پرانے دن، پرانی راتیں اور نیا سال!(شیخ خالد زاہد)

new yearانسان کی پیدائش دراصل اس کے دائمی انجام کی جانب پیش قدمی کا آغاز ہوتا ہے۔ ہر سال کیک کاٹے جاتے ہیں خوشیاں منائی جاتی ہیں تحفے تحائف دیے جاتے ہیں۔ پیدائش کے دن کو بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ ان خوشیوں کو منانے کو قرب الہی کے شوق کا اظہار کہا جائے تو یہ زیادتی ہوگی کیونکہ کوئی بھی انسان مرنے کے لیے تو پیدا ہواہی نہیں (مرتے دم تک ایسا ہی سمجھتا اور چاہتا ہے)۔ سال گزرتے رہتے ہیں عمر کی سیڑھیاں چڑھنے کا سمجھ کرہم سب اترتے رہتے ہیں۔ بچپن سے لڑکپن سے جوانی اور پھر بڑھاپا جو اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ بس اب پیر کسی بھی وقت اپنی دائمی جائے پناہ میں پڑنے والا ہے۔ جس اندھیرے سے نکل کر دنیا کی چکاچوند روشنی میں روتے ہوئے آئے تھے اب پھر اسی اندھیرے کی طرف لوٹنے کا وقت آیا چاہتا ہے۔
 جب ہم رو رہے تھے تو سب خوشیاں منا رہے تھے اب ہم غم اور خوشی سے ماورا ہوکر واپس جا رہے ہیں تو سب زارو قطار رو رہے ہیں۔ پھر نیا سال آئے گا پھر لوگ خوشیاں منائیں گے بس فرق اتنا ہوگا کہ کچھ نئے لوگوں کا اضافہ ہوگا اور کچھ پرانے لوگ نہیں ہوں گے۔ دنیا ایسے ہی چلتی چلی جا رہی ہے لیکن انسان کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ وہ مرنے کے لیے پیداہوتا ہے۔ قارئین محسوس کر رہے ہوں کہ یہ مایوسی کی باتیں ہیں، کیا آپ اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ ہمارے آس پاس ایسے کتنے ہی لوگ تھے جو گزشتہ کل تک ہمارے ہمارے ساتھ تھے۔ انسان نجی حیثیت میں زندگی کی ترجیحات مرتب کرتا ہے اور میں کا عنصر لامحالہ غالب آجاتا ہے۔ وہ افراد انسانیت کے مرتبے سے افضل قرار پائے جواپنی میں کو ذبح کرتے ہوئے آگے بڑھے اوررہتی دنیا تک کے لیے امر ہوگئے۔
معلوم نہیں ملک کے کتنے شہروں میں آج بھی پانی نہیں آئے گا اور دن میں کاندھوں پر بستہ لادنے والے کاندھے شام کو پانی بھرنے کے لیے برتن بھی اٹھائے دیکھائی دیں گے، معلوم نہیں ملک کا کتنا حصہ تاریکی میں ڈوبہ رہے گا، معلوم نہیں کتنے لوگ ہسپتالوں کے دالانوں میں روتے سسکتے رات گزاریں گے۔ معلوم نہیں کتنے لوگ سرد خانوں میں اپنے کسی عزیز کی لاش رکھوانے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہوں گے۔ معلوم نہیں کتنی مائیں اپنے بچھڑے ہوئے بچوں کے لیے زاروقطار رورہی ہوں گی، معلوم نہیں کتنے ہی گھروں میں فاقہ ہوا ہوگا، معلوم نہیں زندگی اپنی بے رحمی اور سفاکی پر بہت ہی شور شرابے سے کہیں جشن منا رہی ہوگی۔کتنے ہی ہمارے درمیان پرانی راتوں اور پرانے دنوں میں ایسے الجھے ہوئے ہوں گے کہ انہیں نئے سال تو کیا اپنی اور اپنے بچوں کی تاریخ پیدائش تک اس زندگی کے تھپیڑوں نے بھلا دی ہوگی۔ کچھ عالی ظرف تو فقط مسکرا کر اپنی بے بسی کا اظہار کردیں گے لیکن لوگوں کی اکثریت اپنی آنکھوں کی نمی پر قابو نہیں رکھ پائے گی، غرض یہ کہ دکھ سب کے دلوں میں گھسا بیٹھا ہے بس ہر کوئی کسی نا کسی کاندھے کا متلاشی ہوتا ہے۔
اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اس طرح کی سوچ کو مثبت سوچ کی عکاسی کہا جائے یا پھر خوف سے پیچھا چھڑوانے کا کوئی بہانہ۔ ان باتوں کا جواب شاید ہی کوئی دے سکے یا پھر شاید ہی کوئی ایسے سوال پوچھے۔ لگتا تو یہی ہے کہ سب نے اپنی اپنی زندگیاں مصنوعی غلافوں میں سجائی ہوئی ہیں۔ کیونکہ پاکستان ایک نئے طرز تصور اور تخیل کو عملی جامہ پہنانے کے دور میں داخل ہوا ہے کہ تو امید کی جارہی ہے کہ ہر گزرنے والا دن آنے والی نسلوں کی تابناکی میںاضافہ کرتا دکھائی دے گا۔ نئے پاکستان کے لیے نیا سال بہت اہمیت رکھتا ہے پرانی سیاست اور بدعنوانی کو پرانے دنوں اور راتوں میں دفن کر کے آگے جانا ہوگا۔ آہوں اور سسکیوں کو یہیں چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا اب خاص و عام کے فرق کر ختم کرنا ہوگا، اب کوئی ایک نہیں روئے گا بلکہ اس ایک کو رلانے والا بھی روئے گا۔ پاکستان کی امیدوں کے دیے اپنے آب و تاب سے روشن ہوچکے ہیں کسی امیر کو غریب پر ترجیح نہیں دی جائے گی قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
پاکستانیوں کو چوروں لٹیروں کو پہچاننا ہوگا ان چہروں پر چڑھے ہوئے غلافوں کو نوچ کر اتارنا ہوگا۔ پاکستان قائد و اقبال کے خوابوں کی تعبیر بنے گا اور اللہ نے چاہ تو ریاست مدینہ کی حقیقی شکل اختیار کر کے دکھائی دے گا۔ پاکستان کو نئے سال میں سب نے مل کر داخل کرنا ہے لیکن پہلے ہمیں ان باطل قوتوں کو جو بدعنوانی کے مرتکب ہونے کے باوجود پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز لہجے میں گفتگو کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے وطن عزیز پر کسی بھی قسم کی اندرونی اور بیرونی نوعیت کے معاملا ت سے نمٹنے کے لیے ہر وقت چوکنے کھڑے ہیں۔
 اب دیکھنا یہ ہے کہ چوڑ ڈاکو پاکستانیوں کا خون چوسنے والے اپنی بدعنوانیوں پر شرمندہ ہونے کی بجائے حکومت وقت کو دھمکیاں دیتے سنائی دے رہے ہیں، یہ دھمکیاں نئے سال میں نہیں سنی جائیں گی اور نہ ہی نیا پاکستان ایسے گیدڑ بھپکیوں کو اہمیت دے گا۔ خدارا پاکستانیوں کو ہماری عوام کو یہ بات اب تو اچھی طرح سے سمجھ میں آجانی چاہئے کہ یہ لوگ ہماری لوٹی ہوئی دولت پر آج تک عیاشیاں کرتے پھر رہے ہیں، ہمارے خون پر سیاست کرتے پھر رہے ہیں لیکن ہمارے لیے عملی طور پر کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں اور تو اور ان تک رسائی ناممکن سی بات ہے ان کی خاطر ہمارے بچے اپنی زندگیوں کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لوگ ٹریفک میں پھنس کر اپنی قیمتی جانیں کھوبیٹھتے ہیں۔ نئے سال میں نئے پاکستان میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے انہیں یہیں چھوڑ کے جانا ہے بلکہ دفن کر کے جائیں تو بہت بہتر ہوگا۔ کچھ ایسا کر کے جاو¿ کہ دنیا یاد رکھے۔ ورنہ گزر تو سب نے ہی جانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top