صدارتی انتخاب، کس کے پاس کتنے ووٹ؟(عبدالجبار ناصر)

رپورٹ:عبدالجبارناصر

voot

ملک میں 2018ء کے صدارتی انتخابات 4ستمبر کو ہورہے ہیں۔صدارتی الیکٹورل کالج کے 6یونٹوں کے 1174(706صدارتی ووٹ) میں سے 1124 ارکان(50نشستیں خالی ہیں) حق رائے دہی استعمال کریں گے،جو 676 صدارتی ووٹ بنتے ہیں ۔صدارتی انتخاب کے فارمولے کے مطابق 3یونٹ قومی اسمبلی ،سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن کا ایک صدارتی ووٹ ہے تاہم پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں سے ہر ایک اسمبلی کے ووٹ بلوچستان اسمبلی کے کل ارکان کے مساوی یعنی 65 ووٹ ہونگے اور اس حساب سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے’’1.90‘‘ارکان،سندھ اسمبلی کے’’2.58‘‘ارکان اور پنجاب اسمبلی کے’’5.70‘‘ ارکان پر مشتمل ایک صدارتی ووٹ بنتاہے ۔کل ایوان کی جتنی نشستیں کم ہیں اسی تناسب سے ووٹ بھی کم شمار ہونگے۔قوائد کے مطابق صدر بننے کے لئے سادہ اکثریت یعنی 354 ووٹ حاصل کرنے ہیں ۔مندرجہ ذیل چارٹ میں تمام 6 یونٹوں میں ارکان اور ووٹ کے حساب سے پارٹی پوزیشن اور کل صدارتی ووٹ کے حساب سے تیار کیا گیاہے ۔

voot

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top