Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ظفراللہ جمالی کی موت، جھوٹی خبر پر عارف علوی معذرت خواہ

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی موت کی غلط خبر دینے والی ٹویٹ کو ہٹادیا ، ڈاکٹر عارف...

گیس کی سپلائی بہتر ہوگئی، سوئی سدرن گیس کمپنی کا دعویٰ

سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ تین روز قبل ہونے والی سسٹم کی خرابی دور کرلی گئی ہے، ترجمان سوئی سدرن گیس...

پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل4 روپے فی لیٹر مہنگا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل، پیٹرول ،مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ جبکہ ڈیزل کی قیمت...

میرظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ، حالت تشویشناک

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ ، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کو دل کا دورہ پڑنے پر اے ایف آئی...

آن لائن دکان کیوں اور کیسے کھولی جائے؟ (انجینئر شاہد قادری)

5
آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے لیکن معاشی اعتبار سے یہ ملک بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ پاکستان میں کئی طرح کے معاشی عوامل ہیں۔ مگر پاکستان میں انسانی وسائل سب سے اہم اور فوری توجہ کا محتاج ہے۔ ٹیکنالوجی کی تیز ترین ترقی نے آج کی دنیا کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہی تبدلیوں میں کاروبار اور روزگار کے نت نئے طریقے اور انداز ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ان جدید اور نئے معاشی مواقعوں سے فائدہ اٹھائے۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے انتہائی قلیل وقت اور قلیل سرمائے سے نہ صرف انسانی وسائل کو ترقی دی جا سکتی ہے بلکہ اس کے ذریعے ملکی معیشت کو بھی فی الفور فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا ایک سمندر کی مانند ہے جہاں نت نئے معاشی مواقع موجود ہیں۔ تاہم ان نئے معاشی مواقعوں میں آن لائن دکان یا ای کامرس سب سے تیزی سے پھیلنے والا کاروبار ہے۔ عام کاروبار کی طرح ای کامرس کی بھی کئی اقسام و درجات ہیں۔ تاہم یہاں ہم صرف ای کامرس کے چند فوائد اور اہم نکات کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں۔ ای کامرس کے چند فوائد درج ذیل ہیں:
کم سرمایہ سے شروع کیا جا سکتا ہے۔
گھر سے شروع کیا جا سکتا ہے۔
پوری دنیا آپ کی خریدار ہو سکتی ہے۔
آن لائن دکان ہر وقت کھلی رہتی ہے۔
کسی بھی زبان میں کیا جا سکتا ہے۔
انٹرنیٹ پر کاروبار کی اقسام کا احاطہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ جو سوچیں وہ ممکن ہے والی بات ہے۔ تاہم یہاں ہم قارئین کی دلچسپی کے لیے ای کامرس کی چند مثالیں پیش کر رہے ہیں۔ اِس حوالے سے جو سب سے زیادہ کام کیا جا رہا ہے وہ ملبوسات کا کاروبار ہے۔ یہ نسبتاً آسان ہے، یہی وجہ ہے کہ ملبوسات کے میدان میں پہلے سے موجود آن لائن فروخت کنندگان کا مقابلہ کرنا کٹھن ثابت ہو سکتا ہے۔ تحائف کی فروخت بھی ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ تاہم اس میں کامیابی کے لیے اشیاء کی وسیع تعداد درکار ہو گی تاکہ کسی بھی قسم کے گاہک کو مایوسی نہ ہو۔ بچوں کی اشیاء بھی ہر وقت کی ضرورت ہے اور والدین کے لیے ایک اچھی اور معیاری آن لائن دکان متاثر کن ثابت ہو سکتی ہے۔
گھریلو دستکاری، تصاویر اور ہاتھ سے تیار کردہ اشیاء بآسانی انٹرنیٹ کے ذریعہ فروخت کی جا سکتی ہیں۔ مقامی طور پر گھریلو کھانا، کیک، مٹھائی وغیرہ کی انٹرنیٹ کے ذریعہ فروخت، ان خواتین و حضرات کے لیے ایک بہترین کمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے جو کسی وجہ سے گھر سے باہر روزگار کے لیے نہیں جا سکتے۔ مختصراً یہ کہ کوئی بھی شخص اپنی سکت و مہارت کو مدِنظر رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کی کاروباری دنیا کا حصہ بن سکتا ہے۔ تاہم جس طرح ہر کام سے پہلے مشورہ اور غور و خوض ضروری ہے، بالکل اُسی طرح انٹرنیٹ پر کاروبار کرنے سے پہلے بھی اس کے اچھے اور بُرے ہر پہلو کا جائزہ لے لینا چاہیے اور کسی تجربہ کار فرد سے مشورہ بھی انتہائی اہم ہے۔ ای کامرس کی ناکامی کے اسباب مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ مگر درج ذیل اسباب سب سے زیادہ اہم ہیں۔
3
غلط منصوبہ بندی:
انٹرنیٹ کے جہاں لاتعداد فوائد ہیں، وہیں اس کا سب سے بڑا فائدہ یعنی معلومات کی دستیابی اور اس تک ہر خاص و عام کی رسائی ہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے۔ معلومات کے اس بہاو میں، بے جا تشہیر اور دوسروں کی کامیابی کی مثالوں کی بنیاد پر اکثر لوگ بغیر تحقیق اور منصوبہ بندی کے آن لائن دکان بنا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آن لائن دکان کا انٹرنیٹ پر اجراء ہی انہیں چند مہینوں میں کامیابی سے ہمکنار کروا دے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا اور وہ جلد ہی ہمت ہار جاتے ہیں۔
کاروبار سے ناواقفیت:
منصوبہ بندی کا سب سے اہم پہلو آن لائن دکان پر کیے جانے والے کام سے واقفیت ہے۔ اگر پہلے سے اس کام سے واقفیت ہے تو انٹرنیٹ پر کامیابی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں اور مطلوبہ نتائج بھی جلد مل سکتے ہیں۔
تشہیر کی کمی:
کاروبار سے وابستہ افراد تشہیر کی اہمیت سے آگاہ ہوتے ہیں۔ مگر انٹرنیٹ پر آن لائن دکان کھولنے والوں میں اکثریت نوزائیدہ افراد کی ہوتی ہے جنہیں پہلے سے کاروبار کا تجربہ نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ تشہیر کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتے اور تشہیر میں سرمایہ نہیں لگاتے جس کے نتیجے میں ان کی آن لائن دکان دوسری دکانوں کا مقابلہ نہیں کر پاتی۔
مصنوعات میں خامیاں:
مصنوعات کا معیار اور دیانتداری آن لائن دکان میں سب سے اہم ہے۔ ایک بار اگر گاہک کا اعتماد اُٹھ گیا تو پھر وہ واپس نہیں آتا، لیکن جو گاہک مطمئن ہو گیا تو وہ ازخود اُس دکان کی تشہیر بن جاتا ہے اور دوسروں کو بھی وہیں سے خریداری کا مشورہ دیتا ہے۔
ترسیل میں پریشانی کا سامنا:
آن لائن دکان پر آرڈر دینے کے بعد سے ہی خریدار کا انتظار شروع ہو جاتا ہے اور وہ جلد از جلد اشیاء کو اپنے ہاتھ میں دیکھنا چاہتا ہے۔ بس یہ انتظار جتنا ہی کم ہو گا اتنا ہی خریدار اس آن لائن دکان کو دوسری دکانوں پر ترجیح دے گا، اس لیے اگر آپ نے آن لائن کاروبار کو شروع کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو ترسیل کے حوالے سے بھی معاملات پہلے طے کر لینے چاہیے کہ آپ جتنے دن میں سامان پہنچانے کا وعدہ کریں اُس سے تاخیر ہر گز نہ ہو۔ آخر میں یہ بات قابلِ دلچسپ ہو گی کہ پاکستان میں اب تک آن لائن خریداری کا تخمینہ 30 ملین ڈالر کا لگایا گیا ہے اور امکان ہے کہ 2018ء تک یہ 60 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ پاکستان میں موبائل فون کی پانچ مختلف کمپنیاں ہیں جن کے صارفین کی تعداد 14 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یقیناً حقیقی استعمال کنندگان کی تعداد اس سے انتہائی کم ہو گی۔ تاہم اگر نصف کی صورت میں بھی 7 کروڑ صارفین کے ہاتھوں میں موبائل فون موجود ہے تو سستے اسمارٹ فون، تیز رفتار اور سستے انٹرنیٹ کنکشن کی بدولت یہی 7 کروڑ صارفین آن لائن دکان یا ای کامرس کے بھی ممکنہ صارف بن سکتے ہیں اور یہ تو صرف پاکستان کی بات ہو رہی ہے، جبکہ آن لائن دکان یا ای کامرس کا صارف تو کوئی بھی اور کہیں سے بھی ہو سکتا ہے یعنی آن لائن دکان یا ای کامرس کا دائرہ لامحدود ہے۔ انفرادی، اجتماعی اور حکومتی سطح پر ذرا سی توجہ آن لائن دکان یا ای کامرس کو پاکستان میں مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے جو کہ پاکستان کی معیشت اور عوام دونوں کے لیے سود مند ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ آن لائن دکان یا ای کامرس کا مستقبل انتہائی درخشاں ہے۔
Open chat