Saturday, October 31, 2020
Home اسلام آسمانی سفر (فصیح اللہ حسینی)

آسمانی سفر (فصیح اللہ حسینی)

islam_wallpaper02نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم آسمان کے دروازے پر کھڑے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتہ حضرت جبرائیلؑ نے دروازہ کھولا۔ آپ کے لیے دروازہ کھولا گیا۔ یہ پہلا آسمان ہے۔ یہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب کے والد حضرت آدمؑ کو دیکھا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے آپ کو مرحبا کہا۔ آپ کے سلام کا جواب دیا اور آپ کی نبوت کا اقرار کیا۔ جبرائیلؑ نے آپ کو ان کے سیدھے ہاتھ پر اچھے لوگوں کی روحیں دکھائیں اور الٹے ہاتھ پر برے اعمال والوں کی روحیں دکھائیں۔ پھر آپ کو دوسرے آسمان پر لے جایا گیا اور دروازہ کھلوایا گیا۔ وہاں آپ نے حضرت یحییٰ بن زکریاؑ اور عیسیٰ ابن مریم کو دیکھا، دونوں سے ملاقات کی اور سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا اور آپ کی نبوت کا اقرار کیا۔

تیسرے آسمان پر نبی مہربان کی ملاقات حضرت یوسفؑ سے ہوئی۔ انہوں نے بھی آپ کو مرحبا کہا اور مبارک باد دی۔ آپ کی نبوت کا اقرار کیا۔ یہاں سے آپ چوتھے آسمان پر لے جائے گئے۔ وہاں آپ نے حضرت ادریسؑ کو دیکھا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا اور مرحبا کہا اور اقرار نبوت فرمایا۔ پانچویں آسمان پر جب گئے تووہاں حضرت ہارونؑ سے ملاقات ہوئی۔ چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ کا استقبال کیا۔ جب نبی یہاں سے آگے بڑھنے لگے تو حضرت موسیٰ رونے لگے۔ آپ نے فرمایا کہ کیوں رورہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں اس لیے رو رہا ہوں کہ ایک نوجوان جو میرے بعد مبعوث کیا گیا اس کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے بہت زیادہ تعداد میں جنت کے اندر داخل ہوں گے۔

پھر ساتویں آسمان پر نبی مہربان کو لے جایا گیا۔ یہاں آپﷺ کی ملاقات حضرت ابراہیم ؑسے ہوئی۔ اس کے بعد آپ کو سدرة المنتہیٰ تک لے جایا گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المعمور کو ظاہر کیا گیا، یہاں اللہ تعالیٰ جلوہ افروز ہیں۔ یہاں آپ کو خدائے ذوالجلال کے دربار میں پہنچایا گیااور آپﷺ کے اتنے قریب ہو گئے کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

اس موقع پر ربِ کائنات نے اپنے پیارے نبیﷺ پر وحی نازل فرمائی اور پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں یہاں سے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو حضرت موسیٰؑ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے نمازیں کم کروائیں۔ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس جا کر بارگاہ خدا وندی میں عرض پیش کی اور اللہ تعالیٰ نے یوں کمی فرما کر پانچ نمازیں فرض کر دیں اور فرمایا کہ اس کا اجر پچاس نمازوں کے برابر ہی ملے گا۔ یوں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پانچ نمازوں کا تحفہ عطا ہوا۔

یہ نبوت کا دسواں سال اور رجب کی 27 تاریخ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چچا زاد بہن کے گھر سوئے ہوئے تھے۔ یہ ابو طالب کی بیٹی تھیں اور ”ام ہانی“ کے نام سے مشہور تھیں۔ نبی جب معمول کے مطابق فجر سے پہلے اٹھ گئے۔ ام ہانی بھی بیدار ہو گئیں۔ آپ نے وضو کیا نماز ادا کی، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔
”ام ہانی! عشاءکی نماز میں نے یہیں پڑھی تھی…. تمہارے ساتھ۔ تم نے تو دیکھا ہی تھا۔ پھر میں بیت المقدس گیا۔ وہاں نماز پڑھی۔ پھر اس وقت نماز تمہارے ساتھ پڑھی۔“ ام ہانی آپ کی بات سن کر حیرت میں مبتلا ہوگئیں۔ آپ نے نبی سے فرمایا: ”ذرا تفصیل سے بتائیے تو کیا کیا ہوا؟“

جواب میں نبیﷺ نے وہ پورا واقعہ بیان کر دیا جو نبیﷺ کے ساتھ معراج کے سفر کے موقع پر پیش آیا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل امین کل رات مجھے خانہ کعبہ لے گئے اور وہاں میرا سینہ چاک کیا اور ایمان و حکمت سے بھری پلیٹ میرے سینے میں انڈیل دی۔ پھر مجھے براق نامی سواری پر بیت المقدس لے جایا گیا جہاں میں نے انبیاءکی امامت فرمائی۔ وہاں سے آسمانی دنیا کا سفر کیا اور انبیاءاکرام سے ملاقات ہوئی۔ جہنم اور جنت کا دورہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات فرمائی۔

پیارے نبیﷺ نے جب صبح یہ واقعہ ابوجہل کے سامنے بیان کیا تو وہ مذاق اڑانے لگا اور سوالات کرنے لگا۔ مگر جب نبیﷺ پوچھے جانے والے سارے سوالات کے ٹھیک ٹھیک جوابات دیتے گئے تو اس سے کوئی بات نہ بن پڑتی اور وہ مسلسل آپ کی تکذیب کرتا رہا۔ صدیق اکبرؓ کو جب معلوم ہواتو آپﷺ نے اس واقعے کی تصدیق فرمائی اور اس سے بڑھ کر یہ فرمایا کہ میں تو یہ بھی ایمان رکھتا ہوں کہ آپﷺ کے پاس دن رات کے وقت میں آسمان سے خبریں آتی ہیں۔

یہ معراج کا واقعہ جہاں اہل ایمان کے لےے اللہ پر ایمان میں اضافہ کا ذریعہ بنا وہیں اس میں اہل کتاب کے لیے چند اشارے بھی تھے۔ اس واقعہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اہل یہود کو یہ بتایا کہ تم ایک عرصے سے انسانیت کی قیادت کرتے آئے ہو۔ لہٰذا اب اس عہدے سے تم کو معذول کیا جا رہا ہے۔ کیوںکہ جن جن غلطیوں کا ارتکاب تم نے کیا ہے اس میں ملوث ہونے کے بعد تم اس قابل نہیں رہے کہ تمہیں یہ منصب دیا جائے کہ اللہ کا نبی تم میں سے ہو۔ لہٰذا اب یہ منصب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپا جائے گا یعنی انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ اب ایک ایسی امت کے پاس نہ رہے گا جو خیانت کرتی رہی، ظلم اور جبر کرتی رہی بلکہ اب ایک ایسی امت کے حوالے کیا جائے گا جس سے نیکی اور بھلائی کے چشمے پھوٹیں گے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو نیکی کی راہ پر لانے اور ان کو برائیوں سے روکنے کا اہم ترین کام آپ اور ان کی امت کے سپرد کیا۔ اب ہمیں اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے کہ ہم اللہ کی زمین پر اللہ رب العزت کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ میں کورونا سے5 افراد جاں بحق، 237 متاثر

راچی: صوبہ سندھ میں عالمی وبا کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق جب کہ مزید 237 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ...

ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول

کراچی: ٹریفک پولیس پر حملے کی دھمکیاں ملنے کے بعد تمام افسران و اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس پہننے کی ہدایات جاری...

گاڑیوں کی ٹکر سے نیوی افسر سمیت3 اہلکار جاں بحق،پولیس اہلکار زخمی

کراچی: گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، ریسکیو حکام کے مطابق...

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...