Friday, October 30, 2020
Home کالم /فیچر نئے صوبے اور قومی اتفاق رائے (قادر خان)

نئے صوبے اور قومی اتفاق رائے (قادر خان)

image of pakistan1955ءمیں مغربی پاکستان کے جاگیرداروں، مذہبی قیادت، افسر شاہی اور اسٹیبلشمنٹ نے گٹھ جوڑ کرکے تمام صوبوںکو تحلیل کردیا تھا تاکہ مشرقی پاکستان سے آبادی کی بنیاد پر برا بری کا تقابل کرسکیں۔ 1969ءمیں نافذکردہ لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت بلوچستان، شمالی مغربی صوبہ سرحد، پنجاب اور سندھ کی صوبائی حیثیت بحال کردی گئی تھی لیکن اس کے بعد متواتر آبادی کے اضافے کے باوجود پاکستان کے وفاقی نقشے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا تو پاکستان میں ایک سیاسی تبدیلی کے بعد فوراً ہزارہ ڈویژن کا ردعمل سامنے آیاجو صوبہ خیبر پختونخوا کو تقسیم کرکے ہزارہ ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ عملی اقدام کے طور پر پنجاب اسمبلی میں بہاولپور صوبہ کی بحالی اور جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل کی دو الگ الگ قراردادیں 9 مئی 2012 کو منظورکی گئی دونوں قرار دادیں پنجاب کے وزیر قانون ثنا اللہ نے پیش کی تھی جیسے متفقہ طور پر ایوان نے منظور کرلیا۔ دونوں قراردادوں کی مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے حمایت کرتے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت ایک قومی کمیشن تشکیل دے جو پانی، دیگر وسائل اور جغرافیائی حدود کا تعین کرکے صوبے کے قیام کو عملی جامہ پہنائے۔ صوبہ بہاول پور کے حوالے سے قرارداد میں یہ کہا گیا کہ وہ کسی نئے صوبے کی تشکیل کا نہیں بلکہ اپنے صوبے کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اس لئے وفاقی حکومت فوری اقدامات کرے۔ دونوں قراردوں کو پنجاب میں الگ صوبے کے قیام کے حق میں تحریک چلانے والوں قائدین نے خوش آئندہ اقدام قرار دیا تھا جس سے واضح ہوگیا کہ تمام قومی جماعتیں پنجاب کی تقسیم پر متفق ہیں، لیکن وسائل کی منصفانہ تقسیم کےلئے قومی کمیشن کا مطالبہ ہر دو سیاسی جماعت کی جانب سے کیا گیا۔ پی پی پی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تو باقاعدہ اپنے جلسوں میں سرائیکی صوبہ بنانے کی خوش خبریاں سناتے، پنجاب کی حکومت اور میاں نواز شریف پر شدید تنقید کرتے کہ ان کی پنجاب حکومت، جنوبی پنجاب کے وسائل پر قابض ہوکر احساس محرومی کو فروغ دے رہی ہے۔
378240-Mohajir-1336919711-484-640x480سندھ میں علیحدہ صوبہ کی پہلی باقاعدہ باز گشت تو کافی عرصہ سے موجود ہے، جس میں کراچی کی اردو صوبہ تحریک محدود حد تک مطالبہ کرتی رہی ہے۔ لیکن بین الاقوامی طور پر 11 مئی2012ء کو نیو یارک شہر میں ایم کیو ایم کے سابق وزرا ئ، سابق اراکین رابطہ کمیٹی اور سابق اراکین اسمبلی نے سندھ کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے جنوبی سندھ نامی صوبہ بنانے کا مطالبہ کیاتھا۔ ایم کیو ایم کے ان سابق منتخب نمائندوں کا کہنا تھا کہ سندھ میں شہری علاقوں کی آبادی پچاس فیصد سے زیادہ ہے اور سندھ کی شہری آبادی محصولات کا پچانوے فیصد پیدا کرتا ہے، لیکن اختیارات میں اس کا حصہ پانچ فیصد سے بھی کم ہے”۔ امریکہ کے شہر نیو یارک میں کی گئی پریس کانفرنس پر پاکستان میںموجود ایم کیو ایم کے رہنما اور سندھ کے صوبائی وزیر فیصل سبزواری نے مطالبے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے، سابق نمائندوں کے حوالے سے اس موقف کو دوہرایا تھا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے، متحدہ قومی موومنٹ کا کوئی موجودہ رکن اسمبلی، رہنماء کارکن ایسی بات کرے تو پھر ایم کیو ایم کی ذمے داری ہوگی۔” ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے مملکت میں نئے صوبوں کے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کےلئے آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے مطالبے کے بعد سندھ میں صورتحال کشیدہ اور سیاسی گرمی میں اضافہ ہوگیا تھا اور اب الطاف حسین کی جانب سے با قاعدہ کئی بار کراچی صوبے کا مطالبہ دوہرایا جا چکا ہے۔ تاہم حیران کن بات یہی ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا کی تقسیم پر پاکستان کے آئین کے مطابق متفق نظر آتی ہیں لیکن جب بات سندھ کی آتی ہے تو یہاں پاکستان کے آئین کے بجائے، ماں دھرتی کی بات کرتے ہوئے لسانی سیاست کو ہوا دےتے ہوئے بھول جاتے ہیں کراچی سندھ دھرتی کا حصہ نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت تھا اور قیام پاکستان کے بعد 23 سال تک کراچی صوبہ سندھ کا حصہ نہیں تھا۔ جبکہ سندھ میں بالخصوص کراچی میں دو کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے شہر میں روز افزوں اضافے کےلئے بس یہی بیان دیا جاتا ہے کہ یا تو،” مہاجروں کو بھارت واپس بھیج دو یا ان کی جگہ سمندر میں ہے”، اسی طرح اگر پختون ہیں، جن کا رہنا، جینا مرنا اور تمام اجداد و جائیداد کراچی میں ہیں ان سے کہا جاتا ہے کہ “تم پٹھان لوگ اپنے صوبے خیبر پختونخوا واپس جاﺅ”۔
saraikiماہر سیاسیات پروفیسر رسول بخش رئیس کے مطابق کہ “جب تک تمام سیاسی جماعتوں میں چاروں صوبوں کو دوبارہ سے ترتیب دینے میں اتفاق رائے نہیں ہوگا، اس وقت تک اس طرح کی تجاویز آگے نہیں بڑھ سکتیں، اس پر کچھ لوگ سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش تو ضرور کریں گے تاہم اس طرح سے نئے صوبے بننا ممکن ہے”۔ نئے صوبوں کے مطالبے میں 20 مئی 2102ء کو فاٹا گرینڈ الائینس کی جانب سے پاکستان میں قبائلی علاقوں کے مستقبل کے بارے میں بحث کی گئی۔ خیبر پختونخوا سمبلی میں قبائلی علاقوں کو نمائندگی کے حوالے سے اس تنظیم کے سربراہ خان مرجان نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں نمائندگی کی قرارداد کو مسترد کرتے ہیں۔ کیونکہ اس سے وہ پسماندہ رہیں گے”۔ خان مرجان کے مطابق قبائلی علاقوں کے بیس کے لگ بھگ نمائندے قومی اسمبلی اور سینٹ میں موجود ہیں لیکن انہیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ آئینی ترامیم میں کوئی حصہ لے سکیں اس لئے صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی سے انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا”۔
suba hazara1 copyفاٹا گرینڈ الائینس کی جانب سے یہ موقف اُس وقت سامنے آیا تھا جب خیبر پختونخواہ حکومت نے قبائلی علاقوں کو اسمبلی میں نمائندگی اور ایف سی آر کے حوالے سے قرارداد منظور کی۔ تاہم یہاں بھی بعض قبائلی رہنما ﺅں کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ اس حوالے سے ایک کمیشن تشکیل دینا چاہیے کیونکہ وسائل و دیگر بنیادی مسائل کے حل کے ادارے خیبر پختونخواہ میں ہیں اس لئے قبائلستان کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کیا جائے ورنہ اس مطالبہ کوقابل عمل بنانا ممکن نہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے وفاق کو یہی تجویز دی تھی کہ قومی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، ان کے بقول یہ کمیٹی ملک میں نئے صوبوںکے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرے اور اپنی سفارشات مرتب کرے اور جس طرح اٹھارویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی اس طرح یہ معاملہ بھی طے ہو۔” آئین کے مطابق، شق 248 کی ذیلی شق، چار نئے صوبے بنانے یا کسی صوبے کی حدود کا ازسر نو تشکیل دینے کے بارے میں رہنمائی کرتی ہے۔ تاہم سابق صدر آصف زرداری نے اس حوالے سے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جس کا مسلم لیگ (ن) نے بائیکاٹ کیا تھا۔ یہاں اس بات ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ پاکستان میں بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا میں نئے صوبوں کے حوالوں سے پر تشدد واقعات دیکھنے میں نہیں آتے لیکن جب بھی نئے صوبوں کے حوالے سے ایم کیو ایم کے بیانات سامنے آتے ہیں تو سندھ کے اندرونی علاقوں میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور سندھی قوم پرست جماعتیں مشتعل ہوجاتی ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے اے پی سی کے انعقاد کے بعد قبل ازوقت مطالبہ کیا ہے تو یہ بھی عوام نے دیکھا ہے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے نئے انتخابات کے موقع پر سیاست کی جاتی ہے اور ووٹ و اقتدارحاصل کرنے کے بعد تمام بڑی جماعتیں اگلے پانچ سال کےلئے خاموش ہوکر بیٹھ جاتی ہیں، غیر جانبدارنہ قومی سیاسی تناظر میں دیکھا جائے کہ اگر امن و امان کے حوالے سے جس قدر انتظامی یونٹس زیادہ ہونگے، وفاق پر انحصار کم ہوگا اور نئے تشکیل پانے والے یونٹس اپنی علاقائی ضروریات کے مطابق تشکیل نو کر سکیں گے۔ مردم شماری کی غیر جانبدارانہ شماری اور بائیو میڑک سسٹم کے تحت ڈیٹا کو محفوظ کرنے سے ملکی وسائل کی تقسیم اور صوبائی خودمختاری میں مدد ملے گی۔ قومی پالیسی کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے سے پاکستان کی مکمل تنظیم نو اور نئے یونٹس ہی امن و امان اور معیشت کی بحالی کےلئے اہم قدم ہے۔ نئے صوبوں کے حوالے سے قومی اتفاق رائے ضروری ہے، اس اہم ایشو کو ہر قومی انتخابات سے قبل سیاسی بنانے کے بجائے حل کی جانب توجہ دینی چاہیے۔
www.facebook.com/qadir.afghan

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کراچی سمیت سندھ بھر میں موٹر سائیکل ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے 12 ربیع الاول کے باعث کراچی سمیت سندھ بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پاپندی...

سندھ میں 12 ربیع الاول سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے 12 ربیع الاول کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کردئیے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا...

کراچی میں 12 ربیع الاول کے جلوسوں سے متعلق ٹریفک پلان جاری

کراچی:ٹریفک پولیس کی جانب سے 12 ربیع الاول کے جلوسوں سے متعلق ٹریفک پلان جاری کردیا گیا، جس کے مطابق لی مارکیٹ،...

عباسی اسپتال میں زیر علاج ملزم ڈاکٹر سے لوٹ مار میں ملوث نکلا

کراچی، پولیس مقابلے میں زخمی ملزم کاشف عباسی شہید اسپتال کے ڈاکٹرسے لوٹ مار بھی ملوث نکلا، ملزم کاشف کا علاج کرنےوالے...