Saturday, November 28, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

لانڈھی، بھینسوں کے باڑوں میں آتشزدگی

لانڈھی نمبر 4 کے قریب مویشیوں کے 3 باڑوں میں آگ لگ گئی، 3 بھینسیں ہلاک، آگ بجھانے...

ڈیفنس پولیس مقابلہ، ملزمان کا کرمنل ریکارڈ جاری

ڈیفنس فیز 4 میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کی تفصیلات پولیس حکام نے جاری کردیں۔ ڈیفنس مقابلہ...

مسلم ممالک میں مغربی جمہوریت کامیاب نہیں،ڈاکٹرندوی

15-1-2018dکرچی: دعوة اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تحت ریجنل دعوة سینٹر احسن آباد کراچی میں ایک روزہ خصوصی نشست بعنوان ”مغربی طرز جمہوریت اور اسلامی ممالک“ کا انعقاد کیا گیا، جس سے معروف محقق ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک میں مغربی طرز کی جمہوریت کامیاب نہیں ہوسکتی۔ انتخاب کے لیے معیار دیانت و قابلیت ہونا چاہیے، محض پارٹی اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بہتر قیادت میسر نہیں آسکتی۔ اسلامی ممالک نے یورپ سے جمہوریت لی لیکن اخلاقیات کو نظر انداز کردیا۔ اسلام میں خلیفہ وقت کے پاس دینی و دنیوی دونوں امور کا اختیار ہوتا ہے۔ اسلامی خلافت کے ادوار میں شوریٰ کا ادارہ ہمیشہ قائم رہا۔ انگریزوں نے ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کے اصول پر اسلامی ممالک کو بکھیر دیا۔ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنانے کے لیے قوانین کو اسلامی بنانا ہوگا۔ ایک روزہ نشست سے ریجنل دعوة سینٹر سندھ کے انچارج ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے بھی خطاب کیا، جس میں طلبہ، اساتذہ و اہل علم حضرات بڑی تعداد میں شریک تھے۔ ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں جمہوریت کے باجود برطانیہ میں بادشاہت کا ادارہ قائم ہے۔ یورپ میں کلیسا اور بادشاہ کے طویل جنگ کے بعد جمہوریت کو اپنایا گیا۔ اسلامی ممالک میں جمہوریت اس طرز پر کام نہیں کرسکتی جس طرز پر یورپ میں رائج ہے۔ انتخاب کا معیار دیانت اور قابلیت ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فلسفہ اور ادب کے ذریعے غیر اسلامی عناصر اسلام میں داخل ہوگئے۔ مسلمانوں نے انگریزوں سے جمہوریت لی لیکن اخلاقی امور نہیں لیے، جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔ ڈاکٹر سلمان ندوی نے کہا کہ اسلامی قوانین کو اپنائے بغیر ریاست اسلامی نہیں بن سکتی۔ قیام پاکستان کے بعد سیاسی، تعلیمی نظام میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت تھی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ بانیان پاکستان اس ملک کو اسلامی مملکت بنانے چاہتے تھے۔ قائد اعظم کی کسی بھی تقریر میں سیکولرازم کا حوالہ نہیں ملتا، انہوں نے صرف اقلیتوں کے حقوق کی بات کی ہے، جس کی تلقین اسلام بھی کرتا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل قوانین کو اسلامی بنانے کے لیے وہ کردار ادا نہیں کرسکی جس کی توقع کی جانی چاہیے۔ قوانین، نظام سیاست اور تعلیم کو اسلامی سانچے میں بدلنے کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

Open chat