Wednesday, December 2, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ایم کیو ایم کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا میں مبتلا

ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا وائرس میں مبتلا، سینیٹر عتیق شیخ نے چند روز قابل نجی اسپتال میں طبی...

رینجرز کارروائیوں میں 3 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

سندھ رینجرز کی گلشن اقبال اور شاہ فیصل کالونی میں کارروائیاں، 3 ملزمان گرفتار، ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان محمد اختر ،سدھیر احمد...

سندھ میں فنڈجاتا ہے لگتا نظر نہیں آتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار،جھیلوں اور شاہراہوں کے اطراف درخت لگانے کا حکم، اس موقع پرچیف جسٹس نے سخت ریمارکس...

جعلی نوٹ چلاتے خاتون گرفتار،نقلی 2 ہزار روپے برآمد

کورنگی کراسنگ کے قریب مارکیٹ میں جعلی نوٹ چلاتے ہوئے خاتون گرفتار، ہزار ہزار کے دو نقلی نوٹ بھی برآمد، پولیس کے مطابق ابراہیم...

ماہ صفراوراس کے متعلقہ مسائل (رحمت اللہ شاکر)

Islam-01-Webصفراسلامی سال کادوسرامہینہ ہے ۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ صفرکامعنی خالی ہوناہے عرب لوگ محرم کے احترام میںلڑائی نہیں کرتے تھے لہذاصفرشروع ہوتے ہی جنگ وقتال کے لیے گھروں سے نکل جاتے اورگھروں کوخالی چھوڑدیتے تھے ۔صفرالیدخالی ہاتھ ،اوربیت صفرمن المتاع خالی گھرکوکہتے ہیں۔
مؤرخ مسعودی کاکہناہے اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے میں یمن میں بازارلگتے تھے جنہیں صفریۃ کہاجاتاتھاان لوگوں کایہ نظریہ تھاکہ اس کی مخالفت کرنے اوراس سے روگردانی کرنے والابھوکامرجاتاہے ۔ ’’نبی کریم کواللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ آپ لوگوںکوبتادیں جومقدرمیں لکھاہے وہی ہونے والاہے وہ ہمارا مولا ہے اور مومنوں کواللہ تعالیٰ پرہی بھروسہ کرناچاہیے ۔‘‘
توکل وہ عمل ہے جس کاحکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوقرآن مجیدمیں کئی باردیاگیاہے ۔اصل میں یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے ورنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاسارامعاملہ اللہ کے ساتھ ہے ۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی کہ اگرساری امت اس بات پرمتفق ہوجائے کہ وہ آپ کافائدہ کریں،اللہ کواگرمنظورہے توفائدہ ہوگااوراگرسارے مل کرتیرانقصان کرناچاہیں تواللہ کوجومنظورہے وہی ہوگا۔ترمذی،صفۃ القیامۃ(۲۵۱۶)
دوسری سمجھنے والی بات یہ ہے کہ دین اسلام کی بنیادتوہم پرستی ،بدشگونی اورشک پرنہیں بلکہ خالص یقین اوربصیرت پرہے اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :
’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں!یہ میراراستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتاہوں میں بھی صاحب بصیرت ہوں اورمیرے ماننے والے بھی صاحب بصیرت ہیں۔‘‘ یوسف:(۱۰۸)
تیسری بات یہ ہے کہ مہینوںکی تعداداللہ تعالیٰ کی طرف سے مقررہے کوئی سال ،مہینہ اوردن برااورنحوست والانہیں ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے کہ بعض مہینوں کودوسرے مہینوں پرفضیلت دی ہے ۔جیسے
’’مہینو ںکی گنتی اللہ کے ہاں زمین آسمان کی تخلیق کے دن سے ہی بارہ ہے اوران میںچارمہینے قابل احترام ہیں ۔‘‘التوبۃ:(۳۶)
حجۃ الوداع کے موقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’زمانہ گھوم کراپنی اصل پرآگیاہے یعنی جوترتیب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی وہی قائم ہوگئی ہے ۔
islam01
ماہ صفرمیں نحوست کاتصور:
اسلام میں نحوست اوربدشگونی کاکوئی تصورنہیں ہے اصل میںیہ کام توزمانہ جاہلیت بلکہ اس سے پہلے بنی اسرائیل کاہے جیساکہ سورہ یٰسین میں ہے کہ ’’ ایک بستی کی طرف اللہ تعالیٰ نے دورسول بھیجے اوران کی تائید کے لیے تیسرارسول بھی بھیج دیاتوبستی والے کہنے لگے کہ تمہاری وجہ سے ہمارے اوپرنحوست چھاچکی ہے اوراگرتم (اپنی دعوت سے )باز نہ آئے توہم تمہیں رجم کردیں گے اورتمہیں سخت عذاب میںمبتلاکریںگے توان پیغمبروںنے جواب دیاکہ یہ نحوست توتمہارے اعمال کی وجہ سے تم پرچھائی ہے ۔بلکہ تم توحد سے بڑھے ہوئے لوگ ہو۔ یٰس(۱۴تا۱۹)
صالح علیہ سلام نے جب اپنی قوم کوتوحیدکی دعوت دی تووہ کہنے لگے کہ :
’’تمہارے اورتمہارے ماننے والوں کی وجہ سے ہم پرنحوست چھاگئی ہے توفرمایایہ نحوست توتمہارے اوپراللہ تعالیٰ کی طرف سے (تمہارے اعمال کی وجہ سے )ہے ۔بلکہ تم توفتنہ باز لوگ ہو۔‘‘ نمل:(۴۷)
اسی طرح موسیٰ علیہ سلام کی قوم کاحال تھاجب انہیں کوئی خیروبھلائی نصیب ہوتی توکہتے یہ توہماراحق ہے اورجب کوئی پریشانی آتی توکہتے کہ یہ موسیٰ اوران کے ساتھیوں کی وجہ سے ہے ۔خبردار!یہ نحوست توان پراللہ تعالیٰ کی طرف سے (ان کی اعمال کی وجہ سے )ہے لیکن اکثرلوگ نہیں جانتے۔ الاعراف:(۱۳۱)
اسلام سے پہلے مشرکین مکہ بھی اسی طرح کے عقائد رکھتے تھے لہذااسلام نے اس طرح کے تمام توہمات ،خرافات اوربدشگونی کی مذمت فرمائی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
’’کوئی بیماری متعدی نہیں ،بدشگونی درست نہیں ،الومیں انسا ن کی روح کے داخل ہونے کاکوئی تصورنہیں اورصفرمیںکوئی نحوست نہیں۔‘‘بخاری،الطب باب الجذام (۵۷۰۷)
لاعدویٰ کامطلب یہ ہے کہ کوئی بیماری مشیت الٰہی کے بغیربذات خودکسی دوسرے انسان کونہیں لگ سکتی بیماری میں یہ قوت موجودنہیں جیساکہ موجودہ دورمیںبھی کچھ لوگ یہی نظریہ لیے بیٹھے ہیںجوبالکل غلط ہے ۔مشیت الٰہی سے جسے ابتداء میں بیماری لگی تھی کسی دوسرے کوبھی لگ سکتی ہے ۔جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’پہلے اونٹ کوخارش کہاں سے لگی ‘‘ ولاطیرۃ کامفہوم:زمانہ جاہلیت میںکوئی کام کرنے سے پہلے فال نکالتے تھے اس کے لیے پرندوںکواڑانے اورتیروںکونکالنے کاکام کیاجاتاتھاجس کی بناپروہ بدشگونی کاشکارہوتے تھے ۔اسلام نے اس کے وجودکی بالکل نفی کردی۔ ولاھامۃ کامفہوم یہ ہے کہ الوجس گھرمیںآکربولتاکہتے یہ خالی ہوجائے گایاقتل ہونے والے انسان کی روح الومیںداخل ہوجاتی ہے اورکہتی ہے کہ مجھے خون پلاؤ۔اگرمقتول کابدلہ لے لیاجائے تووہ چلاجاتاہے ورنہ نہیں ۔ ولاصفرکامطلب یہ ہے صفرکامہینہ منحوس نہیں ہے اورنہ اس میں مصیبتیںاترتی ہیں اورنہ شادی کرنے پرپابندی ہے جیساکہ عربوں کاتصورتھا۔
اگرکوئی یہ کہے کہ قرآن مجیدمیں قوم عادکاذکرکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے :
’’ہم نے ان پرمنحوس ایام میںتیزآندھی بھیج دی ۔‘‘ حم السجدہ:(۱۶)
islam images
ماہ صفرکے متعلق توہم پرستی کانظریہ :
تیرہ تیزی کے دن ،برصغیرکے بعض علاقوںمیں صفرکے پہلے تیرہ دن بڑے سختی کے خیال کیے جاتے ہیں ان کوتیزی کے دن کہاجاتاہے ان دنوں میں شادی کونحوست کاسبب سمجھاجاتاہے بلائیں ،آفتیں اورفتنے کثرت سے اترتے ہیں لوگ سفرکرنے سے ڈرتے ہیں اسی وجہ سے ان دنوں میں لوگ صدقہ کے طورپرچنے اُبال کریاچوری بناکرتقسیم کرتے ہیں ۔یہ سب غلط نظریات ہیں جن کاقرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں ۔
آخری بدھ کاتصور:
اس کے متعلق لوگوں کے عجیب وغریب نظریات ہیں اس دن لوگ جشن مناتے ہیں پارکوں میں جاتے ہیں گھروں میںشرینی اورچوری تقسیم کرتے ہیں اس خوشی کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری سے صحت یاب ہوئے غسل فرمایااورسیرکے لیے باہرتشریف لے گئے اورسیدہ عائشہ رضی اللہ نے صدقہ میں چوری تقسیم کی تھی ۔حالانکہ اس کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔
اس قوم کی حالت اتنی ابترہوچکی ہے کہ بدشگونی ان کی گھٹی میں رچی ہوئی ہے مثلا:سیاہ بلی راستہ کاٹ گئی تونحوست،پہلے گاہک کوادھاردینانحوست، پہلے گاہک کوخالی موڑنانحوست، جس گھرمیں بچہ پیداہوکسی غیرعورت کاآنانحوست اسی طرح آفت سے بچنے کے لیے بچہ کے پاس تالایاچھری یالوہے کی چیز رکھنا، بچے کی پیدائش پردروازے پرایک خاص درخت کے پتے لٹکانہ ،نئی گاڑی خریدکراس کے سامنے یاپیچھے پراناجوتایاکالاکپڑاباندھنا،بہترین مکان بناکراس کی چھت پرکالی ہنڈیارکھنا۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
’’جس کوبدشگونی نے اس کے کام سے روک دیااس نے شرک کیا‘‘ مسنداحمد:(۷۰۴۵)
کچھ ایسے خوش نصیب بھی ہیں کہ جن کواللہ تعالیٰ بغیرحساب اورعذاب کے جنت میں داخل فرمائیں گے ان کی تعدادسترہزارہے ۔اوران کی چارصفات بیان کی گئی ہیں ۔وہ لوگ داغ نہیں لگواتے۔۔۔۔۔کسی سے کہہ کردم نہیںکرواتے ۔۔۔۔۔بدشگونی اوربدفالی کے قائل نہیں ۔۔۔۔۔صرف اللہ پرہی توکل کرتے ہیں ۔عکاشہ بن محصن tنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گزارش کی کہ میرے لیے بھی دعافرمادیں آپ نے فرمایا:انت منھم’’توان میں شامل ہے ۔‘‘
ایک اورصحابی نے کھڑے ہوکریہی گزارش کی توآپ نے فرمایا:’’عکاشہ سبقت لے جاچکے ‘‘ مسلم،الایمان ،باب دلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃبغیرحساب ولاعذاب اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں کی فہرست میں شامل فرمالے ۔آمین
Open chat