Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق،2 لاشیں ملی

مختلف علاقوں سے 2 لاشیں ملی، جبکہ کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق، ذرائع کے مطابق فیڈرل بی ایریا بلاک 21 سے محمد...

اشتعال انگیز تقاریر، فاروق ستار،وسیم اختر ،روف صدیقی بری

اشتعال انگیز تقاریر کیس کا فیصلہ ،ڈاکٹرفاروق ستار، وسیم اختر، رئوف صدیقی اور قمر منصور کو بری کردیا گیا، ملزمان کے خلاف سہراب گوٹھ...

نعمت رندھاوا قتل کیس، ملزمان کو عمر قید کی سزا

نعمت علی رندھاوا قتل کیس کا فیصلہ سنادیا گیا، ملزمان کاظم عباس اور نعمان کو عمر قید کی سزا،2،2 لاکھ کا جرمانہ اور جائیداد...

گلشن اقبال، عزیز بھٹی پارک کے قریب جھگیوں میں آتشزدگی

گلشن اقبال عزیز بھٹی پارک کے قریب جھگیوں میں آتشزدگی، ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تاہم فائر بریگیڈ...

مہدی موسوی اعلیٰ شخصیات تک کیسے پہنچا؟ (عمران خان)

1تحقیقاتی اداروں کے ہاتھوں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کے الزام میں گرفتار ہونے والے ملزم مہدی موسومی کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں واضح رہے کہ مہدی موسوی کو 5 روز قبل تحقیقاتی اداروں نے خفیہ اطلاع ملنے پر شادمان ٹاﺅن کے علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا جس پر الزام ہے کہ ملزم ایران سے ملنے والی فنڈنگ کے ذریعے کراچی میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا بلکہ اس نے ٹارگٹ کلرز کا ایک گروپ بنا رکھا تھا جو کہ شہر میں ہونے والی کئی فرقہ وارنہ دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ مزید یہ کہ مہدی موسوی نہ صرف کراچی میں ایرانی کونسل جنرل کے لیے مترجم کے فرائض انجام دے چکا ہے بلکہ 2012 میں ایرانی قونسل جنرل کی وزیر اعلیٰ سندھ سمیت دیگر سرکاری حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں بھی شریک رہ چکا ہے۔
ملزم سے مزید تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اس ضمن میں ایف آئی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم مہدی موسوی ایک برس قبل اچانک ایف آئی اے کے دفاتر میں دیکھا جانے لگا اس کی ایف آئی میں پہلے پہل آمد کے حوالے سے مختلف وجوہات بیان کی جا رہی ہیں تاہم ایف آئی اے کے زیادہ تر افسران کے مطابق مہدی موسوی اکثر ایف آئی کارپوریٹ کرائم سرکل میں ہی موجود رہتا تھا جبکہ ستمبر کے مہینے میں اس نے ایف آئی سائبر کرائم سرکل میں آنا جانا شروع کر دیا تھا۔ مہدی موسوی جوکہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ماہر ہے ایف آئی اے میں مہدی موسوی کو نہ صرف اہم انفارمر کی حیثیت حاصل تھی بلکہ کئی اہم کیسوں میں ایف آئی اے افسران مہدی موسوی سے معاونت بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق مہدی مسوی ایف آئی اے ذرائع کے مطابق مہدی موسوی ایف ائی میں جن دو افسران کے انتہائی قریب رہا ہے۔
ان میں ایف ائی اے کا ر پوریٹ کرائم سرکل کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کامران عطاللہ اور ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالغفار شامل ہیں اس کی تصدیق مہدی موسوی نے اپنے فیس بک اکاونٹ کی ایک پوسٹ میں بھی کی ہے جس میں اس نے سرپرستی کرنے اور ساتھ دینے پر دونوں افسران کو اپنے بڑے بھائی کی حیثیت سے سراہا ہے۔ مہدی موسوی جس پولیس موبائل میں پولیس کمانڈو کی وردی میں ہتھیار کے ساتھ تصاویر میں دکھائی دیا وہ پولیس موبائل ایف ائی اے کار پوریٹ انسٹیٹیوٹ اچانک سے ویب ڈیزائننگ کا کورس کیا جس کے بعد لائیف ٹی وی نامی ادارے میں جنرل منیجر کی حیثیت سے کام بھی کیا اسی دوران وہ ایگزیکٹ کمپنی گزشتہ ایک برس تک مہدی موسوی ایف آئی اے کا پوریٹ کرائم سرکل کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کامران عطااللہ کی ہدایت پر ایف ائی اے کی ٹیم میں شامل ہوکر کاروائیوں میں حصہ لیتا رہا، اس دوران ملزم پولیس کمانڈو کی وردی اور سرکاری ہتھیار بھی استعمال کرتا رہا ملزم ایگز یکٹ کمپنی کا سابق افسر رہ چکا ہے، ایگز یکٹ کمپنی پر چھاپے کے دوران بھی ملزم نے انفارمر کی حیثیت سے ایف ائی اے ٹیم کو نہ صرف اہم معلومات فراہم کیں بلکہ تکنیکی معاونت کے ساتھ عمل طور پر جعلی ڈگریوں کے گودام کی نشاندی بھی کی تھی۔
2
گزشتہ ایک برس تک مہدی موسوی ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کامران عطااللہ کی ہدایت پر ایف ائی اے کی ٹیم میں شامل ہوکر کارروائیوں میں حصہ لیتا رہا، اس دوران ملزم پولیس کمانڈو کی وردی اور سرکاری ہتھیار بھی استعمال کرتا رہا ملزم ایگز یکٹ کمپنی کا سابق افسر رہ چکا ہے، ایگز یکٹ کمپنی پر چھاپے کے دوران بھی ملزم نے انفارمر کی حیثیت سے ایف ائی اے ٹیم کو نہ صرف اہم معلومات فراہم کیں بلکہ تکنیکی معاونت کے ساتھ عمل طور پر جعلی ڈگریوں کے گودام کی نشاندی بھی کی تھی میں ایف ائی اے کا ر پوریٹ کرائم سرکل کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کامران عطاللہ اور ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالغفار شامل ہیں اس کی تصدیق مہدی موسوی ایف آئی اے کو ایگز یکٹ کمپنی میں جعلی ڈگریوں کی کی نشاندی ہی مہدی موسوی نے کی ایف آئی کی جانب سے ایگز یکٹ کمپنی پر چھاپے کے دوران مہدی موسوی نے ایف آئی نے ایف آئی اے ٹیم کو نہ صرف ایگزیکٹ کے بزنس کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں بلکہ عالمی سطح پر ایگز یکٹ کی جانب سے مبینہ ڈگریوں اور سرٹیفکیٹ کی فروخت کے حوالے سے بھی معلومات دیں۔ اس کے علاوہ تحقیقات کے دوران جن امور میں ایف آئی اے افسران کو مشکلا ت پیش آئیں ان میں مہدی موسو ی نے کمپنی کے سابق افسرا اور کمپیوٹر ایکسپرٹ کی حیثیت سے ایف آئی اے افسران کو تکنیکی معاونت فراہم کی اور انہیں کیس سمجھنے میں مدد دی، ایف آئی اے کے ایک افسر کے مطابق مہدی موسوی کو ایگز یکٹ کمپنی پر چھاپے کے دوران نقاب پہنا کرلے جایا گیا تھا جہاں اس نے ایکز یکٹ کمپنی سے ملحقہ اس کے خفیہ دفتر کی نشاندی کی تھی جہاں سے ایف آئی اے افسران نے ہزاروں کی تعداد میں ڈگریاں اور سرٹیفکیٹ بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
کرائم سرکل کے ایڈیشنل ڈایکٹر کے ہی تحت ہے مہدی موسوی کی والدہ ایرانی شہری میں مہدی موسومی ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوا اور ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی آ گیا تھا ابتدائی طور پر اختر اکیڈمی اور ایف جی ہائی اسکول سے تعلیم لینے کے بعد اس نے انٹر کراچی بورڈ سے پاس کیا، کراچی یونیورسٹی اور اظہر انسٹییٹیوٹ کے بعد اس نے یونیورسٹی آف تہران سے اسلامک فلاسفی کی تعلیم لی اور ایک بار پھر کراچی یونیورسٹی سے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی تعلیم حاصل کی مہدی موسوی نے کلفٹن میں قائم ایک میں انٹر نیشنل سیلز منیجر کی حشیت سے کام رہا ہے، بعد ازاں مہدی موسومی ڈیوئز ر نامی برطانوی امیگریشن کو طور پر بھی کام کرتا رہا۔2012 میں اس کو ایرانی کونسل خانے میں کونسل جنرل کے مترجم کے طور پر ملازمت پر رکھا گیا اسی دوران مہدی موسوی کے پاکستانی حکام سے روابطہ قائم ہونا شروع ہوئے، مہدی موسوی کے ساتھ ایف آئی میں کام کرنے والے افسران کے مطابق اس کے والد عالم تھے جوکہ ایران سمیت مصرم، ترکی، شام، لبنان، اور دیگر ممالک کے سفر کرتے رہتے تھے مہدی موسوی کو ایف ای کار پوریٹ کرائم سرکل کے ایک چھاپے کے دوران ایف آئی اے افسران نے وہاں سے ملنے والے لیپ ٹاپ کمپیوٹرز بھی دیے تھے جبکہ دیگر سامان کو سیزر میو میں شامل کرلیا گیا تھا۔
(بشکریہ روزنامہ اوصاف)
Open chat