Tuesday, November 24, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی میں آج بونداباندی کا امکان

موسم کی صورتحال، کراچی میں آج بونداباندی کا امکان ہے۔ آج کم سے کم درجہ حرارت 16 ڈگری...

زائد فیسیں لینے والے اسکولوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے تمام اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ...

محکمہ داخلہ سندہ نے نیا حکم نامہ جاری کردیا

سندہ میں کورونا وائرس کی دوسری لہر، محکمہ داخلہ سندہ نے نیا حکم نامہ...

گھر کی دیوار گرنے سے ایک شخص ہلاک

کورنگی میں پی این ٹی کالونی کے قریب زیر تعمیر گھر کی دیوار گر گئی، گھر کی دیوار...

نیو کراچی(رفیع عباسی)

nw khi  00قلت آب ، ٹرانسپورٹ، علاج معالجے کی سہولتیں کون فراہم کرے گا
نیو کراچی کا نام ایسا لگتا ہے جیسے یہ حال ہی میں بسا ہو، جب کہ اس کا شمار کراچی کے قدیم علاقوں میں ہوتا ہے۔ 1960 میں ہندوستان سے مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری تھا اور آبادی میں اضافے کے تناسب سے بستیاں سکڑتی جا رہی تھیں، اس وقت کی حکومت نے نئے علاقے آباد کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کے بعد کراچی کے شمال میں لیاری ندی اور منگھوپیرکی پہاڑیوں کے درمیانی علاقوں میں رہائشی مکانات بنائے گئے اور اس بستی کو نیو کراچی کا نام دیا گیا، اس وقت یہ ایک محدود رقبے میں قائم تھی لیکن بعد میں کراچی سے یہاں لوگ آکر آباد ہونے لگے۔ آبادی کی مناسبت سے اس کی وسعت میں بھی اضافہ ہوتا گیااورآج نیو کراچی کا علاقہ شمال مشرق سے شروع ہو کر مختلف کالونیوں اور گوٹھوں کی صورت میں حب ڈیم روڈ، اللہ والی چورنگی سے جنوب میں شفیق موڑ تک پھیلا ہوا ہے جب کہ ایک کلومیٹر سے دوسری سڑک اسے کالے اسکول سے یوپی موڑ کے راستے نارتھ کراچی شاہراہ سے ملاتی ہے۔ 1998 کی مردم شماری میں اس کی آبادی چار لاکھ بتائی گئی تھی، 17سال کے دورانیے میں یہاں نئی کالونیاں بننے کے بعد اس کی آبادی تقریبا آٹھ لاکھ ہے، جس میں مختلف قومیں اور مخصوص برادریاں رہتی ہیںجب کہ سیکٹر 11ڈی سے گودھرا کالونی تک کچھی برادری کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں کی مرکزی سڑک پر صبح سے رات دو بجے تک ٹریفک کا ہجوم اس قدر رہتا ہے کہ پیدل گزرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
نیو کراچی ایک درجن سے زائد گوٹھوں اور کالونیوں، دس ہزار سیکٹرز اور گوٹھوں پر مشتمل ایک وسیع عریض رقبے پر پھیلا ہوا علاقہ ہے، جب کہ نارتھ اور نیو کراچی کے انضمام سے اسے ٹاﺅن کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہاں چھوٹی بڑی سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ اللہ والی چورنگی سے حب ڈیم روڈ اور حمدرد یونیورسٹی کے راستے بلوچستان کے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں، جب کہ یہ شاہراہ مغرب کی جانب احسن آباد اور گلشن معمار سے ہوتی ہوئی سپر ہائی وے سے مل جاتی ہے۔ نیو کراچی کا علاقہ دو صنعتی زونز سے منسلک ہے۔ سندھی ہوٹل بشیر چوک اور قبرستان کے بعد ندی عبور کر کے سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا واقع ہے جب کہ ندی کے کنارے کچی آبادیوں کے ساتھ نیو کراچی انڈسٹریل زون ہے، جو لیاری ٹاﺅن کی چورنگی سے شروع ہوتا ہے اور جنوب میں شفیق موڑ کے بعد فیڈرل بی ایریا کے علاقے سے مل جاتا ہے اس زون میں تقریبا ڈھائی ہزار سے زائد چھوٹی بڑی فیکٹریاں قائم ہیں ۔ صنعتی ایریا قریب ہونے کی وجہ سے نیو کراچی اور نارتھ کراچی کے لوگوں کو اپنے گھر کے قریب ہی روزگار کے مواقع میسر ہیں عوام کو طبعی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اللہ والی چورنگی اور یوپی سوسائٹی میں سندھ گورنمنٹ کے دو ہسپتال اور ایک چلڈرن ہسپتال ، جب کہ مختلف برادریوں کے دو رفاہی اور تقریبا نصف درجن نجی ہسپتال قائم ہیں، میڈیکل پریکٹیشنز کے نجی کلینکس اس کے علاوہ ہیں۔ ”مختلف رنگت“ پر مبنی ناموں کے حامل دس سرکاری اسکول اور دو کالجز بھی یہاں قائم ہیں جب کہ نجی اداروں کی تعداد تین درجن سے زائد ہے۔ چالیس مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط یہ علاقہ نیو کراچی، انڈسٹریل ایریا اور بلال کالونی تھانوں کی حدود میں واقع ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے آٹھ مارکیٹں ہیںجن میں سے لال مارکیٹ، کالی مارکیٹ اور سندھی ہوٹل کی گوشت مارکیٹ بہت مشہور ہیں، جبکہ مختلف جگہوں پر دس ہفتہ وار بازار بھی لگتے ہیں۔ تفریہی سہولتوں کے لیے دو پارک اور دو کھیل کے میدان موجود ہیں۔ نیو کراچی سے کراچی کے مختلف علاقوں میں پہنچنے کے لیے دو راستے ہیںایک اللہ والی چورنگی سے سہراب گوٹھ ، گلشن اقبال، ملیر، کورنگی، لانڈھی، ڈرگ روڈ اور ٹاور جاتا ہے، جبکہ دوسرا کالے اسکول سے یوپی موڑ، نارتھ کراچی کی شاہراہ سے مل جاتا ہے جس پر سفر کر کے ناظم آباد گرومندر، ایم اے جناح روڈ، ٹاور اور شیر شاہ پہنچ سکتے ہیں جب کہ مغرب کی جانب ایک سڑک خواجہ اجمیر نگر کے راستے منگھو پیر، بنارس ، اورنگی ٹاﺅن، پرانا گولی مار اور گارڈن سے گزرتے ہوئے کراچی کے پرانے علاقوں کی طرح جاتی ہے۔ ان سہولتوں کے باوجود یہاں کی عوام کو مختلف النوع پریشانیوں کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم مسئلہ قلت آب ، گندگی، گٹر لائنوں، گندگی، ٹریفک کے نظام، ٹرانسپورٹ اور امن امان کا ہے۔ اس حوالے سے ہم نے علاقے میں مقیم چند افراد سے گفتگو کی جو نظر قارئین ہے۔
محمد عمار گورنمنٹ نیو کراچی میں زیر تعلیم ہے۔ علاقے کے مسائل کے بارے میںبتاتے ہوئے محمد عمار نے کہا کہ پانچ نمبر مارکیٹ سے لے کر یوپی سوسائٹی تک پورا الیون ڈی سیکٹر ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہے۔ یہاں گلیاں انتہائی تنگ ہیںجن میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، لوگ سفائی ستھرائی کرتے وقت گھروں کا گندا پانی گلیوں میں نکالتے ہیں۔ گلیوں، سڑکوں، اسکولوں اور مساجد کے اطراف گندے پانی کے جوہڑ بن چکے ہیں لیکن کسی کے پاس متعلقہ محکمے میں شکایت درج کرانے کی فرصت نہیں۔ اسکولوں کی دیواریں اصطبل خانہ بن چکی ہیں، وہاں لوگ اپنے مویشی باندھتے ہیں بسا اوقات تعفن اور گندگی کی وجہ سے گھروں میں بیٹھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ہمارے علاقے میں پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا تھا، لیکن جب سے K-3 منصوبے سے پانی کی سپلائی شروع ہوئی ہے، پانی کی سپلائی معمول کے مطابق ہو رہی ہے۔ صحت کی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیو کراچی میں دو سرکاری اسپتال ہیں۔ یوپی سوسائٹی میںسندھ گورنمنٹ ہسپتال کی عمارت بھی ابھی حال ہی میں توسیع کی گئی ہے، کئی نئے وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن اس میں کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کی خدمات مفت دستیاب ہیں، مہنگے پیتھالوجیکل اور ریڈیالوجیکل ٹیسٹس، ایکسرے، الٹراساﺅنڈ، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین باہر سے کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جب کہ سوائے چند سستی ادویات کے علاوہ تمام مہنگی ادویات باہر کی لکھی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے مریض ان اسپتالوں کی نسبت گودھرا کالونی میں واقع رفاہی اسپتال کو ترجیح دیتے ہیں۔ جہاں کم خرچ میں بہترین علاج ہوتا ہے۔ ٹریفک کی صورتحال کے بارے میں محمد عمار نے کہا کہ W-11 والی سڑک پر جگہ جگہ ٹریفک جام رہتا ہے، موٹر سائیکل و دیگر گاڑی والے جلدبازی میں غلط سمت میں سڑکوں پر آجاتے ہیں، چنگچی رکشے پوری سڑک گھیر کر کھڑے ہو جاتے ہیں،سڑک کے اطراف میں لوگوں نے تجاوزات قائم کر رکھی ہیں، ٹھیلے اور پتھارے والوں کی وجہ سے خریداری کرنے والوں کا ہجوم بھی ٹریفک جام کا سبب بنتا ہے جب کہ علاقے میں ٹریفک اہلکار بھی نظر نہیں آتے۔ ٹرانسپورٹ کے مسائل کے بارے میں انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ چند سال پہلے اس علاقے سے کراچی کے ہر علاقے میں جانے کے لیے بسیں، کوچز اور ویگنیں مل جاتی تھیں لیکن اب یہاں صرف W-11 ویگن یا داتا کوچ ملتی ہے، جونا مارکیٹ اور گارڈن کے لیے کالی مارکیٹ سے 4 نمبر بس چلتی ہے۔
سید فرزند علی G-11 nw khiسیکٹر کالی مارکیٹ کے رہائشی ہیں، انہوں نے ہمیں بتایا کہ علاقے میں کئی سال سے پانی کی قلت ہے۔ کئی مرتبہ واٹر بورڈ کے دفتر میں شکایت بھی درج کرائی لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ علاقے میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں۔4 نمبر بس کے ٹرمینل کے ساتھ کالی مارکیٹ کی پختہ عمارت، دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کھنڈر بن چکی ہے، حالانکہ یہ عمارت کافی بڑے رقبے پر قائم ہے لیکن گندگی کی وجہ سے خالی پڑی ہوئی ہے۔ قبضہ مافیا نے یہاں تجاوزات قائم کر لی ہیں۔ لوگ اس کے احاطے میں اپنے جانور باندھتے ہیں، اس کے ساتھ ہی پارک میں چہار دیواری ہے، جس میں گندے پانی کی دلدل، غلاظت اورجانوروں کے فضلے کی وجہ سے گزرنا مشکل ہوتا ہے۔ سرکاری اسکول کے ساتھ والی سڑک پر گندا پانی جمع رہتا ہے، جب کہ اس کے سامنے ایک فرلانگ طویل پارک میں گھاس پودوں کی جگہ گدھے باندھے جاتے ہیں۔ سیوریج نظام تباہ حال ہے، گٹر ابلنے کی وجہ سڑکوں گلیوں اور میدانوں میں گندا پانی جمع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پورا علاقہ دلدل بن رہتا ہے۔ کالی مارکیٹ کی مرکزی سڑک انتہائی مخدوش حالت میں ہے، بڑے بڑے گڑھے پڑے ہوئے ہیں۔ صبا سینیما سے پاور ہاﺅس کی چورنگی کی طرف جانے والی سڑک جو چند سال قبل ہی بنی تھی جگہ جگہ سے اکھڑ گئی ہے۔کچھ عرصہ قبل یہاں سے کراچی کے دیگر علاقوں تک پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ کی کافی سہولت تھی، گرین بسیں، نجی بسیں، کوچز، ویگنیں ہر دس منٹ بعد ملتی تھیں لیکن آج صرف ایک ویگن W-11 چلتی ہے۔ صنعتی علاقہ قریب ہونے کی وجہ سے یہاں لوگوں کو تھوڑی بھاگ دوڑ کے بعد ملازمتیں تو مل جاتی ہیں، لیکن مشروط طور پر۔ یہاں کی فیکٹری اور کارخانہ مالکان تمام لیبر قوانین سے مارواہیں، ملازمین کو اتفاقیہ چھٹی سمیت ، حکومت کی اعلان کردہ عام تعطیلات، کنوینس، بونس، میڈیکل حکومت کی جانب سے متعین کردہ تنخواہ، الاﺅنسز یا دیگر کسی قسم کے فوائد میسر نہیں۔ اوقت کا ر سے زیادہ کام کرایا جاتے ہیں لیکن اس کا اور ٹائم نہیں ملتا۔ صحت عامہ سے متعلق انہیوں نے کہا کہ نیو کراچی کے علاقے میںدو سرکاری اسپتال موجود ہیں، لیکن مراض زیادہ تر یوپی موڑ کے اسپتال کا رخ کرتے ہیں، وہاں سوائے لیبارٹری ٹیسٹس اور ادویات کے تقریباََ تمام سہولتیں موجود ہوتی ہیں۔ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو انہوںنے مخدوش قرار دیا۔
ڈی کے موڑ کے رہائشی حارث شاہ، سفید اسکول کے سامنے نالے پر قائم اپنی ذاتی دکان میں پینٹر کا کام کرتے ہیں۔ ان سے جب ہم نے مسائل کے حوالے سے سوالات کیے تو انہوں نے بتایا کہ نیو کراچی کے اس علاقہ تقریباَََََََ ایک سال سے اس مسئلے کا شکار ہے، اس عرصے میں وہ جب بھی واٹر بورڈ کے دفتر شکایت لے کر گئے تو وہاں موجود عملے کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ”حب ڈیم خشک ہو گیا ہے، متبادل طور پر ہالیچی جھیل سے پانی کی سپلائی ہورہی ہے لیکین بلیک واٹر سے سپلائی میں کمی کی وجہ بہت سے علاقوں کو پانی کم دیا جا رہا ہے، انشا اللہ جلد ہی صورتحال پر قابو پا لیں گے“۔ لیکن ہم گزشتہ ایک سال سے ”صورتحال “ پر قابو پانے کے منتظر ہیں۔ گٹر لائنوں سے متعلق سوال کے جواب میہں انہوں نے کہا کہ سیکٹر F-5 سے پانچ نمبر تک کی زیادہ تر گلیوں اور سڑکوں پر گندا پانی جمع رہتا ہے، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نالیاں بناکر گٹر کے پانی پارکوں اور میدانوںمیں چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ میدان گندے پانی کے تالاب کا منظر پیش کرتا ہے، نکاسی آب کے عملے کی توجہ اس جانب دلائی جائے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ ”سیوریج لائنیں پرانی ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ سے دب گئی ہیں، اس لیے اگر پانی میں کوئی رکاوٹ آجائے تو گٹر ابلنے لگتے ہیں۔ نئی لائنیں ڈالنے کے لیے محکمے کے پاس فنڈ نہیں ہیں“۔ شفیق موڑ سے اللہ والی چورنگی تک دو رویہ سڑک انتہائی تنگ ہے، سڑک کے دونوں جانب تجاوزات، پتھارے والے، چنگچی رکشوں کا سڑک بلاک کر کے کھڑا ہونا، گاڑی والوں کا غلط سمت میں گاڑیاں چلانا، ٹریفک جام کا مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ قابل ذکربات یہ ہے کہہ اس آٹھ کلومیٹر طویل شاہراہ پر کہیںبھی ٹریفک اہلکار نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ سرکاری اسپتالوں میںعوام کو ڈاکٹروں کی سہولت تو میسر ہے، لیکن ایکسرے، لیبارٹری ٹیسٹس باہر سے کرانے پڑتے ہیں۔
سید منصور سیکٹر E-5 کے رہائشی ہیں، انہوں نے علاقے کے مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ اس سیکٹر میںپانی کی کمی نہیں ہے، پنی کی فراہمی واٹر بورڈ کے شیڈول کے مطابق ہوتی ہے اگر پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کا تعطل ہو جائے تو اس سے پانی کی سپلائی بھی متاثر ہوتی ہے، مگر نیو کراچی کے دیگر علاقے قلت آب کا ضرور شکار ہیں اور ہم اکثر یہاں سے چند فرلانگ دور اسی سڑک پر واقع واٹر بورڈ کے دفتر پر متاثرہ علاقوں کے عوام کو مظاہرہ کرتے دیکھتے ہیں۔ اپوا اسکول کے ساتھ زیادہ تر سڑکیںگلیاں گٹر کے پانی کی وجہ سے تباہ حال ہیں۔ یہاں سے جو سڑک پانچ نمبربس اسٹاپ جاتی ہے، اس پر گزرنا مشکل ہے، کیچڑ کی وجہ سے کافی پھسلن ہوتی ہے۔ ایک مینار مسجد کے سامنے میدان گندے پانی کی جھیل بن چکا ہے، سامنے L-11 کا علاقہ ہے جہاں گورنمنٹ بوائز کالج ہے، اس کے اطراف غلاظت کے پہاڑ کھڑے ہیں، پاوا اسکول کی دیوار کے ساتھ لوگوں نے کچرا کنڈی بنا لی ہے۔ تعفن کی وجہ سے طلباءکو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ K-4 بس کے مین روڈ پر شاہ فیصل اسپتال کے ساتھ خالی پلاٹوں اور بلال کالونی تھانے کے برابر میںپارک کی جگہ بھی کچرا گھر بن چکی ہے، میونپل ایڈمنسٹریشن کا ہیڈ کوارٹر یہاں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن یہاں کوئی آنا گوارا نہیں کرتا۔ اس روڈ پر صرف K-4بس چلتی ہے جو تقریباََ سوا گھنٹے میں ٹاور پہنچاتی ہے، پہلے یہاںکوچز اور ویگنیں بھی چلتی تھیں لیکن وہ بند ہو گئیں۔ لوگ ایک کلومیٹر پیدل چل کر مدینہ کالونی کے اسٹاپ پر جاتے ہیں، جہاں سے انہیںW-11 ویگن ملتی ہے۔ جرائم کی شرح یہاں زیادہ ہے، نیو کراچی کی کچی آبادیوںمیں جوا اور منشیات فروخت ہوتی ہے۔ ڈکیتی اور لوٹ مار کے واقعات عام ہیں۔
سروری بیگم لیڈی ہیلتھ ورکر ہیں، سندھی ہوٹل کے ساتھ کچی آبادی میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیوکراچی کی کچی آبادیوں کے باسی غیر انسانی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تنگ گلیاں کچے راستے جن میں گٹر کا پانی جمع ریتا ہے، لوگ اپنے گھروں کا کچرا بھی گلیوں میں پھینکتے ہیں۔ مین واٹر لائن قریب ہونے کی وجہ سے یہاں پانی کی قلت تو نہیں ہے لیکن اکثر مقامات پر لائنیں مخدوش ہونے کی وجہ سے سن میں گٹر کا پانی شامل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ واٹر بورڈ کے محکمے میں شکایت بے سود ہے۔ نیز یہاں چنگچی مافیا اور نو سیٹر رکشوں کی اجارہ داری ہے جو با اثر لوگوں کی سرپرستی میں چلتے ہیں، جس کی وجہ سے بسیں، کوچز او ویگنیں بند کر دی گئی ہیںصرف W-11 ویگن چلتی ہے جس میں اندر جگہ نہ ملنے پر لوگ چھتوں اور جنگلے پر لٹک کر سفر کرتے ہیں۔ بیمار ہو جائیں تو علاج کے لیے سستے اتائی ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیںجو ان علاقوں میں جگہ جگہ موجود ہیںکیوں کہ مہنگا علاج کرانے کی لوگوں میں استطاعت نہیں اور سرکاری اسپتالوں میں توجہ نہیں ملتی اور توجہ مل بھی جائے تو دوائیں باہر کی لکھ کر دی جاتی ہیںجوخریدنا ممکن نہیں.

Open chat