Monday, November 23, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

خداداد کالونی ،گودام کی بالائی منزل پر آتشزدگی

خداداد کالونی میں گودام کی بالائی منزل میں آگ لگ گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں روانہ، ریسکیو ذرائع...

نکاسی کی 936 میں سے781شکایات کا ازالہ کردیا،واٹربورڈ

واٹربورڈ نے شہر کے مختلف علاقوں سے موصولہ فراہمی ونکاسی آب کی 700سے زائد شکایات کا ازالہ...

ریسٹورنٹس میں ان ڈورڈائننگ پر پابندی عائد

ریسٹورنٹس میں ان ڈور ڈائننگ پر پابندی عائد، کمشنر کراچی نے ریسٹورنٹس کے حوالے سے تمام ڈپٹی...

سی ویو پر سائیکلنگ کرنے والوں کے خوش خبری

سی ویو پر سائیکلنگ کرنے والوں کے خوش خبری، کنٹونمنٹ بورڈ نے سی ویو پر تین کلو میٹر...

آئیے! 2015 ءکا آغازکریں ( ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی )

PakFlagوطنِ عزیز میں سال نو کا آغاز کچھ اس انداز میں ہو رہا ہے، جب ہماری آنکھوں میں واہگہ خود کش حملے کا دھواں، ہمارا دامن سانحہ پشاور کے خون میں تربہ تر اور ہماری جھولی میں کراچی ٹمبر مارکیٹ کی راکھ ہے۔ کچھ شک نہیں پچھلے کئی سالوں کی طرح یہ سال بھی سانحات اور دلخراش واقعات کی طویل فہرست لیے رخصت ہو رہا ہے۔ لہلہاتے کھیتوں، ہری بھری فصلوں، غلے اور اناج کے بھرے گوداموں کے حامل زرعی پاکستان میں بچے غذائی قلت کا شکارہو کرزندگی کی بازی ہارتے رہے، مائیں اپنے لختِ جگروں کی لاشیں ہاتھوں میں اٹھاکر حسرت و یاس کی تصویر بنی رہیں۔ ابھی تھرپارکر میں موت کا رقص جاری ہی تھا کہ ہماری عاقبت نا اندیشی، دین سے دوری، اغیار کی سازشوں، کچھ علماءاور مفتیان کے غیر ذمہ داران رویوں اور فتنوں کی بدولت بڑھکنے والی آگ کو بجھانے کے لیے ہماری افواج کو آپریشن لانچ کرنا پڑا، لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ معیشت پر اربوں کا بوجھ پڑا، ابھی یہ سلسلہ چل رہا تھا کہ سیاست کے میدان میں ایک بھونچال سا آ گیا۔ لانگ مارچ اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہواتو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم اپنے گھر کو اپنے ہی ہاتھوں لگائی آگ سے جلا ڈالیں گے۔ ابھی یہ آندھی نہ رکی، سیلاب کی تباہ کاریاں ہمارا مقدر بنی تھیں، پانی تھا جو رکنے کا نام نہ لیتا تھا۔ بستیاں اجڑیں، شہر برباد ہوئے، کھیتیاں اور کھلیان سیلابی ریلوں کی نظر ہوئے اور لوگ بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بنے نظر آئے۔
عرض کہ 2014ءسال پاکستانی قوم کے لیے غم اور درد چھوڑ گیا۔ اب جب 2015ءشروع ہوا چاہتا ہے تو میں سوچ رہا ہوں کہ ایسا کیوں ہوا ؟ رب کی رحمت ہم سے کیوں روٹھی؟ ہم جو خزاں کو بہاروں میں بدل دیا کرتے تھے، دائمی خزاو¿ں اور پت جھڑ کی ہواو¿ں کا نشانہ کیوں بنے؟ بہار ہم سے روٹھ کر، منہ پھیر کر کہیں دور کیوں جا بیٹھی؟ پھر سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے قرآن نے تو کہہ دیا تھا:فرمان باری تعالیٰ ہے ””کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمھیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟ کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراو¿ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ پھر تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہہ کیسی ہوتی ہے۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی“ (سورة الملک: 16تا18)
یقینا ہم نے منہ موڑا اِن تعلیمات سے جو رب تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ اور ہمارے اسلاف کا خاصہ تھیں۔ جنہیں اپنا کر عرب کے بدو، روم و ایران کی تہذیب پر غالب آئے تھے۔ ہم نے مسندِ اقتدار کے لالچ کو دل میں جگہ دی اور پھر حصولِ اقتدار کے لیے غیروں کے پیروں میں سر رکھ کر بیٹھ گئے۔ دنیا کے لالچ نے ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کیا ،نتیجتاً نا اتفاقی، لسانی جھگڑے، صوبائی تقسیم ، قومی انتشار ہمارا مقدر ٹھہریں، پیٹ کی جہنم کو بھرنا ہمارا سب سے بڑا مقصد بنا، جس کے سبب حلال و حرام کی تمیز جاتی رہی اور جب ایسا ہوتا ہے تو پھر قوتوں کی تباہی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ”اے مہاجروں کی جماعت !پانچ چیزیں ایسی ہیں جب تم ان میں مبتلا ہو گئے (تو ان کی سزا ضرور ملے گی)اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ وہ (بری چیزیں) تم تک پہنچیں۔ (1) جب بھی کسی قوم میں بے حیائی (بدکاری وغیرہ) اعلانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماری پھیل جاتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہیں ہوتیں تھیں۔ (2)جب بھی وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ان کو قحط سالی، روز گار کی کمی اور بادشاہ (حکمرانوں)کے ظلم کے ذریعے سزا دی جاتی ہے۔ (3)جب وہ اپنے مالوں کی زکوٰة دینا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے ۔اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے۔ (4) جب وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کر دیے جاتے ہیں وہ ان سے وہ چھین لیتے ہیں جوا ن کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ (5)جب بھی ان کے امام (سردار اور لیڈر) اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ ، کتاب الفتن)
آج اگر ہم دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے یہ تمام کوتاہیاں ہم میں موجود ہیں ، ہمارے میڈیا پر فحاشی و عریانی کا راج ہے تو ہمارے بازار اور مارکیٹیں ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی کی بددیانتی کا شکار ہیں۔ برائی پر خرچ کرنا آسان ہے مگر راہِ خدا میں مال خرچ کرنا مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہم نے وہ تمام عہد اور وعدے بھی توڑ ڈالے ہیں جو اس ملک کو بناتے ہوئے ہم نے اپنے رب سے کیے تھے کہ ہم اس ملک کو اسلام کا قلعہ بنائیں گے ،یہاں قرآن دستور ہو گا اور فیصلے اسی تناظر میں کیے جائیں گے۔ چنانچہ ایسے وقت میں جب ہم ایک نیا سال شروع کرنے جا رہے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ماضی پر نظرڈالیں اور دیکھیں ہم کہاں کہاں غلطیوں کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ 2015ءاس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں قرار داد پاکستان کو 75 سال مکمل ہو جائیں گے۔ ہمیں ضرور سوچنا چاہیے۔ 23 مارچ 1940 ءکو ہم نے جس ریاست کا خواب دیکھا تھا اس کے حصول میں کون کون سی چیزیں مانع ہیں۔کیونکہ آج اگروطن عزیز میں قتل و غارت لاقانونیت اور دہشتگردی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ اگر یہاں گروہی ،لسانی اور صوبائی عصبیتوں کا راج ہے تو اس کا سبب صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم اس ملک کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ جس کے سبب ہم ناکامی محسوس کرتے ہیں وگرنہ یہاں نہ تو وسائل کی کمی ہے اور نہ صلاحیتوں کا فقدان ہے۔
اس لیے آئیے 2015ءکے آغاز میں ہم پھر سے تجدید عہد کریں ۔ماضی کی غلطیوں پر ماتم کرنے کی بجائے رب تعالیٰ سے معافی طلب کریں۔ اصلاحِ احوال کا آغاز صوبائی اور ملکی سطح سے شروع کرنے کی بجائے اپنی ذات سے کریں اور پھر اس کا دائرہ کار ملکی سطح تک لے کر آئیں اور اگر ایسا ہو جائے تو پھر نہ تو تھر میں قحط ہو گا، نہ قبائل میں احوال درست کرنے کے لیے آپریشن کرنا پڑیں گے، نہ دریا اپنی حدود سے تجاوز کریں گے اور نہ ہی ہمارے بچے ہمیں خون میں نہاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ وگرنہ سانحات ہی سانحات ہیں۔ بعد والا سانحہ پہلے کو بھولنے پر مجبور کر دے گا اور ہم نئے سانحے پر ماتم کناں ہوں گے۔ پھر ایک اور سانحے کا انتظار رہے گا جو پچھلے کو بھلا دے گا۔ اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے اور اصلاح احوال کی توفیق دے۔
کالم نگار جماعة الدعوة کراچی کے امیر ہیں
dr.muzamil313@gmail.com

Open chat