Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی کی چند خوبصورت مقامات کی ڈرون فوٹیج

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور آباد شہر ہے۔ سابقہ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، یہ ایک ممکنہ تجارتی...

جامعہ کراچی کی پوائنٹس سروس

وفاقی سطح پر قائم تعلیمی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر...

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

گرم درجہ حرارت نے سیاسی میدان بھی گرما دیے (ابن شاہ آفریدی)

mqm-jalsa246کراچی میں ماہ اپریل کے آغاز کے ساتھ ہی جوں جوں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا گیا، ویسے ہی سیاسی گہما گہمی بھی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ شہر قائد میں اپریل کے ابتدائی تین ہفتے این اے 246 کے ضمنی انتخاب کی وجہ سے خوب سیاسی گہما گہمی میں گزرے۔ متحدہ قومی موومنٹ، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی انتخابی مہم اور بڑے جلسوں پر نہ صرف اہالیان کراچی کی نظریں مرکوز تھی، بلکہ ملک بھر کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں بھی ان کی مہم کو باریک بینی سے دیکھا گیا۔
ضمنی انتخاب کے اختتام کے اگلے ہی روز شہر کی مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر مختلف دینی جماعتوں کی جانب سے تحفظ حرمین شریفین ریلی نکالی گئی۔ گرو مندر سے برآمد ہونے والی ریلی کا اختتام تبت سنٹر پر ہوا۔ جہاں جلسہ عام سے اہلسنت و الجماعت کے صدر اورنگ زیب فاروقی، جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ، جامعہ بنوریہ سائٹ کے مہتمم مفتی محمد نعیم سمیت دیگر علمائے کرام و مذہبی رہنماﺅں نے خطاب کیا۔ مذکورہ ریلی کے دو دن بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے لیاری کے ککری گراﺅنڈ میں بڑے جلسے کا اہتمام کیا، جس سے پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔
JUI-F-Rally-1mayچند دن بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) نے سہراب گوٹھ سے وزیر اعلی ہاوس تک ریلی کی تیاریاں شروع کی۔ جے یو آئی کی کثیرالمقاصد ریلی اگرچہ تحفظ حرمین، تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ مدارس کے نام پر نکالی گئی، تاہم یہ کراچی میں سیاسی قوت کا شاندار مظاہرہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ چونکہ ذرائع ابلاغ میں یمن کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جلسے کو سعودی عرب کی حمایت سے زیادہ سیاسی ایونٹ سمجھا جا رہا ہے۔ ریلی سے دو روز قبل جمعیت علمائے اسلام سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ”فروری میں سکھر اور اپریل میں حیدر آباد کی بڑی ریلیوں کے بعد یکم مئی کو کراچی میں بھی بڑی ریلی نکالی جائے گی، جس میں 10 لاکھ افراد شریک ہوں گے“۔
جمعیت علمائے اسلام کا جلسہ گزشتہ جمعے کو ہونے والے جلسے سے بڑا تھا، تاہم دس لاکھ کا مجمع قرار دینا لفظ ”ملین“ کی توہین ہوگی۔ انتظامی اور سیکورٹی نقطہ نظر سے جلسے کے انتظامات بہتر تھے۔ شرکاءسے مولانا فضل الرحمن، علامہ غفور حیدری، راشد محمود سومرو کے علاوہ مفتی نعیم نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ چونکہ جے یو آئی کا تھا، اس لیے سوائے مفتی نعیم کے کسی اور جماعت کا کوئی عہدیدار شریک نہیں تھا۔ اسٹیج تبت سنٹر سے ذرا پیچھے گل پلازہ کے سامنے بنایا گیا تھا، جبکہ دونوں روڈ کیپری سینما تک بھرے ہوئے تھے۔ جلسے میں مدارس کے طلبہ کی نمائندگی سب سے زیادہ تھی، بلکہ مکمل جلسہ انہی پر مشتمل تھا۔ جس میں کراچی کے علاوہ اندرون سندھ سے بھی بڑے قافلے شامل ہوئے۔ سیکورٹی انتہائی سخت رکھی گئی تھی۔ اسٹیج تک پہنچنے کے لیے صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایم جناح روڈ نمائش چورنگی سے تبت سنٹر تک مکمل بند تھا۔ ہر گلی میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی، جہاں پولیس کے علاوہ جے یو آئی کے خاکی وردی میں ملبوس رضاکار تعینات تھے اور کسی کے ساتھ کسی قسم کی رعایت پر تیار نہیں تھے۔ اسٹیج کو بھی باوردی رضاکاورں نے حصار میں لے رکھا تھا۔ گزشتہ جلسے کی بہ نسبت شرکا کو بنائے گئے پنڈال سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔
ریلی پہلے سہراب گوٹھ سے وزیر اعلی ہاوس تک ترتیب دی گئی تھی۔ جس کی انتظامیہ نے اجازت نہیں دی، وزیر اعلی ہاوس جانے کی وجہ خالد محمود سومرو کے قتل کے پانچ ماہ گزرنے کے باوجود قاتلوں کی عدم گرفتاری تھی۔ یعنی جو یو آئی کی قیادت ایک ہی جلسے سے کئی مقاصد پورے کرنا چاہتی تھی۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں نے بھی جلسے کو بڑا قرار دیا، لیکن جے یو آئی کے لیے بڑا جلسہ کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، مدارس کے اسی فیصد طلبہ اور اساتذہ ان کے پیروکار ہیں۔ خوبی کی بات یہ بھی تھی کہ یکم مئی کو شہر کراچی کا درجہ حرارت 43 سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا، پھر بھی شرکاءکا اس قدر بڑی تعداد میں جمع ہونا بڑی بات ہے۔
traffic jamشہر کراچی میں سیاسی جلسے جلوس اور قوت کا مظاہرہ معمول بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر جلسے جلوس اور ریلیوں کا انعقاد کیا صرف اہالیان کراچی کی قسمت میں ہی لکھا ہے۔ شہر کی مصروف شاہراہیں بند ہونے کے سبب شہریوں کی پریشانی میں اضافے سے سیاسی و مذہبی قائدین بھی آگاہ ہیں اور مسند اقتدار پر براجمان حکمران بھی۔ سیاسی جلسے جلوس جمہوری معاشرے میں قابل گرفت نہیں سمجھے جاتے، لیکن ان کی حدود متعین کرنے پر بھی کوئی قدغن نہیں ہونا چاہئے۔ جس طرح قوت کا مظاہرہ ضروری ہے، ویسے ہی عوام کی بھلائی کا خیال رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ شہر قائد کے باسی ابتدا سے مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ خدارا ان کے شہر اور سڑکوں کو نوگوایریاز بننے سے بچایا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ حکومت عوام کے اس مطالبے کو پورا کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے؟

1 COMMENT

  1. کراچی میں جلسے عوام کا مقدر بن چکے ہیں، کسی کا کھانا ہضم نہ ہو رہا ہو اس نے بھی اگلے دن کراچی میں جلسے کی کال دے دینی ہے، پہلے ایم کیو ایم کا زور تھا تو آئے دن ہڑتال کی کال ملتی اور کراچی کی عوام کا جینا محال ہو جاتا، اور اب جلسے کر کے ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے عوام کے لیے بناعث مصیبت بنا دیا جاتا ہے۔۔
    جہاں تک اب دینی جماعتوں کے سعودی یمن تنازعے کے حوالے سے جلسے جلوس کرنے کی بات ہے تو یہ سارا معاملہ فنڈنگ کی بحالی کا ہے، سعودی حمایت میں جلسے کرنا انکی مجبوری ہے، ہاں تب مجبوری نہ سمجھا جاتا جب یہ امام کعبہ کی آمد سے پہلے جماعۃ الدعوۃ کی طرح کھل کر جلسے کرتے اور سعودی حکومت کو حمایت کا احساس دلاتے مگر ایسا نہیں کیا۔
    آپ کی بات سے اختلاف نہیں ہے کہ یہ لوگ جلسے کے دوران اپنے مدارس کے طلبا کی اکثریت کو لاتے ہیں، کہنا تو یہ چاہیے کہ یہ لوگ دین کو سیاست میں استعمال کر رہے ہیں۔۔

Comments are closed.

Open chat