Saturday, October 31, 2020
Home اسلام ”عظیم قربانی“ (رانا اعجاز حسین)

”عظیم قربانی“ (رانا اعجاز حسین)

mqdefaultویسے تو پاک پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ساری پاکیزہ زندگی عظیم الشان قربانیوں سے آراستہ ہے مگر بحکم خداوندی اپنے لاڈلے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نازک و نرم خوبصورت نورانی گلے پر اپنے ہاتھ مبارک سے پوری قوت کے ساتھ تیزدھار چھری کا چلانا ایسی لا مثال و منفرد قربانی ہے، کہ تعمیل حکم و اطاعت خداوندی کی ایسی مثال نہیں ملتی، اطاعت خداوندی کا یہ انوکھا نرالا انداز کیوں کر وقوع پذیر ہوا، بقول شاعر کہ
خدائے پاک نے خود ان کی ایسی تربیت کی تھی
شعور و فکر و دانائی کی وہ دولت انہیں دی تھی
خدا نے ہی انہیں بخشا تھا وہ ایثار کا جذبہ
خدا کے حکم پر دینے چلے بیٹے کا نذرانہ
خدا کے امتحان میں کامیاب و کامراں آئے
اسی باعث جہاں میں وہ خلیل اللہ کہلائے
اب ادھر دیکھیں کہ جب باپ نے اپنے نو عمر فرزند سے پوچھا، ”اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہاہوں، بتا تیری کیا مرضی ہے؟“ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے رائے اس لیے نہیں پوچھی کہ اگر بیٹے کی رائے ہو گی تو ایسا کروں گا ورنہ میں اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کروں گا۔ نہیں !نہیں! ایسا ہر گز نہیں۔ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رائے اس لیے پوچھی تھی کہ میری نبوت کا وارث اس آزمائش میں پورا اترتا ہے یا نہیں اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اللہ کے حکم کے بارے میں بیٹے کا تصور کیا ہے؟
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمابرداری دیکھئے، وہ بیٹا بھی تو کوئی عام بیٹانہیں تھا، وہ بھی آخر خلیل اللہ کے فرزند ارجمند تھا ۔ اگر باپ خلیل اللہ کے مرتبہ پر فائز تھا تو بیٹے کے سر پر بھی ذبیح اللہ کا تاج سجنے والا تھا، کیونکہ آپ علیہ السلام ہی کی صلبِ اطہر سے آقائے دو جہاں، تاجدارِانبیائ، شفیعِ روزِ جزا، جناب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اپنے نورِ مبین سے اس جہان کو دائمی روشنی سے منور کرنے والے تھے۔ اس لیے وارثِ نبوت نے بھی اطاعت کی حد کر دی۔ آپ علیہ السلام نے اپنے باپ کے آگے سر کو جھکا دیا اور یہ بھی نہیں پوچھا کہ ابا جا ن مجھ سے کیا جرم سر زد ہوا ہے؟ میری خطا کیا ہے؟ جو آپ مجھے موت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں، بلکہ قربان جاﺅں! اس بیٹے پر جس نے نہایت عاجزی وانکساری سے اپنے باپ کے آگے گردن جھکاتے ہوئے جوکلمات اپنی زبان سے ارشاد فرمائے وہ قیامت تک نسل انسانی کے لیے مشعل راہ بن گئے۔ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا (ترجمہ) ”اس (بیٹے) نے کہا اے ابا جان! آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، انشاءاللہ ! آپ مجھے عنقریب صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ (الصفّٰت: 102)“ اے اباجان! میں روﺅں گا نہیں اور نہ ہی میں چلاﺅں گا اور نہ ہی آپ کو اس کام سے منع کروں گا، اب آپ چلئے اور اس حکم کی تعمیل میں دیر نہ کیجئے۔ انشاءاللہ! آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
اب آگے بڑھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالی کے عشق میں اپنی گردن مبارک زمین پر رکھ دی، اور باپ نے چھری کو چلانا شروع کیا تو آسمان دنیا کے فرشتے پہلی دفعہ اطاعت خداوندی اور تسلیم و رضا کا یہ عالی شان منظر دیکھ کر ششدر رہ گئے، قریب تھا کہ چھری چل جاتی، لیکن اللہ کریم کی طرف سے ندا آئی، اے ابراہیم تم نے خواب کو سچ کر دکھایا، یہ ایک بڑی آزمائش تھی تم اس میں کامیاب ہوئے اور اللہ تعالی نے جنت سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے قربانی کیلئے ایک دنبہ بھیج دیا، اور یوں یہ سنت ابراہیمی قیامت تک ہر صاحب استطاعت پر واجب کردی گئی وہ قربانی راہ حق میں جو اسماعیل نے دی تھی
مثال اس کی ہمیں تاریخ عالم میں نہیں ملتی
خدا نے اس کی قربانی کو خود ناز سے دیکھا
ذبیح اللہ کا اعزاز عالی پھر انہیں بخشا
slaughter house1حضر ت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، یہ قربانی کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا، یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے؟ آپ نے فرمایا (تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہیں قربانی کے جانور کے ) ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی، انہوں نے پھر عرض کیا ، یا رسول اللہ ﷺ، اون کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا، اون کے ہر بال کے عوض میں بھی ایک نیکی ملے گی (مشکوة شریف) حضرت عبد اللہ بن عمردضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال قربانی کی (مشکوة شریف) حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ”قربانی کے دن کوئی نیک عمل اللہ تعالی کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ)، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا اور خوشنودی کے لئے زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری فربانیوں کو اپنی بارگاہ رحمت میں قبول فرمائے۔ آمین
ranaaijazmul@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

ہم سب کو تھوڑی سی شرم ہونی چاہے,وسیم اکرم کراچی والوں سے سخت ناراض

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم ساحل کی گندگی دیکھنے کے بعد ایک بار پھر عوام سے ناراض ہو گئے۔وسیم...

سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن پر نیب کا بڑا اقدام

صوبہ سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے بڑا ایکشن لے لیا۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ...

مزار قائدکی بے حرمتی کا کیس کیپٹن (ر) صفدر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

کراچی: عدالت نے مزار قائد پر نعرے بازی کے کیس میں کیپٹن (ر) صفدر کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم...

سول ایوی ایشن نے نارتھ سیکٹر لاہور ریجن میں ضم کردیا

کراچی :سول ایوی ایشن نے کراچی کے نارتھ سیکٹر فلائٹ انفارمیشن ریجن کو لاہور ریجن میں ضم کر دیا جو آج سے...