پاک بھارت تعلقات اور اسلام (شجاع الدین شیخ)

Pak-India3اسلام ایک مکمل ضابط حیات ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ قیامت تک کے لئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے ذریعے ہمارے لئے رہنمائی کا سامان فراہم فرمادیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورئہ مائدہ کی آیت 3میں فرمایا ہے آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے۔ جن حالات سے اس وقت پاکستان گزر رہا ہے یقینا امت کے لئے اس قسم کے حالات نئے نہیں ہیں اگر ہم امت کی تاریخ کو دیکھیں تو اس قسم کے حالات اس پر مسلط ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ خود نبی اکرم ﷺ کے دور میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان ہمیں معرکے نظر آتے ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے لئے دین کیا رہنمائی عطاکرتا ہے۔
جنگ کوئی پسندیدہ شے تو نہیں بالخصوص جس عہد میں ہم آج جی رہے ہیں جس قسم کی تیاریاں آج کے ممالک کے پاس دستیاب ہیں بالخصوص جو ایٹمی ہتھیار ہیں اگر 50 فیصد ہتھیار بھی استعمال ہوجائیں تو دنیا کو کس قدر تباہی کا سامنا ہوگا۔ اگر یہ دونوں ممالک بھارت اور پاکستان جو ایٹمی قوت کے حامل ہیں اگر ایٹمی جنگ میں ملوث ہوں تو پوری دنیا پر اس کے اثرات جائیں گے۔ دنیا کے ممالک کے مقتدر حلقوں کواس کا اندازہ ہے جبھی درمیان میں پڑے او ر نتیجتاً جنگ کا معاملہ تو پیش نہیں آسکا، کشیدگی بہرحال اپنی جگہ برقرار ہے لیکن اگر کبھی خدانخواستہ حالات ناگزیر ہوجائیں اور جنگ مسلط کردی جائے تو جوابی کاروائی کرنا پڑتی ہے۔
حضور ﷺ کا ایک ارشاد یہ ہے کہ کبھی دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو البتہ اگر جنگ مسلط کردی جائے تواس کا بھرپور طور پر مقابلہ کیا جائے۔ہمارے دین نے چند شرائط کے ساتھ جنگ کا حکم بھی دیا ہے اور اگر کبھی جنگ کی تعلیم دی ہے تو چند مقاصد کے ساتھ دی ہے۔قرآن سورئہ انفال آیت 39کے مطابق جنگ کا مقصد اللہ کے کلمے کی سربلندی ہوتا ہے۔سورہ نساءآیت 75کے مطابق کسی علاقے میں اگر بوڑھوں، عورتوں اور بچوں پر ظلم ہورہا ہو تو ان کی مدد مقصود ہے۔۔ اہل ایمان کو اپنے دفاع کے لئے جنگ کی اجازت دی گئی ہے۔بخاری شریف میں سات بڑے سے بھی بڑے گناہوں میں یہ شامل ہے کہ میدان جنگ سج گیاہو تو اس سے فرار اختیار کرے۔لہذا اگر جنگ مسلط کردی جائے تو ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے۔
آج کے دور میں میڈیا جنگوں کے درمیان ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔آج کل عام طور پر لوگوں کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون ہوتا ہے ۔یہ معاملہ اس وقت ہی نہیں ہوتا جب جنگ کے بادل سر پر چھارہے ہوں جیسا کہ اس وقت ہے۔ عام حالات میں بھی ایسا ہوتا ہے۔میڈیا کے ذریعے افکار کو پھیلایا جانا ،غلط فہمیوں کو جنم دینا ،لوگوں کو مخمصے میں مبتلا کردینا ،انھیں کنفیوژن کا شکار کردینا ،مرعوبیت کا شکار کردینا ہوتا ہے۔اس میں اصولی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ جنگی حالات میں چند اس قسم کے معاملات ہو ں تو قرآن حکیم ہمیں رہنمائی عطا کرتا ہے کہ تمہارے پاس کوئی اہم خبر آئے تو اسے بلاتحقیق آگے نہ بڑھاﺅ۔سورہ حجرات میں فرمایا گیا کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی اہم خبر لے کر آئے تو اس کی جانچ پڑتال کرلو ، ایسا نہ ہو کہ اس کی بنیاد پر کسی گروہ یا قوم کے خلاف کوئی اقدام کر بیٹھو اور پھر تمہیں اس اقدام پر پیشیمانی اٹھانا پڑے۔سورہ آل عمران میں ارشاد ہوا کہ اگر تمہارے پاس کوئی اہم خبر آرہی ہے تو ان لوگوں تک پہنچا دو جو اس سے استفادہ کرسکیں اور اس کو سامنے رکھ کر کوئی لائحہ¿ عمل طے کرسکیں گے۔
ہمارے ہاں ہر آدمی ایکسپرٹ بن جاتا ہے ۔سوشل میڈیا پر کسی نے شیئر کیا ہے کہ ہمارے ہاں کوئی چیز لینے کے لئے باہر نکلتا ہے واپسی پر وہ ایک معاشی، سیاسی یا دفاعی تجزیہ کار بن جاتا ہے ۔معذرت کے ساتھ ہم سب کو اپنی اوقات کا بھی پتہ ہونا چاہئے۔جنگی معاملات کی خبریں نشر ہورہی ہیں جس سے chaosاورکنفیوژن بھی پیدا کیا جاتا ہے ۔سامعین کے ذہنوں کو بھی خراب کیا جاتا ہے ۔لہٰذا ان خبروں کو ہم بلاوجہ آگے نہ بڑھائیں ۔یہ خبریں ہم سے پہلے صاحبان معاملات تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں جنہیں اس کے بارے میںکوئی فیصلہ کرنا ہے تو ان معاملات کو انہی کے حوالے کرنا چاہئے۔میں گزارش کروں گا کہ علماءکی طرف سے جو بات آئی ہے کہ جنگ کے بادل ہم پر چھائے ہوئے ہیں اور بجائے اس کے ہم اپنے فنگر ٹپس پر کیا کچھ شیئر کررہے ہوں ،اس عادت کو ترک کرکے اللہ کی طرف رجوع کریں۔اس سے عافیت طلب کرنی چاہئے۔اس سے امن وسلامتی کی دعا کرنی چاہئے۔شرور اور فتنوں سے اس کی پناہ طلب کرنی چاہئے اوران سے بچنے کی دعا مانگنی چاہئے۔یہ ہمارے اوقات کا زیادہ مثبت استعمال ہوگا۔ جنگ کے حوالے سے اس کے مختلف پہلوو¿ں پر ان شاءاللہ مزید گفتگو جاری رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top