آزمائش کیوں آتی ہے؟ (مفتی عبداللطیف)

Problemsقرآن پاک میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ اے مسلمانو! ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمہارے حالات کو پرکھ سکیں۔ سورہ محمد کی اس آیت میں اللہ کریم نے اپنے بندوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر آپ کلمہ پڑھنے والے ہیں اور دین اسلام کا نام لیتے ہیں تو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے کہ ہم تمہیں ضرور بالضرور آزمائیں گے۔ آزمائش کی چکی میں، امتحان کی گھڑی میں تمہیں دیکھیں گے۔ حالات کے مطابق تمہیں پرکھیں گے اور جانچیں گے۔ منافقین کی علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ جب روشنی ہوتی ہے تو یہ چلتے ہیں اور کام جاری رکھتے ہیں، جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے، حالات کٹھن اور مشکل ہو جاتے ہیں تو رک جاتے ہیں۔ یہ اہل ایمان کی علامت نہیں۔ اگر کبھی کوئی ایسا وقت آ جائے تو گھبرانا نہیں چاہیے، دشمن تمہارا نقصان نہیں کر سکے گا۔ حالات کی سختی سے اہل ایمان مایوس نہیں ہوتے، کیوں کہ ایمان والا صبر کرتا ہے۔
صحیح بخاری میں واقعہ مذکور ہے کہ مکہ میں خباب رضی اللہ عنہ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ کے رسولﷺ مشرکین مکہ نے مجھے پکڑ کر کوئلوں پر لٹایا، میری پشت جلائی گئی، خون بہہ نکلا۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ اے خباب! پہلی امتوں میں سے کسی کو گڑھے میں کھڑا کر کے سر پر آرا رکھ چیر دیا جاتا تھا، زندہ بندے کے جسم میں لوہے کی کنگھی داخل کر کے اس کا گوشت نوچا جاتا تھا۔ مگر وہ اپنے دین سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ ابھی تم نے قربانی ہی کیا دی ہے۔ تم سمجھتے ہو ایسے ہی جنت میں چلے جاﺅ گے؟ کیا تمہیں آزمایا نہیں جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نماز پڑھنے سے جنت مل جائے گی، مال و جان کی قربان دینی پڑے گی نہ ہمیں آزمایا جائے گا، حالاں کہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تمہیں ضرور بالضرور آزمایا جائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ استقامت کے پہاڑ ہوتے ہیں ان کی سنت یہی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جانے لگا تھا تو انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ حسبی اللہ۔۔۔ جب سے مسلمانوں نے اس عمدہ بات کو اپنایا کہ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے، وہ بہتر کارساز ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاتے ہیں، استقامت اختیار کرتے ہیں، انہیں کوئی غم نہیں ہوتا، کوئی پریشانی نہیں ہوتی، کوئی خوف نہیں ہوتا۔ ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ اللہ رب العزت دنیا میں بھی تمہارا دوست ہے، ولی ہے اور آخرت میں بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے بندے سے جو وعدے کیے ہیں وہ اس کو مل کر رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بڑی بڑی آزمائشوں کے بعد اجر ملے گا۔ تمہیں تہس نہس کرنے کے پروگرام بنائے جائیں گے۔ اپنے بھی تمہارا ساتھ دینے سے گھبرا جائیں گے۔ اللہ نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ جب یہ سارے تجھ سے منہ موڑ جائیں تو تم نے کہنا ہے کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ جو بڑی عزت والا اور عرش عظیم کا مالک ہے۔
جس بندے سے اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ کر لیتے ہیں، اس کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ جو آزماش پر راضی ہو جاتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ بدلے میں بہتر صلہ دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو ان آزمائشوں سے پریشان ہوگیا، گھبرا گیا، غصے میں آگیا تو فرمایا کہ ایسے بندے کے لیے اللہ کی ناراضی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا ایمان جتنا زیادہ مضبوط ہوگا، اس پر پریشانی بھی اتنی ہی زیادہ آئے گی۔ جس کا ایمان کم ہو، اس پر آزمائشیں بھی کم آئیں گی۔ حالاں کہ اس کی زیادہ آزمائشوں پر اس کے درجات بھی زیادہ بلند ہونے تھے، مگر یہ برادشت نہ کر سکا۔جو مشکل اور کٹھن حالات میں اللہ کے راستے میں کھڑا رہتا ہے، دین کی سربلندی کے لیے کوشاں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے پچاس بندوں جتنا اجر دیتا ہے۔ بلا شبہ عزت اور ذلت دینے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ رب العزت بندوں کی محنتوں کو ضائع نہیں کرتا، انہیں رسوا نہیں کرتا۔ آزمائش میں صبر کرنے والے اور استقامت دکھانے والے ہی سرخرو رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top