Tuesday, October 20, 2020
Home خصوصی رپورٹس ايسا کب تک ہوگا ............ (شعیب یار خان)۔

ايسا کب تک ہوگا ………… (شعیب یار خان)۔

Pak Indian Cricketکسي بھي بڑے مقصد ،بڑے معرکے کي تياری بھي بڑی ہوتی ہے مخالف کي کمزوريوں اور اپنی استعدادي قوت کو مد نظر رکھ کر تياری کي جاتی ہے  ايسا نہيں کہ کبھي کوئي کمزورجيتا ہی نہ ہو مگر اس ليے ضروری ہے کہ  سب سے پہلے يہ تسليم کيا جائے کہ  آپکی خامياں کيا ہيں  پھر ان خاميوں کو  نظر انداز کرنے کے بجائے  ان کا حل ڈھونڈھا جائے  ٹارگٹ کی طرف يہ ديکھ کر سوچنا ہوگا  کہ کچھ بھی ہو مجھے ہارنا نہيں ہےميں آخردم تک لڑوں گاجو بھی فيصلہ آئے مجھے کوئی سرو کار نہيں تب ہی آپ ہاری ہوئی بازی جیت سکتے اور خود سے بڑے مخالف کو  زير اور فاتح بن سکتے ہيں۔ پاک بھارت ميچ کا رزلٹ  ديکھ کر يہ اندازہ کر نا ہر گز مشکل نہيں کہ  ہماری ٹيم کي تياري جذبہ اور جيتنے کي لگن يقينا بھارتي ٹيم سے آدھی سے بھی کم تھي ،، ٹيم ميں آخر تک جو تبديلياں کي گئيں نہ وہ فائدہ مند ثابت ہوئيں نہ ہی ہماری مستند بيٹيسمين  ٹيم کي نيا کو پار لگا سکے ، ٹيم پاکستان ميچ کے آغاز سے ہي پريشر ميں دکھا ئی ديئے ايک جانب گراونڈ ميں گيارہ  پاکستانی بھارتی ٹيم سے نبرد آزما تھے تو دوسری جانب پوری پاکستانی عوام چاہے وہ پاکستان ميں ہويا  دنياکے کسي بھي گوشے ميں ہو، وہ پاکستان کی فتح کے ليے پر اميد اور دعا گو دکھائی دئيے يقينا نتيجے کو ديکھ کرعوام کا غصہ اورغم جائز ہے کيونکہ وہ اپنے کھلاڑيوں سے پياراور ان پر اتنا نازاس ليے نہيں کرتے کہ پورا ميچ اس طرح سے بھارتيوں کے ہاتھ ميں دے ديا جائے
صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اعصاب کی اس جنگ ميں نہ ہماری کبھی تياری رہی اور نہ ہم تيار ہو سکتے ہيں۔ پاکستان کي شکست کے ساتھ ہی ان کروڑوں افراد کے دل بھی ٹوٹ گئے جو اپنے کھلاڑيوں کو دل کی گہرائيوں سے چاہتے ہيں ان کی ايک پرفارمنس پرليکن اس بار ہماری قوم کو بھی سوچنا ہو گا کہ جب ہم سياست دانوں اور ديگر افراد کے احتساب کے ليے بضد رہتے ہيں يہ ہی ضدہميں اپنےکھلاڑيوں کے ساتھ بھی کرنی ہوگی ،،،کسي کو يہ حق نہيں کہ صرف اپنی ساکھ کو بچانے کے ليے  پوری قوم کي اميدوں اورجذبات کو داؤپر لگائے آخر کيوں اس ملک ميں کھيلوں کے ميدانوں ميں ميرٹ کو فوقيت نہيں دي جاتي؟؟ کبھی کپتانی کے مسائل پر تو کبھی سليکشن کے معاملات کي وجہ سے ، آپس کے اختلافات اور ميڈيا  پرنشر ہونے کے باوجود  کوئی تاديبی کاروائی نہيں کی جاتی شايد پاکستانی کرکٹ ٹيم ہي وہ واحد ٹيم ہے جس کے پاس مصباح الحق  کي ريٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی کھلاڑی ميں اتنی اہليت نہيں کہ وہ کپتان بن سکے ۔۔۔۔۔جبکہ دنيائے کر کٹ ہر ٹيم کے پاس متبادل کھلاڑيوں کے ساتھ ساتھ کپتان بھی تيار رہتے ہيں  تاکہ وہ کسی بھی ايک کھلاڑی کے زير اثر نہ رہ سکيں ۔ ہمارالميہ يہ ہے کہ ہر مرتبہ  ہم ان کي کوتاہيوں کو بھلاکر ان کي ايک جيت پر تمام کھلاڑيوں کو سر پر بٹھا ليتے ہيں مگر جب ہم ان سے کوئی اميد باندھ ليتے ہيں تو نتيجہ  ہمارے سامنے ہزيمت کي صورت ميں آتا ہے۔۔ جب تک ٹيم کا احتساب نہيں ہوگا  تب تک يہ معاملات ايسے ہي چلتے رہيں گے ،،، لگتا تو ايسا ہے کہ جس ميچ کا انتظارپاکستانی عوام  گذشتہ ورلڈ کپ ميں بھارتی ٹيم سے  ہارنے کے بعد کر رہی تھی اس انتظار کی قدرٹيم مينجمنٹ اور کھلاڑيوں کو بلکل نہيں صرف يہ کہہ دينا کہ  ہار جيت کھيل کا حصہ ہيں  کسی ايک ٹيم نے تو جيتنا  ہی ہوتا ہے  تو قوم کو جذباتی نہيں ہونا چاہيئے يہ سب باتيں ان دکھوں اور ملال کا مداوا ہی نہيں ہو سکتی جو شائقين اپنے ہيروز سے توقع کر تے ہيں کيونکہ ان ہيروز کو بھی شائقين کرکٹ ہی عام سے خاص بناتے ہيں ۔
پاک بھارت ميچ کا اگر جائزہ ليا جائے تو  تو يہ صاف  نظر آتا ہے  نہ تو ہماري ٹيم اس ميچ کے ليے ذہني طور پر تيا ر تھي ہي نہيں   ،، نہ ہي کہيں جيتنے کا جذبہ،  عزم و حوصلہ دکھائي ديا ، شائقين کر کٹ صرف اپني ٹيم سے  چا ہتے ہيں کہ  آپ ہاريں ضرور ہاريں   يہ نظر تو آئے کہ آپ لڑ کر ہاريں ہيں،،مقابلہ کر کے  ہارے ہيں ،،برداشت کرليں گے  کبھي تو ايسا لگتا ہے  کہ ہماري  ٹيم  صرف دعاوں کے بھروسے  پر گراؤنڈ ميں اتر تي ہے  کہ قسمت کي ديوي مہربان ہوئي تو صحيح ورنہ اسباب اور وجو ہات بہت ہيں
ابھي بھي وقت باقي ہے انسان پر اصلاح کا دروازہ کبھي بند نہيں ہوتا ،، ورلڈ کپ ابھي باقي ہے ۔ ٹيم پاکستان کا صرف اپنے چاہنے والوں کے دکھ کا احساس کرتے ہوئے اپني ہار سے سبق سيکھ لے اور جو کمزورياں ہيں ان پر قابو پانے کے ليے سر دھڑ کي بازي لگا لے کوئي وجہ نہيں کہ عوام ايک مرتبہ پھر ان کي بھارت سے ہار بھلا کر اپنے ہيروز کو پھر سے اپنے کندھوں پر بٹھالے ،سينئيرز اور جو نئيرز جو بھي کھلاڑي ورلڈ کپ کا حصہ ہيں وہ اپني جان لڑاديں گے اور آگے کے ميچز ميں متحد ہوکر کھيليں اور اگر ہار بھي گئے تو دکھ نہيں دعا يہ بھي ہے کہ ہماري ٹيم اور اور ٹيم مينجمنٹ بھارت سے ہار کو ياد رکھ کر اس ہار کا بدلہ باقي تمام ميچيز ميں اتار ديں اور سر خرو ہوکر واپس لوٹيں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کیپٹن صفدر کی ضانت منظور

مزار قائد بے حرمی کیس میں اغو کا مقدمہ درج ہونے کے بعد اب سٹی کورٹ ایک لاکھ روپے کت...

مصباح سے کوئی اختلاف نہیں، ان کا ورک لوڈ کم کیا ہے:مانی

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں چئیرمین پی سی بی احسان مانی نے پی ایس ایل اور پی سی بی تنازع کے...

چھاتی کا سرطان: کہیں آپ لاعلم تو نہیں؟

اینکرز کے کوٹ اور دوپٹوں پر لگی ’’پنک ربن‘‘ کا مقصد ناظرین کو ہر لمحہ ’’ ماہ اکتوبر: بریسٹ کینسر سے آگاہی...

کیپٹن (ر) صفدر گرفتار، سندھ حکومت نے لاتعلقی ظاہر کردی

اکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو کراچی کے ہوٹل سے گرفتار کرلیا گیا۔ مزار قائد کا تقدس پامال...