Thursday, October 22, 2020
Home کالم /فیچر حالیہ انتخابات سیاسی قوتوں کے لیے واضح پیغام(عبدالجبارناصر)

حالیہ انتخابات سیاسی قوتوں کے لیے واضح پیغام(عبدالجبارناصر)

elc3قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246کا ضمنی انتخاب اور 8کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج جہاں حیران کن ہیں وہیں مختلف سیاسی قوتوں کےلئے واضح پیغام بھی ہے۔
این 246کا ضمنی انتخاب ایک ماہ سے ملک بھر کی سیاست میں سب سے اہم ایشورہااور انتخابی نتائج نے پوری قوم کو حیران کردیا۔ روز اول سے یہ بات واضح تھی کہ انتخابی عمل میں شریک جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی سیاسی بقاءکے لئے یہ انتخاب بہت ہی اہم ہے اور جو بھی جماعت کمزور پڑے گی وہ دن بدن مشکلات کا شکار ہوگی اور یہ بات بھی یقینی نظر آرہی تھی کہ ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کامیاب ہوگی تاہم اس کے لئے اصل پریشانی ہار اور جیت کادرمیان فرق ہے۔ مبصرین کا خیال تھاکہ ہار اور جیت میں فرق زیادہ نہ ہونے پر ایم کیوایم جیت کر بھی ہاری ہوئی اور مخالفین ہار کر بھی جیتے ہوئے سمجھے جائیں گے، لیکن ایم کیوایم نے نہ صرف تمام اندازے غلط ثابت کیے بلکہ ماضی کے دھاندلی اور ٹھپو ں کے الزامات کا بھی منہ توڑ جواب دیا۔
ایم کیوایم نے کاسٹ ووٹ کے تناسب کے سے اتنے ہی ووٹ لیے جتنے ووٹ 2013 میں لیے تھے، اگرچہ تناسب کے حساب سے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ووٹ میں بالتریب ایک سے سوادو فیصد تک اضافہ ہوا لیکن متحدہ کی جیت اورمخالفین کے مجموعی ووٹ کے مقابلے میں ہار جیت میں 50 ہزار سے زائد ووٹ کافرق مخالفین کےلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ضمنی انتخاب میں سب بڑا دھچکا جماعت اسلامی کو لگا ہے۔ یہ بات تو روز اول سے واضح تھی کہ اصل مقابلہ نمبر دو کےلئے ہوگا اور تمام حلقے جماعت اسلامی کو فیورٹ قرار دے رہے تھے، لیکن نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدوار کی ضمانت ہی ضبط ہوگئی اور تحریک انصاف دوسرے نمبر رہی اور اس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ کراچی میں ایم کیوایم کے مدمقابل قوت اب تحریک انصاف ہی ہے اور جماعت اسلامی کو اپنی ماضی کی پوزیشن کو بحال کرنے کےلئے انتہائی محنت کی ضرورت ہے۔ ضمنی انتخاب جماعت اسلامی کےلئے اس لئے بھی پریشانی کا باعث ہے کہ نتائج ان کی محنت،کوشش اور توقع کے برخلاف رہے، شاید اس کی وجہ سے جماعت اسلامی کے مرکز میں کراچی کی تنظیم کی پوزیشن بھی کمزور پڑ جائے گی کیونکہ جماعت کے بعض ذرائع کے مطابق مرکزی امیر سراج الحق اور جماعت کے کچھ دیگر احباب تحریک انصاف کے ساتھ مفاہمت کے حق میں تھے لیکن کراچی کی تنظیم کی سخت مخالفت کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ایم کیوایم پر ماضی میں دھاندلی اور ٹھپوں کے الزامات میں کچھ حقیقت ہے تو ضمنی انتخاب میں اتنے بڑے پیمانے پر ووٹ کیسے پڑے؟ کیاضمنی انتخاب میں بھی کوئی دھاندلی کی گنجائش تھی؟ احقر نے 1999ءسے اپریل 2015ءتک گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور پاکستان کے ایک درجن کے قریب عام اور بلدیاتی انتخابات کی کوریج بھرپور حصہ لیا، متعدد ضمنی انتخابات علاوہ ہیںاحقر کے تجربے میں این اے 246کے ضمنی انتخاب میں دھاندلی اور ٹھپوں کی گنجائش اشاریہ ایک فیصد بھی نہیں تھی یہی صورتحال 19اکتوبر 1999ءکو گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کے انتخاب بھی تھی دونوں انتخابات میں فوج یا رینجرز پولنگ بوتھ کے اندر تعینات تھی ۔
این اے 246 میں ایم کیوایم کی جیت اسی دن یقینی ہوگئی تھی جب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الطاف حسین کی تقریر سننے والوں کو زندہ لاشیں کہ کر پکارا اور پھر تحریک انصاف کے امیدوار عمران اسماعیل کاغذات نامزدگی منظور ہوتے ہی جناح گراو¿نڈ فتح کرنے نکلے، ایم کیوایم کو موقع کی تلاش تھی جو مل گیا اور ایم کیوایم نے بھرپور انداز میں ”مہاجر کارڈ“ کھیلا اور خوب فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ 1988ءکے بعد شاید حلقے ووٹر ز کی ایک بڑی تعداد کو پہلی مرتبہ ووٹ کاسٹ کرنے کا موقع ملا ورنہ یہ”قومی امانت“خود ہی ڈبے میں منتقل ہوتی تھی۔
elc4این اے 246 کے 23 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھرپور کامیابی کافائدہ 25 اپریل کو کراچی اور حیدر آباد کے کنٹونمنٹ ایریاز کے بلدیاتی انتخابات میں بھی ایم کیو ایم کو ہوا اورمجموعی طور پر 44 میں سے 19 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی،پیپلزپارٹی کو 6، ن لیگ کو5، تحریک انصاف کو4، جماعت اسلامی کو 2 نشستیں ملیں اور باقی آزاد امیدوار تھے۔ ن لیگ محنت کرتی تو ان کی نشستوں میں3 سے 4 کا مزید اضافہ ہوسکتاتھا، لیکن عملی میدان میں ن لیگ کہیں پر نظر نہیں آئی اور ملیر اور کورنگی کی دونشستیں امیدواروں کی انفرادی کوشش کا نتیجہ تھا جبکہ فیصل کنٹونمنٹ میں تین نشستوں پر کامیابی کا تمام ترکریڈیٹ صرف سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجرکو جاتاہے۔ رہی پیپلزپارٹی کی تو اس کا ملک کے دیگر حصوں کی طرح سندھ کے کنٹونمنٹ ایریاز میں صفایا ہوچکا ہے اور کنٹونمنٹ بورڈ ز کے نتائج 2013ءکے انتخابی نتائج کے بہت ہی قریب تر رہے، مگر پیپلزپارٹی خسارے میںرہی۔ ضمنی اور بلدیاتی انتخاب میں کئی جماعتوں کےلئے واضح پیغام ہے۔
متحدہ کےلئے یہ پیغام ہے کہ اس کے جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ ٹھپوں کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتے انہیں اپنی سوچ پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور عوامی رابطہ مہم کو اسی طرح برقرار رکھنا ہوگا جس طرح این اے 246میں رہاہے، مزیدیہ کہ ”کارڈز“ کی سیاست ہر بار کامیاب نہیں ہوتی ضمنی انتخابات میں ”مہاجر کارڈ“ تو بہت کام آیا لیکن ضروری نہیں کہ آیندہ بھی کامیابی کےلئے ”مہاجر یا صوبہ بناو¿ کارڈ“ کافی ہوگا۔
تحریک انصاف کےلئے یہ پیغام ہے کہ اگر وہ اپنی تنظیم اور عوامی رابطہ مہم بہتری لائے اور عوام کوجارحانہ رویہ کے بجائے دوستانہ ماحول فراہم کرے تو آئندہ کا کراچی اس کا ہے۔ جماعت اسلامی کےلئے پیغام ہے کہ وہ اپنی سوچ میں واضح تبدیلی لائے اور تنہا پرواز کے بجائے مذہبی اور ہم خیال جماعتوں سے مفاہمت اور اتحاد پر توجہ دے تو فائدہ مل سکتاہے بصورت دیگر کراچی میں ان کا مستقبل سوالیہ نشان ہے۔ ن لیگ کےلئے پیغام یہ ہے کہ اگر ان کے رہنماءاور ورکرز مخلصانہ کوششیں کریں تو بہتری کی گنجائش ہے۔ پیپلزپارٹی کے لئے پیغام ہے کہ صرف حکومت نہیں کام بھی کرو۔
26 اپریل کو لیاری کے ککری گراو¿نڈ میں پیپلزپارٹی نے ایک بڑا جلسہ تو کیا لیکن جلسے کو تاریخی یا مثالی کہنا درست نہ ہوگا کیونکہ جلسے میں پیپلزپارٹی کی شان لیاری کے لوگوں کی شرکت بھی سوالیہ نشان رہی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں جہاں اہل لیاری سے بھرپور محبت کا اظہار کیا وہی پرپہلی مرتبہ عوامی اجتماع میں یہ واضح پیغام دیا کہ پیپلزپارٹی اب بلاول کی بجائے آصفہ کی امانت ہے اور ان کے واپس آنے تک اس امانت کو سنبھال رکھوں گا، اگرچہ زرداری نے بلاول اور آصفہ دونوں کا نام لیا ہے لیکن مبصرین کا کہناہے کہ یہاں پر بلاول کا نام اضافت ہے، اور معاملہ آگے جاکر بے نظیر بھٹواور مرتضیٰ بھٹو کی طرح کی شکل اختیار کر جائے گا ۔ آصف علی زرداری کے خطاب سے یہ بھی واضح ہواکہ کا بلاول والا تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔
abdul.jabbar@dunya.com.pk

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ حکومت اور پولیس ڈرامہ کررہی ہے، شبلی فراز

کراچی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے ایک بار پھر سندھ پولیس کی چھٹیوں کی درخواست کو ڈارمہ قرار دے...

کراچی، مسکن چورنگی پر دھماکے کے زخمیوں کے علاج کے معاملے محکمہ صحت سندھ نے نجی اسپتال کو خط لکھ کر آگا...

کراچی میں جھڑپوں کی جھوٹی خبر،بھارتی میڈیا دنیا بھر میں رسوا

کراچی ،بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے اپنے ہی ریکارڈز توڑ دیے۔ بھارتی میڈیا اپنی اِس احمقانہ خواہش کو خبر...

کورونا وائرس، حکومت کا کئی شعبوں کی بندش پر غور

کراچی، نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس وفاقی وزیر اسد عمر کے زیر صدارت ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جس...