Monday, October 26, 2020
Home اسلام یارِ غار کا تذکرہ (مولانا اورنگ زیب فاروقی)

یارِ غار کا تذکرہ (مولانا اورنگ زیب فاروقی)

آپ کانام مبارک عبداللہ، کنیت ابوبکر،والد کانام عثمان، کنیت ابوقحافہ،والدہ کانام سلمیٰ بنت سخر ،کنیت ام الخیر ہے ۔ صدیق اورعتیق آپ کے لقب ہیں،یہ دونوںUntitled-1 copy لقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائے تھے۔سلسلہ نسب: عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ۔ آ پ کانسب آٹھویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتاہے۔آپ کی ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے دوبرس چند ماہ بعد ہوئی ،وہی دوبرس چند ماہ بعدآپ کی وفات ہوئی ۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں سب سے سابق وفائق تھے ،حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر رہے اورآ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہوئے۔دوبرس تین ماہ نودن تخت خلافت پرمتمکن رہے۔آپ کویہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ آپ کی چار پشتوں کوصحابی ہونے کاشرف حاصل ہے یعنی آپ ، آپ کے والد، آپ کی اولاد اورآپ کے پوتے، اس طرح یہ فضیلت بھی دیگر کئی فضائل کی طرح خاندان صدیقی ہی کوحاصل ہے ۔قبل از اسلام آپ اشراف قریش میں سے تھے ۔بڑی عزت ، وجاہت اورثروت رکھتے تھے۔

تمام اہل مکہ ان کو اس قدر مانتے تھے کہ دیت اورتاوان کے مقدمات کافیصلہ آپ ہی کیاکرتے تھے۔ سب لوگ آپ سے محبت کرتے تھے، اورلوگوں کے بہت سے کام آپ سے نکلتے تھے۔اہل عرب کے نسب کاعلم سب سے زیادہ رکھتے تھے، فن شاعری میں اچھی مہارت تھی نہایت فصیح وبلیغ تھے مگر اسلام کے بعد شعر کہناچھوڑ دیاتھا۔آپ نے زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی شراب نہیں پی تھی اورنہ ہی آپ بت پرستی کرتے تھے۔آپ کو بچپن ہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وپیار تھاجب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صغر سنی میں اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ ملک شام کوجانے لگے توآپ نے حضرت بلال کوان کے آقا سے کرایہ پر لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے ساتھ بھیجااورایک خاص قسم کی روٹی اورروغن زیتون ناشتہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھیجا۔ جب حضرت خدیجہ کانکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہواتو اس میں آپ کی کوشش بھی شامل تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد سب سے پہلے آپ نے ہی اسلام قبول کیا۔آپ ہی کے متعلق جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ” میں نے جب بھی کسی کواسلام کی دعوت دی تواس نے مجھ سے کچھ نہ کچھ طلب کیاماسوائے ابوبکر صدیق کے جو مجھ سے کوئی بھی ثبوت طلب کےے بغیر اسلام لے آئے“۔

آپ کے اسلام قبول کرنے کے بعد اورلوگ بھی اسلام کی طرف راغب ہوئے اورآپ نے اسلام کی تبلیغ کاکام شروع کردیا،قبل ہجرت نہایت پرخطر وقت تھا اس وقت خود اپنے اسلام کااظہار مشکل تھا،کلمہ اسلام کازبان پرلانااژدہے کے منہ میں ہاتھ ڈالناتھا،ایسے نازک وقت میں دوسروںکومسلمان بنانے کی کوشش کرناانہی کاکارنامہ تھا۔قریش کی ایک باوقار جماعت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے مشرف بہ اسلام ہوئی، عشرہ مبشرہ میں سے حضرت عثمان،حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت سعدبن ابی وقاص اورحضرت عبدالرحمن بن عوف آپ ہی کے تبلیغ سے مسلمان ہوئے ،رضی اللہ عنہم ۔جب جناب صدیق اکبر اسلام لائے تواس وقت ان کے پاس مال تجارت کے علاوہ چالیس ہزاردرہم نقد موجود تھے۔وہ سب کچھ انہوںنے اسلام کی اشاعت اورجناب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نچھاور کردیا۔سات نومسلم جوکہ غلام تھے اوراپنے آقاﺅں کے ظلم وستم کاشکار رہتے تھے انہیںخرید کر آزاد کیاجن میں سے حضرت بلال کاقصہ مشہور ہے۔

کئی بار مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکافروںکے نرغے سے بچایاایک مرتبہ کاواقعہ ہے کہ کفار قریش صحن کعبہ میں بیٹھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاذکر کررہے تھے کہ وہ ہمارے معبودوں کی مذمت کیاکرتے ہیں اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں آگئے سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوگھیر لیااورچادرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں لپیٹ کر کھینچناشروع کی، کسی نے جاکر سیدنا صدیق اکبر کو خبردی، آپ بے تاب ہوکر پہنچے اورکہنے لگے تمہاری خرابی ہو!کیاتم ایسے شخص کوقتل کےے ڈالتے ہوجوکہتاہے کہ میرارب اللہ ہے اوروہ تمہارے پاس معجزات لے کرآیاہے۔یہ سن کر کافروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوچھوڑ دیااورسیدناصدیق اکبر کوپیٹناشروع کردیا۔تشدد کی وجہ سے آپ بے ہوش ہوگئے اوربہت دیر تک بے ہوش رہے ،درمیان میں کبھی ہوش آتاتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت دریافت کرتے اورپھربے ہوش ہوجاتے۔جب پوری طرح ہوش میں آئے تواٹھتے ہی کہاکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو،چنانچہ لوگ انہیںپکڑ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے۔

جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوصحیح حالت میں دیکھاتوبہت خوشی کااظہار کیا۔اس قسم کی جاںنثاری وجانبازی کے واقعات قبل ہجرت کئی مرتبہ پیش آئے۔نبوت کے ساتویں سال قریش نے متفقہ طور پر طے کیاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے خاندان بنی ہاشم کومحصور کرکے کھاناپینابند کرکے فاقوں سے ہلاک کردیں،چنانچہ ایک معاہدہ مرتب ہواکہ کوئی شخص نہ توخاندان بنی ہاشم سے قرابت کرے گااورنہ ان کے ہاتھ خرید وفروخت کرے گا،نہ ان کے پاس کھانے پینے کاسامان پہنچنے دے گاجب تک کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کرنے کے لئے ہمارے حوالے نہ کریں۔اس معاہدہ پر سب نے تصدیقی علامات بنائیںاوریہ معاہدہ کعبہ میں آویزاں کیاتاکہ کوئی شخص خلاف ورزی کی جرا¿ت نہ کرے۔مجبورہوکرآپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے چچا ابوطالب اورسارے خاندان کے مکہ سے باہر ایک پہاڑ کے درہ میں جس کوشعب بن ابی طالب کہتے ہیںچلے گئے ۔یہ مصیبت تین سال تک رہی ان تین سالوں میںجو سختیاں گزریں کسی ظالم کے ظلم میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔

سیدنا صدیق اکبر ازخود اس مصیبت میں شریک ہوگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ بھی شعب بن ابی طالب چلے گئے اور وہیں رہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ نے اس مصیبت سے نجات دی تب انہوں نے بھی نجات پائی۔

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومعراج ہوئی توسب سے پہلے آپ نے ہی اس واقعہ کی تصدیق کی ۔کفار مکہ نے آپ سے کہاکہ کیاتم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کوبھی سچ مانو گے کہ وہ بیت المقدس گئے اوروہاں سے آسمان پرتشریف لے گئے اوروہاں عجائب وغرائب کی سیر کی اورپھر واپس لوٹے اوراتناسفر رات کے ایک قلیل حصہ میں طے ہوگیا؟ان کی یہ بات سن کر آپ نے کیاخوبصورت جواب دیا:فرمایا!”ہم تواس سے زیادہ بعیدازعقل بات ان کی مان چکے ،وہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام آسمانوں کے اوپر سے ابھی آئے اورابھی گئے“۔ مطلب یہ کہ جب جبرائیل علیہ السلام کی آمدورفت چشم زدن میں ہم مان چکے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کی لطافت ونورانیت توجبرائیل علیہ السلام سے بھی فائق ہے لہٰذا آپ کی آمدورفت میںہم کوکیاشک ہوسکتاہے۔اسی تصدیق معراج کے صلے میں آپ کوصدیق کاخطاب ملا۔

سفر ہجرت میں سیدنا صدیق اکبرکی رفاقت کاتذکرہ قرآن مجید میں بڑی شان کے ساتھ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی باربار ان کی اس خدمت کاتذکرہ فرماتے تھے۔بخاری شریف کی ایک حدیث ہے کہ ”حملنی الی دارالھجرة “یعنی ابوبکر ؓمجھے دارہجرت( مدینہ) میںسوار کرکے لائے اوروفات سے پانچ دن پہلے جوخطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھااس میںفرمایاکہ جس نے کوئی احسان ہمارے ساتھ کیاہم نے ان کابدلہ اداکردیاسوائے ابوبکر صدیق کے کہ ان کی خدمت کابدلہ قیامت کے دن خداہی دے گا۔حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی سیدناابوبکر صدیق کی اس بے نظیر جاں نثاری کاچرچابہت تھالوگ سیدناابوبکر صدیق سے اس سفر کے حالات پوچھاکرتے تھے اورخود ان کی زبان مبارک سے سننے کے مشتاق رہتے تھے ۔حضرت عمرفاروق اپنے عہد خلافت میں فرماتے تھے کہ سیدناابوبکر صدیق صرف شب غار کی اپنی خدمت اورقتال مرتدین کاکارنامہ مجھے دے دیں اورمیری ساری عمر کے تمام اعمال لے لیںتومیںہی فائدے میںرہوں گا۔اسلام سے پہلے آپ مکہ کے بڑے تاجروں میں سے ایک تھے ۔صاحب ثروت ودولت مند تھے کپڑ ے کی تجارت کرتے تھے اورنہایت ہی خوشحال انسان تھے ۔مگر اسلام کے بعد ساری دولت اللہ کے راستے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے مطابق صرف کردی حتیٰ کہ ایک وقت ایساآیاکہ پہننے کونہ کرتاتھااورنہ تہہ بند۔

ایک کمبل تھاجس میں بجائے گھنڈی اورتکمہ کے کانٹے لگے رہتے تھے۔اپنے زمانہ خلافت میں اپنے کسی قرابت دار کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔کسی مقام کاافسر نہیں بنایا۔اپنے بعد خلافت کے لئے نامزد کیاتواپنے بیٹے کواورنہ کسی عزیز کو۔دنیاکودکھلاگئے کہ انبیاءعلیہم السلام کے جانشین
ایسے ہوتے ہیں۔جب روح اقدس نے پرواز کی تومغرب اورعشاءکادرمیانی وقت تھا،عمر شریف 63سال تھی، ایام خلافت 2برس 3ماہ اور 9دن ۔حضرت عمرفاروق نے نماز جنازہ پڑھائی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرقد مبارک کے ساتھ قبرشریف اس طرح کھودی گئی کہ آپ کاسر مبارک حضرت سیدنا رحمة اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش پاک ساتھ رہے اورقبروںکے تعویذ برابر آجائیں۔حضرت عمر،حضرت طلحہ ،حضرت عثمان ،اورحضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم نے میت پاک کوآغوش لحد میں اتارااورایک ایسی برگزیدہ شخصیت جورسول دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت مسلمہ کی سب سے زیادہ مقبول ،بزرگواراورصالح شخصیت تھی ہمیشہ کے لئے چشم جہاں سے اوجھل ہوگئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...