Wednesday, December 2, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

رینجرز کے ہاتھوں انہتائی مطلوب ڈکیت ساتھی سمیت گرفتار

سندھ رینجرز نے انٹیلی جنس معلومات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے انتہائی مطلوب ڈکیت گروہ کے دو کارندے گرفتار کرلئے،...

اسٹیل ملز ملازمین کوبے روزگارنہیں ہونے دینگے، سعید غنی

 وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کی جانب سے مزدوروں کو بے روزگار کرنے کے سخت...

عزیر بلوچ کے 3 ساتھیوں کو سزا

لیاری گینگ وارکے سرغنہ عذیر بلوچ کے 3 قریبی ساتھیوں کے خلاف اہم پیش رفت، عدالت نےعزیربلوچ کے 3 ساتھیوں کو سزا سنادی، عبدالعزیز...

شہر قائد میں موسم خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

شہر قائد میں موسم خشک، ہوا میں نمی کا تناسب 21 فیصد ریکارڈ، کم سے کم درجہ 15.5 ڈگری اور زیادہ  سے زیادہ 33...

سال کا جانا، سال کا آنا (مہوش کنول)

new_yearنئے سال کی آمد سے کئی دن پہلے ہی ہر طرف ایک شور سا مچ جاتا ہے۔ کچھ لوگ نئے سال کی تیاری ایسے کرتے ہیں کہ گویا کوئی بہت بڑی تقریب آنے والی ہو۔ ہر طرف جشن کا سا سماں ہوتا ہوتا ہے ، کہیں خوب لائٹنگ کی جا رہی ہے تو کہیں نئے سال کی آمد پر دوستوں اور
رشتہ داروں میں تحائف اور مٹھائیوں کا تبادلہ دیکھنے میں آتا ہے ۔۔
ہمارے ملک میںاگر کوئی پابندی نا لگائی جائے تو ہمارے نوجوان نیا سال کچھ منفرد انداز میں مناتے ہیں ، وہ بائیک کا سائلسنر نکال کر سڑکوں پر گردش کرنے لگتے ہیں یا پھر اکثر اوقات (One Wheeling) کرکے شہر کی سڑکوں پر سرکس جیسا سماں بنا دیتے ہیں، چاہے اسکی وجہ سے باقی شہریوں کو کتنی ہی پریشانی کا سامنا کیوں نا کرنا پڑے لیکن وہ اپنے اس شغل سے باز نہیں آتے۔۔
ایک وقت تھا کہ لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو کارڈز دے کر نئے سال کی مبارکباد دیتے تھے اور بازاروں میں کارڈز کی دوکانوں پر ایک جمِ غفیر دیکھنے میں آتا تھا۔۔ لیکن جیسے جیسے زمانے نے جدّت اختیار کی ویسے ویسے ان کارڈز کی جگہ کمپیوٹرائزڈ یا الیکٹرک کارڈز نے لے لی اور کمپیوٹر کی بدولت اب ہم گھر سے باہر نکلے بغیر ہی مختلف قسم کے کارڈز انٹرنیٹ سے ڈاﺅن لوڈ کرکے یا پھر فوٹو شاپ پر ڈیزائن کرکے ای میل، فیس بک، واٹس ایپ اور اسی طرح کی دیگر ایپس کے ذریعے اپنے قریبی اور دور دراز کے ملکوں میں بیٹھے ہوئے دوستوں اور
رشتہ داروں کو با آسانی بھیج دیتے ہیں ۔۔
اس میں آسانی تو ہوتی ہے لیکن پہلے کی طرح ملاقات کرکے کارڈز اور مبارکباد دینے کا جو لطف آتا تھا وہ اب بالکل ہی محسوس نہیں ہوتا۔پہلے ہر چیز محبت سے اور دوسروں کی محبت میں کی جاتی تھی لیکن اب اس کے بر عکس صرف فارمیلیٹی اور دادو تحسین وصول کرنے کے لئے یہ سرگرمی انجام دی جاتی ہے،جس سے ہم خوش تو ہوجاتے ہیں لیکن مطمئن نہیں ہو پاتے۔۔
بات ہو رہی تھی نئے سال کی آمد پر ہماری سرگرمیوں کی۔ تو نئے سال میں کچھ نیا ہو تو مزہ بھی آئے لیکن جب نیا سال بھی اُسی نفسا نفسی کے عالم میں گزرنا ہے تو خوشی منانے کا فائدہ کیسا؟ ان نئے سال کی خوشیوں کو جس طرح منایا جاتا ہے اُس دوران نا جانے کتنے ہی معمولی اور غیر معمولی حادثات پیش آجاتے ہیں اور بہت سے لوگ اپنے چاہنے والوں سے بچھڑ جاتے ہیں ۔۔یوں نئے سال کا آغاز اُنکے اپنوں کو خوشی کی بجائے آ نسوﺅں سے کرنا پڑتا ہے۔۔
تو اس نئے سال پر ایک چھوٹی سے التجا ہے کہ برائے کرم اپنے نئے سال کو مناتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کہیں آپکی کسی سرگرمی سے کسی دوسرے کا یا پھر کسی آپکے ہی اپنے کا نیا سال خوشی کی بجائے ماتم کا انداز نا بن جائے۔۔ اگر نئے سال میں کچھ بدلنا ہی ہے تو اپنے انداز و اطوار کو بدلیں اور خود سے یہ عہد کریں کہ نئے سال میں کبھی کسی کی دل آزاری اور دُکھ کی وجہ نہیں بنیں گے ۔۔
یقین مانئے اگر آپ خود سے اپنے نئے سال کو بہتر انداز میں گزارنے اور اچھا بنانے کی کوشش نہیں کریں گے تو نئے سال میں بھی اتنی سکت نہیں کہ وہ خود سے اپنے آپکو آپکے لئے بدل سکے اور تبدیلی کو تھالی میں سجا کر پیش کر سکے۔۔ سال تو بے جان چیز ہے جاندار تو ہم ہیں، اسی لئے اگر کچھ بدلے گا تو آپکے ہاتھ پیر ہلانے سے نا کہ سال کے جانے آنے سے۔۔ تو نئے سال سے اُمیدیں لگانے سے بہتر ہے کہ وہ اُمیدیں اپنے آپ سے باندھی جائیں تاکہ کچھ حاصل حصول بھی ہو ۔یہ نا ہو کہ اگلے برس کے اختتام پر بھی ہم وہیں کے وہیں رہیں اور ذندگی میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی ہی نا آئے۔۔ اور تحریر کے اختتام پرنئے سال کے لئے فیض احمد فیض کی ایک نظم،
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے
آسماں بدلا ہے افسوس، نہ بدلی ہے زمین
ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں
اگلے برسوں کی طرح ہوں کے قرینے تیرے
کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی ، شام نئی
ورنہ آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی!!
Open chat