محمودہ آباد کی بیٹھک

mehmoda badجو مزہ کراچی میں محمودہ آباد گیٹ پر، سڑک پر بیٹھ کر بسوں کے دھویں، گاڑیوں کے ہارن اور آتے جاتے لوگوں کی نگاہوں کا نشانہ بنتے ہوئے چائے پینے میں ہے وہ دنیا کے کسی فائیو اسٹار ہوٹل یا ریزورٹ پر نہیں ملتا، نہ ٹوکیو کے شن جوکو میں نہ میامی بیچ پر اور نہ اسلام آباد کے منال پر، یہاں فیاض بھائی کی باتیں ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ امریکا جانے سے پہلے بھی ہم یہاں بیٹھک لگاتے تھے اور سالوں وہاں رہنے کے بعد دوبار وطن میں آباد ہوئے تو اسی ڈیرے کو پھر سے آباد کر لیا۔ ہم بیٹھے ان کی پر لطف گفتگو کوسے محظوظ ہورہے تھے کہ ہماری گفتگو کے دوران اچانک لڑکوں کے دو گروپ آپس میں ایک دوسرے کو گھونسوں اور لاتوں سے پیٹنے لگے، بات اور بڑھی اور چائے والے کے برتنوں کا بھی آزادانہ استعمال ہونے لگا۔ میں نے اس غیر پارلیمانی ایکٹیویٹی کو دیکھ کر بے چینی کا اظہار کیا اور ان سے درخواست کی کہ کہیں اور چل کر بیٹھتے ہیں یہ لڑائی بڑھ بھی سکتی ہے اور کوئی گلاس یا جگ اڑتا ہوا آکر ہمیں بھی لگ سکتا ہے مگر فیاض اور عابد بھائی نے کہا کہ آپ ادھر مت دیکھیں اور بات چیت پر توجہ ج رکھیں۔
بقول ان کے یہ لڑائی کی دوسری قسط تھی اور ایسا یہاں روز ہوتا ہے، جو اب پٹ رہا ہے اس نے مغرب کے وقت پہلی قسط میں ان لوگو کی خوب ٹھکائی کی تھی جو اب اس کی درگت بنا رہے ہیں ۔۔۔تھوڑی دیر میں ریسلنگ کا سیشن ختم، کچھ ”بڑے ریسر آکر ان لڑکوں کو لیکر گلیوں میں چلے گئے، بھیڑ بھی چھٹ گئی۔
ابھی یہ معاملہ ختم ہوا ہی تھا کہ اچانک ہماری سروں کے اوپر بجلی کے تار آپس میں ٹکرانے لگے اور چنگاریاں نیچے گرتی نظر آنے لگی۔ میں نے دوبار درخواست کی کہ کسی اور جگہ چل کر بیٹھیں؟ یہ بہت جیمز بانڈ والا ماحول نظر آرہا ہے۔ فیاض نے کہا کہ ڈرو مت، کچھ نہیں ہوگا ، یہ تاریں روز کچھ دیر ٹکرا کر چنگاریاں پیدا کر کے خاموش ہوجاتی ہیں، تھوڑی دیر کے بعد تاروں کی اس شرارت کے انجام کے طور پر بجلی چلی گئی۔
بتایا گیا کہ اب ایک گھنٹے بعد کے الیکٹرک والے آکر بجلی لائیں گے۔ فیاض نے کہا کہ تمہارے جیسے ایک بیوقوف آدمی کے کہنے پر ایک دن ہم لوگ آگے والے ہوٹل میں چائے پینے چلے گئے تھے اور وہاں موبائل لوٹنے والے درجہ سوئم کے ڈاکو ہم سب کو لوٹ کر چلے گئے یہی سب سے اچھی جگہ ہے۔
اتنے میں عشاءکا وقت ہوا اور نماز پڑھتے ہی میں نے نشست سے اجازت چاہی۔۔۔راستے میں غلطی سے محمود آباد کے بازار سے نکلنا چاہا اور جشن آزادی کے سبب ہونے والے ٹریفک جام میں سب کو قید پایا۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان آج ہی آزاد ہوا ہے، عورت مرد اور بچے جھنڈیاں،ٹی شرٹ اور بیجز خریدنے میں منہمک، روڈ پر جگہ جگہ اسٹال اور ہر بیس قدم پر ایک تیز اسپیکر میں کوئی گانا چل رہا تھا۔۔
اچانک دیکھا کہ ایک بائک والے نے دوسرے کو ٹکر ماری اور دونوں روڈ پر دور جاگرے۔ ایک نے اٹھتے ہی دوسرے کو زور دار گالی دی، تیز اسپیکر کی وجہ ہم سماعت سے محروم رہے مگر لگتا تھا کہ گالی بہت سخت تھی کہ جس کو دی گئی تھی اس نے اٹھتے ہی زناٹے دار طمانچہ گالی دینے والے کے منہ پر رسید کرکے ایک ہم قافیہ گالی دیکر پوچھا کہ ”گالی کس کو دی “؟میں نے اس ڈر سے کہ کہیں رش نہ لگ جائے اور میں پھنس نہ جاﺅں اس شو میں زیادہ دلچسپی نہ لی اور سیدھا کراچی ایڈمن سوسائٹی کی گلیوں سے شارٹ کٹ لے کر گھر پہنچا۔۔۔
یہ وہی محمود آباد ہے جو راجا صاحب اف محمودہ آباد، تحریک پاکستان کے عظیم رہنما کے نام پر بسایا گیا ہے، وہی راجہ صاحب جنہوں نے مسلم لیگ کو 20 لاکھ سالانہ فنڈ دیا تھا ،جو قاید اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تھے۔ ایک طرف ڈی ایچ اے اور دوسری طرف پی ای سی ایچ ایس، درمیان میں دونوں برگر آبادیوں میں یہ ایک جلا ہوا شامی کباب بنکر رہ گیا ہے۔
یہاں سے پی پی پی کے سعید غنی صاحب ایم کیو ایم کو ہرا کر ایم پی اے بنے ہیں ،جس چائے خانے پر ہم بیٹھے تھے وہاں سے ان کا آبائی گھر پچاس قدم پر پی تھا مگر آج کے کراچی کے سیاسی رہنما آبائی گھروں میں نہیں ڈی ایچ اے میں رہتے ہیں۔ ان کی ایسی قسمت کہاں کہ فیاض بھائی کے ساتھ کھلی ہوا میں بیٹھ کر چائے پی سکیں، یہ نعمت خدا نے ہمارے حصے میں لکھی ہے۔۔۔
نوٹ: کراچی اپ ڈیٹس  کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
سہیل بلخیsohel balkhi
بلاگر آئی ٹی پرفیشنل ، صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top