Tuesday, October 20, 2020
Home خصوصی رپورٹس پہاڑ گنج (رفیع عباسی)

پہاڑ گنج (رفیع عباسی)

pahar ganjبنارس پل سے نارتھ ناظم آباد کی طرف نشیب کی جانب آکر عبداللہ کالج کی چورنگی سے دائیں ہاتھ پر پاپوش کا قبرستان ہے۔ اس کے مقابل، بائیں ہاتھ پر پہاڑ گنج کا علاقہ شروع ہوتا ہے جو بنارس چورنگی سے شروع ہو کر یوتھ سینٹر، انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس کی پشت پر پہاڑی بلندیوں اور ڈھلوانوں سے کٹی پہاڑی تک چلا گیا ہے۔ پہلے اس کی حدود شپ اونرز کالج تک پھیلی ہوئی تھیں۔ لیکن شارع نورجہاں نارتھ ناظم آباد سے قصبہ تک سڑک کی تعمیر کے لیے اس پہاڑی کو درمیان میں سے کاٹ دیا گیا، اس طرح یہ بستی نورجہاں تھانے پر ختم ہو جاتی ہے۔ اس میں کئی چھوٹے چھوٹے محل شامل ہیں۔ جن میں دیر کالونی، عمر فاروق کالونی نمبر1، عثمان غنی کالونی اور کرسچن کالونی شامل ہیں۔ یہ بستی تقریباً 30ہزار نفوس پر مشتمل ہے جس میں ہزارے وال، پختون، کوہستانی، بلتی، آفریدی، سرائیکی، پنجابی اور نشیبی علاقے میں اردو بولنے والے رہتے ہیں۔ اصغر علی شاہ اسٹیڈیم اور گرڈ اسٹیشن چورنگی کے ساتھ عیسائی برادری کی خاصی بڑی آبادی واقع ہے جو پہاڑی کے دامن تک چلی گئی ہے۔ پہاڑ گنج کی کچی بستی کے تنگ و تاریک مکانات کے ساتھ ڈی سلوا ٹاون اور نارتھ ناظم آباد کے وسیع و عریض بنگلے بھی واقع ہیں لیکن اس آبادی کا اپنا ایک انفرادی حسن ہے، بلندی پر تہہ در تہہ بنے ہوئے مکانات، پہاڑی پر جانے کے لیے پختہ سیڑھیاں، قصبہ کی جانب والی سڑک پر پہاڑ کا کٹاو پاکستان کے شمال میں واقع کسی علاقے کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس کا شمار بھی کراچی کی نصف صدی پرانی بستیوں میں ہوتا ہے۔ ایک سیمنٹ فیکٹری نے جب قصبہ بنارس کے پہاڑوں کو کاٹ کر چٹانی پتھروں سے سیمنٹ بنانے کا کام شروع کیا تو، یہاں کوہستان کے تریالی زبان بولنے والے لوگ آ کر بس گئے، جو خرکار تھے اور جن کا پیشہ ہی پہاڑ توڑنا تھا۔ انہیں مذکورہ سیمنٹ فیکٹری میں روزگار مل گیا۔ وہ چٹانوں کو کاٹتے ، پہاڑی پتھر مذکورہ فیکٹری کے حوالے کر دیتے اور جگہ ہموار کر کے پتھر اور مٹی کے کچے گھر بنانے کے بعد ان پر لکڑی اور چٹائیوں سے چھت بنا کر ان میں رہائش اختیار کرتے۔ یہ جفاکش لوگ اس پہاڑی بستی کے بانیوں میں سے ہیں۔ 1966-67 تک یہاں کوہستان سے آنے والے صرف 22خاندان آباد تھے اور اس وقت اس بستی کو بہادر آباد کے نام سے پکارا جاتاتھا۔ بعد ازاں جب صوبہ سرحد سے مختلف قبائل اور برادریاں یہاں آکر آباد ہوتے گئے اور اس کی آبادی بڑھنے لگی تو پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مناسبت سے اس علاقے کا نام پہاڑ گنج تجویز کیا گیا۔ یہاں پر شمالی علاقہ جات کے مختلف علاقوں سے آنے والوں کے علاوہ پنجاب اور سندھ کے علاوہ اردو بولنے والوں کی بھی خاصی تعداد رہتی ہے۔ تربیلا ڈیم کے متاثرین کی اکثریت بھی یہاں آباد ہو گئی ہے۔ اس بستی میں مختلف مذاہب کے باسی آباد ہیں یہاں ایک درجن گرجا گھر، امام بارگاہ اور مختلف مکاتب فکر کی 21مساجد موجود ہیں۔ مختلف النوع قومیتوں اور بین المذاہب لوگوں کی آبادی ہونے کے باوجود اس علاقے میں گزشتہ پانچ عشروں کے دوران کبھی کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
ایک سرکاری اسکول ہے، پہاڑی پر کئی نجی کلینکس ہیں، جب کہ شمالی علاقہ جات کے مشہور پکوانوں کے کئی ہوٹل بھی وہاں واقع ہیں۔ کچی بستی کے ساتھ ہموار سڑکیں ہیں۔ عبداللہ کالج سے نصرت بھٹو کالونی تک یہ دو رویہ کشادہ سڑک ہے جس کے دونوں اطراف کشادہ بنگلے بنے ہوئے ہیں۔ پہاڑی کے نشیب میں یوتھ سینٹر کا مشہور کھیل کا میدان ہے۔ جہاں آبادی کے بچے اور نوجوان فٹ بال اور کرکٹ سمیت مختلف غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ گرڈ اسٹیشن چورنگی کے بائیں جانب اصغر علی شاہ اسٹیڈیم ہے۔ جہاںملکی سطح پر کرکٹ میچوں کا انعقاد ہوتا ہے۔انٹر بورڈ آفس کے بعد ہر سو گز کے فاصلے پر پختہ سڑک بنگلوں کے ساتھ ساتھ اس کچی آبادی تک جاتی ہے۔ جہا ں سے لوگ پگڈنڈیوں اور پتھریلی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے 2000 فٹ کی بلندی پر بنی ہوئی اپنی رہائش گاہوں تک جاتے ہیں۔ پہاڑ پر بنی اس بستی کو بھی گوناں گوں مسائل کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں وہاں کے باسیوں نے گفتگو کے دوران بستی کو درپیش جو مسائل بیان کیے وہ نذر قارئین ہیں:
imagesکوہستان سے تعلق رکھنے والے آفریدی محلے کے رہائش خالد خان درانی نے بتایا کہ اس علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا ہے۔گرڈ اسٹیشن چند فاصلے پر ہونے کے باوجود یہاں بجلی کا شدید بحران رہتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کو ہوش ربا بل موصول ہوتے ہیں۔ بغیر ریڈنگ کے ڈیکٹیشن بل بھیجے جاتے ہیں۔ جو 50ہزار سے بھی زیادہ رقم کے ہوتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ پانی کا ہے یہاں مہینوں پانی نہیں آتا لوگ پینے کے پانی کے لیے پریشان رہتے ہیں خاص کر پہاڑی بلندی پر رہنے والوں کو آبی مسائل زیادہ درپیش ہیں کیوں کہ اگر نشیب کے علاقوں میں پانی آتا بھی ہے تو اس کا پریشر اتنا کم کھولا جاتا ہے کہ پانی چند گز سے اوپر نہیں چڑھ سکتا۔ کراچی کے سابق مئیر نے لوگوں کے اس مسئلے کو محسوس کرتے ہوئے ڈی سلوا ٹاون میں واٹر بورڈ کا ایک پمپنگ اسٹیشن بنوا دیا تھا۔ نیچے کے علاقے میں سڑک پر نلکے اور برمے لگوادیے تھے۔ جن سے لوگ پانی بھر کر کنستر اور ڈبوں کے ذریعے بلندی پر بنے مکانات تک لے جاتے تھے لیکن مرد حضرات تو سارا دن محنت مزدوری کرتے تھے جبکہ یہ فریضہ خواتین کو انجام دینا پڑتا تھا اور انہیں پانی سے بھرے ہوئے برتن دو ہزار فٹ کی بلندی تک لے جانے میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑتاتھا۔ مذکورہ مئیر نے یہ مسئلہ بھی حل کروا دیا اور گھروں میں نلکے لگوا دیے گے اور پانی کا پریشر اور دورانیہ بڑھانے کے احکامات دیے گئے۔ جس سے ان کی پریشانیوں کا خاتمہ ہوا۔ لیکن چند سالوں سے یہاں پانی کا شدید بحران ہے لوگ اس بنیادی ضرورت کے لیے محکمہ فراہمی آب کے دفتروں کا چکر لگاتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ غلاظت اور گندے پانی کا ہے۔ نشیبی علاقوں کے مکانات کے ساتھ گندے پانی کے جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔ پہاڑی پر بھی گٹر لائنیں بند رہتی ہیں۔ا ن کی صفائی کا معقول انتظام نہیں ہے۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کراتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گٹروں سے ابل کر بہنے والا پانی نیچے کی جانب رخ کرتا ہے۔ لوگوں کو پہاڑی راستوں پر چلنا دشوار ہو جا تا ہے۔ ان راستوں پر جگہ جگہ گڑھے ہیں جو کچے مکانات بنانے یا ان کی حدود میں اضافہ کرنے کے لیے مٹی نکالنے کے لیے خود لوگوں نے کھودے ہیں۔ پتلی پتلی گلیاں، جن میں نہ صرف گاڑیوں کا اوپر کے علاقوں میں جانے کا تصور محال ہے بلکہ مریض یا انتقال کی صورت میں میت کو بھی اوپر سے نیچے تک لانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلندی پر تجاوزات مافیا سرگرم ہے، یہ لوگ مکانات بنا کر ضرورت مندوں کو کرائے پر دیتے ہیں جو شہر کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت سستے کرائے کے پیش نظر یہاں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے آبادی چوٹی تک جا پہنچی ہے۔ کچرا کنڈی نہ ہونے کی وجہ سے تنگ گلیوں میں کچرے کے انبار لگے ہوتے ہیں۔ پورے علاقے میں عمر فاروق کالونی میں ایک سرکاری اسکول ہے جس کی چہار دیواری کے ساتھ کچرا کنڈی بنا دی گئی ہے ۔ جب کہ دو اسکولوں پر مشتمل اس عمارت میں بچوں کو واش روم کی سہولت نہیں ہے۔ کرسچن کالونی کے رہائشی امانت مسیح نے کہا کہ یہاں سات ہزار اقلیتی رائے دہندگان ہیں لیکن شہری اداروں کی جانب سے اس آبادی کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ گلیوں میں غلاظت کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔ جبکہ مکانات کے قریب مرکزی سڑک کی وسیع و عریض چورنگی اور گرڈ اسٹیشن کی دیوار کچرا خانہ بنی ہوئی ہے۔ اس کے برابر ایک معروف اسٹیڈیم واقع ہے جس کا داخلی دروازہ اس غیر منظور شدہ کچرا کنڈی کے ساتھ ہے او یہاں اکثر بین الاقوامی نوعیت کے کرکٹ میچز ہوتے ہیں۔ جنہیں دیکھنے کے لیے ملک کی اہم شخصیات بھی آتی ہیں۔ لیکن غلاظت کے انبار کی طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی۔ گٹر لائنیں بوسیدہ اور شکستہ ہیں جن کی وجہ سے پانی گھروں کا گندہ پانی گلیوں اور مکانات کے گرد جمع رہتا ہے۔ بارشوں میں پہاڑیوں پر سے بہہ کر آنے والے پانی کی وجہ سے نشیب میں بنے مکانات زیر آب آ جاتے ہیں اور سامان برباد ہو جاتا ہے۔ پانی یہاںمہینے میں دو مرتبہ آتا ہے لیکن جب اس کی فراہمی شروع ہوتی ہے تو آدھے گھنٹے تک نلکوں سے سیوریج لائنوں کی آمیزش والا پانی آتا ہے۔ پورے علاقے میں کہیں بھی اسٹریٹ لائٹس نہیں ہیں۔
05_bigجاوید مسیح نے بتایا کہ یہ بستی بغیر کسی منصوبہ بندی کے وجود میں آئی جس کی وجہ سے شہری سہولتوں کافقدان ہے۔ بچوں کی تعلیم کے لیے ایک اسکول ہے لیکن وہ بھی پرائمری تک۔ کوئی سرکاری اسپتال یا شفاخانہ تو درکنار پرائیویٹ کلینک بھی نہیں ہے۔ بعض کمپاو¿نڈروں نے دواخانے بن رکھے جن سے علاج کرانا اکثر نقصان کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ یہاں کا ایک بڑا مسئلہ تجاوزات کا ہے۔ مسیحی کالونی کے داخلی راستے پر چورنگی کے ساتھ تجاوزات قائم ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کی آمدورفت میں مسائل کا سامنا ہے۔ عمر فاروق کالونی کے سابق کونسلر سید وصی حیدر المعروف ڈاکٹر کاکو نے بتایا کہ شہر حکومت کے دور میں یہاں کئی اچھے کام ہوئے۔ پہاڑی کی جانب سے بہہ کر آنے والے برساتی پانی کی نکاسی کے لیے نالہ بنایا گیا۔ لوگوں کے تحفظ کے لیے اس کے اطراف پانچ فٹ اونچی دیواریں کھڑی کی گئیں لیکن آج یہ دیواریں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں جب کہ لوگ اپنے گھروں کا کچرا اس میں پھینکتے ہیں، جس کی وجہ سے برسات کے زمانے میں بہاو¿ رکنے کی وجہ سے پانی ابل کر اطراف کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے جس سے مالی نقصانات ہوتے ہیں۔ نالے کو عبور کرنے کے لیے ایک پل بنایا گیا لیکن یہ بھی اب مخدوش ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک زمانے میں پہاڑی کی بلندی پر شمالی علاقہ جات کی طرز پر خوبصورت تفریح گاہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ لوگوں کو بلندی پر لے جانے کے لیے لفٹ چئیر لگانے کا بھی پروگرام رکھا گیا لیکن سارے منصوبے سرخ فیتے کی نذر ہو گئے۔ آج اس جگہ پر تہہ در تہہ مکانات بنے ہوئے ہیں۔ علاقے میں پانی کا بحران شدید ہے۔فراہمی آب ڈی سلوا ٹاون اور نارتھ ناظم آباد کے مختلف بلاکس تک ہوتی ہے جب کہ اس متصل علاقہ فراہمی آب سے محروم رہتا ہے۔ یہاں قبضہ مافیا سرگرم ہے۔ پہاڑ گنج چورنگی کے ساتھ دو کھیل کے میدان تھے، ان میں سے ایک پر گرڈ اسٹیشن بنا دیا گیا جب کہ دوسرے میدان پر بااثر لوگوں نے قبضہ کر کے مکانات، پلازے اور دیگر عمارتیں تعمیر کر لی ہیں۔ڈی سلو ٹاو¿ن کے قریب رہائشی اجمل شاہ نے کہا کہ ہمیں یہاں شہری مسائل تو درپیش ہیں ہی لیکن یہاں ہماری نئی نسل کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ کٹی پہاڑی کے ساتھ منشیات کے دو بڑے اڈے قائم ہیں جہاں سے علاقے میں منشیات کی فراہمی ہوتی ہے۔ ہمارے بچے منشیات کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پڑھائی کے مواقع میسر نہیں، مسیحی بستی میں چند نجی اسکول قائم ہیں لیکن ہم ان کی مہنگی فیسوں کی وجہ سے انہیں وہاں پڑھانے سے قاصر ہیں۔ یہاں زیادہ تر مزدور یا قریبی گیراجوں پر کام کرنے والے لوگ رہتے ہیں جن کے ذرائع آمدنی محدود ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

نارتھ ناظم آباد میں لڑکی کی ٹارگٹ کلنگ

نارتھ ناظم آباد کے علاقے بلاک اے انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس کے سامنے گلی میں کار پر فائرنگ سے ایک خاتون شدید زخمی...

امریکا میں 14 سالہ بچی نے کورونا کے علاج میں مددگار مالیکیول دریافت کرلیا

مریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ریاست ٹیکساس کے علاقے فریسکو کی رہائشی نوجوان طالبہ انیقہ چیبرولو کو ’تھری...

اسٹوڈنٹس پیرنٹس فیڈریشن آف پاکستان کا نجی اسکول مالکان کےخلاف احتجاجی مظاہرہ

کراچی:اسٹوڈنٹس پیرنٹس فیڈریشن آف پاکستان کا نجی اسکول مالکان کےخلاف احتجاجی مظاہرہ، گلشن اقبال میں واقع بیکن لائٹ اسکول کے سامنے والدین...

نارتھ ناظم آباد میں گاڑی پر فائرنگ سے 21سالہ لڑکی جاں بحق

نارتھ ناظم آباد میں گاڑی پر فائرنگ سے 21سالہ لڑکی جاں بحق ہوگئی,پولیس کے مطابق ناظم آباد انٹر بورڈ آفس کےقریب نامعلوم...