Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی کی چند خوبصورت مقامات کی ڈرون فوٹیج

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور آباد شہر ہے۔ سابقہ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، یہ ایک ممکنہ تجارتی...

جامعہ کراچی کی پوائنٹس سروس

وفاقی سطح پر قائم تعلیمی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر...

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

انسان اور پرندہ (آمنہ مسعود جنجوعہ)

man and birdsہم پر آج جو وقت گزر رہا ہے صرف خدا ہی جانتا ہے یا ہم۔ آخر ایک ڈاکٹر کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ ہم کسی جنگل میں رہتے ہیں یا کسی مہذب ملک میں جہاں طاقتور اپنی طاقت کے بل ہوتے پر دوسروں کے بچوں کو نوچ کر لے جاتا ہے۔ یہ باتیں سول انجینیر سردار صدیق صاحب کر رہے تھے۔ جو کہ کنسٹرکشن بزنس کے ساتھ ساتھ پراپرٹی کا کام بھی کرتے ہیں۔ ایک مضبوط اعصاب کے انسان ہونے کے باوجود اس وقت ان کی حالت ایک پانی کے بلبلے کی طرح تھی۔ ظاہر ہے بات بھی کچھ ایسی تھی۔ ان کا چھبیس سالہ نوجوان ڈاکٹر بیٹا راولپنڈی رینج روڈ سے اٹھا لیا گیا تھا۔ ان کے دل کی ایک آواز کہہ رہی تھی کہ میں شور ڈالوں، چیخوں، چلاو¿ں، سڑک پر کھڑے ہو کر سب کو بتاو¿ں کہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے، کس طرح ماں باپ کی گود اجاڑی جاتی ہے، کس طرح سے دن دہاڑے ظلم کیا جاتا ہے۔ مگر فورا ہی دوسری آواز ان کے دل سے آتی ہے کہ اگر اس نازک وقت میں، میں نے اپنے حواس کھو دیے اور اپنے آپ کو خود نہ سنبھالا تو اس کی ماں کا کیا بنے گا جو پہلے ہی غشی پر غشی کھا رہی ہے۔اس کے چھوٹے بہن بھائیوں کا کیا بنے گا جو بڑے بھائی کے اچانک لاپتہ ہو جانے کی وجہ سے سہم چکے ہیں اور گھر گھرہستی کیسے چلے گی، وسائل کا کیا بنے گا۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ سہیل کی بازیابی کی جدوجہد کیسے کی جائے گی۔ اس آواز کے آتے ہی سردار صاحب کے آنسو آنکھوں میں ہی خشک ہو جاتے ہیں اور دل پر بہادری کا ایک مصنوعی خول چڑھا لیتے ہیں۔ جوش اور جذبات کو دل کے کسی کونے میں چھپا لیتے ہیں اور بڑے بہادری اور بردباری کے ساتھ دوڑ بھاگ میں لگ جاتے ہیں۔ چند ملاقاتوں میں جو میری ان کے ساتھ ہوئیں مجھے اندازہ ہو گیا تھا۔ پہلے وہ میرے دفتر میں آئے اور اپنے بیٹے کی گمشدگی کا کیس درج کروایا۔ پھر میں مزید معلومات حاصل کرنے ان کے دفتر گئی۔ اور راستے میں وہ جگہ بھی دیکھی جہاں سے ان کا بیٹا دن دہاڑے اغوا کیا گیا تھا۔ میں ان کی پریشانی کی انتہا اور ان کی بیچارگی کی شدت کو سمجھ چکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سہیل ایک نہایت خوش اخلاق اور ملنسار نوجوان تھا۔ وہ ڈی فارما کر کے ڈاکٹر بنا تھا۔ پھر اس نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ساتھ ساتھ اس نے پرنسٹن یونیورسٹی میں ایم بی اے میں داخلہ لے لیا۔ اس کے بعد اس کو اوربٹ پرائیویٹ لیمیٹد نامی ایک فرم میں اچھی نوکری مل گئی۔ یہ ایک فارماسیوٹیکل کمپنی تھی۔ جس کا دفتر اڈیالہ روڈ پہ تھا۔ وہ اس فارماسیوٹیکل کمپنی میں پراڈکٹ مینیجر تھا۔ اس کو دفتر کی طرف سے گاڑی ملی ہوئی تھی جس پر وہ شان سے دفتر جاتا تھا۔ ماں کی آنکھ کا تارا تھا، باپ کا دست و بازو تھا۔ چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے وہ کسی ہیرو یا آئیڈیل سے کم نہ تھا۔ مگر وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ 19 دسمبر کی صبح گلی کا موڑ مڑتے ہی، تقدیر اس پر ایک کاری وار کرنے کے لیے اس کی گھات میں بیٹھی ہو گی۔ کالے رنگ کی گاڑی، کالے شیشے، کالے کپڑوں والے لوگ اس کے منتظر تھے۔ وہ بندوق بردار نقاب پوش جنہوں نے کیمرے کی موجودگی کے باوجود اس کو رینج روڈ پر آتے ہوئے روکا اور بدوقیں تان کر اس کو گاڑی سے باہر آنے کا اشارہ کیا۔ فورا ہی اس کا موبائل اس سے چھین لیا۔ اس کی گاڑی کی چابی قریب ہی ایک پلاٹ میں کھڑے ٹریکٹر ٹرالی کے ڈرائیور کی طرف پھینکی اور اس کو حکم دیا کہ اس گاڑی کو ایک طرف کر دو۔ سہیل کو اپنے ڈالے میں بٹھایا اور یہ جا وہ جا۔ پانچ منٹ کے اندر اندر ایک جم غفیر اکٹھا ہو گیا۔ سڑک بلاک ہوگئی۔ اپنے پرائے سبھی پریشان تھے۔ دکاندار، راہگیر سب پر دہشت تاری تھی۔

دنیا حیران تھی کہ کیسے ایک گھر کا چراغ اچانک جبری لاپتہ ہو گیا۔ معلومات ہوئیں کہ ویسٹرج پولیس کی ایک گاڑی بھی نزدیک ہی موجود تھی اور اس کے ڈرائیور نے ان نقاب پوشوں سے بازپرس بھی کی تھی۔ مگر اسے ٹکا سا جواب مل گیا “جاو¿ جاو¿ اپنا کام کرو، ہم ایجینسی والے ہیں۔ ہمیں اپنا کام کرنے دو”۔ یہ پہلا موقع تو نہیں تھا کہ میں ایسی دکھ بھری کہانی سن رہی تھی۔ قانون کے ہوتے ہوئے بی لاقانونیت کی کہانی، طاقت کے غلط استعمال کی کہانی اور انصاف کے بار بار نکلتے ہوئے جنازوں کی کہانی۔ اگلے دن میں سپریم کورٹ میں کھڑی تھی۔ میرا ایک تھیلا ہے جو لاپتہ افراد کی فایلوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک اور دستی بیگ ہے جس میں میں ایک چھوٹی سے ڈایری رکھتی ہوں۔ یہ وہ ڈایری ہے کہ جب لاپتہ افراد کے ورثا میرے پاس آتے ہیں اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا قصہ سناتے ہیں تو میں ان کا تمام قصہ اس ڈایری میں درج کر لیتی ہوں۔ اس ڈایری کے نوٹس میں آج سہیل کا نام بھی تھا۔ اب ڈایری کی اس کہانی کو فائل کی شکل دینا تھی۔ پھر وہ جیتا جاگتا انسان فایل سے عدالتی پٹیشن بنے گا۔ پھر اس کا کیس عدلیہ کے ایوانوں میں چلے گا۔ اس کے ماں باپ، بہن بھائی انصاف کی امیدیں لیکر ان معزز ایوانوں کی دہلیزوں پر دستک دیں گے اور انہی راہداریوں کے چکر کاٹیں گے جہاں پر میں اس دن کھڑی تھی۔ (جہاں کے چکر میں پچھلے بارہ سال سے کاٹ رہی ہوں)۔ طرح طرح کے لوگوں سے ان کا آمنا سامنا ہو گا۔ کوئی ان کو ڈرائے گا۔ پیچھے ہٹ جانے کا کہے گا، کوی حوصلہ بڑھائے گا۔ کوئی الزام لگائے گا کہ آپ کے بیٹے نے ضرور کچھ کیا ہوگا۔

کوئی قریبی رشتہ دار ہوتے ہوئے بھی کنی کترا جائے گا۔ کوئی مجبوری سے فایدہ اٹھاتے ہوئے انہیں لوٹنے کی کوشش کرے گا۔ اگر سہیل کے لواحقین ہمت والے ہوں گے تو شاید دھرنا، مظاہرہ کریں، پریس کانفرنس کریں۔ علم احتجاج بلند کریں۔ ورنہ کچھ ہی عرصہ کے بعد رنج و الم کے گہرے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔ آخر یہ چکر کب تک چلتے رہیں گے۔ کب تک وطن عزیز کے معصوم شہری ظلم اور ناانصافی کی چکی میں پستے رہیں گے۔ دوسری آواز میرے دل میں یہ آئی کہ چاہے کچھ بھی ہو ہم ہمت نہیں ہاریں گے۔ ہم ہار نہیں مانیں گے۔ اپنے آپ کو حوصلہ دینے کی کوشش کرتے ہوئے میں سپریم کورٹ کی پارکنگ لاٹ کی طرف بڑھتی رہی۔ میں اپنی گاڑی کی طرف مستعد قدموں سے بڑھ رہی تھی۔ دیکھا کہ آسمان صاف ہے اور موسم خوشگوار۔ نظر آسمان کی طرف اٹھی تو میں نے دیکھا کہ فضا میں آزاد پرندے اڑ رہے ہیں۔ مینا، فاختہ، کوے، بلبلیں چہچہا رہی ہیں۔ سپریم کوٹ کی بلند و بالہ عمارت پر نظر پڑی جو اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑی تھی۔ دوسری طرف وکلا کی نئی نویلی گاڑیوں کی طویل قطار، جو دوپہر کی دھوپ میں چم چم کررہی تھیں۔ کہیں کہیں وکلا کے غول کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ہنسی مذاق ہو رہا تھا۔ پولیس اور سپریم کورٹ کی انتظامیہ کے اہلکار صاف ستھری وردیاں پہنے مستعدی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ ایسے میں ظہر کی اذان کی آواز سنائی دی۔

یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس میں سب کچھ تو ہے، کس چیز کی کمی ہے؟ ہاں اگر کمی ہے تو انصاف کی۔ میں نے ہوا میں اڑتے ہوئے آزاد پرندوں کو حسرت سے دیکھا۔ وہ کتنے مست تھے، خوش تھے۔ وہ اچانک جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے خدشے سے نا آشنا تھے۔ یہ بے زبان پرندے کتنے خوش قسمت تھے۔ ان کو، ان کی عزت پر حملہ کیے جانے کا کوئی ڈر نہیں تھا۔ ان کو اپنوں سے دوری، جبری قید میں جانے اور اس غم میں گھلنے کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔ اور ایک وہ بد نصیب تھے کہ جیتے جاگتے انسان ہونے کے باوجود وہ ڈایری کے نوٹس بن چکے تھے۔ فایلوں کا کاغذ اور ان کی تحریر بن چکے تھے۔ وہ پٹیشنوں کی لائینوں میں پائے جاتے تھے۔ وہ لاپتہ افراد تو بس کیس بن چکے تھے۔ ان کو اب انسان ثابت کرنا بھی ہمارے لیے ایک عظیم جدوجہد اور امتحان بن گئی تھی۔ میں سوچنے لگی: کاش یہ لاپتہ افراد پرندے ہی ہوتے، آزاد تو ہوتے۔ یہی سب سوچتے ہوئے میں نے اپنی گاڑی سپریم کورٹ سے نکالی اور تیزی سے چلتی ہوئی سڑک پر خوابوں میں گم ہوگئے۔

Open chat