اولاد کی پرورش میں ماں کا کردار (عنابیہ چودھری)

mother1بے شک اولاد کی پرورش میں ماں کے کردارکو کسی صورت فر اموش نہیں کیا جا سکتا ۔ جس نے آپ کو انگلی پکڑکر چلنا سکھا یا۔ جس نے خود تو زندگی کی تکلیفیں برداشت کیں لیکن اولاد کے سکھ چین کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی۔کیا آپ نے کبھی سوچا آپ کا شمار بھی شیرار خور بچوں میں ہوتا تھا اور آپ کی پرورش کون کرتا رہا؟ جی ہاں وہ عظیم ہستی ماں ہی ہے وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو ” پر “ اور ہواوںمیں اُڑنے لگے یہ سب ماں کی بے لوث خدمت کا نتیجہ ہے لیکن اب جب بھی شیر خوار بچوں کو دیکھتے ہوں گے تو سوچتے ہوں گے کہ کیا میںبھی کبھی اتنا تھا؟ کیا میری ماں نے بھی میرے لیے یہی سب کیا؟ تو جواب ہے ہاں۔ یقینا ہماری ماں نے بھی ہمیں آج اس مقام تک پہنچانے کے لیے کئی قربانیاں دی ہوں گی، کئی راتیں جاگ کر گزاری ہوں گی۔ ہماری کامیابی کے لیے پل پل دعا کی ہوگی ۔

ؒؒؒلیکن یہ حقیقت ہے یہ ماں ہی ہے جو اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے اور اس قابل بناتی ہے کہ معاشرے کاکار آمد شہری بن سکے۔ہر کوئی اپنے بچوں سے بے حد پیار کرتا ہے۔بچے ہوتے ہی بڑے پیارے ہیں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ماں بچوں کی خاطر کیا کچھ برداشت نہیں کرتی اس کی ایک ہائے پر تڑپ اٹھتی ہے۔اس کے کھانے پینے کا خیال رکھتی ہے۔اس کی صفائی ستھرائی کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی۔بچے کو کیا چاہیے یہ صرف ماں ہی جانتی ہے ماں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ماں خود تو بھوکی رہ سکتی ہے لیکن بچوں کی خاطر محنت مزدوی تو کیا اپنی جان پر بھی کھیلنے کو تیار ہوتی ہے۔کچھ عرصہ قبل 13مئی بروز اتور ماﺅں کا عالمی دن منایا گیا۔اس موقع پر بہت کچھ دیکھنے میں آیا۔

کوئی اس دن کے لیے مٹھائیاں خرید رہا ہے ، کوئی والدہ ماجدہ کے لیے ملبوسات کی خریداری میں مصروف ہے، تو کوئی پھولوں کا گلدستہ لے رہا ہے۔یہ سب یقینا تعجب کی بات ہے کہ ماﺅں کا ایک دن منایا جاتا ہے یہ تو ہر روز منایا جانا چاہئے اور منایا جاتا ہے۔روزانہ ماں کی خدمت کرنی چاہئے جب ماں اپنے بچوں کو سکول بھیجتی ہے تو ان کے لیے دعا گو رہتی ہے۔جب تک بچے گھر واپس نہ آجائیںان کے انتظاربے چین رہتی ہے اور اگر کسی وجہ سے لیٹ ہو جائیں تو پریشان رہتی ہے۔ان کے لئے دعائیں کرتی ہے۔جونہی بچے گھر میں داخل ہوتے ہیںان کے واری واری جاتی ہے۔ بچوں کے گھر آنے پر ان کے لیے کھانا تےار کرکے رکھتی ہے۔ انھیں پڑھانا لکھانا، کھانا دینا، کپڑے دھونا یہ سب کام ماں خوش دلی سے کرتی ہے۔ اپنے بچے کی ہر ضرورت اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے پوری کردیتی ہے۔ اپنے منی کا نوالہ بھی اپنے بچوں کے آگے رکھ دیتی ہے۔

ماں کا سکون اس کی اولاد کے سکون سے جڑا ہوتا ہے۔ وہ اپنی نیند قربان کرکے بیمار بچے کے سرہانے کئی راتیں گزاردیتی ہے لیکن اف تک نہیں کرتی۔ آج ہم اپنے سال کے365 دنوں میں سے 1 دن کے چند گھنٹے ماں کو دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا۔ کیا واقعی ہماری ماوں کواس ایک سوٹ کی ضرورت تھی جو ہم نے اسے مدرز ڈے پر لا کر دیا تھا۔ کیا اپنی ماں کے ساتھ گزارے گئے وہ چند لمحات اس کی کئی راتوں کی نیند کا نعم البدل ہوسکتے ہیں یقینا نہیں۔ ہم اپنی ماو¿ں کی محبت کا بدلہ کبھی نہیں چکا سکتے لیکن انھیں اپنی محبت کے ذریعے ان کے خلوص کا شکریہ تو ادا کرسکتے ہیںناں۔ ہمیں اپنی ماں کی خدمت سال میں ایک دن نہیں روز کرنی ہے کیوں کہ ہمارا مذہب اسلام ہمیں یہی درس دیتا ہے۔

آج ہم زندگی کے جس مقام پر کھڑے ہیں صرف اپنی ماں کی وجہ سے جس نے کبھی ہمارے لیے راتوں کو جاگ جاگ کر دعائین کیئں تو کبھی ہمیں کامیابی کے وہ گر سکھائے جو کوئی استاد نہ سکھا سکا۔ ماں تعلیم یافتہ ہو یا نہ ہو لیکن اولاد کی پرورش وہ بہترین انداز میں ہی کرتی کیوں کہ ہر ماں اپنی اولاد کو معاشرے کا بہترین اور کامیاب فرد بنتے دیکھنا چاہتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top