2017 میں جدید ٹیکنالوجی کیسی ہوگی؟ (آصف یامین)

دنیا میں جدید ٹیکنالوجی نے انسانی مسائل کو حل کرنے میں بہت پر امن کردار ادا کیا ہے، ہر سال لندن میں رائل سوسائٹی کچھ ایسی ہی جدید ٹیکنالوجیوں اور سوسائنسی کمالات پیش کرتی ہے جو ہماری عام استعمال کی چیزیں بننے کے قریب ہوتی ہیں۔ 2016 کی فہرست میں ایسی ہی پانچ ایجادات پیش کی جا رہی ہیں جو لیبارٹری میں تیار کی جا چکی ہیں لیکن انھیں 2017 میں حقیقی زندگی میں استعمال کیا جائے گا۔ جن میں مندرجہ ذیل ایجادات شامل ہیں۔
خلائی کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگا نا:space-waste
راکٹوں کے خالی خول، مردہ سیٹلائٹ، شیشے کے ٹکڑے اور پینٹ کے ذرات خلاءمیں تیر رہے ہیں، خلاءمیں موجود یہ کوڑا تقریباً 700 ٹن وزنی ہے اور خلائی دور کے آغاز سے اب تک پگھل رہا ہے۔ زمین کے گردگھومنے والی بہت ساری سیٹلائٹس کا ان میں سے کسی چیز کے ساتھ ٹکرانے کا خطرہ ہے جو ہمار ے انٹرنیٹ اور موبائل کے مواصلاتی نطام کے لیے اہم ہیں۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن باقاعدگی کے ساتھ اس ملبے سے ٹکراﺅ سے بچنے کے لیے اپنی پوزیشن درست کرتا ہے۔ اب ریمووڈ بس مشن یعنی ملبہ ہٹانے کا مشن یہ کام سر انجام دے گا۔ یہ منصوبہ 2017 کے اوائل میں شروع کیا جائے، جو زمین کے فضا کے گرد موجود اس ملبے کو دوبارہ زمین پر لائے گا۔
مچھروں پر نظر رکھنا:machar
کئی دہائیوں سے سائنسدان انو فیلس مچھر سے نبر د آزما ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مچھر کی یہ قسم ملیریا پھیلانے کا باعث بنتی ہے جس سے سالانہ چار لاکھ 38 ہزار اموات واقع ہوتی ہیں۔ مچھروں کو مارنے والی دواﺅں کے استعمال سے مچھروں میں اس کے خلاف قوت مدافعت بھی بڑھ رہی ہے۔ ساٹھ ممالک میں مچھروں میں کیڑے مار ادویات کا مقابلہ کرنے کی اطلاعات ہیں اور مغربی اور شمالی افریقہ میں اس کی سطح پریشان کن حد تک ہے۔ مچھروں کے خلاف اس لڑائی میں کامیابی کے لیے اس کے برتاﺅ کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ لیور پول سکول آف ٹراپیکل میڈ یسن کے محقق کے مطابق ہم مچھر دانیوں کے گرد اڑنے والے مچھروں کی پرواز دیکھنے کے لیے انفرا ریڈ کیمرے استعمال کر رہے ہیں۔ دی ماسکیٹو ڈائر یز پراجیکٹ اس بات کا جائزہ لے گا کہ یہ کیڑے مچھر دانیوں سے کتنی دیر تک چھوتے ہیں اور مچھر مار دوا انھیں کتنی دیر تک سوتے ہوئے فرد کو کاٹنے سے محفوظ رکھتی ہے۔ جوڑی پارکر کہتے ہیں مچھر مار دوا کو کام کرنے کے لیے ان کا جالی کو چھونا ہوتا ہے اور انتہائی مختصر وقت ناکافی ہوتا ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ وہ کتنی دیر تک موجود رہیںتو وہ مارے جائیں گے۔
4D ایکس رے کے ذریعے نئی کھوج:4d-x-ray
یہ ایک پیچیدہ مشین ہے جس کا نام 4D ایکس رے سنچروٹرون ہے۔ اور اس کی مدد سے سائنسدان چیزوں کے اندر تک دیکھ سکتے ہیں۔ یہ زمین کے تہہ کے اندر موجود مادے کو دیکھ سکتے ہیں تاکہ آتش فشاں کے پھٹنے کے بارے میں جان سکیں یا برف کے ٹکڑوں کی جانچ کی سکتی ہے کہ کچھ آئس کریموں کا ذائقہ زیادہ بہتر کیوں ہوتا ہے۔ سنچروٹون کی شعاع سورج سے دس ارب گنا زیادہ روشن ہوتی ہے اور اس کے ذریعے کسی بھی چیز کو کاٹے بغیر اس کے اندر تک داخل ہو سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف مانچسٹر سے وابستہ سنچرٹون کے ماہر ڈاکٹر کمال مہدی کہتے ہیں کہ ہم نے اس میں ایکس رے کمپپیوٹر ٹومو گرافی کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو بہت زیادہ تیز روشنی پر انحصار کرتی ہے۔ یہ انتی طاقتور ہے کہ یہ چیزوں کے اندرونی ڈھانچے کو بھی تھری ڈی شکل میں پیش کر سکتی ہے۔ ہم کسی بھی چیز کے اندر دیکھ سکتے ہیں۔
مکڑیوں سے کام لینا:makri
مکڑیوں کے بنائے ہوئے جالے حیاتیاتی ٹشو کے ساتھ مطابقت رکھنے اور مستحکم اشیاءکی نئی نسل کی اہم کڑی ہیں، یونیورسٹی آف آکسفرڈ کے آکسفرڈ سلک گروپ کے ماہر حیاتیات بیتھ مورٹیمر کہتے ہیں، مکڑیوںکا ریشم 30 کروڑ برسوں سے موجود ہے اور مکڑیوں کم سے کم مواد کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرتی ہیں۔ مکڑیاں جال بننے کے لیے پروٹین کا استعمال کرتی ہیں جو عام طور پر شکار پکڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، تحقیق ریشم کے مالیکیون کے ڈھانچے اور اس کے استعمال کے لیے ہر سال نئی دریافت کرنے میں مدد کر رہی ہے۔
ہڈیوں کا ارتقاع:bones
سائنسدانوں نے لیبارٹری میں ایسی ٹیکنالوجی بنائی ہے جس سے کیمیکل اور ادویات کے بغیر مصنوعی ہڈی صرف لرزش سے تیار کی جاسکتی ہے۔ انھوں نے اسے نینوککنگ کا نام دیا ہے، یہ ٹیکنالوجی ہڈی کے گودے سے سٹیم سیلز لیتی ہے جنھیں مختلف قسم کے خصوصی خلیوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور ہائی فریکوئنسی پر زور لگا کر انھیں ہڈیوں کے خلیوں میں تبدیل کر سکتی ہے۔ چنانچہ مریض کے خلیوں سے ہڈیوں کے نئے ٹکڑے کیمیکل کے بغیر اور بغیر کسی نقصان کے بنائے جا سکتے ہیں۔ اس میں جس کے دوسرے حصے نکالنے والی تکلیف دہ سرجری شامل نہیں ہے اور ٹشو کی مماثلت نہ ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top