Monday, October 26, 2020
Home کالم /فیچر وہی ہوا، جو 93ء میں PIF کے ساتھ ہوا تھا؟ (روف طاہر)

وہی ہوا، جو 93ء میں PIF کے ساتھ ہوا تھا؟ (روف طاہر)

کراچی کے حلقہ 246 میں ’’مقابلہ‘‘ دوسری پوزیشن کے لئے تھا(ایم کیو ایم کہیں آگے نکل گئی تھی)۔ خیال تھا، دوسری پوزیشن کے لئے تحریکِ انصاف اورpakistan_elections جماعتِ اسلامی کے مابین زور دار رن پڑے گا لیکن یہ معرکہ تحریکِ انصاف بآسانی جیت گئی۔ اس کے تقریباً 25ہزار ووٹوں کے مقابلے میں جماعت صرف 9 ہزار ووٹ حاصل کر پائی۔ تو کیا جماعت کے ساتھ وہی ہوا، جو 1993 میں قاضی حسین احمد صاحب کے پاکستان اِسلامک فرنٹ کے ساتھ ہوا تھا؟ جب جماعت کا ووٹر نوازشریف کی مسلم لیگ کی طرف چلا گیا تھا کہ اس کے خیال میں مقابلہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان تھا اور اسلامک فرنٹ کو ووٹ دینے کا مطلب پیپلز پارٹی کی کامیابی کی راہ ہموار کرنا تھا۔ قرب و جوار ہی میں نہیں ، خود منصورہ کے اندر کی فضا بھی اس تاثر سے محفوظ نہ تھی۔ بطور مثال ایک دلچسپ واقعہ، لاہور کے ایک حلقے میںجماعتِ اسلامی کے لیاقت بلوچ اور پیپلز پارٹی کے جہانگیر بدر جیسی قد آور شخصیتوں کے مقابلے میں مسلم لیگ نے ایک غیر معروف اُمیدوار طارق بانڈے کو میدان میں اُتارا تھا۔ یہاں سے 1985 کا غیر جماعتی الیکشن لیاقت بلوچ جیتے تھے، 1988 میں وہ پیپلز پارٹی کے خواجہ طارق رحیم کے مقابلے میں ہار گئے۔ 1990 کے الیکشن میں ان کے پاس پھر آئی جے آئی کا ٹکٹ تھا۔ سیاسی مخالفین محترمہ کی 20ماہ کی حکومت کے خلاف کرپشن کے الزامات کا ایک طوفان اُٹھانے میں کامیاب رہے تھے۔’’ ادارے‘‘ انہیں سیکورٹی رسک قرار دے چکے تھے۔ادھر پنجاب میں نوازشریف حکومت کی کارکردگی نے بھی پیپلز پارٹی کو بہت پیچھے دھکیل دیا تھا، چنانچہ 1990کے الیکشن میں لیاقت بلوچ اینٹی پیپلز پارٹی الائنس(آئی جے آئی) کے ٹکٹ پر بآسانی یہ سیٹ جیت گئے۔ 1993میں بابائے اسٹیبلشمنٹ صدر غلام اسحاق خاں کے ہاتھوں نواز شریف حکومت کی برطرفی نے معزول وزیراعظم کے حق میں ہمدردی کی ایک لہر اُٹھا دی تھی۔ تب قاضی صاحب نے پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے ایک تیسری قوت میدان میں اُتاری لیکن جماعت کا روایتی ووٹر باغی ہوگیا کہ اس کا اصل ہدف پیپلز پارٹی تھی۔ ستم ظریفی یہ کہ کہیں کہیں تو جماعت کے پولنگ ایجنٹوں کی ہمدردیاں بھی نوازشریف (اور اِن کی مسلم لیگ) کے ساتھ تھیں۔ خواتین کے ایک پولنگ اسٹیشن پر خاتون ووٹر لیاقت صاحب کی پولنگ ایجنٹ کی شناسا نکل آئی کہ درسِ قرآن میں کبھی کبھار ملاقات ہوجاتی تھی۔ پولنگ ایجنٹ نے اسی شناسائی کے ناطے پوچھ لیا، ووٹ کسے دینے آئی ہو؟۔۔۔ لیاقت بلوچ کو۔ ۔۔پھر تو تم جہانگیر بدر کو جتانے آئی ہو۔ خیال کی یہ لہر ملک گیر تھی، چنانچہ قاضی صاحب کی زیرقیادت اسلامک فرنٹ اور ان کی تخلیق پاسبان تنظیم کی زبردست انتخابی مہم کے باوجود جماعتِ اسلامی ملک بھر میں صرف تین نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اِن میں دو نشستیں سوات سے اور ایک کراچی سے تھی(اِسی حلقے 246 سے ) یاد رہے کہ تب ایم کیو ایم نے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف بطور احتجاج قومی اسمبلی کے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
تو کیا اب کراچی کے حلقہ 246 میں بھی تاریخ نے خود کو دہرایا ؟ جماعت سے ہمدردی رکھنے والے ہمارے دوست کراچی کے ایک اردو اسپیکنگ دانشور کے بقول، یہ گزشتہ انتخابات کے بائیکاٹ کی سزا کا تسلسل ہے ۔ جماعت نے 2008 کے عام انتخابات کا ملک بھر میں بائیکاٹ کیا تھا، ( جس میں تحریکِ انصاف بھی اس کی ہم سفر تھی)۔ 2013 میں منور حسن جماعت کے امیر تھے اور انہیں گزشتہ انتخابات کے بائیکاٹ کے نقصان کا اندازہ (اور اعتراف بھی) تھا، چنانچہ وہ مسلسل یہ بات کہتے رہے ، کہ انتخابات جیسے بھی ہوں، ان میں حصہ لینا چاہیے اور میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیے کہ ایسے میں کوئی اور اس خلا کو پُر کرنے کے لئے آجاتا ہے۔ لیکن 11مئی 2013 کو پولنگ کے صرف 2گھنٹے بعد جماعت کراچی میں (ایم کیو ایم کی دھونس دھاندلی کے خلاف بطور احتجاج ) بائیکاٹ پر چلی گئی لیکن تحریکِ انصاف میدان میں موجود رہی اور جماعت کا ووٹر ، ایم کیو ایم کی مخالفت میں تحریکِ انصاف کی طرف چلا گیا۔ صرف دو گھنٹے کی پولنگ میں اس حلقے میں جماعت کے حق میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد 10ہزار تھی۔ تحریکِ انصاف نے 32ہزار ووٹ حاصل کر لئے۔ (2002 کے الیکشن میں انہی راشد نسیم نے یہاں سے تقریباً 33ہزار ووٹ حاصل کئے تھے)۔اور گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخاب میں یہاں سے تحریکِ انصاف کے عمران اسماعیل نے 24831 اور جماعت کے راشد نسیم 9058 ووٹ حاصل کئے۔ کہا جاتا ہے ، یہ جماعت کے کمٹڈ ورکر تھے۔ جماعت کا عام ووٹر یا تو گھر سے نکلا ہی نہیں ، جو نکلے انہوں نے ایم کیو ایم کے خلاف پی ٹی آئی کو قابلِ ترجیح سمجھا۔ ورنہ تنظیمی لحاظ سے اس حلقے میں جماعت نے تحریک پر اپنی برتری کا نقش اس روز بھی جمایا کہ اس کے پولنگ ایجنٹ ہر بوتھ پر موجود تھے جبکہ تحریکِ انصاف کا معاملہ یہ نہیں تھا۔پولنگ کیمپوں کے لحاظ سے بھی تحریک پر جماعت کا پلہ بھاری تھا کہ پورے حلقے میں تحریک کے صرف20 پولنگ کیمپ تھے، جبکہ جماعت کے کیمپوں کی تعداد 150تھی(ایم کیو ایم کے 550کیمپ)۔
کراچی میں 1986 کے بعد سے ایم کیو ایم کے غلبے کے باوجود بعض حلقوں میں جماعت اسلامی ہی دوسری طاقت کے طور پر موجود رہی۔ اس نے اس کی بھاری قیمت بھی چکائی۔ 246 بھی انہی حلقوں میں تھا جہاں اب جماعت صرف 9ہزار ووٹوں تک محدود ہوگئی اور اینٹی ایم کیو ایم ووٹر نے جماعت کی بجائے تحریکِ انصاف کو اپنی چوائس بنایا۔کراچی قیامِ پاکستان کے بعد سے جماعتِ اسلامی کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ تو کیا پنجاب کے بعد کراچی میں بھی زمین اس کے پاؤں سے نکل چکی؟ یہ وہ صورتِ حال ہے جس پر جماعت کی قیادت کو گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ جہاں تک ایم کیو ایم کا تعلق ہے،ا س نے اپنی تاریخ کے مشکل ترین حالات میں یہ الیکشن لڑا، لیکن یہی حالات اس کے لئے نئی توانائی کا باعث بن گئے۔ کہا جاتا ہے ، مہاجروں کے خیال میں ان کی سروائیول کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا، ایم کیو ایم نے بڑے مؤثر طریقے سے اس احساس کو اُبھارا اور اس کے اثرات کو مجتمع اور منظم کرلیااور یہ منطق ناکام رہی کہ آپریشن کسی جماعت کے نہیں، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے۔ یہ کراچی کی تاریخ کے منصفانہ ترین انتخابات میں سے ایک انتخاب تھا جس میں پولنگ کے روزکوئی دھونس دھاندلی نہیں چلی اور ایم کیو ایم نے 95 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر لئے جو تحریکِ انصاف اور جماعت کے مجموعی ووٹوں سے بھی تین گنا تھے۔ عمران خاں کیا دلچسپ دلیل لائے ہیں!ایم کیو ایم نے گزشتہ الیکشن میں ایک لاکھ 39ہزار ووٹ حاصل کئے تھے تب اس نے دھاندلی نہیں کی تھی تو اب اس کے ووٹوں میں 45 ہزارووٹوں کی کمی کیوں؟ لیکن معاف کیجئے، تب ٹرن آؤٹ 55فیصد کے لگ بھگ تھا جو اس بار 35 فیصد رہا اور یہ بھی کہ اُس وقت ایم کیو ایم کے مخالف (تحریک اور جماعت) کے مجموعی ووٹ 43 ہزار تھے، یہ اب 33ہزار کیوں؟
باقی رہی خوف توڑنے کی بات، تو معاف کیجئے یہ کسی اور نے نہیں، آپریشن نے توڑا کہ جب نائن زیرو اور خورشید میموریل ہال بھی محفوظ نہ رہا۔ یا پھر اس کا کریڈٹ جماعت سمیت ان عناصر کو جاتا ہے جنہوں نے ہر طرح کے جبر کا مقابلہ کیا، لیکن ایم کیو ایم کے سامنے سرنڈر نہ کیا۔ تاریخ اس حوالے سے اس مردِ درویش کوبھی کیسے بھول سکتی ہے، جس کی جماعت تقسیم در تقسیم کا شکار ہوگئی، کراچی میں کیسے کیسے رفقا اس کا ساتھ چھوڑ گئے، لیکن ایم کیو ایم کے خلاف اس کی للکار ، اسکی پکار جاری رہی۔۔۔ جناب شاہ احمد نورانی!!
خوف توڑنے کے دعویداروں کا تو یہ حال کہ 25دسمبر 2011کو کراچی میں پہلا ’’سونامی جلسہ‘‘ کیا، تو ایم کیو ایم کے خلاف ایک لفظ تک نہ کہا(جاوید ہاشمی کے بقول ، کراچی میں اس جلسے کے بعد عمران خاں نے ایم کیو ایم کی قیادت کا فون پر شکریہ ادا کیا)۔ تب کپتان کا عذر تھا، میں اکیلا کس کس سے لڑوں؟ میرا اصل ہدف مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی ہے، زیادہ محاذ کیوں کھولوں؟ ابھی ساڑھے چار ماہ قبل دسمبر میں کراچی میں دوسرا جلسہ کیا، توا سمیں بھی آپا زہرہ شاہد کے ’’قاتلوں ‘‘ کی طرف اشارہ تک نہ کیا۔ اور اب جو حلقہ 246کے ضمنی انتخاب میں عمران اسماعیل نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز ہی نائن زیرو سے کیا، تو بعض ستم ظریف اس جرأت وبہادری کے لئے اشارہ کسی اور طرف کرتے رہے اور بعض نکتہ وروں کا یہ نکتہ بھی کہ عین آپریشن کے دوران نبیل گبول سے استعفیٰ کس نے دلوایا؟ اور کیا یہ بھی کسی حکمت ِ عملی کا حصہ تھا؟پے درپے مشکلات سے دوچار ایم کیو ایم کو اس کے مضبوط ترین حلقے سے محروم کردینے کی حکمتِ عملی۔۔۔ یہ الگ بات کہ یہاں لینے کے دینے پڑ گئے۔

بشکریہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...