اندھیروں کو خود ہی دور کرنا ہوگا(شیخ خالد زاہد)

pakistanایسا کیوں ہے کہ ہر بات کو ہر مسئلے کو سیاسی رنگ دیا جائے اور اس بات کو سمجھنے سے سوا ہوکر اس بات سے مختلف تنازعات کو جنم دیا جائے۔ پھر اس پر لکھنے والے اپنا ذہن اوراپنی لکھنے کی توانائی خرچ کرتے چلے جائیں۔ یہاں تک کہ مسئلہ گھمبیر ہوکر رہ جائے اور پھر اس کی جزیات میں جانے کی کوئی کوشش بھی نہ کرے۔ پتا نہیں کیوں ہم چھوٹی چھوٹی باتیں ہوں یا بیماریاں دھیان ہی نہیں دیتے پھر جب یہ باتیں یہ بیماریاں کینسر بن جاتی ہیں تو سینہ کوبی کرتے بھاگتے پھرتے ہیں۔ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ان بنیادی اہم ضروریات پر جن کی بدولت ہم اور ہمارے معاشرتی مزاج متزلزل ہوتے چلے جا رہے ہیں کس طرح سے دھیان دیں اور کیا سد باب کریں۔
آج اس بات پر تو خوب شور مچایا جارہا ہے، یہاں تک کہ اہم ترین خبر بن کر نشر ہورہی ہے کہ معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، ڈالر آسمان کو چھونے کے لیے چھلانگے مار رہا ہے۔ روپے کی قدر گرتی ہی چلی جا رہی ہے، حصص کی لین دین کا مرکز (اسٹاک ایکسچینج) میں مندی کا رجحان جیسے کوئی دل کا مریض مصنوعی تنفس (وینٹیلٹر) کے آلے پر منتقل ہونے جا رہا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسائل بہت بڑے ہوچکے ہیں لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کہ کیا سد باب کیے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو کسی بھی قسم کے مسئلے کے رونما ہوتے ہی اسے حل کرنے کی عادت ڈالنے کی ضرورت ہے۔ چاہے اس کے لیے ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں ہی کیوں نا ایک اضافی باب بڑھانا پڑے۔

پانی کی طرح قدرت کی جانب سے فراہم کردہ کسی بھی نعمت کا بے رحم طریقے سے استعمال جسے نعمت کی ناقدری سمجھا جانا چاہیے، قدرت کی فراہم کردہ نعمتوں پر انسان کو شکر گزار ہونا چاہئے اور ان نعمتوں کی قدر کرنی چاہئے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہورہا نہ ہی شکر گزاری ہے اور نہ ہی نعمتوں کی قدر کی جارہی ہے۔ آخر قدرت اپنی چیزوں کی ناقدری کہاں تک برداشت کرسکتی ہے، اس لیے نعمتیں کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ ایسی نعمت کا قدرت کی طرف سے سلسلہ بند کردیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر پانی کا مسئلہ بھی کچھ ایسا ہی ہے انتہائی ناقدری کی جاتی رہی ہے اور حالات کے ڈرانے کے باوجود کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ہم نے دیگر مسائل کی طرح پانی کے مسئلے کو بھی چل چلاو¿ والے مزاج کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر حکام بالا پانی کے حوالے سے کوئی قابل تعریف اقدامات کرتے بھی ہیں تو ہم پانی کے اسراف سے باز نہیں آتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے ہر مسئلے کوچل چلاو¿ مزاج کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ بے یقینی نے ایسا جکڑا ہے کہ اب

یہ چل چلاو ہمارے معاشرے کا اہم ترین جز بن چکا ہے۔ کام کی نوعیت ذاتی ہو یا پھر کاروباری اس چل چلاو¿ کو بہترین سہارا سمجھا جاتا ہے۔  ہم اپنے لوگوں سے محبت و عقید ت نہیں رکھتے ہمیں درآمد شدہ چیزوں سے محبت اور عقیدت دونوں ہی ہیں۔ ہمیں اپنوں سے محبت ان کے جانے کے بعد ہوتی ہے۔ یا تو وہ اس جہان فانی سے رخصت ہوجائیں یا پھر وہ پاکستان چھوڑ کر دنیا کے کسی اور کونے میں گوشہ نشینی اختیار کرلیں۔ ہم بہت یاد کرتے ہیں۔ ابھی اخبار میں ایک خبرپر نظر پڑی کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز معیشت جانتے تھے، مطلب آپ کی سمجھ آگیا ہوگا۔ یعنی جب وہ بر سرِاقتدار رہے تو سوائے ان کی مخالفت کے اور دوسراکوئی کام نہیں کیا گیا۔

بہت سارے ایسے چھوٹے چھوٹے مسائل ہمارے آس پاس جنم لے رہے ہوتے ہیں جنہیں ہم نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں جنہیں فوری طور پر حل کر لیا جائے تو یہ مسائل وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے سامنے اژدھا بن کر نمودار نہ ہوں اور پھر ہمیں منہ چھپانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنا نہ پڑے۔ جس چیز کی کوشش سب سے زیادہ کی جانی چاہیے وہ یہ کہ ہمارے روئیے اپنے مسائل کے حل کے لیے مخلص ہوجائیں، ہمیں سمجھ آجانی چاہئے کہ کون ہمارے مسائل حل کرنے کے لیے سیاست کررہا ہے یا پھر کون مسائل پر سیاست کر رہا ہے۔ ہم ان لوگوں کا ساتھ دیں جو ہمارے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔

کیا یہ وقت اور حالات کا تقاضہ نہیں ہے کہ اہل محلہ و علاقہ مل کر چھوٹے چھوٹے کام باہمی تعاون سے کرلیں، محلے میں صاحبِ حیثیت لوگ جو کچھ تھوڑا بہت خرچہ کر کہ دیرینہ مسئلے سے جان چھوڑانے میں مدد کرسکتے ہیں آگے بڑھیں اور ان مسائل سے نہ صرف نجات حاصل کریں بلکہ اہل محلہ کو بھی بچائیں، آخر کب تک حکومتوں اور اداروں پر بیٹھ کر نکتہ چینی کرتے رہیں گے اور انہی کی راہ دیکھتے رہیں گے۔ کچھ وقت کے لیے پاکستان کے ہر فرد کوکسی نا کسی طرح اپنا عملی کردار اور مالی حصہ ملک کی ترقی میں ڈالنا ہوگا۔ کچھ وقت کے لیے بے جا تنقید بند کرنا پڑے گی۔ معاشرے کو تہذیب یافتہ بنانے میں، میں اور آپ آگے بڑھیں گے تو ہماری آنے والی نسلیں ترقی یافتہ ہونے کا احساس کر سکیں گی۔ کوئی بھی مسئلہ کسی فردِ واحد کا نہیں ہے یہ مسئلہ صرف عمران خان یا آصف علی زرداری یا اعلی عدلیہ یا نواز شریف کا نہیں ہے۔ یہ مسئلہ پاکستانی قوم کا ہے قوم ایک ہوگی تو مسائل سے بھرپور طریقے سے نبرد آزما ہوسکیں گے۔

مسجدِ نبوی کی تعمیر میں ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے اینٹیں اٹھا اٹھا کر لگائی تھیں اور یہ مثال قائم کی کہ جہاں تک ممکن ہونا صرف اپنا کام اپنے ہاتھ سے کیا جائے بلکہ اجتماعی کاموں میں بھی اپنا حصہ بھرپور طریقے سے ڈالا جائے، کیونکہ فرد ہی معاشرے کی اکائی ہے۔ ہم نے مسجدوں کو صرف عبادت گاہ کی حد تک محدود کردیا ہے جب کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں بیٹھ کر ہمارے نبی ﷺ نے دین و دنیا کے مسائل حل کیے بلکہ ریاست مدینہ کہ امور بھی چلائے، ایک ہم ہیں کہ جلد سے جلد نماز ختم کر کے اپنے دنیاوی کام کی طرف بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔ آج کل تو ایک ہی محلے میں رہنے والے ایک دوسرے کو جانتے نہیں ہیں، مساجد میں بھی ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے کسی دوسرے شہر سے بطور مہمان علاقے میں آئے ہوئے ہوں۔
علاقے کے مکینوں کو چاہیے کہ وہ مختلف امور کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیں جیسے صفائی ستھرائی کے حوالے سے، پانی کی تقسیم کے حوالے سے، سڑک، پارک اور لائبریریوں کے حوالے سے، یہ کمیٹیاں اپنے مخصوص کام کو تندہی سے سرانجام دیں کوئی شک نہیں آہستہ آہستہ ہر علاقہ جنت نظیر بن جائے گا۔ صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ سب اپنی اپنی معاشرتی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے نبھائیں۔ ہمیں اس غیر یقینی کی کیفیت سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہم نے اگر خود سے ہاتھ پیر نہیں مارے تو اس غیر یقینی کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے اور تاریخ کی تاریکی میں ہمیشہ کی طرح گم ہوجائیں گے جیسے کہ ہم سے پہلے بھی انگنت انسان ہوچکے ہیں۔ روشنی ہمارا انتظار کر رہی ہے ہمیں اندھیروں سے خود ہی نکلنا ہوگا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top