولاً لوگوں کی دینی تعلیم کا انتظام فرمایا ہے اور ان کی دیگر تعلیم حاجات کا بھی انتظام فرمایا ہے۔بعض صحابہ کرام ؓ کو آپ ﷺنے کتابت سکھانے پر مقرر فرمایا بعض کو عبرانی اور دیگر زبانیں سیکھنے پر مامور فرمایا ۔ غزوہ بدر کے قیدیوں ایک فدیہ یہ مقرر ہوا کہ ہر قیدی دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے گا۔ ظاہر بات ہے کہ وہ مشرک تھے لہٰذا وہ انہیںلکھنا پڑھنا سکھائیں گے نہ کہ دینی تعلیم دیں گے۔جس کو ہم آج عصری تعلیم کہتے ہیں اس کی حاجت پوری کی جائے توکوئی حرج نہیں۔

لیکن اصل اصول یہ رہے گا کہ پڑھو ضرورلیکن رب کے نام کے ساتھ۔ ہمارے ایک سائٹ چینل نے بڑی مہم چلائی اس عنوان پر کہ پڑھنے لکھنے کے سوا پاکستان کا مطلب کیا۔ یہ کتنا بڑا زہر ہے۔ہمارے بچے آج بھی پڑھتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ۔عصری تعلیم سے کس نے انکا ر کیا ؟ سیدنا عمر فاروق ؓ کادور ہے جس میں لازمی تعلیم کا تصور دیا گیا حتیٰ کہ جو بدو دیہاتوں میں رہتے تھے ان کی دینی تعلیم کابندوبست بھی ہوا اور ان کے امتحانات وغیر ہ کا بھی سلسلہ شروع کیا گیا۔ لہٰذا مفت تعلیم اور لازمی تعلیم کا عنصر ہمیں دور فاروقی میں نظر آتا ہے۔

ریاست مدینہ کی خارجہ پالیسی میں دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جائیں لیکن جس ذات کے ساتھ سب سے بڑھ کر ہمارا تعلق ہونا چاہئے اس کی بات کوترجیح دی جائے۔ رسول اللہ ﷺ کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین اصول یہ تھاکہ اللہ کے دین کی دعوت لوگوں تک پہنچے۔صلح حدیبیہ کے بعد کچھ عرصہ پر امن ملا تو کچھ خطوط کی شکل میں ہویا فتح مکہ کے بعد سفیروں کو بھیجنے کی بات ہو اور 9ھ میں جسے عام الوفود کہا جاتا ہے، بہت سارے وفود آئے تو ان سے مذاکرات کی بات ہو ،اہم ترین بات یہ ہوتی تھی کہ اللہ کا دین قبول کرلو تو کامیاب ہوجاﺅ گے۔نہیں تو ظالموں کے چنگل سے عوام کو نجات دلانے کے لئے باہر نکل کر جنگیں بھی کی گئی ہیں جن کو یہ پیشکش کی جاتی تھی کہ تم اسلام قبول کرلو تو برابر کے بھائی بن جاﺅگے، اگر یہ نہیں تواسلامی ریاست کی بالا دستی قبول کرواور ریاست کو جزیہ دو۔  تمہاری جان و ما ل اور عز ت و آبرو وغیرہ کی حفاظت ریاست کرے گی۔ نہیں تو ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔

اسی طرح ریاست مدینہ میں جو تصورا ت رسول اللہ ﷺ نے عطا فرمائے اس میں لوگوں کی جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ضمانت دی جس کی تعلیم و تربیت حجة الوداع کے خطبے میں بھی ہے اور اس کے لیے سزاﺅ ں کا نفاذ بھی ہے۔ اسلامی سزاﺅں سے ہم سب واقف ہیں جن پر مخالفت کرنے والے کلام کرتے ہیں۔ امریکی صدر نکسن نے غالباً شاہ فیصل مرحوم سے پوچھا تھا کہتم سخت سزائیں تم اپنے ملک میں نافذ کرتے ہو تو انہوں نے فرمایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ہمارے دین کا حکم ہے۔ دوسری ان کی برکات ہیں۔ ہمارے جو سال بھر کے جرائم ہیں وہ تمہارے ایک اسٹیٹ میں ایک دن میں ہوجایا کرتے ہیں۔

اسی طرح احتساب کا ایک محکمہ تھا ۔خود رسول اللہ ﷺ عمال کی نگرانی فرمایا کرتے تھے۔مشہور واقعہ ہے کہ کچھ اصحاب کو آپﷺ نے کچھ علاقوں میں زکوٰة کی وصولی اور دیگر معاملات کے لیے بھیجا۔ وہاں کے لوگوں نے انہیں کچھ تحفے دیے۔آپﷺ نے ان تحفوں کے بارے میں دریافت فرمایا۔ فرمایا کہ بتاﺅ کہ اگر تم اپنی ماں کے پاس ہوتے تب بھی تمہیں کیا یہ تحفے ملتے ۔ جواب دیا کہ نہیں ۔فرمایا یہ تحفے تمہیں نہیں ریاست مدینہ کو ملے ہیں۔ سب کو بیت المال میں جمع کروادیا۔ شاید یہ کام اپنے گھر میں نہ کرسکیں جو امام الانبیاءﷺنے حیات طیبہ کے آخری ایام میںکیا ہے۔  آپﷺمنبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اگر میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو تو آئے اور مجھ سے بدلہ لے لے۔مہر نبوت کو چومنے والا یہ واقعہ آپ کے علم میں ہے۔ امام الانبیا ئﷺؑ یہ مثال قائم کرگئے۔ سیدنا عمر فاروق ؓ نے پورا سسٹم دیا ۔ جب ایک شخص کو ذمہ داری دی جاتی تو اس کے اثاثوں کی تفصیلات معلوم کی جاتیں۔ جب اسے معزول کیا جاتا یا ذمہ داری ختم ہوتی تو دوبارہ اس کے اثاثو ں کی تفصیلات پوچھی جاتیں۔ اگر کوئی فرق نظر آتا تو اس کے بارے میںسوال کیا جاتا۔

معاشرتی نظام جس کے حوالے سے حکمراں بات ہی نہیں کررہے ہیں،وہ معاشرتی نظام جہاں ستر و حجاب کے احکامات سورئہ نور اور سورہ احزاب کی آیات میں جن کی تفصیل آئی ،جہاں عورتوں اور مردوں کے اختلاط کی ممانعت کی گئی، جہاں امام الانبیاءﷺ عورتوں کے وعظ و نصیحت کے لئے علیحدہ نشست مقرر کرتے ہیں۔ یہ معاشرت آپﷺ دے کرگئے ہیں۔ یہ پردے کے احکامات کسی مولوی صاحب کے نہیں بلکہ قرآن حکیم کے ہیں جو رسالتمآب ﷺ کی وساطت سے دئیے گئے ہیں۔ اسی طرح رقص و سروداورموسیقی کے آلات کا معاملہ ہوبالفعل نبی ﷺ نے ان کی ممانعت فرمائی ہے اور ان کے توڑے جانے کا حکم دیا ہے۔ یہ گوشہ بھی معاشرتی اعتبار سے ریاست مدینہ کا گوشہ ہے۔

عورتوں کے حقوق کا معاملہ خواہ وراثت کے اعتبار سے ہو، بیٹی یاماںکی عظمت کے اعتبار سے ہو، یہ پہلو بھی سامنے رہے۔وہ بوڑھی اماں جنہوں نے راہ چلتے سیدنا عمر ؓ سے پوچھا کہ اے عمر!تم کون ہوتے ہو عورتوں کے مہر کی زیادہ سے زیاد ہ مقدار مقرر کرنے والے۔ اللہ نے تو قرآن میں قنطارا کا لفظ دیا ہے۔سیدنا عمر ؓ جن سے اس وقت دنیا کانپتی ہوگی نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ایک بوڑھی اماں کے زریعے مجھے اللہ کا دین سکھایا۔ اس سے بڑھ کر کوئی اظہار رائے کی آزادی کا تصور ہوسکتا ہے؟

یہ وہ چند موٹے موٹے گوشے ہیں جن کاذکر ہوا۔یہ آئیڈیل سیچویشن ہے جو ریاست مدینہ میں دکھائی دیتی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ یہ باتیں وزیر اعظم صاحب تک پہنچیں۔اسے ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں یہ بات راسخ کردے اور انہیں ہمت، قوت اور توفیق عطا فرمادے۔ اسی مقصد کے لئے ہم نے ملک حاصل کیا تھا کہ یہاں اسلام کا نظام عدل اجتماعی قائم ہو۔ علامہ اقبال نے بھی کہا تھا کہ اگر ہمیں ایسا ملک میسر آگیا تو اسلام کے چہرے پر ملوکیت کے دور میں جو پردے پڑ چکے ہیں انہیں ہٹاکر ہم دنیا کے سامنے اس کی اصل تصویر پیش کرسکیں۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ یہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان رسول اللہ ﷺ کاروحانی فیضان ہے۔

اب ہمارا فرض ہے کہ خلافت راشدہ کے نظام کو سامنے رکھ کر پاکستان کوعہد حاضر کی اسلامی فلاحی ریاست کے طورپر انسانیت کے سامنے پیش کریں۔ پوچھا گیا کہ تمہارا قانون کیا ہوگا تو فرمایا کہ ہمارا آئین قرآن کی صورت میں چودہ سو سال پہلے ہمیں عطا کردیا گیا تھا۔ ملک بنا اسلام کے نام پر اور اتنی بڑی تعداد میںلوگوں نے ہجرت کی جو ہجرت مدینہ کے بعد سب سے بڑی مثال ہے ۔کیا ہی اچھا ہو کہ ریاست مدینہ کا ثانی یہ پاکستان بنے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم خود ان باتوں پر یقین رکھیں ،اپنے دائرے میں جہاں ہم عمل کرسکتے ہیں، ان تعلیمات پر جو نبی اکرم ﷺنے عطا فرمائیںعمل کریں اور نظام کی سطح پر جولوگ اسے قائم و نافذ کرسکتے ہیںان کے سامنے کم از کم یہ مطالبہ تو رکھیں۔  اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین    

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top