حضور ﷺ سے محبت کے تقاضے (حافظ عاکف سعید)

muhammad12ربیع الاول کا دن ہمارے ملک سمیت بیشتر اسلامی ممالک میں میلاد النبی کے یوم کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں یہ حقیقت ہمارے ذہن میں ہونی چاہیے کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال یقینا 12ربیع الاول کو ہی ہوا تھا۔ یہ ہسٹری کی لائن لائیٹ میں تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ البتہ آپ ﷺکے یوم پیدائش کے بارے میں کئی اقوال ہیں۔ اس دور میں سیرت النبیﷺ پر لکھی گئی مشہور ترین کتاب ”الرحیق المختوم“ ہے جس کو سعودی عرب میں ایوارڈ بھی مل چکا ہے اور اس کتاب کو سیرت کے حوالے سے most Athantic bookمانا گیا ہے۔ اس کے مصنف مولانا صفی الرحمان مبارکپوری ہیں اور علامہ سید سلیمان ندوی اور علامہ سلمان منصور پوری کے علاوہ دیگر بھی کئی اہل علم کی کاوشیںاس میں شامل ہیں۔ ان سب کی تحقیق یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ولادت 9ربیع الاول کو ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے آپ ﷺکی ولادت کا صحیح تعین نہیں کیا جاسکتا۔ بہرکیف آج کل میلادالنبی کے عنوان سے نبی اکرم ﷺ سے محبت و عقیدت کے مختلف انداز اختیار کیے جا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے محبت و عقیدت ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کے باپ، اس کے بیٹے اور تمام انسانوں سے محبوب تر نہ ہو جاوں “۔ (صحیح بخاری و مسلم )
دنیا میں تووہ بھی مومن سمجھے جاتے تھے جو کلمہ پڑھ کربھی منافقانہ حرکتیں کرتے تھے اور پھر قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تو ایمان رکھتے ہیں۔ ہاں !اللہ کی نگاہ میں مومن کون ہے؟ اس کے بارے میں بتاد یا گیا کہ: ”اور جو لوگ واقعتاصاحب ِایمان ہوتے ہیں ان کی شدید ترین محبت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے“۔ (البقرہ۔۵۶۱)اللہ کے بعد جس ہستی سے سب سے بڑھ کر محبت ہونی چاہیے وہ آپ ﷺ کی ذات ہے ۔ لہٰذا جب تک نبی اکرم ﷺ سے محبت تمام انسانوں سے بڑھ کر نہیں ہوگی تب تک کوئی مومن نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کو نمائندہ کامل بنا کر بھیجا اور رحمة للعالمین کا خطاب عطا فرمایا۔ظاہر ہے رحمة للعالمین کوئی ایک ہی ہو سکتا ہے اور عالمین میں عالم حیوانات بھی ہے، عالم جنات بھی، عالم انسان بھی اور عالم ملائکہ بھی ہے اور عالم میں ایک عالم یہ دنیا ہے اور دوسرا عالم آخرت ہے۔ تو آپ ﷺ کو ان تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا: ”اور(اے نبیﷺ !) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر“۔ (الانبیا اسی لیے آپ ﷺکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ”بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر“۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ جو شک کرے گا وہ اپنے ایمان کی خیر منائے۔ لہٰذا آپ ﷺ سے محبت تمام انسانوں سے بڑھ کر اگر نہیں ہے تو ایمان نہیں ہے۔ لیکن آپ ﷺ سے عقیدت اور محبت کے تقاضے کیا ہیں؟ ہم نے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیسے کرنا ہے؟ یہ سوال سب سے اہم ہے۔ ایک اصولی بات تو یہ ہے کہ آپ ﷺ ہمارے لیے کامل نمونہ ہیں  ’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے“۔ (الاحزاب۔۱۲) قرآن مجید کتاب ہدایت ہے اور آپ ﷺ مجسم قرآن ہیں۔ لہٰذاہم نے ہر کام کے لیے راہنمائی اُسوہ  حسنہ سے لینی ہے۔ لیکن آنحضور ﷺسے محبت اور عقیدت کیسے کی جائے؟ اس کا عملی نمونہ ہمیں صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں میں ملے گا۔ ایک تو آپ ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا جائے۔ ”یقینا اللہ اور اُس کے فرشتے رحمتیں نازل کرتے ہیں نبی (ﷺ) پر۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ پر رحمتیں اور سلام بھیجا کرو۔“(الاحزاب۔۶۵)

لیکن صرف درود بھیجنے سے آپ ﷺ سے محبت کے تقاضے پورے نہیں ہوجاتے۔ صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے اور آپ ﷺ کے دین کے بھی سب سے زیادہ سچے وفادار تھے۔ خود آنحضور ﷺ نے فرمایا: ”تم پر لازم ہے مضبوطی کے ساتھ پکڑنا میری سنت کو اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو “ (ترمذی )اور یہ بھی فرمایا کہ صحیح راستہ کونسا ہے: ”جس پر میرا اور میرے صحابہ کا عمل ہے“۔ (ترمذی) لہٰذا ہمیں حضور ﷺسے محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے راہنمائی صحابہ کرام کی زندگیوں سے ملے گی اور وہاں ہمیں وہ چیزیں نظر نہیں آرہیں جو آج ہم حضورﷺ کی محبت و عقیدت میں کر رہے ہیں۔ وہاں تو تقاضا یہ تھا کہ جتنی حضور ﷺ سے محبت ہے اتنی ہی آپﷺ کے مشن کے ساتھ والہانہ وابستگی ہے ۔وہاں آپ ﷺ سے محبت کا تقاضایہ تھا کہ جو دین آپ لے کر آئے تھے اُس کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جائے۔ انہیں تو ہر لمحہ یہی فکر دامن گیر تھی کہ آپ ﷺ کو جو اعلیٰ ترین دین دے کر بھیجا گیا ہے وہ دنیا میں غالب ہو جائے تاکہ اللہ کی توحید کا کلمہ اس زمین پر سربلند ہوجائے۔ یہی آپ ﷺ سے محبت کا اصل تقاضا تھا اور اسی کے لیے صحابہ کرام ؓ نے اپنی پوری زندگی صرف کر دی اور وہ آپ کے اِس مشن کو لے کر پوری دنیا میں پھیل گئے۔

دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے !
بحر ِظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے!
اقبال نے اس شعر میں صحابہ کرام کا ہی وصف بیان کیا ہے اورصحابہ کا یہ وصف آپ ﷺ کے سچی محبت و عقیدت کے نتیجے میں ہی پیدا ہوا تھا۔ جس سے آج ہم خالی ہیں لہٰذا پوری دنیا میں ذلت و رسوائی ہمارا مقدر ہے اور ہم پوری دنیا میں مظلوم و مغلوب اور مقہور ہیں۔ لہٰذا اس ذلت اور پستی سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم آپ ﷺ سے محبت کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ یہ حسن اتفاق ہی ہے کہ ان دنوں ہم قرآن مجید کی جن سورتوں کا مطالعہ کر رہے ہیںان کا تعلق بھی سیرت محمد مصطفی ﷺ سے ہی ہے۔ آج ہم سورة الم نشرح کا مطالعہ کریں گے اور اس سے قبل ہم سورة الضحیٰ کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ ان دونوں سورتوں میں ساری گفتگو آپ کی ذات کے حوالے سے ہے۔ سورة الضحیٰ کے مطالعہ کے دوران ہم سیرت النبی ﷺ کا ایک واقعہ پڑھ چکے ہیں کہ ایک دفعہ آپﷺ پر وحی آنا بند ہوگئی تھی تو آپ ﷺ کو شدید پریشانی لاحق ہوگئی تھی ۔ آپﷺ کے مخالفین اور دین اسلام کے دشمن طعنوں پر اُتر آئے تھے ۔ دوسری طرف آپ کو وحی کے نزول سے ایک خاص دلچسپی اور شغف ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے آپ چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ وحی نازل ہو۔
اس حوالے سے ایک موقع پر آپ نے جبرائیل ؑ سے شکوہ بھی کیا کہ آپ وحی جلدی جلدی کیوں نہیں لے کر آتے ۔ تو جبرائیل ؑ نے جواب دیا: (مریم) ”اور (اے نبیﷺ!) ہم (فرشتے) نہیں نازل ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے۔اُسی کے اختیار میں ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جوکچھ اس کے درمیان ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“(مریم)۔ یعنی ہم (فرشتے ) اتنی ہی وحی لانے کے مکلف ہیں جتنی اللہ پاک کی طرف سے اجازت ہے۔ بہرحال جب کافی دنوں تک وحی نازل نہ ہوئی تو آپﷺ کی پریشانی اس حد تک بڑھ گئی کہ آپ بعد میں فرمایا کرتے تھے کہ میرا دل کرتا تھا کہ میں اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا دوں۔  پریشانی اور تکلیف کی یہ کیفیت اس وجہ سے بھی بڑھ گئی تھی کیوں کہ آپﷺ سوچنے لگے تھے کہ کہیں اللہ مجھ سے ناراض تو نہیں ہوگیا ۔ کہیں مجھ سے کوئی غلطی تو سرزد نہیں ہوگئی۔ چنانچہ آپﷺ کی اس کیفیت کو دور کرنے کے لیے پھر سورة الضحیٰ کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں آپ ﷺکو تسلی دی گئی کہ اللہ نے نہ تو آپﷺ کو چھوڑا اور نہ ہی وہ آپﷺ سے ناراض ہے بلکہ آنے والے وقت میں اللہ تعالیٰ آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ ﷺ راضی اور خوش ہو جائیںگے۔
اسی تسلسل میں سورة الم نشرح نازل ہوئی: ”کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کے سینے کو کھول نہیں دیا“؟ نزول وحی کا سلسلہ کچھ دنوں تک بند ہونے سے آپﷺ کو جو پریشانی اور تکلیف کی کیفیت لاحق ہوگئی تھی اس کے لیے صوفیاءکے ہاں انقباض کی اصطلاح رائج ہے جس کا متضاد انشراح ہے اور انشراح کا مطلب ہے کسی کام کے لیے پوری طرح آمادگی اور سرگرمی کاپیدا ہونا۔ نزول وحی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے سے آپﷺکی انبساط کی کیفیت دوبارہ لوٹ آئی تو اسی حوالے سے اس آیت میں فرمایا گیا کہ کیا ہم نے آپﷺکے سینے کو وحی کے لیے دوبارہ کھول نہیں دیا؟ بانی تنظیم ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے بیان القرآن میں لکھاہے کہ وحی کے بند ہونے کا یہ واقعہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت اور آپﷺکی تربیت کا ایک حصہ تھا۔ نوع انسانی کو ہر پہلو سے راہنمائی دینا مقصود تھا۔
”اور ہم نے اُتار نہیں دیا آپ سے آپ کا وہ بوجھ“؟ ”جو آپ کی کمر کو توڑے دے رہا تھا!“ حضورﷺ پر شروع میں جب وہی نازل ہوتی تھی تو ایک بوجھ کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ پہلی وحی کے بعد جب آپ واپس گھر لوٹے تو آپ پر اتنی گھبراہٹ طاری تھی کہ حضرت خدیجة الکبریٰ ؓ سے فرمانے لگے کہ مجھے لحاف اوڑھادو۔ حضور ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو براہِ راست آپﷺ کے دل پر نازل ہوتی تھی۔ بعض صحابہ کرامؓ نے روایت کیا ہے کہ حضورﷺ پر جب وہی نازل ہوتی تھی تو آپ پر ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ حتیٰ کہ سردیوں میں بھی آپ کی پیشانی پر پسینہ آجاتا تھا اور اگر آپﷺ اونٹ پر سوار ہوتے تو نزول وحی کے وقت اونٹ کی کمر بوجھ سے دوہری ہو جاتی تھی۔ یہ کس قسم کا بوجھ تھا؟ اس بات کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن پھر اللہ نے اس کو آسان کر دیا یعنی اب آپﷺ کے لیے یہ چیز بالکل معمول کا حصہ بن گئی اور پریشانی کا موجب نہ رہی۔ دوسری رائے یہ ہے کہ آپﷺ چونکہ منصب رسالت پر فائز تھے۔ یہ ایک انتہائی مشکل ذمہ داری تھی۔ ظاہر ہے کہ پورا معاشرہ مشرک تھا اور آپﷺ کا کام ان کو یہ بتانا تھا کہ ان بتوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے، یہ تمہیں کچھ نہیں دے سکتے۔

رب ایک ہی ہے اور صرف اسی کی عبادت جائز ہے ۔ فطری طور پر ہر مخالفت برداشت ہو سکتی ہے لیکن عقیدے کی مخالفت برداشت نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا پورا معاشرہ آپ ﷺ کا دشمن ہوگیا۔ جو کل تک دوستی کا دم بھرتے تھے ان میں سے بعض خون کے پیاسے ہوگئے۔ جنہوں نے الصادق والامین کا خطاب دیا تھا وہی اب آپﷺ کی بھرپور مخالفت کر رہے تھے۔  لہٰذا شروع میں تو آپﷺ کو منصب رسالت کا بوجھ کافی بھاری لگا لیکن پھر یہ ذمہ داری بھی آپﷺ پر آسان ہوگئی۔  یہاں تک کہ آپﷺ صبح سے شام تک یہ عظیم ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور راتوں کو کھڑے ہوکر آدھی رات ، دو تہائی رات تک قرآن کی تلاوت بھی کر رہے ہیں اور یہ ساری چیزیں اب آپﷺپر بوجھ محسوس نہیں ہوتیں۔

”اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیاہے“۔ آج آپ ﷺ کے مخالفین آپﷺکے خاکے بنائیں یا جو بھی کریں اللہ نے جو آپﷺکا ذکر بلند کر دیا ہے اور جس کا ظہور اس وقت بھی ہورہا ہے اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔ پوری نوع انسانی میں کوئی دوسرا انسان ایسا نہیں ہے جس کا ذکر اس قدر بلند ہوا ہو۔ چنانچہ صحیح ابن حبان میں حضرت سعد بن مالک ؓ اور ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اور فرمانے لگے کہ میرا اور آپ ﷺکا رب آپﷺسے پوچھ رہا ہے کہ کیا آپﷺ کو معلوم ہے کہ رب نے آپﷺ کا ذکر کیسے بلند کیا؟ میں کہا کہ اللہ ہی کو بہتر معلوم ہے تو فرمایا کہ اللہ کہتا ہے جب بھی میرا ذکر کیا جائے گا میرے ذکر کے ساتھ آپﷺکا ذکر بھی لازمی ہوگا ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کلمہ طیبہ میں، اذان میں، دوران نماز التحیات میں اور خطبہ میں اللہ کے ساتھ حضور ﷺ کا نام بھی ضرور آرہا ہے۔ آج دنیا میں جتنی بھی اسلام کی مخالفت ہورہی ہے اتنا ہی اسلام پھیلتا جارہا ہے ۔ نائن الیون کا واقعہ اسلام کے خلاف جتنی بڑی سازش تھی اتنا ہی اس کے بعد یورپ میں لوگوں کا رحجان اسلام کی طرف زیادہ ہوگیا۔ امریکہ میں ہمارے ساتھیوں نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ نائن الیون کے بعد قرآن مجید کی مانگ اتنی بڑھ گئی کہ نسخے کم ہوگئے ۔ جبکہ اسی قرآن میں حضورﷺ کا ذکر بہت زیادہ ہے ۔ خاص طور پر مکی سورتوں میں تو سارا خطاب ہی آپﷺکے ذریعے سے ہے۔

”تو یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے“۔ یہ دنیا درحقیقت ایک دارالامتحان ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک مشکل ختم ہوئی تو اب دوبارہ کوئی مشکل درپیش نہیں ہوگی بلکہ مشکل کے ساتھ ہی آسانی ہے۔ ”یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے“۔ دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ مشکل کے ساتھ ہی آسانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی یہ زندگی مسلسل امتحان ہے۔ ایک بعد دوسرا امتحان آئے گا اور جو ان امتحانات میں جس قدر زیادہ کامیابی حاصل کرتا چلا گیا اس کا مقام و مرتبہ اللہ کے ہاں اتنا ہی بلند ہوتا چلا جائے گا اور اسی قدر اس کے لیے اس دنیا میں بھی آسانی پیدا ہوجائے گی اور آخرت میں بھی اس کے لیے آسانی نصیب ہوگی۔ دوسری طرف اس آیت میں آپﷺ کے خوشخبری بھی ہے کہ مشکلات کے بعد بالآخر راحت اور خوشی کا وقت بھی آنے والا ہے اور جیسا کہ دنیا نے دیکھا کہ یہ وقت بالآخر آکر رہا اور جزیرہ نما عر ب میں اسلام کا غلبہ ہوگیا۔

”تو جب فارغ ہوا کرو تو (عبادت میں) محنت کیا کرو اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جایا کرو “۔ یعنی جب دن کے اوقات میں منصب رسالت کے کاموں سے فارغ ہو جائیں تو پھر آپﷺ اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جایا کریں۔ چنا نچہ دن کے اوقات کے علاوہ بھی آپﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ نصف شب یا دو تہائی شب اللہ کی عبادت میں گزارتے تھے ۔ کیونکہ یہ آپﷺکا تعلق مع اللہ تقاضا تھا اور اللہ سے محبت کا بھی تقاضا تھا اور اس میں روحانی تسکین سمیت بہت سے خیر کے ایسے پہلو موجود تھے جن کا ہم یہاں احاطہ نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا صحیح فہم عطا فرمائے اور اس پر خلوص نیت سے عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top