Wednesday, October 21, 2020
Home کالم /فیچر قلم کے مزدور (شوکت علی مظفر)

قلم کے مزدور (شوکت علی مظفر)

 penمزدور کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ وہ پانچ ہزار گز کے بنگلے میں کام کررہا ہے یا کچی آبادی کے ساٹھ گز کے مکان میں۔ اُسے تو صرف اپنی مزدوری سے مطلب ہوتا ہے جوشام تک اُسے محنت پر مجبور کرتی ہے۔ کام مکمل کرنے پر اُسے بنگلے کا مالک کل پر ٹال دے تو وہ باہر لگی خوبصورت نام کی تختی چاٹ کر اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ اسے تو یہ فکر ہے کہ گھر جائے تو اپنی ماں کو تَر نوالہ دے ، بیوی کی سوکھی کلائی میں نئی چوڑیوں کی کھنک محسوس کرے اور بچوں کے اُدھڑے ہوئے بستے پر سات روپے والی دھاگے کی نلکی لے کر اپنے ہاتھ سے ٹانکے لگا سکے۔ دوسری طر ف ساٹھ گز پر کام کرنے والا مزدور اپنے حصے کی مزدوری فوری حاصل کرلیتا ہے تو دن بھر کی تھکن دور ہوجاتی ہے۔ مزدور کو اس سے بھی غرض نہیں ہوتی کہ بنگلے کا مالک کتنی بڑی کار میں گھومتا ہے، وہ تو صرف چنگ چی پر آنے جانے کے کرائے کی فکر گھلتا ہے۔ مزدور کیلئے یہ بھی مسئلہ نہیں کہ بڑے ناموں والی تختی کے پیچھے کیا کیا کالا دھندا چل رہا ہے ، اُسے تو اپنے حق حلال کی کمائی مسئلہ نظر آتی ہے۔ مجھے بھی جیو سے مطلب نہیں، سماء سے غرض نہیں، ایکسپریس سے واسطہ نہیں، بول سے مفاد نہیں ۔ مجھے تو مہینے کے آخر میں ملنے والی تنخواہ سے سروکار ہے۔ وقت، محنت اور اپنے فن کا بدلہ درکار ہے۔ میں نے چینلز کے ناموں کی تختیاں چاٹ کر گھر نہیں چلانا۔ سمائ، جیو، ایکسپریس یا بول کا کارڈ گلے میں لٹکا کر پولیس والوں کو رشوت دینے سے بچ سکتا ہوں۔ زیادہ شیر ہوا تو دھونس بھی جما سکتا ہوں ۔ مگر تین تین مہینے تنخواہ نہ ملے تو بچوں سے آنکھیں نہیں ملا سکتا۔ ماں کو تسلی نہیں دے سکتا، باپ کی بوسیدہ قمیض کے بدلے نیا جوڑا دلانے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ بیوی کی آنکھوں میں فرمائشوں کی فہرست پڑھ کر بھی انجان نہیں بن سکتا۔ ناظرین بے وقوف بن سکتے ہیں لیکن میڈیا سے واقف لوگ جانتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ بڑے ناموں والے چینل ہی رائٹر کا آیڈیا ہضم کرجاتے ہیں، لکھوا لیں تو پھر پیسے دیتے وقت اتنے چکر لگتے ہیں کہ الامان ۔۔ کیا اندر کے لوگ اس بات سے واقف نہیں کہ ایک چینل کے مزدور مہینوں تنخواہ نہ ملنے پر خود کشیاں کرچکے ہیں۔ اب بھی گوگل پر ایسی خبریں موجود ہوں گی، ریسرچر اس سے آنکھیں چرا لیں گے کہ سیٹھ کا مفاد ہے۔ میڈیا سے چند چہرے کماتے ہیں بس ، وہ بھی جو نظر آتے ہیں ۔نظر آنے والوں کے پیچھے ایک قطار ہے جن کا فن ان کو ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے۔ اپنے لفظوں، اپنے بنائے گئے خوبصورت سیٹ کے ذریعے، مائیک لگانے والے ہنر مند وں کی فنکاری سے، کیمرہ مین کی یکسوئی سے اور ایڈیٹنگ سے برے کو اچھا بنانے والوں کی محنت سے جو لوگ دانشوری کی مسند پرفائز ہوتے ہیں،وہ لوگ ہی پیسہ لے جاتے ہیں۔ ایڈیٹر کو کیا ملتا ہے؟ صرف آسرا؟ کیمرہ مین اور لائٹ مین کو کیا ملتا ہے؟ صرف دلاسہ۔ سیٹ پر چائے پانی لانے والوں کو گھر میں سکون سے کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اب اگر بول نے نیچے کے لوگوں کو نوازنا شروع کیا ہے تو سب کیوں چیخ رہے ہیں؟ بالکل اسی طرح جس طرح چوہدری نہیں چاہتا کہ نیا اسکول کھلے اور شعور آئے۔ بالکل اسی طرح جیسے وڈیرا نہیں چاہتا کہ نئے کارخانے لگیں اور کم ذاتوں کو روزگار ملے۔ بالکل اسی طرح جیسے نواب نہیں چاہتے کہ سہولتوں سے محروم رکھ کر ہی لوگوں کو مطیع رکھا جاسکتا ہے۔ سنتے ہیں کہ بول میں حرام کی کمائی لگائی جارہی ہے؟ اس پر پیسہ جھونکنے والی ایگزیکٹ پورن موویز کا دھندا بھی کرتی ہے۔ ہوگا درست ہوگا۔ تو کیا باقی چینل عریانیت نہیں پھیلا رہے؟ مُنی کی بدنامی اور شیلا کی جوانی سے بچوں کو وقت سے پہلے بالغ نہیں کررہے؟ ری اینکمنٹ کے نام پر لڑکیوں کو گھروں سے بھاگنے کی ترغیب نہیں دی جارہی؟ خبروں میں گانوں اور ننگے ناچوں کا تڑکا نہیں لگایا جارہا؟ فیشن شوز کے نام پر بے حیائی کے مرتکب نہیں ہورہے؟ ایگزیکٹ کا اگر کوئی گناہ ہے بھی تو وہ ڈھکا چھپا ہوگا اور کچھ شوقین لوگ ہی اس تک رسائی کریں گے؟ مگر باقی چینلز نے گھول کر پی رکھا ہے کہ وہ قوم کو ننگا کرکے رہیں گے۔واہ صاحب! دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ایگزیکٹ پر جعلی ڈگری کا ڈرامہ بھی خوب ہے؟ باقی چینلز دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں۔ اگر کوئی جعلی ڈگری والا مداری ان کے چینل پر آتا ہے تو ہاتھوں ہاتھ کیوں لیتے ہیں؟ ریٹنگ کی چاہ میں؟ کوئی جعلی ڈگری والا وزیر آئے تو چینلز سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں؟ اشتہار ات کی ہوس میں؟ بات کچھ بھی نہیں ہے ، سوائے اس کے۔ آپ کہتے ہو کہ بول حرام کی کمائی پر چل رہا ہے۔ تو جناب من! آپ نے بھی تو اپنے کارکنان کا جینا حرام کر رکھا تھا؟ اسٹریچر پر پڑے مزدور کو اگر بول آکر آکسیجن فراہم کررہا ہے تو پھر آپ لوگوں کی سرمایہ داری کی سانسیں تو اُکھڑیں گی۔ خدا کرے کہ اب اُکھڑ ہی جائیں۔ کیونکہ علامہ اقبال نے شاید آپ جیسے شرفاء کیلئے ہی کہا تھا: جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو samuzzaffar@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

شیریں جناح کالونی دھماکے میں ایک کلو بارود استعمال ہوا

کراچی، شیریں جناح کالونی بم دھماکے کے حوالے سے سی تی ڈی انچارج راجہ عمرخطاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا...

سندھ پولیس اچھا کرے یا برا، صوبائی حکومت ذمہ دار ہے، گورنر

کراچی، گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پولیس افسران کی چھٹیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سندھ پولیس اچھا کرے یا...

بچوں سے زیادتی، زیڈ ٹی کا ہدایت کارعظیم احمد سے معاہدہ

کراچی ، سائن انٹر ٹیمنٹ اور زیڈ ۔ٹی (کامران شریف)کا اپنی نئی ڈرامہ سیریلز ،سٹ کام ، ٹیلی فلمز کے لےے ڈرامہ...

سندھ حکومت کا پولیس افسران کی چھٹیاں منظور نہ کرنے کا فیصلہ

کراچی، سندھ حکومت نے پولیس افسران کی چھٹیاں منظور نہ کرنے کا فیصلہ، صوبائی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی...