پلاسٹک یا عفریت (شاہانہ جاوید)

plastic-bagsکیا زمانہ تھا سامان لانے کے لیے کپڑے کے بڑے بڑے تھیلے گھر میں سلے ہوئے جو ہر مہینے نکلتے تھے اور ان میں مہینے کا سامان لایا جاتا،  روز مرہ کی سبزی ترکاری،  گوشت کے لیے چٹائی کی ٹوکریاں،  جو ہماری گھریلو صنعت تھی اور ناریل کے پتوں کو سکھا کر بنائی جاتی تھیں،  دودھ  ، دہی لانے کے لی اسٹیل یا سلورکے ڈھکن والی بالٹیاں تاکہ کسی کی نظر نہ لگے  کپڑے کے چھوٹے بڑے تھیلے باقاعدہ سی کر کچن میں رکھے جاتے تاکہ سودا لانے میں استعمال ہوں اسکے علاوہ  جوٹ کی بنی تھیلیاں اور بوریاں بھی عام تھیں،  کھانے پینے کی اشیاء  براؤن پیپر کے لفافوں میں ملتی تھیں.
پلاسٹک کی ایجاد کے ساتھ ہی یہ سب چیزیں متروک ہوکر غائب ہو گئیں،  پلاسٹک ہماری روز مرہ زندگی کے لیے لازم وملزوم ہوگیا،  پلاسٹک کے برتن،  پلاسٹک کے کھلونے،  پلاسٹک کے شاپنگ بیگز،  الیکٹرانکس کا سامان غرض ہر جگہ پلاسٹک کا استعمال  ضروری ہوگیا.  ہم اس کے استعمال کے اتنے عادی ہوتے چلے گئے کہ شاپرز میں سبزی،  گوشت،  دودھ،  دہی،  نہاری،  یہاں تک کہ دوائیں بھی ان تھیلیوں میں ملنے لگیں.  ہم اس کے مضر اثرات کو سمجھ ہی نہیں سکے اور اپنی زندگی کا لازمی جزو پلاسٹک  کو بنا لیا.  
پلاسٹک کو تلف کرنا بہت مشکل ہے،  سائنسدان  کہتے ہیں کہ پلاسٹک کو مٹی میں ملنے کے لیے ہزار سال درکار ہوتے ہیں مگر ان ہزار برس مین زہریلا مواد پلاسٹک کے ذریعے زمین اور پانی میں شامل ہوتا رہتا ہے.   پلاسٹک  کا مٹیریل حیاتیاتی طور پر حل پزیر نہیں ہوتا یہ وقت کے ساتھ  ساتھ چھوٹے  چھوٹے  ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا رہتا ہے جنھیں مائیکرو  پلاسٹک  کہتے ہیں یہ انسانی صحت کے لیے بہت خطرناک  ہے یہ ہماری غذاؤں اور سمندری غذاؤں  میں بھی پایا جانے لگا ہے  ، مائیکرو  پلاسٹک  کا پتہ سنہ ستر کے عشرے میں لگالیا  گیا تھا اور اب اس کی مقدار میں اضافہ ہی ہورہا ہے.
پلاسٹک کی ایجاد کا معاملہ بھی ایک اتفاق ہے،  بیلجئن سائنسدان لیوبیک لینڈ 1907 میں پارسل بند کرنے کے لیےلاکھ یا سریش کا متبادل بنارہا تھا کہ ایک ایسا لچکدار مادہ تیار ہوگیا  جو پلاسٹک  کہلایا اور اتفاقی طور پر بننے والا پلاسٹک ہماری اہم ضرورت بن گیا.  پلاسٹک بیگز کا استعمال  تو اتنی تیزی سے بڑھا کہ نوئے کی دہائی میں ایک کروڑ بیس لاکھ تھیلے استعمال  ہوتے تھے جنکی تعداد دوہزار سات تک پچپن ارب تک پہنچ گئی.  پلاسٹک  نے جہاں ایک بڑی  صنعت کو جنم دیا وہیں اس کے مضر اثرات نے عام آدمی کی زندگی میں مشکلات کھڑی کردیں،  جلدی امراض،  کینسر جیسی بیماریوں کے پھیلاو میں پلاسٹک نے کردار ادا کیا،  پلاسٹک کے شاپرز کچرے میں پھینکے جانے سے ماحولیات کے لیے خطرہ بن گئے،ہر جگہ کچرے کو ٹھکانے  لگانے کے مسائل نے جنم لیا.  کراچی شہر مین اس وقت کچرا ٹھکانے لگانے کا مسئلہ  گھمبیر صورت اختیار کر گیا ہے.  کچرے کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ایک بڑی تعداد پلاسٹک  بیگز کی ہے جن کی وجہ سے کچرے کو ختم نہیں کیا جاسکتا،  نامیاتی اجزاء تو زمین میں دفن کرنے کے بعد مٹی کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن یہ تھیلیاں اسی طرح رہتی ہیں انھیں جلاؤ تو مضر صحت گیسز بنتی ہیں،  یہی پلاسٹک کی تھیلیاں گٹر ندی نالوں  میں پھینک دی جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ بند ہو جاتے ہیں.
 ہمارے شہر کراچی میں یہی ہوا ہے،  حالیہ بارشوں نے جہاں شہر کی نکاسی کے نظام کی پول کھول دی وہیں پلاسٹک بیگز کے نقصانات  کی نشاندہی  بھی کی کہا جاتا ہے 1994 میں سندھ حکومت  مے پلاسٹک کی تھیلیاں بنانے فروخت کرنے اور استعمال  پر پابندی عائد کردی تھی لیکن اتنے سال گزرنے کے باوجود عملدرآمد  نہ ہوسکا اور استعمال  جاری ہے.  دوسرے صوبوں  میں بھی پابندیوں کے باوجود ان کا استعمال ہورہا ہے،  اس سال اسلام آباد میں پلاسٹک کی تھیلیوں مکمل پابندی  کے ساتھ پاکستان  بھی ان ایک سو اٹھائیس  ممالک  میں شامل ہوگیا ہے جہاں پلاسٹک  بیگز پر پابندی لگائی گئی ہے.  اس کے لیے ضروری  اقدامات  کے ساتھ کام کرنا ہوگا کیونکہ پلاسٹک  ایک بڑی صنعت  کا درجہ حاصل کرچکی ہے ہمارے ملک میں اس کے متبادل کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی تربیت دینے کی ضرورت ہے،  آگاہی مہم چلائی  جائے تاکہ پلاسٹک  کا استعمال ترک کرنے میں آسانی ہو،  تعلیمی اداروں میں نصاب میں پڑھایا جائے لوگوں کو پلاسٹک  بیگز کی جگہ پیپر بیگز،  کپڑے کے تھیلوں کی ترغیب دی جائے کیونکہ کاغذ اور کپڑا ماحول  دوست ہے.
ہر شہر  کے عوام آگے آئیں اور اس کام میں ہاتھ بٹائیں ہمیں اپنے شہر کو صاف ستھرا رکھنا ہے تو ہر حال میں پلاسٹک  بیگز سے نجات حاصل کرنی ہوگی،  سب مل کر اس پر کام کریں بلا تفریق  رنگ ونسل وسیاست تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک صاف ستھرے صحت مند ماحول  میں زندگی گزار سکیں.  آ ئیے ملکر قدم اٹھاتے ہیں تاکہ اپنے شہریوں کو صاف ستھرا صحت مند ماحول  دے سکیں.
ان کا جو فرض ہے اہل سیاست  جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top