Monday, October 19, 2020
Home کالم /فیچر عبدالحفیظ خٹک پولیو سے پاک۔۔ پاکستان (حفیظ خٹک)

پولیو سے پاک۔۔ پاکستان (حفیظ خٹک)

Photo3833اس وقت دنیا میں تین ممالک ایسے ہیں جو کہ ابھی تک پولیو سے مکمل طور پر چھٹکار ا نہیں پا سکے ہیں۔ بد قسمتی سے ان ممالک میں ہمارا ملک بھی شامل ہے۔ دیگر دو ممالک افغانستان اور براعظم افریقہ کا ملک نائجریا ہے۔آج سے چند سال قبل تک بھارت کا شمار بھی ان ممالک میں ہوا کر تا تھا جو اس بیماری سے متاثر تھے تاہم اب بھارت نے پولیو پر قابو پالیا ہے اور کچھ عرصہ قبل ہی اسے پولیو فری اسٹیٹ کا درجہ مل گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف سمیت ہماری حکومت ، پولیو پر قابو پانے کی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔تاہم ابھی تک انہیں کامیابی نہیں مل پائی ہے۔ جس کی وجہ سے آئے روز ملک میں پولیو کے کیس سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس وقت بھی170 سے زائد کیس سامنے آچکے ہیں ۔ان میں سب سے زیادہ کیس شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سامنے آئے جن کی تعداد 100 سے زائد ہے۔ ملک کے بیشتر اضلاع کو پولیو سے پاک کر دیا گیا ہے تاہم کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں عوام اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے گریز کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں سرفہرست خیبر ایجنسی ، شمالی اور جنوبی وزیرستان ہیں جہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق 24ہزار افراد نے پولیو مہم کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ پاکستان میں پولیو کے نہ ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی ہیں ، جنہوں نے امریکی سی آئی اے کیلئے اس مہم کو جاسوسی کیلئے استعمال کیا ۔ ان کا یہ اقدام ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے ، اس اقدام کے باعث وہ آج بھی پابند سلاسل ہیں۔یوں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ امریکہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو استعمال کر کے بلواسطہ پاکستان میں جاری پولیو مہم کو متاثر کیا ہے اور پولیو ورکرز کی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔ مذکورہ 24 ہزار افراد نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جب تک امریکہ ڈرون حملے بند نہیں کرتا وہ اپنے علاقوں میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائیں گے۔ اب اگر امریکہ جو خود کو عالمی امن کا ٹھیکیدار سمجھتاہے وہ اگر چاہے تو ڈورن حملے بند کر کے پاکستان کو فری پولیو اسٹیٹ بننے میںمدد کر سکتا ہے تاہم ابھی تک اس نے ایسا نہیں کیا، جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ کو اپنے مفادات عزیز ہیں ، اپنے مفادات کے حصول کیلئے وہ جائز اور ناجائز کے درمیان ہر فرق کو مٹادیاتا ہے۔اس بات کی ایک اور واضح مثال ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بھی سب کے سامنے ہے جنہیں مخص شک کی بنیاد پر 86برس کی طویل سزا سنائی گئی ، آج بھی وہ عافیہ صدیقی پابند سلاسل ہیں۔دنیا بھی میں مظاہروں کے باوجود انہیں امریکی حکومت نے رہا نہیں کیا، نہ ہی حکومت پاکستان نے انکی رہائی کیلئے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔
پولیو کے حوالے سے ہمارے ملک کے بعض دینی عناصر بھی مخالف نظر آتے ہیں۔ کچھ مخصوص اخبارات اور رسائل پولیو مہم کی مخالفت میں اکثر مورچہ سنبھالے اپنی تحریروں کے ذریعے نظر آتے ہیں۔ ایسے رسائل اور اخبارات کے پڑھنے والوں کی تعداد گو کہ زیادہ نہیں تاہم پروپیگنڈہ کرنے کیلئے چند اذہان ہی کافی ہوتے ہیں۔ ان اخبارات کے مدیران سے رویہ ترک کرنے کیلئے حکومت کو رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ اس وقت پاکستان سے باہر جانے والے ہر ہر فرد کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں، اگر پولیو پر قابو نہیں پایا گیا۔ عالمی برادری کی جانب سے اس حوالے سے مزید پابندیا ں بھی لگ سکتی ہیںحکومت ، پاکستان کو عالمی تنہائی سے بچنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔
گزشتہ دنوں کراچی میں ڈبلیو ایچ او، یونیسیف ، اور اقبال انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ پیپرز کی جانب سے دعوةا اکیڈیمی میں اک تقریب اس حوالے سے منعقد کی گئی۔ جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ دعوةاکیڈمی گلشن معمار کے قریب احسن آباد میں واقع ہے جو کہ مرکز شہر سے دور ہے۔ اک بیاباں اور سنساں مگر پرسکوں ماحول میں تقریب منعقد ہوئی جس میں اقبال انسٹی ٹیوٹ کے ممتاز محقق ڈاکٹر ممتاز ، ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کے ڈاکٹر شمشیر سمیت ڈاکٹر اعظم نے بھی شرکت اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین کا پولیو کے نہ ختم ہونے کا درد ان خیالات میں نمایاں تھا۔ سبھی یہ چاہت رکھتے تھے کہ کسی طریقے سے یہ مرض پاکستان سے ختم ہوجائے اور ملک کو فری پولیو اسٹیٹ کا درجہ مل جائے۔ ڈاکٹر اقبال نے واضح کیا کہ ان کا مقصد عوام میں پولیو کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا اور پولیو مہم میں رکاوٹ ڈالنے والوں کی غلط فہمی کو دور کرنا ہے اس کام کیلئے ان کی این جی او جلد ہی باقاعدہ کام کا آغاز کر دے گی۔ دیگر افراد نے بھی اپنی کارکردگی کے حوالے سے اپنے کاموں پر روشنی ڈالی۔ شرکاءنے پولیو کے خاتمے کے حوالے سے اپنی تجاویز دیں۔ جنہیں منتظمین نے نوٹ کیا۔

100تقریب میں شرکاءکو جید علمائے کرام کا مشترکہ فتوے کی کاپی بھی دی گئی۔ یقینا وہ فتویٰ بڑی محنت سے حاصل کئے گئے ہوں گے، پولیو سے متعلق فتویٰ پر مشتمل اس ہینڈ بل میں کاغذ بھی بہت اعلیٰ لگایا گیا تھا جبکہ پرنٹنگ بھی معیاری ہے۔تاہم اک ذرہ سی غلطی بسا اوقات پوری تحریر کو خراب کر دیتی ہے ،اس فتوے میں بھی کچھ ایسا ہی پایا گایا۔مفتی عدنان کاکاخیل کے نام کے سامنے دستخط کسی اور مفتی صاحب کے تھے، جبکہ مولانا عباس کے سامنے محمد اسماعیل کے دستخط تھے۔ یہ غلطیاں یقینا جان بوجھ کر نہیں ہوئی ہوں گی۔تاہم طویل عرصے سے پولیو کے حوالے سے ملک میں مہمات جاری ہیں اب بھی اگر اس طرح کی غلطیاں ہوں تو پولیو مہم کی دیگر سرگرمیاں کوبھی اس سے ماورا نہیں کہا جاسکتا۔

200قومی سطح کی نہایت اہمیت کی حامل مہم جس پر موجودہ اور آنے والی نسلوں کا انحصار ہو، ان کو نہایت ہی منظم اور مربوط اندازمیںچلایا جانا چاہئے۔پولیو مہم چلانے والوں سمیت محکمہ صحت اور حکومت کو اس بیماری کے بچاﺅ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا اس کام کیلئے انہیں تمام این جی اووز، سیاسی ، مذہبی، سماجی، معاشرتی ، انسانی ، جماعتوں سمیت نوجوانوں ، بچوں ، بوڑھوں ، خواتین ، سبھی کو ساتھ ملا کر کام کرنا ہوگا ۔ایسا کر کے ہی ملک کو صحیح معنوں میں پولیو سے ہی نہیں تمام دیگر جسمانی اور معاشرتی بیماریوں سے پاک کیا جاسکے گا، ہماری قوم اک جنونی قوم ہے ہم ہر کام کو جنونی انداز میں کرنے کے قائل ہیں لہذا پولیو کے خلاف جنوں پیداکرنے کی ضرورت ہے اور جس روز پوکے خلاف مہم چلانے والوں نے عوام میں جنوں پیدا کردیا وہ دن پولیو کا پاکستان میں آخری دن ہوگا، اب دیکھنا یہ ہے کہ کب ایسا ہوتا ہے۔
hafikht@gmail.com

حفیظ خٹک
Biographical Info

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کیپٹن صفدر کی ضانت منظور

مزار قائد بے حرمی کیس میں اغو کا مقدمہ درج ہونے کے بعد اب سٹی کورٹ ایک لاکھ روپے کت...

مصباح سے کوئی اختلاف نہیں، ان کا ورک لوڈ کم کیا ہے:مانی

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں چئیرمین پی سی بی احسان مانی نے پی ایس ایل اور پی سی بی تنازع کے...

چھاتی کا سرطان: کہیں آپ لاعلم تو نہیں؟

اینکرز کے کوٹ اور دوپٹوں پر لگی ’’پنک ربن‘‘ کا مقصد ناظرین کو ہر لمحہ ’’ ماہ اکتوبر: بریسٹ کینسر سے آگاہی...

کیپٹن (ر) صفدر گرفتار، سندھ حکومت نے لاتعلقی ظاہر کردی

اکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو کراچی کے ہوٹل سے گرفتار کرلیا گیا۔ مزار قائد کا تقدس پامال...