ڈالر کی اونچی پروان اور ملکی قرضے (عنایت کابلگرامی)

dollers-3کاروباری حضرات چاہے وہ چھوٹے کاروباری ہوں یا بڑے ان دنوں شدید پریشانی میں مبتلا ہے، ان کی یہ پریشانی بجا بھی ہے، نئی حکومت سے وابستہ ان کی تمام امیدے خاک نشین ہورہی ہے ۔ تحریک انصاف نے الیکشن میںجو بلند و بالا دعوے کیے کہ ہم اقتدار میں آکے ایک ایسا نیا پاکستان بنائیں گے کہ جس میں ہر شخص خوشحال ہوگا۔ ڈالر کو 60 روپے میں لیکر آئیں گے، پیٹرول 50 روپے میں اور باہر ملکوں میں پڑا پاکستانیوں کے غیر قانونی دولت کو ملک میں واپس لائیں گے۔ اس قسم کے بڑے بڑے دعوے جس نے ہر پاکستانی کو متاثر بھی کیا اور ایک نئی امید بھی دی۔
لیکن گزشتہ ایک ماہ سے ڈالر کی اُنچی اڑان نے چھوٹے بڑے تمام تاجروں کے ساتھ عام پاکستانیوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ ڈالر کی اڑان سے مہنگائی کا جو طوفان برپا ہوا ہے اس کی مثال شاید پاکستان کی تاریخ میں ہو۔ تحریک انصاف نے جب حکومت سنبھالی اس وقت ڈالر 109روپے کا تھا۔ اقتدار میں آتے ہی تحریک انصاف کی حکومت نے واضح اعلان کیا کہ ہم کسی بھی صور ت میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، اس کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے قوم سے ڈیم فنڈ کے نام پر چندہ بھی مانگ لیا۔ ایک کے بعد ایک دعوے اور اعلانات کے بعد سب کچھ الٹ ہونے لگا۔
جب سے پاکستان بنا ہے تب سے پاکستان کا ہر حکمران ماسوائے جنرل ضیاالحق مرحوم کے آئی ایم ایف کے پاس قرضہ لینے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہم کسی بھی صورت میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ پھر ایسی کیا آفت پڑ گئی کہ تحریک انصاف کی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت پڑی اور ڈالر کیوں یوں انچائی پر چھڑ نے لگا؟
پاکستا ن میں مہنگائی کے کئی وجوہات ہے، ایک” ڈالر“ چونکہ دنیا بھر کے ممالک ایک دوسرے سے کاروبار اور لین دین کے لیے ڈالر کا استعمال کرتے ہے، اس لیے پاکستان بھی درآمدات کے لیے ڈالر پر ہی انحصار کرتا ہے ۔ گزشتہ چند ہفتوں سے ڈالر جس تیزی سے پروان چھڑا ہے شاید آنے والے چند دنوں میں یہ ڈیڑھ سو کا ہندسہ عبور کرلے گا۔ دوسری وجہ ”بے حسی“ ڈ الر کے مہنگا ہونے کا سن کر چھوٹے بڑے تاجراور ان میں وہ تاجر بھی شامل ہے جس کے کاروبار میں دور دور تک ڈالر کا تعلق نہیں وہ اشیا مہنگی کرنا شروع کردیتے ہیں، چاہیے وہ اشیا خور و نوش ہو یا دیگر ۔ مثال راقم کے کام میں جہاں دیگر سامان لگتا ہے وہی پر فارمیکا بھی استعمال میں آتا ہے۔ راقم بی گریٹ فارمیکا استعمال کرتا ہے ، گزشتہ سال کے اخر میں اور موجودہ سال کے ابتدائے دو ماہ میں فارمیکا 480روپے کا ملتا تھا ، پھر 500کا ہوا ہم نے سوچا سالانہ اضافہ، پھر 550 ہم احتجاج کیا تو کہا کہ ڈالر مہنگا ہوگیا ، اگست کے مہینے میں 600کا کردیا ،ستمبر میں 650روپے کا، بہانہ وہی ڈالر، اب ڈالرکی یک دم پروان سے ریٹ کی آواز پھر آنے لگے ، مان لیا ڈالر پر ہی فارمیکا کے پیپر ز باہر ملک سے خریدے جاتے ہیں، مگر ہر مہینے کے مہینے تو نہیں ایک ساتھ 6-8مہینے کا مال خریدا جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر اشیاء میں بھی ریٹ بے حسی کی ہی وجہ سے بڑتھا ہے۔ ہماری بے حسی تو ہمارے ایمان کی کمزوری ہے، مگر موجودہ وقت میں ڈالر اتنی تیزی سے کیوں پروان چھڑرہاہے اور حکومت قرضہ کیوں لے رہی ہے؟
گزشتہ دنوں نیب نے مزید 50 اہم گرفتاریوں کا ذکر کیا جس کے بعد کئی سارے کارباریوں نے اسٹاک ایکسچینج سے پیسہ نکالنا شروع کر دیے، جس کی وجہ سے بھی ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ جب جنرل(ر) راحیل شریف آرمی چیف تھے تو انہوں نے حکومت کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت معاشی دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی تائید کی مگر اس وقت کی حکومت کی طرف سے یہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے، وہ اس لیے کہ یہ معاشی دہشت گرد کھربوں روپے اسٹاک ایکسچینج سے نکال لیں گے اور ڈالر مہنگے ہونے کی صورت میں عوام یہی سمجھیں گے کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایسا ہوا۔
اگر حکومت اس وقت یہ سخت اقدام اٹھا لیتی تو وقتی طور پر پاکستان کو مشکل وقت دیکھنا پڑتا مگر حکمرانوں نے اس وقت اپنیساکھ بچائی مگر موجودہ وزیراعظم عمران خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ واضح طور پر بتایا تھا کہ اب جو ہم کرنے جارہے ہیں مشکل وقت آئے گا اور اس آزمائش میں ہر پاکستانی کو پورا اترنا ہوگا۔ 50 بڑے کرپٹ ترین لوگوں کو پکڑنے کا عندیہ دیتے ہیں پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھی گئی، جو کہ واضح ثبوت ہے کے بڑے مگرمچھ اپنا پیسہ نکال رہے ہیں اور اس کا نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ جس کا منہ ملتا ثبوت گزشتہ کچھ دنوں سے نامعلوم افراد کی جانب سے مختلف لوگوں کے نام پر بنائی گئی جعلی بینک اکاﺅنٹس میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہے، کبھی اورنگی ٹاﺅن کے فالودے والے کے نام پر اکاونٹ تو کبھی کسی اسکول ٹیچرز کے نام پر، مختلف لوگوں کے نام پر بنائے گئے۔ جعلی اکاﺅنٹس میں تو اربوں روپے پکڑے گئے مگر لگتا یوں ہے کہ کھربوں روپے نکالنے میں یہ معاشی دہشت گرد کامیاب بھی ہوگئے ہیں۔
پاکستان میں آج بھی کرپشن عروج پر ہے ، پاکستان کہ سیاست دانوں نے جس قدر کرپشن کرکے ملک کو نقصان پہنچایا ہے اس کی تاریخ میں کوئی مثل نہیں۔ پاکستانی عوام کا پیسہ جو کرپشن کی نذر ہوا یہ واپس خزانے میں لانے کے لیے وقت درکار ہے کیونکہ عدالتی نظام کے تحت ان لوگوں کو سزائیں ہوگی اور پھر اس کے بعد یہ پیسہ ان سے حاصل کیا جائے گا مگر اس وقت تک جو نقصان پاکستان کا ہو گا اور جو معاشی مسائل ابھر رہے ہیں اسی کو پورا کرنے کے لئے حکومت پاکستان قرضہ لینے جا رہی ہے۔
مجھے بھی موجودہ حکومت سے کئی مسائل پر اختلاف ہے ، مگر اپنی سوچ بچار سے کام لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پچھلے حکمرانوں کے قرضہ لینے اور موجودہ حکمرانوں کے قرضہ لینے میں بہت فرق محسوس ہوتا ہے۔ اگر قرضہ لے کر مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں تو وہ قرضہ ملک اور قوم کو کوئی فائدہ نہیں دیتا ہے جبکہ قرضہ ہر مسئلے کا وقتی حل ہوتا ہے، اگر قرضہ لیا جائے تو کاروبار شروع کرنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے تاکہ وہ کاروبار سے بعد میں پیسہ کما کر قرضہ واپس کرنے کے قابل ہو جائے اور اب ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔ وقتی طور پر پاکستان بہت مشکل حالات دیکھنے والا ہے مگر اس کے بعد امید ہے کہ ان شاءاللہ پاکستان اپنا قرضہ کم کرنے کے قابل ہو جائے گا اور پاکستان کے تمام مسائل بحکم خدا حل ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یااللہ میرے ملک کے تمام مسائل اپنے فضل و کرم سے حل فرما(آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top