January 18, 2021 |_18 _January _2021
- Advertisment -

مقبول ترین

محمود آباد نالے پر تجاوزات کیخلاف جاری آپریشن کا 15واں روز

محمودآباد نالے پر تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کا آج 15 واں روز ہے۔ محمکہ انسداد تجاوزات حکام نے اس حوالے سے اپنے ایک...

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی آغاز

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی آغاز، کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی انڈیکس میں 31 پوائنٹس کی کمی، مارکیٹ 31 پوائنٹس کی...

ترقی کے خلاف نہیں، لوگوں کا نقصان نہیں ہونے دیں گے، حلیم عادل شیخ

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ نے کراچی کے صدر خرم شیر زمان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے...

اسکول وین الٹنے سے 5 طالب علم زخمی

بلوچ کالونی پل کے قریب اسکول کی وین تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہو کر الٹ گئی، حادثے کے نتیجے میں 5 طالب...

مسلمانوں کی موجودہ حالت (عنایت کابلگرامی)

islamاس وقت ہم مسلمان جس دور سے گزر رہے ہیں، اس سے قبل ایسا دور کبھی بھی ہم مسلمانوں پر نہیں آیا ، اس دور میں سب سے بڑا چیلنج اسلامی اقدار، روایات، عقائد اور دینی فقہ کے میدان میں ان مسائل کا حل اور جواب تلاش کرنا ہے، اس وقت علماءدین کی بھر پور زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی صلاحتوں کو استعمال کر کے ہم مسلمانوں کی رہنمائی کریں، ایک زمانہ تھاجب مسلمان پوری دنیا پر غالب تھے اور آج ہم پر ایسے حالات آئے ہوئے ہے کہ ہمارا نام سن کر غیروں کے دماغ میں دہشت گرد کا خاکہ ابھر آتا ہیں، ایسا کیوں ہے ؟ کیا کبھی ہم نے سوچھا ہے؟ آج مسلمان ہر میدان میں ناکام کیوں نظر آتا ہے ؟ اس کی اصل وجہ میری نظر میں یہ ہے کہ آج کا مسلمان اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کو بھلا بیٹھا ہے ، آج مسلمان وہ کام کر رہے ہیں ، جس کی پاداش میں اللہ رب العزت نے کئی انبیاءکرام ؑ کی قوموں کو صفاہستی سے مٹھا دیا تھا ، آج مسلمان دھوکہ دھی میں اول نمبر پر ہے ، ناپ تول میں کمی ، شراب نوشی ، زنا کاری جسے گناہ مسلمانوں میں عام ہے ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک جان قرار دیا ہے ، آپس میں بھائی بھائی کا لقب دیا ہے، لیکن آج مسلمان ہی مسلمان کے خون کا پیاسہ ہےں، پوری دنیا میں جہاں بھی دیکھو تو غیروں سے زیادہ مسلمان آپس ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ مسلمان حکمران اپنے رعایا کا بڑا خیال رکھتے تھے ، وہ ہر وقت اس فکر میں ہوا کرتے تھے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کو راضی کریں، اللہ تعالیٰ کے سیوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا تھا ، راتوں کو جاگ کر اپنے رعایا کی خدمت کیا کرتے تھے اور ایک آج کا زمانہ ہے کہ حکمرانوں کو عوام سے زیادہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کا خیال ہےں، اس نازک دور میں بھی ہمارے حکمران اللہ تعالیٰ کو تو نارض کرنا پسند کرتے ہیں مگر امریکا کو نہیں، آج تقرباََ تمام مسلم ممالک اور ان کے سربراہان اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنے مغربی آقاﺅں سے ڈرتے ہیں، کسی کو بھی اپنی عوام کا زرہ برابر خیال نہیں ہیں۔

دنیا میں آنے کے بعد سب اہم بات دنیا میں رہنے کے طور طریقے ،دنیا میں کیا کھانا ہے ،کیسے کھانا ہے۔ کیسے رہنا ہے ، کاروبار کیسے کرنا ہے ، رشتہ داروں میں کیسے آنا جانا ہے، حکومت کیسے کرنی، یہ سب ہمیں ہمارا دین اسلام سیکھا تا ہیں، لیکن آج ہم نے اسے پس پش ڈال دیا ہے اور اپنی من مانیا کرتے ہیں، یہ دنیا ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے بنائی، اس میں رہنے کے طور طریقے میرے اللہ نے اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ واسلم کے ذریعہ ہم کو سیکھا ئے ہے ، ایسا نہیں کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ارشادات فرمائے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان طریقوں اپنا کر ہمیں دیکھا یا کہ ہم مسلمان دنیا میں امن اور اخوات پیدا کر نا بخوبی جانتے ہیں ، پیارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے طریقوں سے دوری ہماری لئے دنیا میں ناکامی سبب بنتی جارہی ہےں ۔

علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے بارے یہ بات کہی جاتی ہے کہ آپؒ ایک مرتبہ ا نگریزوں کے دور حکومت میں ہندوستان کی ایک ریلوئے اسٹیشن پر ریل گاڑی کا انتظار کررہے تھے ، کہ آچانک ایک ہندوں آپ کے پاس آیا اور کہا کہ حضرت مجھے کلماءپڑھا دیں ، میں مسلمان ہو نا چاھتا ہوں آپ ؒ نے حیرانی کے عالم میں پوچھا ، کہ میں نے تو آپ کو دعوت نہیں دی اور ناہی اس سے قبل کبھی ہماری ملاقات ہوئی ، آپ مسلمان کیو ں ہونا چاہتے ہے؟ تو اس شخص نے کہا کہ آپ کے چہرے کی نورانیت کو دیکھ کر مجھے ایمان لانے کی طلب ہوئی کہ جس دین میں آپ ہو اور اتنے نورانی پر کشش چہرے کہ مالک تو آپ کا نبی (ﷺ) کتنا خوب صورت ہوگا اور آپ کا دین کتنا عظیم ہوگا ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضون اللہ اجمعین اور صالحین امہؒ اپنے کردار سے غیروں کو دین اسلام کی طرف مائل کیا کرتے تھے ۔

لیکن آج کے مسلمانوں کی وجہ سے دین اسلام اور مسلمان زوال پزیر ہوتے جارہے ہیں، آج کا مسلمان اور اس کے حکمران اللہ تعالیٰ سے بغاوت پر اترآئے ہے ، اللہ تعالیٰ نے حدیث قدوسی میں ارشاد فرمایا : ، مفہوم ، اے ابنِ آدم”ایک میری چاہت ہے،ایک تیری چاہت ہے،تو ہوگا وہی جو میری چاہت ہے،پس اگر تو نے سپرد کردیا اپنے آپ کو اسکے جو میری چاہت ہے،تو میں وہ بھی تمہیں دونگا جو تیری چاہت ہے،اگر تو نے مخالفت کی اسکی جو میری چاہت ہے،تو میں تمہیں تھکا دونگا اس میں جو تیری چاہت ہے،پھر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔ (بعض علامہ کرام اس حدیث کو ضعیف قرادےتے ہیں)

مسلمانوں کی موجودہ صورت حال بیحد افسوس ناک اور ناقابل تحریر ہے۔ ہرجگہ مسلمان ظلم وزیادتی، خوف ودہشت، قتل وفساد، جبروتشدداورذلت وپستی کے شکار ہیں۔ کہیں پر داڑھی رکھنے پر پابندی، کہیں پراذان پر پابندی، کہیں پر تعمیرمسجدومدرسہ پر پابندی، کہیں پر حجاب پر پابندی، کہیں پر اسلامی ادارہ پر پابندی،کہیں پر اسلامی فنکشن پر پابندی تو کہیں پر اسلامی قانون واسلامی شعائر پر پابندی پائی جاتی ہے گویا ہم اپنی پستی کی وجہ سے چہار دانگ عالم میں مظلوم ومقہور ہیں۔ان حالات سے نمٹنے کے لئے مسلمانوں کی طرف سے کوئی عالمی اقدام نہیں۔ اس وقت مسلمان، انفرادی واجتماعی اعتبار سے جن مسائل کے شکار ہیں اور بالخصوص نائن ایلون کے بعد اور ہمارے ملک کی جو مجموعی صورت حال ہے یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم ان حالات کو صرف ظاہری اسباب سے جوڑ کر نہ دیکھیں؛ بلکہ عملی اعتبار سے اپنا محاسبہ بھی کریں، دیکھے کہ کہی اللہ تعالی ہم سے نارض تو نہیں، اپنے گناہوں پر نظر دوڑائے کہ ہمارے گناہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہم سے دور تو نہیں ہوتی جارہی ہیں،

موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے آج اس بات کی ا شد ضرورت ہے کہ ہم ایک بار پھر سنجیدگی کے ساتھ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہیں؟ تاکہ اس کی روشنی میں ہم اپنے زوال و ادبار کا مداوا کرسکیں اور اپنا رشتہ اپنے روشن ماضی سے جوڑ کر حال اور مستقبل کو بہتر بناسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس امت کی تعریف کرتے ہوئے اور اس کی وجہِ تخلیق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ”ہم نے تمہیں ایک امت بنایا ہے“۔اس سے اس بات کی طرف واضح اشارہ کیا گیا ہے کہ امت مسلمہ پوری دنیا میں ایک ہے اور سارے مسلمانوں کا مفاد ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، اگر دنیا کے کسی ایک گوشے میں کسی مسلمان کو تکلیف پہنچتی ہے تو دنیا کے دوسرے خطوں کے مسلمانوں کو بھی اس کا احساس ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اتحاد کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں انتشار نہ پھیلاﺅ“۔ یہاں اللہ کی رسی سے مراد قرآن پاک، سیرت طیبہ ﷺ، صحابہ کرامؓ اور امت کے صالحینؒ کا نمونہ عمل ہے جس پر عمل کرنے میں ہماری کامیابی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام سے قبل دنیا کی حالت بہت ابتر تھی، انتشار و تفرقہ بازی ہر قبیلے، خاندان میں گھر کیے ہوئی تھی، اسلام کی آمد کے ساتھ ہی یہ بیماری دور ہوئی اور عرب کے سخت دل بدو،بھی باہم نرم دل اور بھائی بھائی بن گئے، قرآن نے اس کو قیامت تک آنے والی پوری امت کے لیے ایک نعمت قراردیااوراس کی قدر کرنے کی تاکید کی ”اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس نعمت کی وجہ سے بھائی بھائی بن گئے“۔ (الانفال:۶۳) اس کے علاوہ دوسری مختلف آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو باہم متحد رہنے کی ہدایت دینے کے ساتھ گذشتہ قوموں اور امتوں کے انتشار اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ان کی بربادی سے اس طور پر باخبر کیا کہ اگر تمہارے درمیان بھی اس طرح کا انتشار پیدا ہوا تو تم بھی برباد ہوجاوگے۔ بطور خاص بنی اسرائیل کے واقعات کو کئی مقامات پربیان کیا گیا ہے اور ان واقعات کے فوراً بعدہم مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ ان کے جیسا رویہ اختیارنہ کرو، میرا یقین و عقیدہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہی سچ ہے اور اسی پر عمل کر کےمسلمان ایک بار پھر سرخرو اور کامیاب ہو سکتے ہےں اور اپنی کھوئی ہوئی عظمت،شہرت،عزت اور ساکھ کو دوبارہ بحال کر سکتے ہے،اس کے علاوہ اور کوئی بھی حل کامیاب نہیں ہو سکتا ہے خواہ مسلمان کتنی بھی کوشش کر لے سب بیکار اور وقت کا ضیاع ہے۔ اللہ ہم مسلمانوں کی حال پر رحم فرمائے(آمین)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat