Wednesday, November 25, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

عذرا پیچوہونے مساجد بند کرنے کی تجویز دیدی

وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے مساجد بند کرنے کی تجویز دے دی،سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے...

طارق روڈپر شاپنگ مال،لیاقت آباد انڈرگرائونڈ مارکیٹ سیل

6 بجے کاروبار بند نہ کرنے پر انتظامیہ حرکت میں آگئی، طارق روڈ پر واقع شاپنگ مال اور...

ناردرن بائی پاس کے اطراف باڑ لگانے کی تجویز

اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل نے ناردرن بائی پاس کے دونوں اطراف باڑ لگانے کےلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی...

کراچی میں انسداد پولیو مہم

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بدھ سے چار روزہ انسداد پولیو مہمPolio کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے جس کے دوران شہر کے چھ اضلاع کی 80 یونین کونسلوں میں پانچ سال سے کم عمر کے دس لاکھ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت نے بدھ سے  شروع ہونے والی انسداد پولیومہم چار دن  تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے 2795 ٹیمیں روزانہ کام کرتی رہیں گی ۔
واضح رہے کہ ماضی میں کراچی میں پولیو ورکز پر حملے ہوتے رہے ہیں اور اب بھی مہم کے آغاز پر یہ خدشات موجود تھے جس کے سبب شہر میں بعض پولیو ٹیموں کے ہمراہ پولیس و رینجرز کے اہلکار بھی موجود ہیں۔
سندھ میں پولیو کے ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے معاون کار ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ کے مطابق کراچی میں انسداد پولیو کی مہم کافی تسلی بخش رہی۔
’ سکیورٹی پر ہماری پوری نظر ہے۔اس سلسلے میں ہماری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں ہے۔پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور تعاون کررہے ہیں۔‘
عثمان چاچڑ کے بقول انسدادِ پولیو مہم ایک قومی خدمت ہے لیکن اس کام میں بہت کم رضاکار حصہ لیتے ہیں۔
’پولیو سے نجات دلانے میں سب سے اہم کردار ہیلتھ ورکرز کا ہوا کرتا ہے۔ یہ تمام ہیلتھ ورکرز رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں اور انھیں انکی محنت کے عوض صرف اعزازیہ ادا کیا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے بہت کم رضاکار آتے ہیں کیونکہ لوگوں کے ذہنوں میں اس حوالے سے مختلف خدشات پائے جاتے ہیں۔‘
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں پولیو کے انسداد کے حوالے سے ملک کی مجموعی صورتحال میں بھی بہتری آئی ہے۔ پاکستان میں پچھلے ایک سال کے دوران پولیو کے صرف 36 کیسسز سامنے آئے ہیں۔یہ تعداد گذشتہ ایک سال کے دوران 163 تھی۔
دوسری جانب اکتوبر 2014 میں کراچی سے پولیو کا آخری کیس رپورٹ ہواتھا جسے ایک کامیابی تصور کیا جارہا ہے۔
پاکستان سے ایک وفد انسداد پولیو کے حوالے سے ہونے والی اس پیشرفت سے انڈیپنڈنٹ مانیٹرٹنگ بورڈ (آئی بی ایم) کو آگاہ کرنے کے لیے اس وقت لندن میں موجود ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں گذشتہ چند برسوں میں پولیو کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے جس کی وجہ سے گذشتہ برس عالمی ادارہ صحت نے پاکستان پرسفری پابندیاں عائد کردی تھیں جو اب تک عائد ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی سنہ 2013 میں جاری کی گئی ایک فہرست کے مطابق پاکستان سمیت افغانستان اور نائجیریا میں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے۔
واضح رہے کہ اسی ہفتے نائیجریا نے بھی ملک کو پولیو سے پاک قرار دے دیا ہے لیکن اسے مکمل طور پر پولیو سے پاک قرار دینے سے قبل بین الاقوامی قواعد اور ضوابط کے مطابق ضروری ہے کہ اگلے تین سال تک نائجیریا میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہو۔
Open chat