Friday, November 27, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

سندھ بار کونسل انتخابات، وکلا کا احتجاج رنگ لے آیا

وکلا کا احتجاج رنگ لے آیا، سندھ بارکونسل کےانتخابات ملتوی کرنے کا نوٹی فکیشن واپس. ایڈووکیٹ جنرل...

لاک ڈاؤن ، سندھ حکومت کا نیا نوٹیفکیشن جاری

کورونا لاک ڈاؤن کے حوالے سے سندھ حکومت نے نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے. نوٹیفکیشن میں کاروباری...

اسٹیل ملز کے برطرف ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں، سعید غنی

صوبائی وزیرمحنت و تعلیم سعید غنی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل مل سے 4500 سے...

بھارتی قید سے رہا 19ماہی گیر کراچی پہنچ گئے

بھارتی قید سے رہائی پانے والے19ماہی گیر کراچی پہنچ گئے،چیئرمین فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے استقبال کیا،پھولوں کے...

دہشت گردی کا جواب دہشت گردی!(منورراجپوت)

lahore--live-linkاتوار کے روز لاہور کے دو گرجاگھروں میں ہونے والے دھماکے بلاشبہ بدترین دہشت گردی تھی، ہر شخص نے کھل کر اس کی مذمت اور متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا۔ کوئی ایک ایسی جماعت نظر نہیں آتی، جس نے اس واقعے پر دکھ کا اظہار نہ کیا ہو۔ مذہبی راہنماو¿ں اور جماعتوں نے بھی دوٹوک انداز میں ان دھماکوں کو اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا۔ ہر پاکستانی کو ان دھماکوں کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر صدمہ پہنچا اور کیوں نہ پہنچے، آخر عیسائی بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ آئین پاکستان انہیں بھی ایک باعزت شہری ہونے کا سرٹیفکیٹ دیتا ہے۔
ہمارے ہاں اس طرح کے واقعات کے ذمہ داران کے تعین میں عموماً غلطیاں ہوتی ہیں، کئی بار جس شخص یا گروہ کو کسی واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، وقت نے اسے بے گناہ ثابت کیا۔ وقت گزرنے پر پتا چلا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا، جو عوام کو بتایاجارہا تھا۔ کراچی میں رینجرز نے ایسے لوگوں کو گرفتار کیا ہے، جو دھماکوں کے بعد معاملے کا رخ بدلنے کے لیے میڈیا ہاو¿سز کو جھوٹے فون کیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ایک واقعے کی کئی کئی تنظیمیں ذمہ داری قبول کرتی رہی ہیں۔ لاہور کے حالیہ دھماکوں کی ذمہ داری جماعة الاحرار نامی کسی عسکریت پسند گروپ نے قبول کی ہے۔ اگر یہی گروہ اس دھماکے میں ملوث ہے اور اس نے مذہبی بنیاد پر عیسائیوں کو نشانہ بنایا ہے، تب بھی کسی طور پر اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ علمائے کرام نے اس عمل کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ اگر امریکا یا کوئی عیسائی ملک مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان اپنے علاقوں میں بسنے والے عیسائیوں کو نشانہ بنائیں۔ اس عمل کے خلافِ اسلام ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں، یہ ”بدلے کا قتل“ جیسی حرکتیں دانش مندی کے بھی خلاف ہےں۔
گرجاگھروں میں عین اس وقت دھماکے کیے گئے جب لوگ مذہبی رسومات ادا کررہے تھے، ایک تو دھماکے وہ بھی گرجاگھر میں اور وقت بھی عبادت کا، لازمی بات ہے اس صورت حال میں اشتعال کئی گنا بڑھ جاتا ہے، اس لیے ان دھماکوں کے بعد عیسائیوں میں ردعمل پیدا ہونا تو توقع کے عین مطابق تھا، جلاو¿گھیراو¿، توڑپھوڑ، سرکاری املاک پر حملے یہ اپنے ملک کی روایت ہے، محض عیسائیوں کو یہ کام کرنے پر لعن طعن کرنا مناسب نہیں، البتہ لاہور میں ہونے والے اجتماع کے دوران دو کام ایسے ہوئے ہیں، جس نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔
پہلا واقعہ تو دو مسلمانوں کو زندہ جلانے کا ہے۔ دھماکوں کے بعد عیسائیوں نے ان دو مسلمانوں کو پکڑکر پہلے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، پھر ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگادی، یہ منظر کروڑوں لوگوں نے اپنی ٹی وی اسکرینوں پر دیکھا۔ عیسائیوں کی جانب سے کہا گیا کہ یہ دونوں دہشت گرد تھے، ان سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا، مگر اب اصل بات سامنے آچکی ہے، جس سے صورت حال صاف ہوگئی ہے۔ زندہ جلائے جانے والوں میں سے اب تک ایک کی شناخت ہوسکی ہے۔ نعیم نامی اس نوجوان کی عیسائی آبادی یوحنا آباد کے کونے پر شیشے کی دکان تھی، دھماکے کے وقت یہ نوجوان ایک گاہک کے ساتھ اس آبادی میں آیا ہوا تھا، عیسائیوں نے محض اس کی داڑھی دیکھ کر اسے پکڑلیا، لوگوں نے تعارف بھی کرایا، مگر وہ باز نہ آئے اور آخرکار اسے زندہ جلادیا گیا۔ پہلے کہا جارہا تھا کہ علاقے میں دکان ہونے کی بات جھوٹ ہے، رانا ثناءاللہ نے بھی میڈیا پر آکر کہا کہ یوحنا آباد میں شیشے کی دکان ہی نہیں ہے، مگر شاباش ہو میڈیا نمائندوں کوکہ وہ اس دکان تک پہنچ گئے اور پوری قوم کو کیمرے کی آنکھ سے وہ دکان دکھا دی، جس کے شٹر پر نعیم اور اس کے بھائی اسلم کا نام لکھا ہوا تھا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ لوگ تو دہشت گرد تھے، دکان تو محض ریکی کے لیے کھولی تھی، ایسے لوگوں کی تسلی کے لیے شاید اتنا بتانا کافی ہوگا کہ یہ دکان چند ہفتوں یا مہینوں پہلے نہیں کھولی گئی، بلکہ گزشتہ دس برس سے یہ دونوں بھائی یہاں موجود تھے۔
عینی گواہوں کے بیانات اور واقعے کی دیگر تفصیلات پر نظر ڈالنے سے صاف پتا چلتا ہے کہ ان لوگوں کو محض مسلمان ہونے کی بنا پر زندہ جلایا گیا ہے۔ عیسائیوں نے یہ اقدام کرکے ایک خطرناک روایت ڈال دی ہے، اللہ نہ کرے، دوبارہ کہتا ہوں اللہ نہ کرے، اگر اب کبھی مسلمانوں کے علاقے میں کوئی ایسا واقعہ ہوگیا، جس کا کنکشن عیسائیوں سے ملتا ہو اور وہاں کوئی بے گناہ عیسائی مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا تو وہ بھی کہیں عیسائیوں کی اس روایت کو نہ دہرادیں۔ کوئی ہوائی بات نہیں کررہا ہوں، مسلمانوں میں اس معاملے میں جو اشتعال پایا جاتا ہے، اس کی ایک ہلکی جھلک ہم پیر کی شام لاہور میں دیکھ چکے ہیں۔ عیسائی نوجوانوں نے دو روز سے پورے علاقے کو یرغمال بنارکھا تھا اور پولیس محض تماشا دیکھ رہی تھی، شام کو مشتعل مسلمان نوجوان بھی سڑکوں پر نکل آئے اور یوں مسلمانوں اور عیسائیوں میں پتھراو¿ کا تبادلہ ہونے لگا، اس پر انتظامیہ جاگی اور رینجرز کو طلب کرکے صورت حال پر قابو پایا، لیکن یہ اس مسئلے کامستقل حل نہیں ہے۔ وقتی طور پر معاملہ دب گیا، مگر کوئی چنگاری پھر آگ بھڑکا سکتی ہے، اس لیے صوبائی حکومت کو متاثرہ مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے تیزرفتاری سے اقدامات کرنا ہوںگے۔
احتجاج کے دوران راہ گیروں کے ساتھ بھی انتہائی ناروا سلوک کیا گیا۔ گاڑیوں کی توڑپھوڑ تو ہوتی رہتی ہے، مگر عیسائی نوجوانوں نے راہ گیروں خصوصاً خواتین اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنانے کی شرمناک روایت قائم کردی ہے۔ میڈیا نے خاص طور پر اس بات کو رپورٹ کیا کہ مظاہرین باقاعدہ آنے جانے والوں کے شناختی کارڈ چیک کرتے رہے، جس کے کارڈ سے اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہوا اسے دھو ڈالا، اس سلسلے میں مرد اور عورت میں بھی کوئی تمیز روا نہیں کی گئی۔ اسی دوران گاڑی کے نیچے آکر دو افراد کے مرنے کا واقعہ بھی رونما ہوا۔ ایک مسلمان خاتون سڑک سے گزررہی تھی کہ عیسائی نوجوانوں نے اس کی گاڑی کو گھیر لیا۔ خاتون سے فحش حرکات کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر اس نے گاڑی دوڑائی تو پانچ افراد کچلے گئے، جن میں سے دو بعدازاں مرگئے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے فوری طور پر خاتون کی گرفتاری کا حکم دے دیا اور اس پر فوری عمل بھی ہوگیا، مگر وزیراعلیٰ کو شریف شہریوں کے ساتھ ہونے والا رویہ نظر نہیں آیا، اس لیے انہوںنے اس پر نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
چرچ دھماکوں کے بعد پورے ملک میں عیسائی برادری کے ساتھ ہمدردی کی لہر پھیل گئی تھی، یہ اب بھی ہے، مگر عیسائی مظاہرین نے دہشت گردی کا جواب جس دہشت گردی سے دیا ہے، اس نے انہیں بھی دہشت گردوں کے ساتھ کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ بم دھماکا کرنے والوں میں زیادہ لوگوں کو مارنے کی صلاحیت تھی، اس لیے انہوںنے مخالفین کو زیادہ نقصان پہنچایا، مظاہرین چند لوگوں کو مار سکتے تھے، لہٰذا انہوںنے اپنی طاقت کے مطابق جوابی وار کیا، دونوں برابر ہوگئے۔

Open chat