Friday, October 30, 2020
Home اسلام سیرت النبی کے نمایاں پہلو(فاروق اعظم)

سیرت النبی کے نمایاں پہلو(فاروق اعظم)

Muhammad-1-Whiteرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جامع او صاف کے مالک تھے۔ آپ عبادات و اخلاقیات میں کامل نمونہ تھے تو فہم و فراست میں بہترین مدبر بھی۔ ملکی انتظام و انصرام کو چلانے میں اعلیٰ پائے کے منتظم و منصرم تھے تو قیامِ امن اور دفاع کے لیے جنگوں میں منفرد کردار کے سپہ سالار بھی۔ یوں تو سیرت النبیﷺ کے موضوع پر مو¿رخین اور سیرت نگاروں نے ضخیم کتابیں مرتب کی ہیں۔ آپﷺ کے اوراقِ زیست پرہزاروں مقالے لکھے گئے ہیں، لکھے جارہے ہیںاور لکھے جاتے رہیں گے، لیکن آپﷺ کی خوبیوں کا احاطہ ممکن نہیں۔ کتب سیّر کے مطالعے سے میرے سامنے رسول اللہﷺ کی حیات مبارکہ کے دو پہلو تواتر کے ساتھ نمایاں رہے ہیں۔ ایک دعوت الی اللہ اور دوسرا جہاد فی سبیل اللہ۔ اگر یہ کہا جائے کہ جاہلی معاشرے کی تربیت اور نا گفتہ بہ حالات کی تبدیلی میں ان دو پہلوﺅں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے تو غلط نہ ہوگا۔ دعوت و جہاد کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطہ نظر کیا تھا؟ ذیل میں ان پہلوﺅں پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔
1) دعوت الی اللہ
ایک لمحہ تصور کریں جب معاشرے کی تمام اکائیاں باطل پر عمل پیرا ہوں۔ ناجائز امور کے سر انجام دینے میں حدود کو پھلانگا جارہا ہو۔ اخلاقیات کا گراف اس حد تک گرچکا ہو کہ بدکاری پر فخر ہونے لگے۔ قتل و غارت روز کا معمول ہو۔ ڈاکہ زنی شیوہ بن چکا ہو۔ جب لوگ برائی کو برائی ہی نہ سمجھتے ہوں تو ان کے دل و دماغ میں برائی سے نفرت پیدا کرنا اور حق کی صدا بلند کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ داعی حضرات جانتے ہیں یہی سب سے کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، کیونکہ اب ایسی صورت میں معاشرے کی مخالفت مول لینی پڑے گی۔ اپنے بیگانے ہوں گے۔ پرائے دشمنی پر کمر بستہ رہیں گے۔ تنقید کی بوچھاڑ تیروں کی مانند ہوگی۔ لوگ گمراہ بھی کہیں گے۔ دیوانہ اور احمق بھی کہلاﺅ گے۔ جی ہاں! بالکل یہی کچھ ہوا جب اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حکم نازل کیا: ”اے (محمدﷺ) جو کمبل اوڑھے ہوئے ہو، اٹھیئے، پس ڈرا یئے اور اپنے رب ہی کی کبریائی بیان کیجئے“۔ (سورة المدثر، ابتدائی آیات)
ظلم و شرک سے آلودہ معاشرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُٹھنے کا حکم ہوا۔ ضلالت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو راہِ راست پر لانے کی بھاری ذمہ داری آپ پر عائد ہوئی۔ توحید الٰہی کا پرچار کرنا گویا کہ سرکشوں کی کبریائی پر ضرب لگانا ہے۔ اس ضرب لگانے کا ردعمل کیا ہوگا؟ آیئے ورقہ بن نوفل کی زبانی سنتے ہیں۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں کتاب بدءالوحی کے تحت یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جب سورة العلق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہﷺ گھبراہٹ کی کیفیت میں گھر آئے اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گئے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو تسلی دی اور اپنے چچا کے بیٹے ورقہ بن نوفل کے پاس لے آئی۔ ورقہ بن نوفل زمانہ جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کرچکا تھا۔ آپ عبرانی زبان بھی جانتے تھے۔ اب ضعیف اور نابینا تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: ”اے چچا کے بیٹے! ذرا پنے بھتیجے کی بات سننا“۔ ورقہ نے رسول اللہﷺ سے کہا: ” اے میرے بھائی کے بیٹے! آپ نے جو دیکھا وہ بتلائیے“۔ اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ جو پیش آیا تھا وہ بیان کیا۔ اب ورقہ آپﷺ کو مخاطب کرکے کہنے لگا: ”یہ تو وہی ناموس ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر اُتارا تھا۔ کاش! میں جوان ہوتا، کاش! میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ آپﷺ نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا: ”کیا یہ لوگ مجھے نکال دیںگے (حالانکہ میں تو ان میں معزز، سچا اور امانت دار معروف ہوں)؟“ ورقہ نے کہا: ” ہاں! ایسا ہی ہوگا کیونکہ جو شخص بھی آپﷺ کی طرح حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہوگئے۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ دور مل گیا تو میں ہر طرح سے آپ کی مدد کروں گا“۔
imagesسیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ابتدائی تین سال تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کاسلسلہ خفیہ رکھا، یہاں تک کہ سورة الشعراءکی آیت نازل ہوئی: ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو (عذاب الٰہی سے) ڈراﺅ“۔ (الشعرائ: 214) تو رسول اللہﷺ مروجہ ابلاغی طریقے کو استعمال میں لاتے ہوئے کوہِ صفا پر چڑھ گئے اور با آوازِ بلند ایک ایک قبیلے کو پکارنے لگے۔ ملکِ عرب کے دستور کے موافق جب لوگ آ آ کر جمع ہوئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے سب سے پہلے اپنے کردار پر گواہی طلب کی۔ قریش نے یک زبان ہوکر کہا کہ ہم نے کبھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا۔ یہ جواب سن کر آپﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں سخت عذاب سے ڈراتا ہوں، اللہ پر ایمان لاﺅ تاکہ عذابِ الٰہی سے بچ جاﺅ۔ یہ سنتے ہی قریش پھٹ پڑے۔ ابو لہب نے کہا کہ ”تجھ پر ہلاکت ہو، کیا تونے اس لیے ہمیں جمع کیا تھا“۔ گویا کہ حق و باطل میں کشمکش کا آغاز ہوا۔ اب مکہ کے اطراف میں اعلانیہ طور پر حق کی صدا گونجنے لگی اور ساتھ ہی اہلِ ایمان پر تکالیف و مصائب کا دور شروع ہوا۔ اب حکم آچکا تھا: ”آپ کو جس چیز کا حکم دیا جارہا ہے اسے صاف صاف کہہ دیجئے اور مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے“۔ (الحجر: 94)
مشرکین مکہ اپنے معبودانِ باطلہ کی مخالفت برداشت نہ کرسکے اور کھلم کھلا ٹکراﺅ کی راہ پر اتر آئے۔ وہ کسی صورت تیار نہ تھے کہ جن معبودوں کی برسوں سے عبادت کرتے آرہے ہیں، انہیں چھوڑ کر صرف ایک الہٰ کو پکارا جائے۔ ان کا ضمیر اس بات پر آمادہ نہ ہوا کہ اپنے آباءو اجداد کے گمراہ راستے کو ترک کردیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے آواز حق کو دبانے کے لیے محاذ آرائی کے مختلف انداز اختیار کیے۔ صفی الرحمن مبارک پوری نے الرحیق المختوم میں قریش کی ان سرگرمیوں کا نہایت بہترین خاکہ پیش کیا ہے۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ ان پر روشنی ڈالتے ہیں۔
مشرکین قریش نے اسلامی دعوت کو غیر مو¿ثر بنانے کے لیے تحقیر اور استہزا کا انداز اختیار کیا۔ سورة القلم میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس رویے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اور جب کفار اس قرآن کو سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ یقینا پاگل ہے“۔ (القلم: 51)
جب آپﷺ کے پاس کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو موجود پاتے تو انہیں دیکھ کر مشرکین استہزا کرتے ہوئے کہتے: ”اچھا! یہی حضرات ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے!“ (الانعام53:) اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو بددل کرکے ان کے حوصلے پست کردیئے جائیں۔
محاذ آرائی کی دوسری صورت یہ تھی کہ آپ کی تعلیمات کو مسخ قرار دیتے اور جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے شکوک و شبہات پیدا کرتے، تاکہ کسی کو آپ کی دعوت پر غور وفکر کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الفرقان میں مشرکین کا قول ذکر کرتے ہوئے فرمایا ”یہ محض جھوٹ ہے جسے اس نے گھڑلیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی اعانت کی ہے“۔ (الفرقان4:)
قریش نے تیسرا انداز یہ اختیار کیا کہ لوگوں کو قرآن کی تعلیمات سے دور رکھنے کے لیے گزرے ہوئے بادشاہوں کے واقعات اور قصے کہانیوں میں الجھائے رکھتے تھے۔ الرحیق المختوم میں ابن ہشام کے حوالے سے مذکور ہے کہ مشرکین میں سے نضر بن حارث حیرہ گیا اور وہاں کے بادشاہوں کے واقعات اور رستم و اسفند یار کے قصے سیکھے۔ پھر واپس آیا تو جب رسول اللہﷺ کسی جگہ بیٹھ کر لوگوں کو واعظ و نصیحت کرتے اور اللہ کی پکڑ سے ڈراتے، تو آپ کے بعد یہ شخص وہاں پہنچ جاتا اور کہتا کہ بخدا! محمدﷺ کی باتیں مجھ سے بہتر نہیں۔ یہ فارس کے بادشاہوں اور رستم و اسفندیار کے قصے سناتا اور کہتا کہ آخر کس بنا پر محمدﷺ کی بات مجھ سے بہتر ہے۔ مزید یہ کہ لوگوں کو پھنسانے کی خاطر نضر نے چند لونڈیاں خرید رکھی تھیں۔ جب کسی کے متعلق سنتا کہ وہ شخص نبیﷺ کی طرف مائل ہے، تو اس پر ایک لونڈی مسلط کردیتا، یہاں تک کہ اسلام کی طرف اس کا جھکاﺅ باقی نہ رہتا۔
قریش نے چوتھی صورت یہ اختیار کررکھی تھی کہ وہ کوشش کرتے کہ اسلام اور جاہلیت دونوں بیچ راستے میں ایک دوسرے سے جا ملیں۔ یعنی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر اپنی بعض باتیں مشرکین چھوڑ دیں اور بعض باتیں نبیﷺ چھوڑ دیں۔ قرآن میں اسی کے متعلق ارشاد ہے: ”وہ چاہتے ہیں کہ آپﷺ ڈھیلے پڑجائیںتو وہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں“۔ (القلم9:)
جب ہر چال چلنے کے باوجود مشرکین ناکام ٹھرے تو انہوں نے جبر و تشدد کا راستہ اپنا لیا۔ نبیﷺ اور دور اولین کے مسلمانوں پر اذیت ناک مظالم ڈھائے گئے، لیکن ان کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ان واقعات کو پڑھنے سے وقتی طور پر کانپ اٹھتے ہیں، لیکن ہمارے دلوں میں دائمی درد محسوس نہیں ہوتا۔ کیوںکہ اسلام کے لیے آل یاسر کی طرح تکالیف ہم نے برداشت نہیں کیں۔ بلال کی طرح تپتے صحرا میں ننگے بدن لیٹنے کی اذیت ہم نے نہیں جھیلی۔ عثمان بن عفان کی طرح چٹائی میں لپیٹ کر ہمیں پیٹا نہیں گیا۔ مصعب بن عمیرکی طرح ہم بھوکے ننگے نہیں رہے۔ خباب بن ارت کی طرح ہمارے بال نوچے نہیں گئے اور دہکتے انگاروں پر ہمیں لٹایا نہیں گیا۔ مہاجرین حبشہ کی طرح ہمارے لیے زمین تنگ نہیں کی گئی۔ ہمارا سماجی بائیکاٹ نہیں کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح گلے میں چادر ڈال کر ہمیں اینٹھا نہیں گیا۔ ہم پر اونٹ کی اوجھڑی نہیں ڈالی گئی۔ ہم پتھر کھا کھا کر لہو لہان نہیں ہوئے۔
ہم بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو جائے پناہ کے طور پر مدینہ کی سرزمین عطا کی۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مقدس زمین کے عطاہونے سے قبل انہیں کس قدر مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ آزمائش میں مبتلا کیے گئے۔ ان کا کڑا امتحان لیا گیا۔ لیکن وہ ہر موڑ پر کامیاب ٹھرے۔ جب بندہ آزمائش میںکامیاب ہو جائے تو وہ اپنی منزل پا لیتا ہے۔ وہ رب کے ہاں سرخرو رہتا ہے۔ اللہ نے اپنے مخلص بندوں کے لیے آسانی کے دروازے کھول دیے۔ اہل یثرب انصار بن کر وار دہوئے۔ ان سے رہا نہ گیا کہ کب تلک ہم اللہ کے رسولﷺ اور صحابہ کرام کو مشرکین مکہ کے ظلم و ستم میں مبتلا دیکھتے رہیں گے۔ بس سمجھ لیں کہ سچی لگن اور تکالیف پر صبر ہی منزل کو قریب تر کرتا ہے۔
صحیح بخاری کتاب المناقب میںخباب بن ارت کا واقعہ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ وہ خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوئے آپ کعبہ کے سائے میں ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ خباب نے مشرکین کے ہاتھوں سختیاں جھیلنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ”کیوں نہ آپ اللہ سے دعا فرمائیں“۔ یہ سن کر آپ ﷺ اٹھ بیٹھے، آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپﷺ نے فرمایا کہ ”جو لوگ تم سے پہلے تھے ان کے جسموں کو آروں سے دو ٹکڑے کیے گئے، لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت پر ہڈیوں تک پھیری گئیں۔ لیکن یہ سختیاں بھی انہیں دین سے باز نہ رکھتی تھیں“۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ اس امر کو یعنی دین کو مکمل کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاءسے حضر موت تک جائے گا اور اسے اللہ کے سواکسی کا خوف نہ ہوگا۔ لیکن تم لوگ جلدی کررہے ہو“۔
سیرت نبوی کے اس پہلو کا خلاصہ یہ ہے کہ حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ تکالیف پر صبر کرتے ہوئے لوگوں کی اصلاح کریں۔ ”یقینا یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی“۔ (الذٰریٰت:55)
2) جہاد فی سبیل اللہ
وہ منظر بھی نہایت تعجب خیز تھا جب صحابہ کرام اپنے گھر بار چھوڑ رہے تھے۔ اس لیے نہیں کہ وہ اچھی رہائش گاہ کی تلاش میں تھے۔ انہیں یہ تمنا بھی نہیں تھی کہ نئے شہر میں تجارت کے بہتر ذرائع میسر ہوںگے۔ وہ یہ آرزو بھی نہیں رکھتے تھے کہ لوگ ان کی تعریفیں کریں گے۔ انہیں انصار نے دعوت دی تھی کہ ہمارے دیس میں آﺅ۔ تم برسوں کے ستائے ہوئے ہو۔ تمہارے رہنے کے لیے مکہ کی کشادہ زمین تنگ کردی گئی ہے۔ ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ تم پر مزید ظلم روا رکھا جائے۔ چلے آو¿ ہماری طرف۔ ہم رہنے کے لیے جگہ دیںگے۔ اپنے بال بچوں سے زیادہ تمہاری حفاظت کریںگے۔ تمہارے دفاع میں ہماری تلواریں ہر وقت میانوںسے باہر رہیں گی۔
اللہ کے رسولﷺ اور صحابہ کرام نے مدینہ کی طرف ہجرت کی لیکن مشرکین کو گوارہ نہ ہواکہ مسلمان امن و سکون سے زندگی بسر کریں۔ چنانچہ انہوں نے اب بھی پیچھا نہ چھوڑا۔ ان کے خلاف خفیہ و اعلانیہ سازشیں شروع کردیں۔ یہود اور منافقین کو مسلمانوں سے جنگ کے لیے ورغلایا۔ صحابہ کرام پر کعبةاللہ کے دروازے بند کردیے۔ اسی پر بس نہ ہوا بلکہ مسلمانوں کو دھمکایا بھی کہ ”تم مغرورنہ ہونا کہ مکہ سے صاف بچ کر نکل آئے، ہم یثرب ہی پہنچ کر تمہارا ستیا ناس کر دیتے ہیں“۔
اب مدینہ پر حملے کا اندیشہ رہنے لگا۔ مسلمانوں کے سروں پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے۔ ان حالات میں دفاع سے غافل رہنا خود اپنی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قتال کی اجازت مرحمت فرمادی: ”جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے انہیں بھی جنگ کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقینا اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر رہے“۔ (الحج:39)
رسول اللہﷺ نے قریش کے تجارتی راستوں پر چھاپہ مار دستوںکے ذریعے کارروائیوں کا آغاز کیا، تاکہ قریش اپنی معیشت کو خطرے میں دیکھتے ہوئے مدینہ پر چڑھائی کے ارادے سے باز رہیں۔ یہ مختصر دستے مدینہ کے اطراف میں روانہ ہوتے رہے بعض جگہوں پر دشمن سے سامنا بھی ہوا، لیکن اب تک فریقین میں سے کسی کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔ دوسری طرف مشرکین کے سینوں میں آگ کے شعلے بھڑکتے رہے۔ وہ دشمنی پر کمر بستہ تھے۔ قریش کی عداوت کا اندازہ کرز بن جابر فہری کی کارروائی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ربیع الاول2 ہجری میں کرز مشرکین کے ایک گروہ کو لے کر مکہ سے چلا اور مدینہ کے قریب پہنچ کر ایک چراگاہ پر حملہ آور ہوا اور یہاں سے مسلمانوں کے کچھ مویشی لوٹ کر بھاگ نکلا۔ رسول للہﷺ کو جب اطلاع ملی تو آپﷺ نے صحابہ کے ہمراہ اس کاتعاقب کیا اور بدر کے اطراف میں وادی صفوان تک تشریف لے گئے، لیکن دشمن نکل چکا تھا۔ سیرت نگار اس غزوے کو غزوہ صفوان یا بدر اولیٰ بھی کہتے ہیں۔ گویا کہ یہ مشرکین کی طرف سے صاف اور کھلی جنگ کا اعلان تھا۔ اب مسلمانوں کے لیے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ مشرکین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکیں اور اس خطرے کا سد باب کریں۔
قارئین جانتے ہیں کہ قریش کے ساتھ مسلمانوں کا پہلا باقاعدہ معرکہ 17 رمضان 2 ہجری کو بدر کے مقام پر ہوا۔ اس غزوے کا سبب قریش کا ایک تجارتی قافلہ بنا۔ جب رسول اللہﷺ کو معلوم ہوا کہ ایک بڑا تجارتی قافلہ ابو سفیان کی سرکردگی میں ملک شام سے مکہ جا رہا ہے جو کہ مدینہ کے قریب سے گزر ے گا۔ تو آپﷺ نے اس قافلے کے راستے کو روکنا چاہا تا کہ قریش جان لیں کہ اہل مدینہ سے چھیڑ چھاڑ ان کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن مشرکین کی بربادی کے دن قریب آچکے تھے۔ انہوں نے مکہ میں بڑے مظالم ڈھائے تھے، جنہیں چکانے کا وقت آن پہنچا تھا۔ چنانچہ قریش مکہ کو اطلاع ملی اور وہ قافلے کی حفاظت کے لیے بدر کی طرف چل پڑے۔ وہ مصمم ارادہ کر چکے تھے کہ مسلمانوں کا خاتمہ کر کے رہیں گے۔ لیکن چشم فلک نے کچھ اور ہی منظر دیکھا ۔ آیئے جنگ بدر میں قریش مکہ کی درگت بنانے کا حال الرحیق المختوم کے صفحات سے ملاحظہ کرتے ہیں:
”ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جو شخص قریش کی شکست کی خبر لے کر مکہ میں وارد ہوا وہ حیسمان بن عبداللہ خزاعی تھا۔ لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ پیچھے کی کیا خبر ہے؟ اس نے کہا عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالحکم بن ہشام، امیہ بن خلف۔۔۔ اور مزید کچھ سرداروں کا نام لیتے ہوئے۔۔۔ یہ سب قتل کر دیئے گئے۔ جب اس نے مقتولین کی فہرست میں اشراف قریش کو گنانا شروع کیا تو صفوان بن امیہ نے جو حطیم میں بیٹھا تھا کہا‘ خدا کی قسم! اگر یہ ہوش میں ہے تو اس سے میرے متعلق پوچھو۔ لوگوں نے پوچھا صفوان بن امیہ کا کیا ہوا؟ اس نے کہا‘ وہ تو وہ دیکھو! حطیم میں بیٹھا ہوا ہے۔ بخدا اس کے باپ اور اس کے بھائی کو قتل ہوتے ہوئے میں نے خود دیکھا ہے“۔
اب ظلم کی تاریک راتیں ڈھل رہی تھیں۔ صبح امن کے طلوع ہو نے کا وقت آچکا تھا۔ آزاد فضاو¿ں میں اللہ کی کبریائی کی صدائیں گونجنے لگی تھیں۔ کیونکہ مدینہ میں اسلامی معاشرے کی بنیادیں پڑ چکی تھیں۔ اس نوزائیدہ مملکت میں قیام امن کی خاطر رسول اللہﷺ نے یہودیوں سے بھی معاہدے کیے۔ دیگر قبائل سے بھی یہی مطالبہ تھا کہ ہنگامہ آرائی اور کشت و خون سے باز رہو۔ مدینہ پر بیرونی جارحیت کی صورت میں سب مل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ ہاں قریش کو پناہ نہیں دیںگے۔ کیونکہ وہ اول روز سے اسلام دشمنی میں پیش پیش تھے۔ وہ امن نہیں خون خرابے کے خواہش مند تھے۔ گویا کہ آپﷺ کی جنگوں کا مقصد یہ تھا کہ فتنے کو جڑ سے کاٹ کر امن و امان کی فضا قائم کی جائے۔ اس پہلو کو سمجھنے میں اکثر لوگ غلطی کا شکار ہوئے ہیں۔ آج جہاد کے متعلق لوگوں کے دل و دماغ میں مختلف النوع افکار تقویت پا رہے ہیں۔ مناسب یہی ہے کہ قدرے تفصیل سے اس پر بحث کی جائے تاکہ جہاد فی سبیل اللہ کے نفسِ مضمون اور سیرت نبوی کے اس اہم پہلو کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
غلطی کے شکار طبقے:
مجموعی طور پر دو طبقے ایسے ہیں جو جہاد فی سبیل اللہ کے متعلق غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ پہلا طبقہ وہ ہے جو جہاد کو دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے۔ اس میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو غیر مسلم ہیں اور اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہیں۔ جیسا کہ پوپ بینڈکٹ نے ستمبر 2006ءکو جرمنی میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ محمدﷺ نے ”تلوار کے زور پر اسلام کو پھیلایا ہے“۔ دراصل اس قسم کے لوگ جہاد کے مفہوم سے ہی واقف نہیں۔ انہیں دہشت گردی اور جہاد میں فرق کیسے نظر آئے۔ وہ جانتے ہی نہیںکہ رسول اللہﷺ کی سیرت کیا ہے۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ ”دین میں کوئی زبردستی نہیں“۔ (البقرہ:256)
اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ دین کے راستے میں فتنہ یا رکاوٹ بننے سے باز رہے۔ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد امراءوسلاطین کو دعوتی خطوط روانہ کیے۔ آپﷺ نے ان خطوط میں بادشاہوں کو مخاطب کرکے کہا ﴾اَس±لِم± تَس±لَم±﴿ یعنی ”مسلمان ہو جاﺅ، سلامتی پاجاﺅ گے“۔ اگر اس کے برعکس تم نے اعراض کیا تو تمہاری رعایا کے اسلام قبول نہ کرنے کا گناہ بھی آپ کی گردن پر ہوگا۔ غور فرمائے رعایا کے اسلام قبول نہ کرنے کا گناہ بادشاہ کی گردن پر کیوں ہو گا؟ اس لیے کہ بادشاہ ان کے قبول اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اسلام اس بات کی مذمت کرتا ہے کہ دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے لوگوں کو اس کی صداقت بھری دعوت پر غور و فکر کا موقع ہی نہ دیا جائے۔
اسی مضمون کا ایک خط رسول اللہﷺ نے بحرین کے حاکم منذر بن ساویٰ کو لکھا۔ انہوں نے جواب میں تحریر کیا کہ میں نے آپ کا خط اپنی رعایا کو سنایا، ان میں سے بعض اسلام میں داخل ہوگئے جبکہ بعض نے اعراض کیا۔ مزید یہ کہ میری سلطنت میں مجوسی اور یہودی بھی آباد ہیں ان کے بارے میں آپﷺ کا کیا حکم ہے۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ رسول اللہﷺ نے دوسرا خط روانہ کیا، جس میں آپﷺ نے ان کے نیک طرز عمل کو سراہا اور فرمایا کہ ”جب تک تم اصلاح کی راہ اختیار کیے رہوگے ہم تمہیں تمہاری ذمہ داریوں سے ہرگز معزول نہ کریںگے اور جو شخص یہودیت یا مجوسیت پر قائم رہے، اس سے جزیہ لیا جائے“۔ یعنی ہمیں سلطنت سے غرض نہیں، آپ کا عہدہ بر قرار رہے گا، بشرطیکہ اصلاحی طرز عمل اختیار کیے رکھو اور شر و فساد سے گریز کرو۔ یہاں اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ جو شخص اپنے مذہب پر قائم رہے، اس سے جزیے کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے؟ عرض یہ ہے کہ اسلام میں زمیوں سے جزیہ وصول کیا جاتا ہے اور اس کے عوض ریاست ان کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ نہ تو ان سے فوجی خدمات لیتیس ہے اور نہ ہی ان پر کوئی اور بوجھ لادا جاتا ہے۔ بس یہ سمجھ لینا کہ اسلام کوئی رعایت نہیں دیتا، انتہائی غلط ہے۔ اسلام نے جس قدر زمیوں کو حقوق فراہم کیے ہیں، دنیا کے دیگر مذاہب و ادیان اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
اب دوسرے طبقے کو زیر بحث لاتے ہیں۔ اس دوران سیرت نبویﷺ کے دیگر سرایا و غزوات کا تذکرہ بھی ہوتا رہے گا، تاکہ اس پہلو کو بھی سمیٹا جاسکے۔ ہوسکتا ہے قارئین اس انداز کوپسند نہ کریں کہ سیرت کے مضمون میں اس بحث کو چھیڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں ابتداءمیں کہہ چکا ہوں کہ سیرت النبیﷺ کے موضوع پر ضخیم کتابیں مرتب ہوچکی ہیں، اس لیے پہلو بہ پہلو روایتی انداز سے وہی واقعات دہرانے کی ضرورت نہیں۔ تفصیل کے طالب کتب سیّر کی طرف رجوع کریں۔ اس غیر روایتی انداز بیان کا مقصد یہ ہے کہ سیرت کی روشنی میں افکار و خیالات کو درست کیا جائے۔ جب تک ہر معاملے میں سیرت رسولﷺ سے رہنمائی نہیں لیں گے تو غلطیوں کی اصلاح کیسے کریں گے؟
بحرحال دوسرے طبقے کی بات کررہے تھے۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ جہاد اللہ کا حکم ہے، لیکن اس بات کا علم نہیں رکھتے کہ جہاد کس کے خلاف کیا جائے۔ یعنی پہلے گروہ کے برعکس وہ جہاد کو دہشت گردی نہیںکہتے۔ وہ جانتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی سیرت طیبہ جہاد کا درس بھی دیتی ہے، لیکن سیرت سے یہ رہنمائی لینا بھول گئے کہ آپﷺ نے کن لوگوں کے خلاف تلوار اٹھائی ہے اور کن لوگوں سے درگزر فرمایا ہے۔
رسول اللہﷺ کے سرایا و غزوات کو دیکھا جائے تو ان جنگوں کو چار زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے گروہ میں قریش مکہ شامل ہیں، جن کے ساتھ بدر، احد اور احزاب وغیرہ جنگیں لڑی گئیں۔ دوسرا گروہ یہودیوں پر مشتمل ہیں، مدینہ میں ان کے تین قبیلے تھے۔ بنو قینقاع اور نضیر یکے بعد دیگر ے جلا وطن کیے گئے اور بنو قریظہ احزاب کے بعد اپنے انجام کو پہنچے۔ علاوہ ازیں جنگ احزاب میں یہودیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ غزوہ خیبر کے موقع پر ہوا۔ تیسرا گروہ عیسائیوں کا ہے،8 ہجری میںموتہ کے مقام پر عیسائیوں کے عظیم لشکر کے ساتھ مسلمانوں کا پہلا معرکہ ہوا۔ قیصر روم کی فوجوں سے ٹکرانے کے لیے تبوک کے میدان میں خود رسول اللہﷺ نے 20 روز قیام کیا۔ آپﷺ نے اپنی زندگی کا آخری لشکر بھی رومیوں کے خلاف اسامہ بن زید ؓ کی سرکردگی میں روانہ فرمایا تھا۔ چوتھے گروہ میں جزیرہ عرب کے دیگر مشرک قبائل شامل ہیں، جیسا کہ جنگ احزاب میں بنو غطفان اور غزوہ حنین میں بنو ثقیف وغیرہ۔ احزاب سے قبل اور ما بعد مختلف قبائل مشرکین کے ساتھ جو جنگیں لڑی گئیں وہ مشرک بھی اسی گروہ میں شامل ہیں۔
سیرت النبیﷺ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو گروہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے تھے، آپﷺ نے مدافعت کرکے ان کو نیست و نابود کردیا، اور جو قومیں اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے ظلم و شرک کو جاری رکھے ہوئے تھے، انہیں بھی تلوار کے ذریعے سدھار دیا۔ لیکن آپﷺ کا سامنا ایک اور گروہ سے بھی ہوا تھا۔ وہ گروہ جس نے مسلمانوں کو نقصان سے دوچار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جو عین لڑائی کے موقع پر دشمن کا پلہ بھاری کرنے کے لیے مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ گئے۔ جو میدان جہاد میں ڈٹے رہنے والے صحابہ کرام کا حوصلہ توڑنے کے لیے مایوس کن باتیںکرتے تھے۔ جنہوں نے آپﷺ اور آپ کے اہل گھرانہ کو سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کیے رکھا۔ جنہوں نے یہ بکواس بھی کی تھی کہ ہم عزت والے ان ذلیلوں کو (نعوذ بااللہ) مدینہ سے نکالیں گے۔
جی ہاں! یہ پانچواں گروہ منافقین کا ہے۔ اس گروہ کے کرتوتوں سے سب واقف ہیں۔ جب عمر ؓ نے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی گردن اڑانے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے فرمایا کہ عمر! یہ کیسے مناسب رہے گا کہ لوگ کہیں گے کہ محمدﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کررہا ہے۔ ان منافقین کو کلمے نے بچالیا تھا، کیونکہ وہ کلمہ توحید کے اقراری تھے۔ ان کے دل اسلام پر آمادہ نہ تھے۔ وہ اعمال کے لحاظ سے بھی گئے گزرے تھے۔ لیکن ان کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی گئی۔ لہٰذا وہ لوگ اپنی اصلاح کریں جو اسلام کے نام پر ضعیف الا عتقاد اور اعمال کے لحاظ سے کمزور مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں، اور ان کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔
وقت کی ضرورت:
ہر شخص تبدیلی چاہتا ہے۔ سب کی آرزو یہی ہے کہ اسلام کا غلبہ ہوکر شرک و معصیت اور ظلم و جبر کا خاتمہ ہو جائے۔ لیکن یاد رکھیے! ہر وہ نظریہ جو انسانی سوچ کی پیداوار ہو، ناکام ہے۔ وہ معاشرے میں تبدیلی نہیں لاسکتا۔ غور کریں کہ تہذیب و تمدن سے عاری عربوں کی زندگی کیسے تبدیل ہوئی؟ وہ قوم جس کا شمار و حشیوں کی فہرست میں ہوتا تھا، وہ دنیا کی رہنمائی کرنے والے کیسے بنی؟ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ ان کی زندگیاں تعلیمات نبوی کی بدولت تبدیل ہوئی تھیں، اور وہ اسی راہ پر چلتے ہوئے آدھی دنیا کے حکمران بنے تھے۔ بس سمجھ لے کہ اسی طریقے پر آج بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ لہٰذا یہ کہہ دینا کہ اب وہ دور نہیں رہا۔ تبدیلی کے دیگر طریقے بھی ہیں۔ ہمیں وہ اپنانے چاہئیں، انتہائی غلط ہے۔ غیروں کے نظریات کو اپنا لینا یا حکمرانوں کی تکفیر کرکے خونیں انقلاب کے ذریے تختے الٹ دینا، ہماری ضرورت نہیں۔ نبی اکرمﷺ رہتی دنیا تک نبی مبعوث ہوئے ہیں۔ آپﷺ کی سیرت کا ہر پہلو آج بھی قابل عمل ہے۔ اسلامی نظام حکومت کے خواہش مند نظریات و افکار اور عقائد و اعمال کی درستگی کے لیے اصلاح کا طریقہ اختیار کریں، اور جہاں مسلمان آباد ہیں ان خطوں کو محفوظ تر بنانے کے لیے جغرافیائی سرحدوںکی حفاظت کی جائے۔ تاکہ مسلمان کفار کے ظلم و ستم سے محفوظ رہ کر، آزاد فضاو¿ں میں ایک اللہ کی عبادت کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر قرون اولیٰ کے مسلمان سرخرو ٹھرے۔ دعوت و جہاد کے اسی منہج کو اپنا نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
farooqazam620@yahoo.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...

تعلیمی ادارے کورونا کے پھیلاؤ کا باعث نہیں بن رہے: اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے کورونا...

کرونا کے بڑھتے کیسز، سندھ کے محکمہ داخلہ نے نئی گائیڈ لائنز جاری کردیں

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے کرونا ایس او پیز سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری کردیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی...

کراچی سمیت سندھ بھر میں موٹر سائیکل ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے 12 ربیع الاول کے باعث کراچی سمیت سندھ بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پاپندی...