پاکستان کا سوال ہے (شیخ خالد زاہد)

IMG-20181009-WA0000ایک بار پھر پاکستانی ، پاکستان کی بقا ءو سا لمیت کو خاطر میں رکھے بغیر شخصی مفادات کی خاطر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ پاکستانیوں کا انتہائی تاریخی دور سے گزرتے ہوئے یہ رویہ مایوس کن ہے۔ ہمیں اس بات کی سمجھ کب آئے گی کہ پاکستان کسی فرد ، ادارے یا تنظیم کا نہیں ہے یا پھر ہم عوام ان میں سے کسی ایک کے بھی مفاد کے لیے اپنی توانائیاں خرچ نہیں کرسکتے۔ پاکستان ہر اس پاکستانی کا ہے جو اس میں رہتا ہے ۔ ہمیں یہ بات کب سمجھ آئے گی کہ ہمارے حقوق بھی اس ملک میں اتنے ہی ہیں جتنے کہ ہمارے سیاسی رہنماﺅں کے ہیں۔ ان عوامی نمائندوں کے حقوق عوام سے کم ہوتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریاں بڑی ہوتی ہیں کیوں کہ یہ ہمارے لیے دنیا کے لیے مثال ہیں۔ افسوس یہاں تو سب کچھ الٹا ہی چلتا چلا آرہا ہے۔

یہ بھی پاکستان کا امتیاز ہے کہ یہاں کوئی کتنا بڑا مجرم ہو اتنے ہی بڑے ہجوم کے ساتھ عدالتوں میں آتا ہے اور اس سے کئی گنا ہجوم سزایافتہ کی سزا مکمل ہونے پر اسے جیل سے رہائی پر لینے آتے ہیں۔یہ سب کچھ زمانہ جاہلیت کی کتابوں میں لکھا پڑھا جا سکتا ہے لیکن بد قسمتی سے دیکھا پاکستان میں بھی جاسکتا ہے۔ کیا پاکستانی صرف سماجی میڈیا کی حد تک ہی باشعور ہوئے ہیں ان کی عملی زندگی کی کیا حیثیت ہے اس بات سے یہ ابھی تک ناواقف ہیں۔ یہ اپنے نمائندوں کی خواہشوں کا ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ آج ہمیں ایک بہت بڑی مشکل یہ بھی درپیش ہے کہ ہمارے معاشرے میں شخصی ظاہری درستگی پر تو بہت زیادہ دھیان دیا جا رہا ہے کہ معاشرے یا اپنے اردگرد پر کوئی توجہ تک نہیں دی جا رہی ہے۔

آج احتجاج کرنے والے کچھ لمحوں کیلئے ان راستوں پر غور کریں جن پروہ چلتے ہیں ۔ وہ آبادیوں کے درمیان علاج معالجے کی سہولیات پر غور کریں ، اپنے اپنے علاقوں کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زارپر بس ایک نظر ڈال لیں ۔ اپنے پانی کے نلکوں میں آنے والے پانی کو دیکھیں اور اس موذی پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے بارے میں سوچیں۔اپنے بچوں کی درسگاہوں کا جائزہ لیں، زندگی کی بنیادی ضروریات سے محرومی کا جائزہ لیںاور پھر ان لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں سوچیں کہ جن کے لیے نہ صرف احتجاج کرنے نکلے ہیں بلکہ اپنی معصوم زندگیوں کو ہتھیلی پر لیے نکلے ہیں کہ جن کو چھینک بھی آجائے تو بین الاقوامی دوا منگوالی جاتی ہے ۔جن کے رہن سہن کسی ماضی کے بادشاہوں سے کم نہیں ہیں، جن کے گھروں کی اراضی ایک چھوٹی بستی سے بھی شائد زیادہ ہو۔ جس ملک کی عوام اپنے لیے ایسے بد عنوان حکمران چنتی ہے تو پھر ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے عوام کا مال یہ بدعنوان لوگ کھا جاتے ہیںاور عوام کویا اپنے ووٹرز کو سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے سیاست کرتے رہے ہیں ۔ آج ان سے اقتدار چھن جانے پر اتنا شورجو مچا رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہے نا کہ ان کی بدعنوانیوں کا پول کھل جائے گا ۔ سال ہا سال سے جاری بدعنوانیوں کا سارا ریکارڈ عوام کے سامنے آجائے گا۔ سیاست اگر عوام الناس کی خد مت کے لیے کی جاتی ، سیاست اگر پاکستان کی ترقی اور دنیا میں اجاگر کرنے کے لیے کی جاتی تو بھلا ذاتی ملکیت بڑھتی یا عوام میں خوشحالی کا اضافہ ہوتا ۔یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ کس نے کتنی بدعنوانی کر رکھی ہے ۔ ابھی تحقیقات کا عمل جاری ہے اور جب تحقیقات ہوتی ہیں تووہ بھی سامنے آتا ہے جو متن میں ہوتا ہی نہیں۔

پاکستانی عوام کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اتنی مہنگائی راتوں رات تو نہیں بڑھ گئی ہے۔ اس میں ملک کے تمام سیاستدانوں کا ہے کا راگ آلاپنے والے اپنے ادوار میں کون سی مہنگائی کو قابو میں کر سکیں ہیں یا پھر کبھی عوامی پر بڑھنے والے بوجھ کا خیال کیا ہے اوراب موجودہ حکومت پر اسکا بوجھ ڈالنا انتہائی غیر سنجیدہ رویہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
پاکستان کی عوام نے اب بھی اگر اپنی لسانی ، فرقہ واریت اوردیگر تفریق سے نجات نہیں حاصل کی تو پھر کبھی کوئی اس قوم کی مظلومیت کے خلاف کھڑاہونے کی جرات نہیں کرے گا۔ ہمیں نام نہاد انا کا خول اتار کر پھینکنا ہے اب چاہے اپنے لیے نہیں لیکن اپنی آنے والی نسلوں کے لیے، ہمارا آج کا فیصلہ ہماری نسلوں کو ذہنی پسماندگی اور غلامی سے نجات دلائے گا۔

پاکستان کی عوام میں حوصلہ و جرات دونوں ہی بہت ہیں بس انہیں ڈرا دھمکا کہ بھوکا اور پیاسا رکھ کر ہمیشہ سے خاموش رہنے کی تربیت دی ہے اور یہ سکھایا ہے کہ بولنا ہو تو صرف اور صرف اپنے سیاسی و مذہبی مخصوص رہنماﺅں کے حق میں بولنا اور یہ مت دیکھنا کہ انکا عمل کیا ہے اور وہ کس کردار کے لوگ ہیں۔ اب تو آنکھیں کھل جانی چاہئیں کردار بھی سامنے آچکے ہیں اور اعمال بھی سب کے سامنے آتے جا رہے ہیں۔ یہ بدعنوان اپنے کیے پر اتنے خوفزدہ ہیں یہ اتنے گند میں اٹے پڑے ہیں کہ کسی بھی قسم کی صفائی کی بات ہوتی ہے تو یہ بلبلا اٹھتے ہیں کہ یہ کون سی صفائی ہونے جا رہی ہے۔ بے ایمانوں کی فہرستیں مرتب کی جانی چاہئیں اور خصوصی طور پر تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانی چاہئیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو پتہ چلے کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ۰۷ سال گزرجانے کے باوجود پاکستان کو دنیا میں اعلی مقام دلانے سے قاصر رہے ہیں صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کی خاطر۔

سچائی کی طاقت یہ ہے کہ جھوٹوں کے سامنے سچائی آجائے تو وہ کانپنا شروع کردیتے ہیں اور ہیجانی کیفیت کا شکار ہوکر الٹا سیدھا بولنا شروع کردیتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بدعنوانوں کے ٹولے نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا یہ قوم ہماری غلامی سے آزاد ہوگی لیکن قدرت نے ہر فرعون کیلئے موسی ؑ پیدا کیے ہیں اور جب قدرت موسی ؑ کو بھیج سکتی ہے تو پھر اپنی مرضی کے حق کے کام بھی خوب لے سکتی ہے۔ ابھی وقت ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے اہلکار جو کسی مجبوری کے تحت بدعنوانیوں میں ملوث رہے ہیں ۔ باز آجائیں اور اپنے آپ کو معافی نامہ کے ساتھ پیش کردیں۔عوام صبر و تحمل سے کام لے اورکسی قسم کے جذباتی دباﺅ میںنہ آنے کاحتمی فیصلہ کرے ۔ اللہ نے انہی کی حالت بدلی ہے جنہوں نے اپنی حالت بدلنے کی کوشش کی ہے ، اب وقت ہے بدلنے کا ۔آسان لفظوں میں اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ سوال پاکستان کی بقاءکا ہے کسی سیاسی یا مذہبی خاندان کوبچانے کا نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top