ایم ایم ایل امیدوار مزمل اقبال ہاشمی کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: الفت اکرم
ملی مسلم لیگ نے پاکستان کی سیاست میں قدم رکھتے ہوئے اپنی مقبولیت حاصل کرلی۔ ووٹر کو عزت دو، لوٹ کھسوٹ اور موروثی سیاست کا خاتمہ ،نظریہ پاکستان اور خدمت انسانیت کی سیاست کا پرچم بلند اٹھائے اس جماعت نے پاکستان کے باہر ملک دشمن قوتوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ ملی مسلم لیگ کے قیام کی باتوں سے ہی پوری دنیا میں بھونچال آگیا ۔ ملی مسلم لیگ کو روک لو ورنہ کہیں یہ نظریہ پاکستان کو ملک کے کونے کونے تک نہ پھیلا دیں۔ اس نظریے کے خاتمے کے لیے بھارت سمیت اسلام اور پاکستان دشمن عناصر نے جو محنت کی تھی وہ سب رائیگاں جانے والی تھی۔

muzamil 2

ملی مسلم لیگ کو تو رجسٹریشن نہ مل سکی البتہ پارٹی کے رہنما اللہ اکبر تحریک کے پلیٹ فورم سے میدان سیاست میں اتر پڑے۔ ملی مسلم لیگ کیا ہے، کیوں ہے اور اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں ان سب باتوں کو جاننے کے لیے کراچی اپڈیٹس کی ٹیم نے رابطہ کیا ملی مسلم لیگ کے نائب صدر اور حلقہ این اے 243-242 کے امیدوار مزمل اقبال ہاشمی سے۔ مزمل اقبال ہاشمی سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کی نذر کیا جارہا ہے۔ پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔

سوال: ملی مسلم لیگ کے قیام کے اغراض و مقاصدکیا ہے؟
مزمل اقبال ہاشمی: ملی مسلم لیگ پاکستان کی سیاست میں نئی جماعت ہے۔ پارٹی کی تشکیل کا بڑا مقصد ملک میں تقسیم کے عمل کو روکنا اور اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا ہے۔ ہمارا مقصد ہے زبان، قومیت اور مسلک کی بنیاد پر پنپنے والی سیاست کو ختم کر کے ملک میں اتفاق و اتحاد کی سیاست متعارف کرانا۔ پاکستان میں جو نظریاتی سیاست تھی وہ دم توڑتی جارہی تھی۔ نظریہ پاکستان بنانے والوں نے جو ملک بنایا تھا۔ اس ملک کا جو نظریہ تھا اس سے لوگ بہت دور جا چکے ہیں۔ ملی مسلم لیگ کا قیام اس مقصد کے لیے ہواکہ ہم پاکستان میں نظریاتی سیاست کو پروان چڑھائیں۔نظریاتی سیاست کو مضبوط کریںاور لوگوں کو نظریہ پاکستان کے اوپر کھڑا کرکے اس پاکستان کو مضبوط اور توانا بنانا ہے۔ اس کے اندر جو مختلف علاقائی، لسانی، گروہی تقسیم آرہی ہے ان کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔

muzmail 1سوال: ملی مسلم لیگ نے لاہور اور پشاور کے ضمنی انتخابات سے کیا تجربات اخذ کیے؟
مزمل اقبال ہاشمی: اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم انتخابی سیاست میں پہلی با ر آئے ہیں لیکن ہم پاکستانی امن کی سیاست میں ایک لمبے عرصے سے شریک رہے ہیں۔ ہم نے پاکستان کی سیاست کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ملی مسلم لیگ سیاست سے بخوبی واقف بھی ہیں اور لوگوں کے مسائل سے بھی واقف ہیں۔ اس حوالے سے کوشاں بھی ہیں کہ ان مسائل کو بہتر طریقے سے حل کریں گے تو اس میں کوئی شک نہیں جو انتخابی سیاست ہوتی ہے اس کی ایک اپنی علاقائی ڈومین ہوتی ہے ڈومینشن ہو تی ہے اور آپ کو ان چیزوں کے اوپر فوکس کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا گراﺅنڈ پر کام موجود تھا تو ہمیں مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، پریشانی نہیں ہوئی۔ ملی مسلم لیگ اس وقت پاکستان کی سیاست میں ایک نیا نام ضرور ہیں لیکن ہمارے لیے پاکستان کی سیاست نئی نہیں ہیں۔ گزشتہ الیکشن سے ہمیں یہ فائدہ ہوا جو سازشیوں سے آگاہی ملی، منفی ہتھگنڈوں سے کیسے نمٹنا ہے انہیں کیسے کم کرنا ہے، سیاسی کشیدگی کے ماحول کو کیسے کم سے کم رکھنا ہے۔ جو باہمی سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات ہیں انہیں کیسے بہتر کرنا ہیں اور پاکستان کی سیاسی سطح کو کیسے پرامن رکھنا ہے۔

سوال: آپ کی الیکشن مہم کیسی جارہی ہے؟
مزمل اقبال ہاشمی: ہم آئے تو سیاست میں پہلی بار ہیں لیکن ہماری ڈور ٹو ڈور کمپین اور گھر گھر پہنچنا دوسری سیاسی پارٹیوں سے بہت بہتر ہے۔ ہماری تیاری بہت اچھی ہے اور ہم امید کرتے ہیں ان شاءاللہ امیدوار جن کے درمیان زوروں کا مقابلہ ہو گا ہم بھی ان میں سے ایک ہیں۔ ہم اللہ پاک سے بہت اچھی امید رکھتے ہیں کہ ہمارے دونوں حلقوں کی محنت کا صلح ہمیں ضرور ملے گا۔

سوال: حلقے کے دورے میں عوام کو کن مسائل کا سامنا ہے، آپ کی حکمت عملی کیا ہے؟
مزمل اقبال ہاشمی: عموما انتخابی دورے گہرائی میں جا کر کیے جاتے ہیں۔ گلی محلے میں جاکر عوام سے مل کر اندازہ ہوتا ہے کہ حالات کیا ہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ ہم کراچی شہر میں رہتے ہیں لیکن جب میں گلی کو چوں میں اترا تو ہمیں پتا چلا وہ جو ہم جا کر تھر پارکر میں جا کر دیکھا کرتے تھے اور بلوچستان میں دیکھا کرتے تھے لیکن کئی بلوچستان اور تھرپارکر ہمارے کراچی میں موجود ہیں۔ کراچی شہر کے اندر لوگوں کو وہی مسائل درپیش ہیں جو دور دراز علاقوں کے لوگوں کو پیش آتے ہیں۔ اس میں تعلیم، صحت اور پانی کا مسئلہ ہیں۔ اس کے علاوہ سڑکوں کی ڈیولپمنٹ کا مسئلہ ہے، گلیاں کی حالت خراب ہے، شہریوں کو گھروں میں زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ یہ سارے مسائل ہم نے اپنے حلقوں میں دیکھے ہیں اور الحمداللہ ہمیں خدمت کا ایک لمبا تجربہ ہیں۔ ہم جیتیں یا ہاریں ان مسائل کے حل کے لیے ہم عوام کے ساتھ ہیں اور ان شاءاللہ ان کو ہم حل کرائیں گے۔

سوال: اسمبلی میں جانے کے بعد عوام کی ملی مسلم لیگ سے کیا امیدیں وابستہ ہیں؟
مزمل اقبال ہاشمی: میرا خیال ہیں جو بھی اسمبلی میں جاتا ہے لوگ اس کے بارے میں یہی امیدیں رکھتے ہیں کہ یہ عوام کے مسائل کو اجاگر کریں گے ، عوام کے لیے کام کریں گے۔ ان شاءاللہ لوگوں کی جو امیدیں ہیں ہم ان پر پورا اتریں گے۔ عوام کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کریں گے۔ لوگ محسوس کریں گے کہ پہلی بار اسمبلی میں عوام کی بات ہو رہی ہیں۔ یہ کام ان شاءاللہ ملی مسلم لیگ کرے گی۔

سوال: ملی مسلم لیگ کی خواتین کے حقوق کے لیے کیا رائے ہے؟
مزمل اقبال ہاشمی: ہمارا نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہیں۔ ہمارا نظریہ تو آج سے چودہ سو سال پہلے بن گیا تھا جب بیٹی کو زندہ درگوہ کیا جاتا تھا ، جب ماں کی وہ عزت وہ وقار نہیں تھا ، بہن کو بھائی بوجھ سمجھتا تھا، عورتوں کو وارثت میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔ اس وقت اسلام نے عورتوں کی حقوق کی بات کی انہیں وہ حق دیا جو اس سے پہلے خواتین کو تاریخ میں کبھی نہیں ملا۔ اسلام میں باپ کے مقابلے میں ماںکو تین درجہ زیادہ حق دیا۔ بیٹی کی تربیت کو جنت میں جا نے کا ذریعہ قرار دیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کو بہتر تعلیم، روزگار کے مواقعے فراہم کیں جائیں اور یہ کا م بہتر ملی مسلم لیگ ہی کرسکتی ہیں۔

سوال: ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن نہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟
مزمل اقبال ہاشم: رجسٹریشن کے عمل کے لیے جو چیزیں درکار تھیں وہ ہم نے پوری کردیں۔ ہمارے اوپر کوئی الزام نہیں ۔ سوائے اس کے امریکا ہماری رجسٹریشن کو روکنا چاہتا تھا۔ اس نے اس عمل کے اندر رکاوٹیں کھڑی کیں۔ بھارت کا دباﺅ آیا حکومت نے الیکشن کمیشن پر زور دیا، عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا۔ یہ جو مسائل پیدا ہوئے ہیں یہ جو کیفیت ہے میں یہ سمجھتاہوں کہ پاکستان ابھی تک مکمل آزاد نہیں ہوا، ابھی تک غلامی میں ہیں۔ ملی مسلم لیگ جب اقتدار کی طرف آئے گی تو پاکستان کو حقیقی آزادی دلوائیں گئے۔

سوال: ملی مسلم لیگ کا نام مسلم لیگ ن سے ملتا جلتا ہے، کیا ماضی میں اس کا حصہ تھے؟
مزمل اقبال ہاشمی: مسلم لیگ ن کے حوالے سے ہمارا نقطہ نظر تھا کہ یہ بائیں بازو کے لوگ ہیں اور یہ اپنے آپ کو وہ مسلم لیگ کہتے ہیں جو قائداعظم کی مسلم لیگ ہے۔ ہمارا یہ خیال تھا کہ شاہد یہ علامہ اقبال اور قائداعظم کے نظریات کو آگے لے کر چلیں۔ جب ہمیں یہ پتا چلا کہ یہ بھارت اور پاکستان کے فرق کو ختم کر رہی ہے۔ پاکستان کے باڈر کو ایک لکیر سمجھتے ہیں۔ بھارتی دوستی میں تمام حدوں سے آگے جانا چاہتے ہیں تو ہم نے یہ بات سوچی کہ ہمیں خود سے سیاست کے اندر آنا چاہیے۔ ہمارا مسلم لیگ سے کوئی انتخابی اتحاد نہیں ہیں۔ ہمارے اپنی سیاست نظریاتی سیاست ہیں۔ مسلم لیگ ایک شخص کی جماعت ہیں اور یہ ایک نظریاتی جماعت ہیں۔

سوال: کراچی اپ ڈیٹس کے قارئین کے لیے آپ کا پیغام؟
مزمل اقبال ہاشمی: کراچی اپ ڈیٹس کے قارئین کے لیے میں یہ کہوں گا کہ سب سے پہلے تو بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ کراچی کی سطح پر ایسا کام ہونا چاہیے تو مجھے خوشی ہے کہ آپ لوگ کررہے ہیں۔ جہاں تک میرا پیغام ہے وہ یہ ہے کہ کراچی کو لسانیت اور عصبیت پر بہت آزمایا گیاہے۔ اب اس سب کو ختم ہونا چاہیے ۔ کراچی کے عوام باشعور ہیں اور اس لیے اس بار اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر ڈالیں۔ جو ووٹ کے اہل ہیں صرف انہیں کو ووٹ دیں۔ اگر مجھ سے پوچھیں تو کرسی کو ووٹ دے کر صادق اور آمین قیادت کو لائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top