Tuesday, October 27, 2020
Home کالم /فیچر پاکستان کا غریب کہا ں جائے؟ (محمد شاہد محمود)

پاکستان کا غریب کہا ں جائے؟ (محمد شاہد محمود)

pooorپاکستان کے قیام کے 68برس بیت گئے لیکن اس ملک میں غریب کی حالت نہیں بدلی، حکمران آتے ہیں، الیکشن کے دنوں میں سہانے خواب دکھاتے ہیں اور جیتنے کے بعد ہمشیہ کے لئے ہی عوام کو بھول جاتے ہیں، پاکستان میں ایک غریب مزدور کی تنخواہ دس ہزار روپے ہے جو وقت پر ملتی ہی نہیں اس کے مقابلے میں وزیراعظم نے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافے کا نوٹفکیشن جاری کر دیا شاید پاکستان کے سب سے غریب منتخب عوامی نمائندے ہیں۔ دنیا چاند پرپہنچ چکی ہے اور پاکستان کے بچے آج بھی گندگی کے ڈھیروں میں رزق تلاش کر رہے ہیں۔ ڈگریاں کاغذ کے بے جان ٹکڑے بن گئے ہیں بڑے عہدے اور اعلیٰ مناصب پر خاص طبقہ قابض ہے اس نظام میں غریبوں کیلئے رونے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بوسیدہ عدالتی نظام کے باعث یہاں انصاف بکتا ہے یہ نظام صرف سرمایہ داروں کے لیے ہے۔ بینکوں نے آج تک کسی غریب کو قرضہ نہیں دیاغریب بدحال ہے۔ اس نظام نے آج تک غریب عوام کو ایک زبان بھی نہیں دی۔ ملک کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بدامنی لاقانونیت، دہشت گردی، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے عوام کو اب اس مٹھی بھر اشرافیہ کاکڑا احتساب کرنا ہوگا۔ اب پارٹیاں بدلنے والے سیاسی پنڈتوں کا دور گزر گیا۔ عوام اب ان کی آنے والی نسلوں کو بھی پہچان چکے ہیں اب عوام کو دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔ ملک میں 68سال سے غریبوں کے ساتھ شودروں جیسا سلوک ہو رہا ہے ¾ سیاسی پارٹیاں برہمنوں کے ٹولے بن چکی ہیں ۔ ان کے اندر جمہوریت نہیں بلکہ آمریت ہے۔ ملک پر چند مغل شہزادوں کا راج ہے جن کے رشتہ دار سیاسی پارٹیاں چلا رہے ہیں۔ ظالمانہ واستحصالی نظام کی وجہ سے لوگ اپنے جگر گوشوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیںجب تک ملک میں اسلام سیاسی طور پر نافذ اور شریعت کا نظام نافذ نہیں ہوتا اس وقت تک ملک وقوم مسائل کے دلدل سے نہیں نکل سکتے۔

pooooorقیام پاکستان کے 68 سال کے بعد ایک دن بھی اسلامی قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا بچہ بچہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض ہے۔ ملک میں استحصالی نظام کی وجہ سے عوام کے اندر حکمرانوں کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ طبقاتی نظام تعلیم سے امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے۔ امیروں کے بیٹے حکمران بنتے ہیں اور غریبوں کے بچے زندگی کی ایک ایک سہولت کو ترستے رہتے ہیں۔ موجودہ طبقاتی اور استحصالی نظام نے تانگے، ریڑھی، چھابڑی اور رکشہ والوں کے لیے زندگی کو ایک بھیانک خواب بنادیا ہے۔ معصوم بچے محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ غریب سارا دن محنت مشقت کرنے کے بعد بھی مسائل سے دوچار رہتے ہیں۔ اقتدار پر قابض چند سیاسی خاندانوں نے انتہائی مکاری اور عیاری سے عوام کو تقسیم کیا ہے۔ عوام ان کے لیے نعرے لگاتے ہیں ووٹ دیتے ہیں اور انہیں کندھوں پر بٹھاتے ہیں مگر یہ ظالم اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر ایک دوسرے کے مفادات کے محافظ بن جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ دیتے ہیں لیکن عوام کی بدحالی دور کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرتے۔ عالمی اقتصادی فورم کی طرف سے افرادی قوت انڈیکس سے متعلق جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے دنیا کے 124 ملکوں میں سے 113 نمبر پر ہے جس کی ایک بڑی وجہ تعلیم کے شعبے میں اس کی خراب کارکردگی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ اس لحاظ سے حکومتی عدم توجہی کا شکار رہا ہے کہ اس کے لیے سالانہ قومی بجٹ کا صرف دو فیصد ہی مختص کیا جاتا ہے جب کہ ماہرین مجموعی قومی پیداوار کا چار فیصد صرف کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں سکول جانے کی عمر کے تقریباً اڑھائی کروڑ بچے بھی سکول نہیں جاتے جس کی وجہ غربت اور سکولوں تک بہت سے لوگوں کی رسائی نہ ہونا بتائی جاتی ہے۔

poorعالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ میں بھارت 124 ملکوں میں سے سویں نمبر پر ہے جب کہ ایشیا میں صرف جاپان کی صورتحال قابل ذکر ہے جس کا نمبر پانچواں ہے۔ پلڈاٹ نے وفاقی حکومت کے پہلے سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق حکومت غربت، بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ آسمانی آفات سے نمٹنے، خارجہ پالیسی کی بہتری، بھرتیوں اور ترقیوں کے حوالے سے میرٹ پالیسی پر بھی صرف 60 فیصد اہداف حاصل ہو سکے۔ سکور کارڈ آن فیڈرل گورنمنٹ کوالٹی گورننس کے سے نام جاری رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے سال کے دوران سب سے خراب کارکردگی غربت کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے ریکارڈ کی گئی۔ اس شعبے میں اہداف کے حصول کی شرح صرف 22 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں بھی ناکام رہی یہاں صرف 37 فیصد اہداف حاصل کئے جا سکے۔ بیروزگاری، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور ریگولیٹری ادارے اپنے فرائض کی ادائیگی میں صرف 38 فیصد کامیابی حاصل کر سکے۔ نظام کی شفافیت کے حوالے سے بھی حکومت کو بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور سکور صرف 27 رہا۔ صحت کی نگہداشت، ماحولیاتی استحکام اور نادہنگان سے یوٹیلیٹی بلوں کی وصولی میں بھی کامیابی کا تناسب صرف 32 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ ٹیکس وصولیوں کی کوششوں میں بھی 45 فیصد کامیابی مل سکی۔ آبادی کنٹرول کرنے میں حکومت صرف 33 فیصد اہداف حاصل کر سکی۔ پلڈاٹ کے مطابق خارجہ پالیسی کی مینجمنٹ میں نواز شریف حکومت 60 فیصد درست سمت میں چلتی رہی جب کہ آسمانی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور انتظامات میں 62 فیصد نمبر حاصل کئے۔ سرکاری محکموں میں میرٹ پر بھرتیوں اور تبادلوں میں بھی حکومت کو 61 فیصد کامیابی ملی۔ تعلیم اور آبی وسائل کی ترقی اور انتظامی معاملات میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کارکردگی کا 100 میں سے 42 بتایا گیا ہے۔ ملک میں غربت، جہالت، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے ذمہ دار وہ حکمران ہیں جنہوں نے تمام وسائل پر قبضہ کررکھاہے۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی تمام پالیسیاں اشرافیہ اور امیروں کو فائدہ پہنچانے تک محدود ہوتی ہیں ۔ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضوں کا عوام کوکو ئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ یہ قرضے حکمرانوں کے پیٹ میں جاتے ہیں اور مقروض عام پاکستانی ہوتاہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل اس گلے سڑے نظام کیخلاف بغاوت کا اعلان کریں۔ یہاں قانون صرف غریب آدمی کیلئے ہے۔ تعلیم سے لے کر سیاستدانوں تک دہرے قانون ہیں، غریبوں کیلئے ایک تو امیروں کیلئے الگ قانون ہے، جب تک امیر اور غریب کی تفریق ختم اور قانون سب کیلئے برابر نہیں ہوتا ملک ترقی اور عوام کی قسمت تبدیل نہیں ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

پشاور دھماکے کی شدید مزمت و قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہیں، حلیم عادل شیخ

پشاور دھماکے پر پی ٹی آئی مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کی مزمت و قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس, ان...

سی ایس ایس امتحان، کراچی کے شہریوں کے لیے بڑی خوش خبری

کراچی: ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار علی شالوانی نے فریئر ہال میں سی ایس ایس کارنر کا افتتاح کر دیا، ان کا کہنا تھا...

کراچی چڑیا گھر اور برگد کا درخت

برگد کا درخت متعدد خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ...

کراچی کی تاریخی لی مارکیٹ

لی مارکیٹ اہل کراچی کے لیے جانا پہچانا نام ہے۔یہ شہر کی قدیم آبادی لیاری کے قریب واقع ہے۔انگریز دور میں...