Saturday, October 31, 2020
Home کالم /فیچر سانحات اور ہم (سید ماجدعلی)

سانحات اور ہم (سید ماجدعلی)

PakFlagپھولوں کے شہر پشاور میں سولہ دسمبر کو معصوم فرشتوں کے اسکول میں جوسانحہ ہوا ، اس کےلئے قیامت کا لفظ بھی چھوٹا پڑجاتا ہے ۔ حملہ آور جس انداز میں وارد ہوئے اس سے عیاں تھا کہ ان کے ارادے کیا ہیں۔گاڑی جلانا، خود کش جیکٹس پہننا سب اس امر کی طرف اشارہ کرتاتھا کہ پشاور جو گلاب کے پھولوں کے کیلئے مشہورہے اس میں ”گلاب کے پھول“ ہیں ان کو لہومیں نہلا دیا جائے گا۔ پھر ایسا ہی ہوا ہے اسکول کے اندر میٹرک کے طلبا کے اعزاز میں خوشی کی جو تقریب ہورہی تھی وہ سینکڑوں معصوم بچوں کے خون سے لہورنگ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق سانحہ کی اطلاع ملتے ہی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کوئٹہ سے پشاور پہنچ گئے وزیراعظم بھی اپنی مصروفیات منسوخ کرکے آپریشن کرکے آپریشن کی براہ راست نگرانی کیلئے پہنچ گئے اورچاروں صوبوں نے اس بڑے سانحے پرتین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ۔پورا ملک اتنے روز گزرجانے کے بعد آج بھی سوگ کی کیفیت سے نہیں نکل سکا۔افواج کی جانب سے قبائلی علاقوں میں چھپے دہشت گردوں پر حملوں میں بھی شدت آ گئی ہے اور جیلوں میں قید دہشت گردوں کو بھی پھانسی دینے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ لیکن ان اقدامات تک پاکستان ایک بڑے نقصان سے دوچار ہو چکا ہے۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہماری حکومت سے غلطی کہاں پر ہوئی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے آپریشن ضرب عضب شروع کرنے سے پہلے ہی اپنی حکمت عملی کے بارے میں سب کچھ میڈیا کے سامنے پیش کردیا ، جس سے دہشت گردوں کے مرکزی لیڈروں اورکمانڈروں کو فرار ہونے کا موقع ملا گیا اور ضرب عضب ان شدت پسندوں کے خلاف شروع کیا جن کی کمر پہلے ہی ٹوٹ چکی تھی دوسری اہم یہ بات ہے کہ وطن عزیز کے اندر ہی کچھ مذہبی رہنما اورغیر مذہبی قوتیں ایسی بھی ہیں جو آج بھی طالبان کو مظلوم قراردیتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن تو اپنے انٹر ویو میں کہہ چکے ہیں کہ وہ طالبان کو دنیا کی مظلوم ترین مخلوق تصورکرتے ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بھی ماضی میں ایک بارپشاور میں طالبان کو دفتر کھولنے کر دینے کی تجویز پیش کرچکے ہیں۔ اس طرح پنجاب کے ایک سابق وزیر پر توخاص طور پردہشت گردوں کا ساتھ دینے کا الزام ہے سو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف ملک کے اندران دہشت گردوںکی سرپستی کرنے والے عناصر موجود ہیں اور دوسرا بیرونی قوتیں بھی ان کو ہر طرح کی امداد فراہم کرکے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
ان ہمدردیوں کے نتیجے میں پشاور کے آرمی اسکول میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی جسے ماضی کی طرح مذمتی بیانات جاری کرنے اورامدادی چیک جاری کرنے کے بعد فراموش کردیا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ مذمتی بیان اور امدادی چیک ان ماﺅں کے لعل واپس لاسکتے ہیں جو پاگلوں کی طرح جائے وقوعہ پر نوحہ کررہی ہیں۔ اپنے لخت جگر کی جھلک دیکھنے کیلئے تڑپ رہی ہیں جن کی کلیجے اپنے شہادت پانیوالے بچوں کا لہو دیکھ کر پھٹ رہے ہیں اور جن کی بہنوں نے اپنے سرنوچ لیے ہیں اور دیواروں سے سرٹکرا رہے ہیں۔
hangسانحہ کے روز نمازمغرب ا دا کرنے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس دیکھ رہا تھا جس میں میجر جنرل عاصم جنجوعہ نے بتایا کہ وزیرستان میں دہشتگروں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اورہم نے حال ہی میں کراچی میں 15 طالبان دہشتگردوں کوپکڑا ہے۔ میرا سوال یہ ہے بشمول جناب عاصم جنجوعہ اور حکومتی ارباب اختیار سے کہ آخر وہ کون سے عوامل اورکون سی رکاوٹ ہے کہ ان دہشتگردوں کو جو وطن عزیز کی تباہی کے در پے ہیں، صرف پکڑا جاتا ہے کیفرکردار تک نہیں کیوں نہیں پہنچایا جاتا، کیا یہ قابل رحم ہیں؟ نہیں یہ درندے قابل رحم نہیں ان کو اسی وقت ماردیناچاہئے بلکہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنا چاہئے کہ آئندہ کئی کوئی بھی وطن عزیز میں اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل نہ کرسکے۔ میرا دل خون کے آنسورہا ہے اور سوچ رہا ہے ”کس کس کو پرسا دوں اور کس کس کا نوحہ پڑھوں“
majid.ali1960@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ میں کورونا سے5 افراد جاں بحق، 237 متاثر

راچی: صوبہ سندھ میں عالمی وبا کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق جب کہ مزید 237 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ...

ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول

کراچی: ٹریفک پولیس پر حملے کی دھمکیاں ملنے کے بعد تمام افسران و اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس پہننے کی ہدایات جاری...

گاڑیوں کی ٹکر سے نیوی افسر سمیت3 اہلکار جاں بحق،پولیس اہلکار زخمی

کراچی: گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، ریسکیو حکام کے مطابق...

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...