Tuesday, October 27, 2020
Home Uncategorized نیوزی لینڈ،پاکستانی کرکٹ ٹیم کےلیے نیاچیلنج (عبیدالرحمن اعوان)

نیوزی لینڈ،پاکستانی کرکٹ ٹیم کےلیے نیاچیلنج (عبیدالرحمن اعوان)

Pakistan-vs-Australia-3rd-T20-Highlights-10-Sep-2012-asportsnewsپاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ریکارڈ ز کے انبار لگاتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔جہاں نوجوان کھلاڑیوں کی بیٹنگ اور بولنگ میں کارکردگی بے پناہ تعریف کے قابل ہے وہیں عمر رسیدہ مصباح الحق اور یونس خان نے بھی سنچریوں پہ سنچریاں بناکر ناقدین کی توپوں کو خاموش کرادیا۔
ٓآسٹریلیا کے خلاف سیریز ماضی کا قصہ ہوگئی۔ ریکارڈ زبھی ریکارڈ بک کی زینت بن گئے ۔ بولرز اوربلے بازوںنے اچھی کارکردگی پر جی بھرکے داد بھی سمیٹ لی۔ اب باری ہے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کی۔ کرکٹ کا کھیل کبھی بھی ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں جیتا جا سکتا۔ ہر دن ایک نئے سرے سے آغاز کرنا ہوتا ہے۔ اگر پاکستانی ٹیم یہ سوچ کر خواب غفلت میں پڑی رہی کہ جس طرح آسٹریلیا کو مار مار کر کینگروز سے بکری بنادیا اسی طرح کیویز کے پر بھی کتر دیں گے تو یہ ان کی سب سے بڑی بھول ہوگی۔
مانا کہ آسٹریلیا کے خلاف پاکستان نے تمام شعبوں میں بہترین کھیل پیش کیا لیکن اب جو ٹیم سامنے ہے اس نے ہمارے کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا ہے۔ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر کتنے ہی اچھے بولرز سہی لیکن اب وہ دنیا کے سامنے آچکے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ہمارے بولرز پر کام کرنے کا اچھا خاصا وقت مل چکا ہے۔ لہٰذا کپتان مصباح الحق اور تمام کوچز کو مخالف ٹیم کی تمام کمزوریوں اورخامیوں کے ساتھ ساتھ اس کے مضبوط پہلوو¿ں کو بھی سامنے رکھ کر میدان میں جانا ہوگا ۔
مصباح الحق بے شک آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بطور بیٹسمین اور بطور کپتان کامیاب رہے لیکن اب ایک نیا چیلنج درپیش ہے۔ ذرا سنبھل کر چلنا ہوگا۔ بے انتہا تنقید کے باوجود خاموشی سے مصباح الحق نے اپنا کام جاری رکھا وہ رنز بھی بناتا رہا اور ٹیم کو جتواتا بھی رہا لیکن اس کے باوجود ایک مخصوص طبقہ جس میں کچھ سابق کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ اپنے مذموم ایجنڈے کے تحت اسے تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور یہ مہم اس وقت مزید زور پکڑ گئی جب دورہ سری لنکا کے دوران نہ صرف یہ کہ ان کے بلے نے رنز نہ اگلے بلکہ بطور کپتان بھی وہ ناکامیوں سے دوچار ہوئے۔ پہلے سری لنکا نے ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کی اور پھر ون ڈے سیریز بھی جیت لی ۔
اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں بس کیا تھا ۔مخالفین نے اپنی توپوں کے رخ مصباح الحق کی جانب کردیئے اور جب آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں بھی مصباح الحق کا بلا رنز کو ترستا رہا تو سیریز کے تیسرے ون ڈے میں انہوں نے سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے خود کو ڈراپ کردیا ۔ لیکن یہاں بھی چاہنے والوں نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھا اور یہ کہا کہ خراب کارکردگی کے بعد مصباح الحق کو تیسرے ون ڈے سے ڈراپ کردیا گیا ہے اور وہ ون ڈے ٹیم کی قیادت چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔
اسی پر بس نہیں! ایک میچ کے لیے بنائے کپتان شاہد خان آفریدی نے تو یہ بیان بھی داغ دیا کہ بورڈ بتائے کہ ورلڈ کپ میں کس کو کپتانی کرنی ہے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ بورڈ نے مصباح الحق کو ورلڈ کپ دوہزار پندرہ تک کپتان بنا رکھا ہے ۔ اس لیے کوئی اور امیدوار خوش فہمی میں نہ رہے۔
Fawad-Alam-of-Pakistan-bats-during-the-first-match-of-the-one-day-international-series-between-Australia-and-Pakistanمصباح الحق نے تو ٹیسٹ سیریز میں کامیاب واپسی کی دبئی ٹیسٹ میں نصف سنچری بنائی جبکہ ابوظبی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بناکر نہ صرف یہ اعزاز حاصل کرنے والے آٹھویں پاکستانی بن گئے بلکہ اکیس گیندوں پر نصف سنچری کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کیا اور پھر اسی اننگ میں چھپپن گیندوں پر سنچری بناکر ویسٹ انڈیز کے ویوین رچرڈ کے ساتھ تیز ترین سنچری کے عالمی ریکارڈ میں بھی حصہ دار بن گئے جو ان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔
آسٹریلیا کو تین سو چھپن رنز سے ہراکر پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی کامیابی حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ بھی بنایا اس سے پہلے بھارت کو دوہزار چھ کے کراچی ٹیسٹ میں تین سو اکتالیس رنز سے ہرانا پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ تھا ۔ مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے دوصفر کی کلین سوئیپ کامیابی حاصل کرکے دوسرا وائٹ واش مکمل کیا اس سے پہلے متحدہ عرب امارات میں ہی پاکستان نے اس وقت کی عالمی نمبر ایک انگلینڈ کی ٹیم کو دوہزار بارہ میں تین صفر کی ہزیمت سے خاک چاٹنے پر مجبور کیا تھا جبکہ پاکستان نے بیس سال بعد آسٹریلیا کے خلاف وائٹ واش مکمل کیا۔
مصباح الحق پاکستان کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتانوں جاوید میانداد اور عمران خان کی برابری میں آکھڑے ہوئے ہیں دونوں نے بالترتیب چونتیس اور اڑتالیس میچوں میں چودہ ، چودہ کامیابیاں حاصل کررکھی ہیں ۔ مصباح الحق پر عام طورپر دفاعی کپتان ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا لیکن اعداوشمار کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں اگر عمران خان اڑتالیس میچوں میں سے چودہ جیتتے ہیں اور جاوید میانداد چونتیس میچوں میں سے چودہ میچوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو پھر مصباح الحق کو سلام کرنا چاہیے جسے جاوید میانداد، وقاریونس،وسیم اکرم، عمران خان، عاقب جاوید، ثقلین مشتاق، مشتاق احمد، اعجاز احمد، سلیم ملک اور کئی اسٹار کھلاڑیوں کا ساتھ حاصل نہیں رہا ۔
مصباح الحق نے پاکستان ٹیم کی باگ ڈور اس وقت سنبھالی جب دوہزار دس میں اسپاٹ فکسنگ کیس میں پاکستان کے تین کھلاڑی پھنسے ہوئے تھے اور بعد میں انہیں سزا ہوئی۔ مصباح الحق کے دور کی ٹیم کو اٹھاکردیکھیں تو کوئی اسٹار کھلاڑی نظر نہیں آتا لیکن اس کے باوجود اکتیس میچوں میں سے چودہ میں کامیابی اس بات کا واضح اعلان کررہی ہے کہ میانوالی کا نیازی دفاعی اندازاختیار کرنے والا کپتان نہیں ۔
ابوظبی ٹیسٹ میں اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ صرف ٹک ٹک کرنے کی نیت سے میدان میں نہیں جاتا بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری اور تیز ترین سنچری بنانا بھی جانتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اکثراوقات اسے اس وقت میدان میں آنا پڑتا ہے جب سو کے ہندسے تک پہنچنے سے پہلے ہی آدھی ٹیم پویلین میں واپس پہنچ چکی ہوتی ہے تو ایسے میں سر جھکا کرکھیلنے کے علاوہ کپتان کے پاس کوئی چارہ نہیں بچتا۔ ورلڈ کپ سے پہلے نیوزی لینڈ آخری ٹیم ہے جس کا سامنا گرین شرٹس کو کرنا ہے اس سیریزمیں اگر نوجوان اور سینئر کھلاڑیوں نے گذشتہ سیریز کی کارکردگی کے سلسلے کو جاری رکھا تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کو ایک بار پھرورلڈ کپ کی فیورٹ اور خطرناک ترین ٹیموں میں شمار نہ کیا جائے۔

ubaidawanmedia@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

پشاور دھماکے کی شدید مزمت و قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہیں، حلیم عادل شیخ

پشاور دھماکے پر پی ٹی آئی مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کی مزمت و قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس, ان...

سی ایس ایس امتحان، کراچی کے شہریوں کے لیے بڑی خوش خبری

کراچی: ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار علی شالوانی نے فریئر ہال میں سی ایس ایس کارنر کا افتتاح کر دیا، ان کا کہنا تھا...

کراچی چڑیا گھر اور برگد کا درخت

برگد کا درخت متعدد خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ...

کراچی کی تاریخی لی مارکیٹ

لی مارکیٹ اہل کراچی کے لیے جانا پہچانا نام ہے۔یہ شہر کی قدیم آبادی لیاری کے قریب واقع ہے۔انگریز دور میں...