ماؤں کی ذمے داری (مدیحہ مدثر )

Untitled-1موجودہ دور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق فتنوں کا دور معلوم ہوتا ہے جہاں فتنے ہر طرف سے حملہ آور ہیں۔ کفار مسلمانوں کے خلاف متحد ہورہے ہیں اور مسلمانوں کو ہر محاز پر دبانے اور شکست دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔معاشی نقصان تو دیناہی ہے لیکن ان کا اصل نشانہ علم و عمل اور ایمان ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو ان کے مذہب سے دور کردیا جائے ان کے دل سے نور ایمانی کو حب رسول ﷺ کو ختم کردیا جائے۔ کیوں کہ ان کو معلوم ہے کے مسلمان معاشی طور پر چاہے کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں ان کا اللہ پر مضبوط ایمان انہیں ہمیشہ کفار کے مقابلہ میں کامیابی عطا کرتا ہے۔

 تو بس یہ ایمان ہی ہے جسے کفار مسلسل کمزور کرنے کے لیے اپنی چالیں چل رہے ہیں ۔اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو ایسے فتنے نظر آئیں گے کے آپ کو اپنا ایمان بچانا مشکل ہوجائے گا کہیں میڈیاو سوشل میڈیا کی شکل میں تو کہیںبے جا آزادی دے کر۔ ہماری نئی نسل تو اس فتنے میں پھنسی ہوئی نظر آتی ہے اور فتنے پھیلانے والوں کی چال ایسی ہے کے جو ان کے فتنوں کا شکار ہوجائے وہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ پرہیزگار مسلمان سمجھنے لگتا ہے۔ پھر اس کے والدین ہوں دوست احباب ہوں یا کوئی عالم کوئی بھی اس کو ان فتنوں کی جکڑ سے نکال نہیں سکتا ۔

تو ایسے فتنوں کے دور میں والدین خصوصاً ماو¿ں کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کیوں کہ ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم ماو¿ں کا فرض ہے کے اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ دینی تعلیم دیں۔انہیں دین اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے طور طریقے سکھائیں۔قرآن حفظ تو ہم اپنے بچوں کو کرواتے ہیں لیکن قرآن سمجھنا نہیں سکھاتے ۔نمازوںکی پابندی کرنا سکھائیں۔بچوں کو قرآنی واقعات چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی شکل میں سنائیں اور ترجمے سے قرآن پڑھنے کی ترغیب دیں۔ ساتھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان کی سیرت و سنت بچوں کو سمجھائیں ، صحابہ کرام اور دیگر بزرگان دین کے بارے میں بچوں کو زیادہ سے زیادہ بتائیں۔اسلام کے بنیادی تصورات بچوں کے ذہنوں میں بالکل صاف اور واضح کردیں۔

ساتھ میں ہر نئے آنے والے فتنے پر بچوں کو اسلامی روح سے رہنمائی کریں ۔ بچوں سے گفتگو کرنے کی عادت ڈالیں ، ان کے ذہن میں موجود سوالات اور شکوک و شبہات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ قادیانیت ہے ہماری نوجوان نسل کو معلوم نہیں ہوتا کیوں کہ یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اس لیے ان کی باتوں میں جلدی آجاتے ہیں ایک بڑا مسئلہ علماءکرم کا مذاق اڑانا ہے مولوی کہہ کر تمام علماءکی تضحیک کرنا عام سی بات بن گئی ہے۔ جب کہ یہی چیز ہمیں علما ہمارے مذہب سے دور کر کے گمراہی کی جانب لے جارہی ہے۔ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ہمیں علماءکرام کی عزت اور مرتبہ بھی بچوں کے دلوں میں پیدا کرنا ہوگا۔ یہ ذمے داری ماو¿ں پر ہی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اس طرز پر تربیت کریںکہ وہ اپنے مذہب کے ہر پہلو سے واقف ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top