خدارا پاکستان کا ساتھ دیں (شیخ خالد زاہد)

IMG-20181009-WA0000پاکستان میں موجود جتنی بھی سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں وہ اس وقت حکومت پر تنقید برائے تنقید کے عمل سے گزر رہی ہیں کیونکہ انکے پاس اپنی بدعنوانیوں کے جواب میں تو کچھ ہے نہیں۔ بد قسمتی سے وہ عوام جو ان سیاسی و مذہبی جماعتوں سے کسی بھی طرح سے وابسطہ ہیں مجبوراً ان کاساتھ دے رہی ہے چونکہ ہمیشہ سے ایسا ہی کیا ہے ۔ انکی عقل پر ایسے شخصی پردے پڑے ہوئے ہیں کہ اپنے رہنماﺅں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ اس سوچ سے بھی ماورا ہوچکے ہیں کہ پاکستان کے لیے ان کا کردار کتنا اہم ہے ۔ پاکستان ہے تو یہ ہیں ، ان کا ایک ایک پودا پاکستان کیلئے کتنا ضروری ہے انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستان کو اس حالت میں پہنچانے والے وہی لوگ ہیں جو گزشتہ پچیس تیس سالوں سے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے رہے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتے رہے ہیں اور سوائے اپنے ذاتی مفادات سلجھانے کہ ،ان لوگوں نے اپنی ذاتی زمینوں کے رقبے بڑھائے ہیں ،زرخیز بنائیں ہیں اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلوائی بلکہ وہیں نوکریاں یا کاروبار کا بھی بندوبست کر کے چھوڑدیا ہے ۔ اب انکی حب الوطنی پر شک نہ کیا جائے تو پھر کیا کیا جائے ؟ سمجھنے کا وقت ہے پاکستان کے لیے ہماری آنکھوں کا کھلنا بہت ضروری ہے خواب غفلت سے جاگنا بہت ضروری ہے ۔پاکستان پکار رہا ہے ۔
کسی کو برا کہنے سننے کا کوئی فائدہ نہیں ، سب کو سب کچھ سمجھ آچکا ہے کہ پاکستان کو کس نے کیا فائدہ اور کیا نقصان پہنچایا ہے اب تمام رازوں پر سے پردے ہٹ چکے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ بے وجہ کا مخالفانہ رویہ ترک کیا جائے اور جہاں ضروری ہے حکومت وقت کی رہنمائی کی جائے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ اب سے ملک میں بدعنوانی نہیں چلنے دی جائے گی ۔ جس کسی نے جو دینا ہے حکومت سے بات کرے اور وقت ضائع کیے بغیر آگے آئے ۔ یہ وہی پاکستان ہے جس کی حصول کی خاطر جان مال اور عزتوں تک کو قربان کر دیا گیا تھا آج ہم اسی پاکستان کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ کیا ہم ان قربانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں؟ پاکستان ہی ہے جس نے ہمیں امان دی ہے جس نے ہمیں مقام دیا ہے جس نے ہمیں نام دیا ہے۔ دنیا میں پہچان دی ہے، اب وقت آچکا ہے کہ ہم پاکستان کا مقام دنیا میں بحال کروائیں۔ یہ تو واضح ہوچکا ہے کہ جمہوریت کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اب جمہوریت کا صحیح چہرہ دنیا دیکھے گی۔ تمام ادارے اپنے اپنے لوگوں کے لیے اصلاحی پروگرام شروع کریں اور دیکھ لیں کہ سہل پسندی کو ترک کرنا مشکل ہے یا پھر جیلوں میں بیٹھ کر چکی پیسنا۔
وہ تمام پاکستانی جو ملک میں گزشتہ تین دہائیوں سے حکومت کرنے والوں کے حامی ہیں برائے مہربانی اس بات کو عام پاکستانیوں کے لیے واضح کردیں کہ پاکستان اربوں روپوں کا مقروض کیسے ہوا ہے اور یہ بات بھی وضاحت سے سمجھادی جائے کہ یہ جن جن حکمرانوں نے گزشتہ ادوار میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالے رکھی ہے ان کے حالات اتنی تیزی سے کیسے بہتر سے بہترین ہوتے چلے گئے ہیں کہ انہیں خود ہی نہیں پتہ کہ انکی جائیدادیں کہاں کہاں ہیں اور انکے کتنے بینک اکاﺅنٹ ہیں۔ایوان بالا میں ہمارے ایک معزز سیاستدان یہ فرما رہے تھے کہ جو ہم نے کیا اگر انہوں (موجودہ حکومت )نے بھی وہی کرنا تھا تو پھر بڑے بڑے دعوے کیوں کیے، تو ان سے گزارش یہ عرض کرنی ہے کہ قابل احترام جناب آپ لوگوں نے دنیا جہان سے قرضے لے کرقریب پاکستان کو گروی رکھ کر اپنے گھر بھرے ہیں لیکن اب قرضہ حقیقی معنوں میں ملک کو چاہئے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ یہ لوگ کس منہ سے موجودہ حکومت پر تنقید کر رہے ہیں ۔اصول ً نئی حکومت کو (جو ملکی تاریخ میں پہلی بار اقتدار میں آئی )کچھ وقت دے دیں ،ہا ں اگر پھر آپ کو لگے کہ یہ بھی آپ جیسے ہی لوگ ہیں تو پھر جو دل چاہے کہتے اور کرتے پھریں ۔
پاکستان مفاد پرستوں اور موقع پرستوں کی اماجگاہ بنا ہوا ہے بس موقع ملنے کی دیر ہوتی ہے ۔ موجودہ حکومت میں گوکہ گزشتہ ادوار سے وابسطہ لوگ موجود ہیں لیکن اللہ بھی توبہ کرنے والوں کو معاف کردیتا ہے اگر یہ لوگ توبہ کرچکے ہیں تو پھر ان پر تہمتیں تو نہیں لگائی جاسکتی کہ یہ کون سے دودھ کے دھلے ہیں ۔ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں کہا یہ جاتا ہے کہ جو سب سے چھوٹا چور ہے وہ ٹھیک ہے ۔ اپنے ہم وطنوں کی اندھی تقلید کو دیکھتے ہوئے دل بہت دکھتا ہے ۔ دنیا کی ترقی عوامی شعور کی مرہونِ منت ہے ، لوگوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے انہوں نے اپنے میں سے ان لوگوں کو ملک کا نظم و نسق چلانے کیلئے چنا ہے جو ان میں زیادہ پڑھے لکھے اور جہاں دیدہ لوگ ہیں وہ لوگ کسی تقسیم پر یقین نہیں رکھتے جیسا کہ دنیا کہ بہت سارے ممالک میں پاکستان یا اسلام سے تعلق رکھنے والوںکو اہم عہدوں پر فائز کردیا گیا ہے ۔
پاکستان میں نہ تو ذہین لوگوں کی کمی ہے اور نہ ہی محنت کشوں کی بس کمی ہے توان بہادر لوگوں کی جو شر اور خیر میں تفریق کرناجانتے ہوں اور حق بات کہنے کی طاقت رکھتے ہوں ۔ جو غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کو جہاد سمجھتے ہوں۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ حق بات کہنے والے ہمیشہ سے بہت کم رہے ہیں ایک بہت بڑی مثال واقعہ کربلا کی ہے جہاں حق پر ہونے کے باوجود اہل ِ بیت کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا لیکن تاریخ رہتی دنیا تک ان حق پرستوں کو خراج عقیدت پیش کرتی رہے گی اور گواہی دیتی رہے گی کہ بیشک حق ہی رہنے کے لیے ہے۔
پاکستان ہم سب سے یہ امید کر رہا ہے کہ حقیقت کا ساتھ دیں ، بیماری اس نہج پر پہنچی ہوئی ہے جہاں عمل جراحی کی ضرورت پڑتی ہے جس کے لیے مریض کو کچھ ساعتوں کے لیے بیہوش کیا جاتا ہے اور ہوش میں آنے سے لے کر ایک معینہ مدت تک انتہائی نگہداشت میں رکھا جاتا ہے اب پاکستان کی صورت حال بھی ایسی ہے۔ بد قسمتی سے ان پڑھ اور کم علم والے لوگ آج بھی جراحی کے عمل سے اجتناب برتنے کی صلاح دیتے ہیںکیونکہ وہ اپنے مریض سے نہیں بلکہ کسی اور سے مخلص ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ ہم لوگ باشعور ہونے کا مظاہرہ کریں گے اور اس عمل جراحی کے عمل کے ساتھ دعاﺅں کا بھی اہتمام کریں گے۔ کوئی شک نہیں رات جب بہت گہری ہوجاتی ہے تو اس بات کا یقین کرلینا چاہئے کہ اب کچھ دیر میں ہی روشنی ہونے والی ہے ۔ رات گہری ہوچکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top