Tuesday, October 27, 2020
Home کالم /فیچر نفیساتی امراض کم کرنے کا نسخہ (گل رحیم )

نفیساتی امراض کم کرنے کا نسخہ (گل رحیم )

bethak oآج کا انسان تمدنی ترقی کے عروج کے دور میں زندگی گزار رہا ہے ۔سائنسی ترقی ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ نے دنیا کو سمیٹ کر ایک گاﺅں میں تبدیل کر دیا ہے، مشرق کی خبر مغرب میں سیکنڈوں کے حساب سے پہنچ جاتی ہے۔ہر طرف باخبر دور دورہ ہے۔عجب تماشہ ہے کہ دنیا سے با خبر یہ آدمی آج اپنے آس پڑوس سے بے خبر ہے۔سکون حاصل کرنے کے لئے مختلف طریقوں میں مصروف عمل ہے لیکن جب انسان ،انسان سے دور ہو جائے جہاں خیر خواہانہ جذبے اور ہمدردیاں ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔وہاں خوشیوں کے ڈیرے نہیں جمتے ہیں۔ پھر برکتیں اور رحمتیں وہاں سے کسی اور آشیانے کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ اپنے معاشرے کے چاروں طرف نظریں دوڑائےے ایسا تو نہیں ہے کہ آج ہم خیرخواہانہ جذبوں، ہمدردی اور رحمدلی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسا تو نہیں کہ پڑوس کا عبداللہ جب محنت مزدوری کرتا تھا اور توانا جسم کا مالک تھا تو اپنے بچوں کو کما کر کھلایا کرتا تھا ۔ لیکن آج وہ گھر میں بیمار پڑا ہے اور خاندان فاقہ کشی کا شکار ہے۔ اور وہ بے بسی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ باخبر آدمی بے خبر تو نہیںدوسری طرف جوان بچیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی ہیں والدین ان کے سروں میں سفیدی دیکھ کر غموں کی دنیا میں ڈوبے ہوئے ہیں لیکن آج یہ با خبر آدمی بے خبر تو نہیں اور کسی گھر میں میت پڑی ہے کھانے پینے کو کچھ نہیں، کفن دفن کے لئے رقم بھی نہیں اور قرض کا بندوبست بھی نہیں ہو رہا آج کا یہ آدمی بے خبر تو نہیں۔ دوسری جانب ماں باپ نے اپنی پوری زندگی قربانیاں دے کر بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لئے اپنی زندگی گنوادی لیکن آج بڑھاپے میں اپنی آنکھوںکے سامنے نوکریاں حاصل کرنے کے لئے اپنے بچوں کو ٹھوکرے کھا تے دیکھ رہے ہیں اور ان کے دل آج خون کے آنسو رونے پر مجبور ہے آج کا با خبر آدمی بے خبر تو نہیں۔ ذرا غورکیجئے آپ چلتے پھرتے لوگوں پر نظر دوڑائیںتو ایک تندرست آدمی اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے دیکھیں گے اور اپنی انگلیاں شمار کرتے ہوئے چلتا پھر رہا ہے۔ یہ اسباب ہیں کہ آج نفسیاتی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مریض جب ہسپتال پہنچتا ہے ڈاکٹر بچپن، لڑکپن، جوانی زندگی کے گزرے ہوئے واقعات کے متعلق سوالات پوچھتے ہیں جب مریض اپنے دل کی ساری باتیں بتادیتا ہے تو اس کا دل ہلکا اور ذہن پرسکون ہو جاتاہے۔ ایک وہ دور بھی تھا جب انسان ان تمام ترقی یافتہ سہولیات سے محروم تھا انسانی ضروریات زندگی اتنے میسر نہیں تھیں ملک کے بہت سے حصوںمیںبجلی تک نہیں تھی لوگ تندوروں، انگیٹھیوں پر روٹیاں پکایا کرتے تھے۔ بلکہ شہروں میں بھی بعض حصوں میں بجلی نہیں ہوتی تھی لوگ بیل گاڑیوں، سائیکلوں پر سواری کرتے تھے اس وقت موٹر سائیکل بڑی سواریوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس دور میں بیٹھک اور ڈیرے لگتے تھے لوگ دن بھر کی مصروفیات کے بعد مل جل کر ایک ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ یہ بیٹھک اور ڈیرے کئی گھروں سے چارپائیاں نکال کر رکھتے تھے اور کہیں لکڑیوں کے تختے پر بیٹھ کر، کئی قالینوں پر تکئے لگا کر بیٹھک ہوتی تھی۔ اور کہیں چوراہے میں کرسیاں نکال کر لوگ بیٹھتے تھے اور کہیں نہروں کے کنارے یہ پہاڑوں کی اونچی فضاﺅں میں یہ بیٹھک اور ڈیرے سجتے تھے جہاں نوجوان بھی ہوتے تھے بوڑھے اورمزدور،کسان، زمیندار، تعلیم یافتہ، ان پڑھ، وقت کے حساب سے امیر اور غریب بھی ان بیٹھکوں میں ایک ساتھ بیٹھتے تھے۔ اس وقت باخبر رہنے کے لئے ریڈیو ایک اہم ذریعہ ہوتا تھا ان سب میںیہ بات مشترک تھی کہ یہ لوگ ایک دوسرے سے مخلص اور ان کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہوتا تھا مصروفیات کے بعد آکر ایک دوسرے کو اپنی دن بھر کی کار گزاریاں سناتے تھے جو بھی دل میں ہوتا تھا ایک دوسرے سے بیان کرتے تھے یہ آپس میںاعتماد کا ایک رشتہ ہوتا ہے اس وجہ سے ان کے دل ہلکے اور ذہن پرسکون ہوتے تھے یہ ایک دوسرے کے معالج کا کام کرتے تھے۔ ان لوگوں کو نفسیاتی ہسپتالوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی تھی یہ لوگ ایک دوسرے کے غم اور دکھ درد میں شریک ہونے والے لوگ تھے اور اس طرح مسائل بھی حل ہوجاتے تھے۔ اگر کہیں پتہ لگتا کہ عبدالرحمن بیٹھک یا ڈیرے پر نہیں آرہا تو یہ سب مل کر جاتے تھے اگر یہ پتہ لگتا کہ گھر میں بیماری ہے اور مالی پریشانی بھی ہے تو اس کو شرمندہ کرتے تھے کہ تم نے ہمیں اپنا نہیں سمجا اور ہمیں کیوں نہیں بتایا مجمع سے آواز آتی کہ یار جا میری سائیکل بیچ دے یہ تیرے والد کی زندگی سے قیمتی نہیں ہے اور جب ان کی آنکھوں سے آنسوآتے تو سب اس کو گلے لگاتے۔ اگر کسی گھر میں بہن کی شادی ہوتی تو سب مل کر اپنا حصہ ٓڈالتے تھے اس جذبے کے ساتھ یہ ہماری سب کی بہن ہے۔ اس طرح لوگوں کے کندھوں سے کافی بوجھ کم ہو جاتا تھا۔ اور ایک دوسرے کے گھر کے غم او خوشی میں ہر طرح کے حصہ دار بنتے تھے۔ اگر کسی کے بچوں کا اعلیٰ تعلیم کا مرحلہ درپیش ہوتا تو سب مل کر کامیابی کی دعائیں اور اس کے اخراجا ت میں تعاون کرنے والے لوگ ہوتے تھے۔کیا آج کے ترقی یافتہ زندگی کی سہولیات سے با خبر آدمی ان بیٹھکوں اور ڈیروں کو دوبارہ آباد کر سکتے ہیں۔ جہاں محبت ہو، ہمدردی اور خیرخواہی کا جذبہ ہو خلوص اور اعتماد کا رشتہ قائم ہو۔ جہا ں یہ نہیں دیکھا جاتا تھا کہ انسان کا نسل، قوم و قبیلہ، اور زبان کیا ہے جہاں انسان کو انسانیت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا جب بھی یہ پر خلوص اور محبت سے بھرے یہ ڈیرے اور بیٹھک بحال ہونگے تب ہماری زندگیوں میں سکون آئے گا اور اس طرح نفسیاتی امراض کا خاتمہ بھی ہوجائے گا۔
g.rahimkhan00@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گلشن اقبال ، خطرناک ڈکیت پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

کراچی، گلشن اقبال پولیس کی بڑی کارروائی، درجنوں وارداتوں میں مطلوب ملزم گرفتار۔ پولیس کے مطابق ملزک صدیق پولیس کو اسٹریٹ، قتل...

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل، اور ان کا حل

تحریر: مریم صدیقی وہ تھکی ہاری شام کے 4 بجے آفس سے نکلی، 4:30 بجے گھر میں...

ولیکا آتشزدگی، واٹر بورڈ نے ایمرجنسی نافذ کردی

کراچی ،واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے سائٹ ٹاؤن ولیکا اسپتال کے قریب فیکٹری میں آتشزدگی کے بعد سخی ھسن ہائیڈرنٹس پر...

کراچی سمیت سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں کا خطرہ

کراچی ،سندھ میں پھرفصلوں پرٹڈی دل کےحملےکاخدشہ محمکہ زراعت سندھ نےٹڈی دل کےحملےکانیاالرٹ جاری کردیا ۔ محکمہ زراعت کے حکام کا...