Tuesday, October 27, 2020
Home کالم /فیچر عیدی تو بنتی ہے ! (مدثر قیصرانی)

عیدی تو بنتی ہے ! (مدثر قیصرانی)

2_59851”نیچے اتارو اسے“ روڈسائیڈ پر کھڑے موٹی جسامت والے پولیس افسر نے گرج دار آواز کے ساتھ رکشے میں سوار مسافر کو اتارنے کیلئے اپنے ماتحت کو حکم دیا۔
گاوں سے آتے ہوئے مسافر کے پاس ضروری سامان کچھ کپڑے اور ایک عدد لیپ ٹاپ تھا جو بریف کیس میں بڑے احتیاط سے رکھاہوا تھا، چنانچہ بریف کیس کو خوب جھنجوڑا گیا، کپڑے الگ کئے اور بس لیپ ٹاپ پر نظر ہی کیا پڑی سب ایسے چونکے کہ جیسے مسافر سے کوئی بم یا ہیروئن برآمد ہوئی ہو، سامان کی تلاشی لینے کے بعدلیپ ٹاپ کو سائیڈ پر رکھ کرمعمول کی انکوئری شروع ہوئی۔
”اسکی تلاشی لو“ ایک اہلکار نے میرے لباس اور جسم کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔ تلاشی کے دوران مسافر سے کچھ نقدی، موبائل اورقومی شناختی کارڈ برآمدہوا، جیب سے کوئی قابل مواخذہ چیز نہ نکلنے پر موبائل کو چیک کیے جانے کا عمل شروع ہوا،مسافر خاموشی سے ان کی تمام حرکتوں کا جائزہ لے رہا تھا کیونکہ ہمارے ایک دوست ندیم اعوان صاحب فرماتے ہیں کہ کالم نویس کیلئے لازمی ہے کہ وہ ہر واقعے کو اس انداز سے لے کہ جیسے گویا وہ ایک کالم کی عکاسی کررہاہو چناچہ مسافر گویا عکاسی میں محو تھا، موبائل میں پرسنل فولڈر میں صاحب گھسنے لگے تو مسافر سے یہ بدتمیزی دیکھی نہ گئی اور بول پڑے کہ’ جناب یہ ذاتی فولڈر ہے اسے نہ کھولیں، مگرمسافر کی سنی کو ان سُنی کردیاگیا چناچہ جب کوئی قابلِ اعتراض یا غیر قانونی اشیاءبرآمد نہ ہوئی تو دوسرے اہلکار کی طرف گویا یوں اشارہ کیا، کہ کلیئر ہے جانے دو، یہ اشارہ دیکھتے ہوئے مسافر پھولے نہ سمایا اور اپنے اوپر رشک کرنے لگا کہ آج تو واقعی کمال ہوگیا کہ بغیر جیب گرم کیے چھٹکارا حاصل مل گیا ہےمگر یہ خوشی لمحہ بھر کی تھی
عید ی دیئے بغیر کوئی چلا جائے یہ کیسے ممکن ایک اہلکار مسافرکی طرف لپکا اور سوالوں کی بوچھاڑ کر دی
قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون سے انجان دکھائی دے رہے تھے اور پہلا سوال ہی کچھ یوںتھا کہ ”اوئے لیپ ٹاپ کس کا ہے“ مسافر نے احتراماً جوب دیا ” سر میرا ہے “اپنابے اثر رعب جھاڑتے ہوئے اگلا سوال داغا گیا”تو تیرا ہے“ مسافر نے جواب دیا ”جی سر“ اسکا لائسنس کہا ں ہے ؟
یہ سُنتے ہی مسافر کے پیروں کے نیچے سے تو زمین ہی نکل گئی ،مسافر نے ہنسی کوروکتے ہوئے پوچھنے کی ہمت کر لی ” سر یہ قانون کب بنا؟ بس یہ سوال کرنا ہی تھا کہ چند ’شریفانہ الفاظ کے بعد میرے باشرع چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے ” ابے مُلاں ! کیا تو ہمیں قانون بتائے گا؟ سیخ پا کانسٹیبل نے دوسرا وار کیا،اسکی رسید کہا ں ہے ”سرتین مہینے پہلے لیا تھا اب تو ورانٹی بھی ختم ہے“ رسید رکھ کے کیا کرنا۔
رسید ہے تو نکالو، وگرنہ یا چالان ہوگا اگر چالان سے بچنا ہے تو چائے پانی دو“
مسافر نے دل ہی دل میں اپنے آپ کو کوسا کہ کئی بار سن تو چکے ہو دوستوں سے 20 روپے دے کر جان چھڑانے والی کہانی ، ان کے منہ پر مار کر تم بھی ایسا کیوں نہیں کر لیتے ۔لیکن ضمیر نہیں مانامسافر کا اور کہا کہ سر جب میرے پاس کوئی غیرقانونی چیزنہیں ہے تو جانے دیں چالان کس بات کا؟
ان میں سے ایک پولیس والا چیخا”اوئے تیری…. ایسے کیسے جانے دیں چائے پانی تیرا…. دے گا“ تواتر کے ساتھ اتنی گالیاں سننے کے بعد مسافر کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے یہ قانون کی وردی کسی ایسے حیوان ناطق کوپہنا دی گئی ہے جو تہذیب و ادب سے عاری ہے۔ سر آپ کیسی باتیں کررہے ہیں ذرا تمیز سے بات کریں، دوبارہ برس پڑا ”اچھا اب تو ہمیں قانون اور تمیز سکھائے گا ایسا کیس ٹھوکوں گا کہ زندگی بھر جیل میں سڑتا رہے گا“
بس مسافر نے یہ سننا تھا کہ اچانک ذہن میں اخبار میں شایع ہونے والی قیدی کہانیاں گردش کرنے لگیںکہ رشوت نہ دینے پر پولیس مقابلہ، ڈکیتی و ٹارگٹ کلنگ جیسی وارداتوں میں ملوث کر کے بے گناہ لوگوں کو کیسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتاہے، چناچہ مسافر نے اسی میں عافیت سمجھی کہ چائے پانی دے کر جان چھڑا لی جائے ۔ ان میں سے ایک کو میں سائیڈ پر لے جا کر مو¿دبانہ لہجے میں کہا ”سر ویسے تو حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مفہوم ہے کہ (رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں) لیکن شائد آپ جان ہوتے ہوئے بھی انجان ہوں گے لہٰذا یہ 50 روپے ہیں اور آپ کو میں بوتل پلاتا ہوں یہ سمجھتے ہوئے کہ کسی فقیر کی میں نے مدد کی“ یہ باتیں کڑوی لگنے کے باوجود بھی اس بار وہ خاموش تھا کیونکہ شائد میں پہلا شکار تھا جس نے  pakencounter50روپے دیئے ہوں گے۔
مسافر نے سکھ کا سانس لیا اور چلتے وقت کہا کہ ”سر آئندہ لیپ ٹاپ کی رسید ضرور رکھوں گا“
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے آئے روز اس طرح کے ہزاروں واقعات جنم لیتے ہیں جہاں کسی بھی مسافر کو روک کر فضول کے سوالات کئے جاتے ہیں قیمتی اشیاءکو بے ترتیب کردیا جاتا ہے سادہ لوح عوام کو قانون کے بھاشن دے کر کئی ہزار روپے بٹورے جاتے ہیں ۔ جب حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر محکمہ پولیس کے لیے تنخواہیں ممکن بناتی ہے۔ تو پھر کونسی چیز ہے جوانہیں رشوت خوری جیسے حرام فعل کے پر مجبور کررہی ہے ایک دیندار شخص جو اس فعل حرام سے دور بھاگتا ہے اسے بھی اسی دلدل میں پھنسنا پڑتا ہے ….!آخر کیوں اس فعل کو حرام سمجھنے والے اِس موقعے پر تاویلات نکالنے پر مجبور ہوجاتے ہیں…. کیوں اِس مقدس پیشے کو کوڑیوں کے مول فروخت کردیا جاتاہے….؟ کیوں اس وردی کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے…. آخر کیوں گلی محلے کا بچہ بھی اس مقدس قانون کا مذاق اڑانے پر مجبور ہے….؟
رشوت خوری کے سبب آج یہ ملک بدامنی سے دوچار اور خدا کی رحمت سے دور ہے کیونکہ رشوت خوری سے ہی مسلمان اپنی مسلمانیت اور چہرے سے نورانیت کھو دیتا ہے۔ آج ایک مظلوم کو بے جا الزامات میں ملوث کر کے کئی مقدمات میں مطلوب بنا کے اشتہاری قرار دے کر اسے زندانوں میںتو ڈال دیا جاتا ہے مگر دوسری طرف جرائم کا بے تاج بادشاہ نامعلوم ہی رہتا ہے۔ پولیس کا فرض ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے مجرم کو قانون کے کٹہرے تک لائیں نا کہ ناکردہ جرم کسی بےگناہ کے سر ڈال کر اسے مجرم بنا دیں۔ ملک سے لاقانونیت کو ختم کرنے کے لیے اور محکمہ پولیس کو فعال بنانے کے لیے ہمیں چائے پانی کلچر کو ختم کرنا ہو گا۔ دوسری صورت میں ہرشریف انسان اپنی عزت بچانے کے لیے چائے پانی دینے پر ہی مجبور ہوتا رہے گا۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

چھالیہ اگر گٹکا نہیں ہے تو کیوں ضبط کی جارہی ہے؟ سندھ ہائیکورٹ

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کی جانب سے چھالیہ ضبط کرنے اور مقدمات درج کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت پر...

کیپٹن(ر)صفدرکی گرفتاری، تحقیقاتی کمیٹی کا روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کا فیصلہ

کراچی :سندھ حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی نے کیپٹن(ر)صفدرکی گرفتاری کے واقعے کی تحقیقات کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کا فیصلہ کرلیا...

کراچی ترقیاتی کمیٹی کا نالوں پر قائم آبادیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ

کراچی: وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزیر سعید غنی، کور کمانڈر...

سرجانی ٹاؤن, 5سالہ بچی عروہ فہیم گھر کے قریب سے اغواء

کراچی:سرجانی ٹاؤن سیکٹر4 ڈی سے 5 سالہ بچی عروہ فہیم گھر کے قریب سےاغواء ,پولیس کے مطابق گزشتہ روز پیر تقریبا رات...