Saturday, October 31, 2020
Home اسلام شبِ برات عبادات و فضائل (مفتی عبدالرحمٰن عابد)

شبِ برات عبادات و فضائل (مفتی عبدالرحمٰن عابد)

shabanشعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث اخبارات اور جرائد وغیرہ میں چھپتی رہتی ہیں نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے متعلق وارد ہونے والی تمام احادیث اکثر محدثین کے ہاں ضعیف ہیں۔ ان میں سے چند مشہور احادیث درج ذیل ہیں:
سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنے بندوں کی طرف جھانکتا ہے تو سوائے مشرک اور کینہ پرور کے اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے۔“ (ابن ماجہ، ابواب اقامة الصلوة و السنة فیھا، باب فی لیلة النصف فی الشعبان، ح:1390)
اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف راوی ہے۔ اس کو آخر عمر میں اختلاط ہو گیا تھا۔ اور یہ روایت اختلاط کے بعد کی ہے۔ اور اس کا شاگرد ولید بن مریم مدلس ہے اور عن سے بیان کرتا ہے۔ اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ مدلس راوی کی معنعن روایت( صحیحین کے علاوہ ) ضعیف ہوتی ہے۔ اور ابن لھیعہ کا استاذ ضحاک بن ایمن مجہول ہے۔ اور اس کا استاذ ضحاک بن عبدالرحمن بن عزرب بھی مجہول ہے۔
سیدنا ابو ثعلبہ الخشنیرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف جھانکتا ہے۔ ایمان والوں کو بخش دیتا ہے اور کافروں کو مہلت دے دیتا ہے۔اور کینہ پرور کو اس کے کینہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنا کینہ ختم کر دے۔“ (المعجم الکبیر للطبرانی، ج:22، ص:224)
اس کی سند میں احوص بن حکیم الحمسی ضعیف راوی ہے۔ اس کے بارے میں علی بن مدینی فرماتے ہیں کہ یہ کوئی چیز نہیں، یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں، امام نسائی کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے، ابن عدی کہتے ہیں یہ ایسی اسانید لاتا ہے جن پر متابعت نہیں ہوتی۔ (تہذیب التہذیب ، ترجمہ نمبر 358، ج:۱، ص: 124)
پھر اس میں مکحول شامی کا سیدنا ابو ثعلبہ الخشنیؓ سے سماع ثابت نہیں جس کی وجہ سے یہ سند منقطع ہے۔ امام ابن ابی حاتم نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ میں نے ابو مسہر سے پوچھا کہ مکحول نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی سے سنا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی سے بھی سننا ثابت نہیں ہو سکا۔(المراسیل لابن ابی حاتم، ص: 211)
علامہ علی محفوظ کہتے ہیں کہ تمام احادیث جو شعبان کی نصف رات کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ان کا معاملہ موضوع، ضعیف اور غیر صحیح پر ہی گھومتا ہے۔ (الابداع فی مضار الابتداع ، ص:287)
قاضی ابو بکر ابن العربی فرماتے ہیں شعبان کی پندرہویں رات کے بارے میں کوئی ایسی حدیث نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ نہ اس کی فضیلت میں، نہ عمروں اور تقدیروں وغیرہ کے لکھنے کے بارے میں (الابداع فی مضار الابتداع ، ص:287)
حافظ ابو الخطاب بن دحیہ کہتے ہیں کہ جرح و تعدیل کے آئمہ کے ہاں نصف شعبان کی رات کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں۔ (الباعث علی انکار البدع و الحوادث، ص:52)
شب براءت کی رات کو ساری رات جاگ کر خصوصی عبادت کرنااور دن کا شب براءت کے طور پر روزہ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں اور نہ خلفائے راشدینرضی اللہ عنہممیں سے کسی نے ایسا کیا ہے۔ بلکہ تمام صحابہ میں سے کسی ایک صحابی سے بھی شب براءت کے طور پر رات کی خصوصی عبادت اور دن کا روزہ قولاً اور فعلاً ثابت نہیں۔ اگر اس رات کی خصوصی عبادت کرنے کا حکم ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اس کو کبھی نہ چھوڑتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عہدِ صحابہ میں کسی کا بھی اس رات خصوصی عبادت نہ کرنا اس کے بدعت ہونے کی واضح دلیل ہے۔
بعض لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے مروی روایت پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ”جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو، اس رات اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے کے وقت سے آسمانِ دنیا پر نزول فرما لیتا ہے اور فجر طلوع ہونے تک پکارتا رہتا ہے:کوئی ہے بخشش مانگنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں، کوئی ہے رزق طلب کرنے والا کہ میں اسے رزق عطا کر دوں، کوئی ہے (کسی بیماری میں) مبتلا کہ میں اسے عافیت اور تندرستی دے دوں“۔(ابن ماجہ، ابواب اقامة الصلوت و السنة فیھا، ح: 1388)
shaban1لیکن یہ حدیث سخت ضعیف ہے بلکہ من گھڑت ہے۔اس کی سند میں ابو بکر بن ابی سبرة کے متعلق امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہے۔ امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث گھڑا کرتا تھا اور جھوٹا تھا۔ امام نسائی کہتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث ہے۔ پھر اس کی سند میں ابراہیم بن محمد مجہول راوی بھی ہے۔ (تہذیب الکمال، ج:۳۳، ص: 107)
اس معنی کی کوئی ایک حدیث بھی احادیث کے ذخیرے میںصحیح سند سے موجود نہیں۔
البتہ اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر آنا صحیح احادیث سے ثابت ہے اور یہ سال کی تمام راتوں میں ہوتا ہے۔ صرف پندرہ شعبان کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ (بخاری، کتاب التہجد، باب الدعا ءو الصلوة من آخر اللیل، ح: 1145)
بعض علماءپندرہویں شعبان کی فضیلت کے بارے میں سورة الدخان کی آیات پیش کرتے اور کہتے ہیں کہ اس لیلہ¿ مبارکہ سے مراد شعبان کی پندرہویں رات ہے۔ سورة الدخان میں لیلہ¿ مبارکہ سے شعبان کی پندرہویں رات مراد لینا صریحاً غلط اور تحریف قرآن کے مترادف ہے۔ کیونکہ یہاں لیلہ مبارکہ سے مراد لیلة القدر کی رات ہے، جس کی وضاحت خود قرآن مجید کی دوسری آیات سے ہوتی ہے۔ سب سے پہلے سورة الدخان کی آیات دیکھیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴾اس بیان کرنے والی کتاب کی قسم، بیشک ہم نے اسے ایک بہت برکت والی رات میں نازل کیا، بیشک ہم ڈرانے والے تھے۔ اسی میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے، ہماری طرف سے حکم کی وجہ سے ، بیشک ہم ہی بھیجنے والے تھے تیرے رب کی رحمت کے باعث، یقینا وہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے﴿(الدخان:۱تا۶)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کو با برکت رات میں نازل کیا۔ دوسرا اس میں تمام امور کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ تیسرا یہ رحمت کا باعث ہے۔ اور چوتھا یہ بابرکت رات ہے۔ اب یہ رات کون سی ہے؟ اور کس مہینے میں ہے؟ اور اس رات کا نام کیا ہے؟ ان آیات میں اس کی وضاحت نہیں۔ اس کی وضاحت قرآن مجید کی دوسری آیات سے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے….﴿ (البقرہ:185)
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید رمضان المبارک کے مہینہ میں نازل ہوا۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴾بلاشبہ ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ قدر کی رات کیا ہے؟ قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے ہیں وہ رات فجر طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہے ﴿(سورة القدر:۱تا۵)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ یہ قرآن لیلة القدر کی رات میں اترا۔ لہٰذا یہ صریح نص ہے کہ لیلة القدر کی رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے۔
لیلہ¿ مبارکہ سے مراد لیلة القدر ہی ہے یہ قول عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، سعید بن المسیب، مجاہد، حسن بصری، ضحاک، زید بن اسلم، قتادہ، ابو العالیہ اور ابو مالک کا ہے۔ اور یہی قول ابن القیم، ابن تیمیہ، ابن حجر، ابن کثیر، قرطبی، امام نووی، جلال الدین السیوطی، ابو بکر جصاص، امام رازی، بدرالدین عینی حنفی، امام طحاوی حنفی، عبدالحق حقانی، ملا علی قاری، بغوی جیسے علمائ، مفسرین اور محدثین کا ہے۔
شب براءت کو قبرستان جانے کا ہمارے ہاں بہت رواج ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا، پس تم اس کی زیارت کرو ۔(مسلم کتاب الجنائز، باب استئذان النبی ربہ فی زیارت قبر امہ، ح:2260)۔
مسلمانوں کو قبرستان کی زیارت اپنی موت کو یاد کرنے، فوت شدگان کی بخشش اور ان کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کے لیے کرنی چاہیے۔ اس کے لیے سال کا کوئی مہینہ یا کوئی دن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین نہیں فرمایا۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی پندرہویں رات کو قبروں کی زیارت کی ترغیب دی ہے۔ اور نہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بذاتِ خود جانا کسی صحیح سند سے ثابت ہے۔ لہٰذا اہل علم قبروں کی زیارت کے لیے شب براءت یا عیدین کی راتوں کو خاص کرنا بدعت شمار کرتے ہیں۔ (دیکھئے! احکام الجنائز و بدعھا للالبانی)
اور اس کے بارے میں ترمذی کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منسوب معروف حدیث جس میں یہ آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر قبرستان گئے، وہ حدیث منکر ہے اور ضعیف ہے۔ اس کی سند میں انقطاع ہے۔ امام بخاری نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور فرمایا کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے عروہ سے نہیں سنا، اور حجاج بن ارطاة نے یحییٰ بن ابی کثیر سے نہیں سنااور حجاج بن ارطاة مدلس بھی ہے اور عن سے بھی بیان کرتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ میں کورونا سے5 افراد جاں بحق، 237 متاثر

راچی: صوبہ سندھ میں عالمی وبا کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق جب کہ مزید 237 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ...

ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول

کراچی: ٹریفک پولیس پر حملے کی دھمکیاں ملنے کے بعد تمام افسران و اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس پہننے کی ہدایات جاری...

گاڑیوں کی ٹکر سے نیوی افسر سمیت3 اہلکار جاں بحق،پولیس اہلکار زخمی

کراچی: گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، ریسکیو حکام کے مطابق...

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...