والدین بھی توجہ کے طلبگار (مہوش کنول)

Untitled-dddکوئی ہم سے پوچھے کہ زندگی کا کون سا وقت سب سے اچھا تھا تو زبان پر لفظ آنے سے پہلے ذہن میں ایک حسین دور کی یادیں تازہ ہو جائیں گی۔ صبح صبح امی کی محبت بھری یا کبھی دیر سے اٹھنے پر غصے والی آواز میں اٹھانا، دل و جان سے اسکول کی تیاری اور اسکول پہنچنے پر اسمبلی میں خوب زور و شور سے قومی ترانہ پڑھنا۔ کلاس میں جاتے ہی ہم جماعتوں کے ساتھ باتوں میں مشغول ہو جانا اور استاد کے کلاس میں قدم رکھتے ہی آنکھوں آنکھوں میں باقی باتیں بعد میں کرنے کا سگنل دینا۔ بریک ہوتے ہی دوستوں کے ساتھ اسکول کے میدان میں کھیلنا اور خوب بھاگ دوڑ کرنا، اسکول سے واپسی پر ایک جوتا پیر میں اور دوسرا ہاتھ میں لیے امی کو کھانا لانے کا کہنا، امی کا مصنوعی غصے میں ڈانٹنا اور پھر اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا۔ مدرسہ اور ٹیوشن سے فراغت کے بعد پھر شام میں بہن بھائیوں اور گلی کے دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکل جانا، ابو کی واپسی پر ان سے فرمائشیں کرنا۔ بڑے بزرگوں سے روز رات کو کہانیاں سننا، چھٹیوں میں نانی کے گھر جانا، کزنز سے روٹھنا، منانا اور ڈھیر ساری شرارتیں کرنا۔ پلک جھپکتے ہی بچپن کا وہ وقت یاد آجاتا ہے اور ہونٹوں سے ادا ہونے والا جملہ یہ ہوتا ہے کہ بچپن کا وقت سب سے اچھا تھا۔
وہ بچپن ہی تھا جب ماں باپ کے ساتھ بہترین وقت گزرتا تھا، کبھی کاندھے سے لٹک کر اپنی باتیں منواتے اور کبھی گود میں سر رکھ کر سو جاتے۔ بڑے ہونے کے بعد تو والدین کو گلے لگائے اتنا وقت گزر جاتا ہے کہ پاس ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ بچپن میں جن والدین سے خوب دل کھول کر فرمائشیں کیا کرتے تھے اب ان سے صرف ضروری بات کرنے کے لیے ہی وقت نکالا جاتا ہے۔ دوستوں کے ساتھ کھیلنا کودنا بہت ضروری ہوا کرتا تھا اور اب بنا بات کیے ایک لمبا عرصہ گزر جاتا ہے اور ہماری مصروفیات ہیں کہ کم ہونے میں نہیں آتیں۔
بچپن میں سگے اور دور کے رشتے دار تو کیا بلکہ گلی محلے کی شادیوں تک میں امی کے ساتھ زبردستی لٹک کر چلے جایا کرتے تھے لیکن اب امی پوچھتی ہیں تب بھی انکار کر دیتے ہیں۔ بازار جانے کے لیے امی سے بہت دن پہلے ہی وعدہ لے لیا کرتے تھے کہ جب بھی بازار جائیں گی ہمیں ساتھ لے کر جائیں گی کیونکہ ہمیں اپنی پسند کے کھلونے لینے ہیں۔ لیکن اب امی ضروری کام سے بھی ساتھ لے جانا چاہیں تو کوئی نہ کوئی مصروفیت کا بہانہ کرکے منع کر دیا جاتا ہے۔بچپن میں جب کوئی نئی چیز خریدتے یا کوئی تحفہ ملا کرتا تو جب تک سب کزنز اور دوستوں کو دکھا نہ دیتے سکون نہ ملتا تھا لیکن اب کوئی نیا سوٹ بھی لائیں تو اس ڈر سے کسی دوست کو نہیں دکھاتے کہ کہیں ایسا ہی سوٹ خرید کر ہم سے پہلے کوئی نہ پہن لے۔
جن بڑے بزرگوں کی کہانیاں سن کر بڑے ہو ئے اب انھیں دینے کے لیے ہی ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا اور نانا، نانی، دادا، دادی ہم سے ملنے کی آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ کبھی دل چاہتا بھی ہے کہ والدین سے پہلے کی طرح لاڈ اٹھوائیں تو ایک شرم اوجھجھک روک لیتی ہے کہ وہ کیا سوچیں گے کہ ویسے تو ہمارے پاس بیٹھنے تک کا وقت نہیں ہوتااور اب خود کا دل کیا تو لاڈ اٹھوانے آگئے لیکن ایسا صرف اولاد سوچتی ہے ، ماں باپ کبھی نہیں۔ کیونکہ بڑے تو ہم ہو گئے، بدل تو ہم گئے، جب کہ وہ تو ابھی تک ویسے کے ویسے ہیں جیسے پہلے تھے۔ اب بھی ہماری کامیابی میں ہم سے زیادہ خوش والدین ہوتے ہیں ، ہماری بیماری میں وہ پہلے ہی کی طرح پریشان ہوتے ہیں، سرہانے بیٹھ کر آیتوں کا ورد کر کر کے ہم پر دم کرتے ہیں جیسے بچپن میں کیا کرتے تھے۔
ان میں ایسا کیا ہے جو بدل گیا؟ بلکہ بدل تو ہم گئے۔ کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم بڑے ہو گئے۔ لیکن والدین کے لیے تو ہم وہی ہیں جو پیدائش کے پہلے دن سے تھے۔ انھیں تو اب بھی ہمارے اندر اپنا بچپن دکھائی دیتا ہے۔ ہاں ہمیں شاید اب ان سے پہلے جتنی انسیت نہیں رہی۔ کیونکہ اب ہماری زندگی ان سے شروع ہو کر ان پر ختم نہیں ہوتی۔ اب ہمارے رشتوں کا دائرہ کار بڑھ چکا ہے۔ جو وقت والدین کا تھا وہ دوسرے رشتوں میں بٹ چکا ہے۔آج بھی ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی کامیابی کی خبر سب سے پہلے والدین کو دیتے ہیں۔ لیکن ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جن کی کامیابی یا خوشی کا پتہ والدین کو دوسروں سے چلتا ہے اور والدین اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔
ان سب باتوں کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اب ہم اپنے والدین سے پیار نہیں کرتے بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ اب ہم اس پیار کو جتاتے نہیں ہیں، کبھی ہچکہاہٹ کے باعث تو کبھی وقت کی کمی کے باعث۔ لیکن والدین آج بھی ہماری اس محبت کے منتظر ہوتے ہیں کہ کبھی بھولے بھٹکے ہی صحیح لیکن ہماری اولاد ہمیں بھی اپنے وقت میں سے کچھ وقت دے دے، کبھی غلطی سے گلے لگا کروہ بچپن والا سکون ہی دے دے۔لیکن ہم اپنی زندگی میں ایسے مگن ہیں کہ ہمیں ان کی یہ آس نظر ہی نہیں آتی۔کوشش کریں کہ ماں باپ کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہیں، تھوڑی دیر ہی صحیح لیکن ان کے پاس بیٹھ کر بات کریں،ان کا دل رکھنے کے لیے ہی صحیح لیکن چھوٹے بڑے معاملات میں ان کامشورہ لیں تاکہ وہ بھی جلدی بوڑھے نہ ہوں اورخود کو اولاد کی زندگی میں کوئی غیر ضروری چیز سمجھتے ہوئے زندگی سے تھک نہ جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top