Thursday, December 3, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ضلع وسطی کے مزید علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن

کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر کراچی ضلع وسطی کے مزید علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، لاک ڈاؤن والے علاقوں میں...

اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

 پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز، اسٹاک ایکسچینج میں 377 پوائنٹس کا اضافہ، 100 انڈیکس کی 337 پوائنٹس کے اضافے سے 42...

النور سوسائٹی میں صحافی کو لوٹ لیا گیا

تھانہ سمن آباد کی حدود النور سوسائٹی بلاک 19 میں ڈکیتی کی واردات، صبح سویرے نیوز ون ٹی وی کے نیوز پروڈیوسر اور پی...

شہر قائد میں پولٹری کی قیمتیں بے قابو

شہر قائد میں پولٹری کی قیمتیں بےقابو، مرغی کا گوشت 380 سے 400 روپے فی کلو اور زندہ مرغی 250 روپے میں فروخت ہورہی...

کراچی :خوف کی سیاست(انصار عباسی)

pti تحریک انصاف نے کراچی کی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ متحدہ قومی موومنٹ کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ ا±س کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ جس بات کے بارے میں کل سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا تحریک انصاف وہ آج کر کے دکھا رہی ہے۔ حلقہ 246 کے ضمنی الیکشن میں اگرچہ ایم کیو ایم کو شکست دینا مشکل ہو گا مگر جس انداز میں متحدہ قومی موومنٹ کے گڑھ میںتحریک انصاف نے الیکشن مہم چلانے کا سلسلہ شروع کیا ا±س نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے مسلط خوف کی سیاست کو ایک شدید جھٹکا دیا ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار عمران اسماعیل ، کراچی سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے دوسرے رہنماوں اور ورکرز نے جس جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے گھر عزیز آباد میں سیاسی سرگرمی شروع کی، ا±س نے متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے رہنماﺅں کو ایک عجیب بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم کو شاید اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہی مشکل پیش آ رہی ہے کہ تحریک انصاف نہ صرف حلقہ 246 کے الیکشن میں کھل کر اپنی مہم چلانے میں سنجیدہ ہے بلکہ عزیر آباد میں واقع متحدہ کے قائد الطاف حسین کے گھر کے قریب جناح گراونڈ (Jinnah Ground) میںجلسہ کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ بلکہ ایسا پہلے کسی نے سوچنا بھی گوارا نہ کیا۔ جناح گراونڈ میں جلسہ کر کے ایم کیو ایم کی سیاسی حیثیت کو چیلنج کرنا، متحدہ کی سیاست کو ہدف تنقید بنانا اور الطاف حسین کے خلاف بات کرنا کل تک ایک خواب تھا جسے تحریک انصاف حقیقت میں بدلنے جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم کی غیر یقینی کا یہ حال ہے کہ پہلے پہل تو انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ جناح گراونڈ میں تو تحریک انصاف کو جلسہ کی اجازت ہی نہیں مل سکتی۔ تحریک انصاف نے جواباً کہا کیوں نہیں مل سکتی، کس قانون کے تحت اس سیاسی عمل سے کسی بھی سیاسی جماعت کو روکا جا سکتا ہے؟ جب دیکھا کہ پی ٹی آئی تو رکنے والی نہیں تو ایم کیو ایم نے کہا ہاں ضرور جلسہ کریں۔ پہلے روز پی ٹی آئی والے اسی علاقہ میں پہنچ گئے تو ایم کیو ایم کے ورکرز نے عمران اسمعیل سمیت کچھ دوسرے افراد کی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنا دیا۔ تحریک انصاف نے کہا کہ وہ ایم کیو ایم کی ہراساں کرنے کی پالیسی سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی سیاسی مہم جاری رکھے گی۔ اس دوران عزیز آباد میں ہی دونوں پارٹیوں کے ورکروں کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔ تحریک انصاف کے ایک الیکشن کیمپ پر بھی حملہ کیا گیا مگر اس سب کے باوجود پی ٹی آئی متحدہ قومی موومنٹ کی طاقت کو چیلنج کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ عمران خان سمیت پارٹی کے دوسرے رہنما خصوصاً جن کا تعلق کراچی سے ہے، ا±ن کا کہنا ہے کہ وہ ہر حال میں کراچی کی سیاست کو خوف اور دہشت سے آزاد کروائیں گے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ عمران خان اسٹبلشمنٹ کے کندھے پر سوار ہو کر کراچی کو فتح کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر بحث کی جا سکتی ہے، عمران خان اور تحریک انصاف کس کے کہنے پر یہ سب کچھ کر رہے ہیںمگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ کراچی میں تحریک انصاف ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت ہے جو یقیناً ایم کیو ایم کی سیاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ 2013 کے انتخابات میں زور زبردستی اور دھونس دھاندلی کا مظاہرہ پورے میڈیا نے دیکھا جس کے باوجود پی ٹی آئی نے اپنے آپ کو کراچی میں منوایا۔ اب پی ٹی آئی فوج یا رینجرز کی موجودگی میں الیکشن کروانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے مجھے بتایا کہ پی ٹی آئی کی اس درخواست کا مثبت جواب مل سکتا ہے تا کہ کراچی کے ضمنی انتخاب کو واقعی آزاد اور شفاف بنایا جائے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی ایسا کرنے کی حمایت کی ہے جبکہ ابھی تک اس سلسلہ میں ایم کیو ایم کی طرف سے کوئی بیان نہیں دیا گیا۔ گزشتہ ماہ نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے بعد متحدہ کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اگرچہ متحدہ اپنے آپ کو تشدد اور جرائم سے الگ کرنے کا بار بار بیان دے رہی ہے مگر گزشتہ ہفتوں کے دوران پاکستان کے اندر اور برطانیہ میں متحدہ اور اس کے رہنماﺅں کے متعلق جو کچھ سامنے آیا وہ انتہائی سنگین ہے۔ نائن زیرو پر چھاپے کے دوران پکڑے گئے جرائم پیشہ افراد اور اسلحہ، صولت مرزا کے الزامات، صولت مرزا کی بیوی کا بیان اور کچھ تصویری ثبوت، مبینہ طور پر ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے
ٹارگٹ کلرز کے بیانات، بلدیہ ٹاون سانحہ کے متعلق انکشافات اور لندن میں الطاف حسین کے بعد ایم کیو ایم کے اہم رہنما محمد انور کی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری اور ضمانت ایسے واقعات ہیں جو ایم کیو ایم کو جرائم سے جوڑتے ہیں۔ تحریک انصاف کی کراچی میں پذیرائی کی اصل وجہ ایم کیو ایم کا مبینہ طور پر جرائم اور دہشتگردی سے تعلق ہے۔ میری ذاتی رائے میں اگر ایم کیو ایم کو اپنا سیاسی مستقبل بچانا ہے تو state of denialکی بجائے اپنی سیاست کو جرائم، دہشت، زور زبردستی وغیرہ سے مکمل طور پر خود کو علیحدہ کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں متحدہ کو اپنی قیادت ایسے افراد کے حوالے کرنی پڑے گی جن کی ذات سنگین الزامات سے پاک ہو۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایم کیو ایم کی موجودہ تنزلی کو کوئی نہیں روک سکتا۔
بشکریہ جنگ

1 COMMENT

  1. انصار عباسی بے وقوفی کی باتوں سے اجتناب فرمائیں، کراچی میں کوں سے خوف کی بات اپ کرتے ہیں، کیا جماعت کو ایم کیو ایم کا خوف ھے اگر ھوتا تو الطاف شکور پاسبان والے ایک طویل عرصہ ایم کیو ایم کیساتھ مڈبھیڑ کرتے رہے ہیں، ان کے حافط یعیم، پروفیسر غفور، قاضی، منور حسین سب ہی وقتا فوقتا الجھتے رہے ہیں، حقیقی کیون بنتی افاق احمد اور ان کے ساتھی بھی ایم کیو ایم کے خلاف بولتے رہے، ماضی میں پنجابی پختون اتحاد کے عرفان اللہ مروت، سرور ایوان، پھر طارق خان صاحب ٹرکوں پر بیٹھ کر عزیزآباد فتح کرنے آتے تھے اور ایم کیو ایم کے خلاف ھرزارسائی فرماتے تھے، پھر اسٹیبلیشمنٹ کے اشارے پر ظفر جھنڈیر صاحب بہادر بنے اور ایم کیو ایم کے خلاف بیان بازی پر کمربستہ ھوتے اور بے خوفی سے ایم کیو ایم کے خلاف بولے، اسکے بعد ایم کیو ایم کا خوف زولفقار مرزا کو کراچی لے آیا وہ بےخوفی سے ایم کیو ایم کے خلاف بول کر سب ایم کیو ایم مخالفیں سے داد لیتے رہے اور ضوررت سے ریادہ بے خوف ھو کر پی پی پی کے لیئے مشکل پیدا کر گئے، عزیر بلوچ کو ایم کیو ایم کے خلاف میدان میں اتارا گیا وہ بھی ایم کیو ایم کو ڈراتے تھے۔ تو کراچی کے لوگوں کو آپ کیا سمجھتے ہیں اور کوں سے کراچی والے لوگ ہیں جو ایم کیو ایم سے خوف کھاتے ہیں ؟ کراچی میں 1992 سے اپریشن ھو رہا ھے ایم کیو ایم کے خلاف رینجرز بھی موجود ھے اس کے باوجود اپ خوف کی بات کرتے ہیں کیا رینجرز بھی خوف کا شکار ھے یہ اپ نے نہیں بتایا۔ کراچی میں ضمنی الیکشن ھوتے فوج بوتھ کے اندر باھر موجود تھی، ایم کیو ایم پھر بھی الیکشن جیت گئی اور آپ جیسوں کو پھر بھی عقل نہیں آئی نہ آئے گی کیونکہ آپ کی عقلوں کو تعصوب کی ھوا لگی ھوئی ھے الطاف فوبیا ھے ایم کیو ایم والے سصیح کہتے ہیں, آپ کو ایم کیو ایم پشند نہیں لیکن کراچی والوں کو تو ھے وہ ان کو بار بار اپنے ووٹ سے اسمبلیز میں بھیجتے رھئں گے۔ آپ زبردستی قیادت اور تمائندوں پر بہتان ترازی کرتے رہیں کراچی والے ان کو نہیں مانتے۔

Comments are closed.

Open chat