وہ سوال بہت پوچھتا تھا (محمد عدنان نواز)

pakistan ka ghareebماں جی، وہ میرا دوست علی بتاتا ہے کہ ان کے گھر اک دن میں 3 دفعہ کھانا بنتا ہے، ماں جی ہمارے گھر ایک دفعہ کیوں بنتا ہے؟ وہ جس اسکول میں جاتا ہے اس میں بہت اچھی پڑھائی ہوتی ہے، اس کے اسکول سے جو پڑھتا ہے وہ بڑا افسر بنتا ہے، ماں جی علی کہتا ہے کہ وہ میری طرح بیمار نہیں ہوتا۔

طفلِ مکتب کے اس دل دہلا دینے والے ادھورے استفسار نے کمزور ممتا کی زبان سے الفاظ گم کردئیے تھے۔ ماں کی آنکھیں نم اور زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ موت و حیات کی جنگ اسے آج اس موڑ پر لے آئی تھی کہ کمسن بچہ بھی خاموش نہیں رہ سکا تھا۔ مصنوعی مسکراہٹ خشک لبوں پر لاتے ہوئے ماں نے جواب دیا، بیٹا ایسے سوالات نہیں کیا کرتے، خدا ناراض ہوتا ہے، تمہیں پتہ ہے بیٹا ہم اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت ہیں، دنیا کی ساتویں بڑی طاقت، ہمارا ملک سونے، چاندی، تانبے، لوہے اور بیش بہا قیمتی ذخائر سے بھرا پڑا ہے، وہ اپنے جواب سے خود بھی مطمعن نہ تھی، تذبذب کا شکار ماں بار بار بہ سمت عرش نگاہ بلند کرتی تھی مگر الفاظ کہاں تھے کہ فریاد کرتی۔

اس درد کی محفل میں اچانک خلل پڑا اور والد نے دستک دی، ان کے ہاتھ میں اک لفافہ دیکھ کر بیٹا فرط مسرت میں بھاگتا ہوا باپ کے جسم سے لپٹ گیا۔ ابو میرے لئے کیا لائے ہیں؟ باپ کے پُرنور چہرے پر نااُمیدی اور یاس کے آثار عمیق ہونے لگے۔ کہا بیٹا یہ دیکھو، میں تمھارے لئے یہ خوبصورت اسٹیکر اور اشتہار لایا ہوں، یہ تم اپنی کاپی اور کتابوں پر لگانا۔ یہ دیکھو یہ ہمارے جنرل کونسلر بننے والے ہیں، تمہیں پتہ ہے بیٹا یہ بہت اچھے ہیں، یہ ہماری باہر والی گلی پکی کروائیں گے، بجلی لگوائیں گے اور ہمارے بڑے بڑے کام کریں گے۔

بیٹے کے خفگی والے چہرے کو دیکھ کر آخر باپ کو پُرانے دلاسے روکنے پڑے اور وہ خاموش ہوگیا، بیوی نے افسردہ لہجے میں پوچھا کہ آج مزدوری کیوں نہیں لے کر آئے؟ یہ چولہا کیسے جلے گا آج؟ اُس کے پاس جواب کیا ہونا تھا سوائے اس کے کہ وہ آج پارٹی کے جلسے میں گیا تھا۔ بڑے صاحب نے کہا تھا کہ آج مزدوری پر نہیں جانا، بس کسی طرح بچے کو بہلا کر سُلا دو، کچھ ہی دن کی بات ہے ہماری تقدیر بدلنے والی ہے۔

ماں نے کیا سلانا تھا، آنسووں کی رِم جھِم میں وہ اپنی انگشت نحیف اس معصوم کے بالوں پھیرتی جا رہی تھی اور اس گھڑی کو اپنے گھر سے رخصت ہوتا دیکھ رہی تھی، وہ گھڑی جو یاس کی شام کے ہمراہ آج بھی کسی غریب کی بیٹی کی طرح جا رہی تھی۔

1101416919-1آج شاید سب کچھ بدل چکا تھا، بچہ خلافِ معمول اسکول سے بہت خوشی خوشی واپس آیا۔ مگر اس نمونیے کے مریض بچے کے لبوں پر آج پھر اک تمنا سوال بن کے آرہی تھی۔ اس سے پہلے کہ ماں کی ممتا اسے اپنی آغوش میں لیتی اس نے جھٹ سے سوال کردیا۔ امی میرے ابو کب مریں گے؟ آج کا سوال اس ممتا کے لئے اک زلزلے سے کم نہ تھا، بیٹا یہ کیا کہا تم نے؟ تمھیں اپنے بابا سے پیار نہیں؟ یہ آج کیا کہہ رہے ہو؟ امی مجھے میرے دوست نے بتایا ہے کہ ہمارے شہر میں اک اسکول ہے جو وزیراعلیٰ صاحب نے بنوایا ہے، وہ بہت بہترین اسکول ہے لیکن اس میں صرف وہی بچے پڑھ سکتے ہیں جن کے ماں باپ زندہ نہ ہوں۔

باپ کی واپسی سے قبل ہی بیٹا اپنی بیماری سے ہار کر جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا تھا۔ نمونیہ سے مرنے والے 91 ہزار معصوموں میں سے اک یہ بھی تھا۔ باپ کے ہاتھ میں آج بھی اسٹیکر تھے، وہ خاموش بھی تھا اور بول بھی رہا تھا، مگر کیا بول رہا تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا، وہ بڑے صاحب کے پاس کفن دفن کا خرچ مانگنے گیا تو صاحب نے موت کی وجہ پوچھی، بڑے مودب انداز میں سر جھکا کے بولا جی صاحب، بس وہ سوال بہت پوچھتا تھا۔

کوئی نمونیے سے مرے یا اسہال سے، کینسر سے ہلاک ہو یا شوگرسے، ہمیں ان مریضوں کے اسپتال بنانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہمارے میٹرو اور اورنج ٹرین منصوبے ہمیں عالمی معیار کا سفر فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

بشکریہ ایکسپریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top