2018 گزر گیا، بلدیاتی وشہری مسائل حل نہ ہوئے

karachi problemsکراچی (خصوصی رپورٹ)
2018 گزر گیا، بلدیاتی وشہری خدمات میں بہتری نہ لا ئی جاسکی۔ کراچی میں ایمپریس مارکیٹ و صدر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن بلدیہ عظمی کراچی کا بڑا کارنامہ رہا۔ کے ایم سی اور ضلعی بلدیات سارے سال فنڈز کی کمی کا رونا روتے اورکام کرتے رہے۔ سعید غنی نے وزیر بلدیات سندھ کی حیثیت سے چارج سنبھالامگر وہ بلدیاتی اداروں میں بہتری لانے کے لیے کوئی قابل قدر کام نہیں کرسکے۔ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے سارے سال سیوریج کی گندگی میں شہریوں کو زندگی گزارنے پر مجبور رکھا۔ اس وقت بھی شہر کے 70 فیصد علاقے سیوریج کی گندگی میں مبتلا ہیں پانی، پانی کی گونج سے پورا شہر لرز رہا ہے۔
ضلع غربی کو پورے سال بدترین پانی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ بلدیاتی ادارے نہ کوئی قابل ذکر سڑک تعمیر کر سکے اور نہ ہی پارک بنے ان کے زیادہ تر کام لیپا پوتی سے زیادہ دکھائی نہ دیے۔ آوٹ ڈور ایڈورٹائزمنٹ، چارجڈ پارکنگ، روڈ کٹنگ سمیت دیگر شعبوں میں کرپشن بے لگام رہی۔ روڈ کٹنگ کے بلاضرورت اجازت ناموں نے شہر کے انفراسٹرکچر کو زبردست نقصان پہنچایا اس سلسلے میں بلدیاتی اداروں کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئیں جو ڈھکوسلہ ثابت ہوئیں۔ ”روشنیوں کے شہر“ پر قدغن لگانے کے لیے اسٹریٹ لائٹس لگانے اور درست کرنے پر معمور محکمے بدترین کارکردگی کے مرتکب پائے گئے۔ کراچی کے بیش تر پلوں پر رات کے اوقات میں روشنی کا انتظام کرنے سے بلدیاتی ادارے گریزاں ہیں۔

سندھ حکومت نے نہ تو بلدیاتی اداروں کی فنڈنگ کو بہتر بنایااور نہ ہی انہیں ترقیاتی کاموں کے لیے ہیلپنگ ہینڈ فراہم کیا2018میں سندھ حکومت کی جانب سے کسی قسم کی ایسی گرانٹ بھی جاری نہیں کی گئی جو بلدیاتی ادارے کسی مسئلے کے حل کے لیے استعمال میں لاسکیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے اس سال ٹیپو سلطان روڈ، فلائی اوور جیسا بڑا پروجیکٹ کراچی کو دیا گیاجبکہ کچھ اسکیموں پر ابھی کام جاری ہے۔ میگا پروجیکٹس کا بلدیہ عظمی کراچی سے چھینا جانا کراچی کے شہریوں کے لیے سارا سال وبال جان بنا رہا۔ نیب و اینٹی کرپشن کی جانب سے ضلعی بلدیات میں کرپشن کے خلاف کئی کاروائیاں کی گئیں۔ ضلع غربی سے افسران کی گرفتاریوں کے بعد کئی کرپشن کے کیسز کچھ وقفے کے بعد منظر عام پر آتے رہے۔

ضلع ملیر میں بوگس بھرتیوں و کرپشن کے کیسز پر انکوائریوں کا سلسلہ اب حتمی مراحل طے کر رہا ہے۔ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ گزشتہ تین برس کی طرح اس سال بھی بیماریاں اور تعفن زدہ ماحول کا سبب بنا رہا۔ سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کراچی کے کچرے کو اٹھانے میں جزوی کامیاب ہوا۔ بورڈ کی جانب سے چار ضلعوں میں انتظام سنبھالنے کے بعد بھی اب تک صورتحال بہتر نہیں ہوئی ہے۔ سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کراچی میں جمع شدہ کچرے کو اٹھانے میں بھی یکسر ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ کراچی کے علاقوں اور ندیوں میں ہزاروں ٹن کچرا جمع شدہ کچرے کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ بورڈ کی جانب سے جو معاہدے کیے گئے ان معاہدوں پر عمل درآمدپر گزشتہ دو سال سے اجتناب برتا جا رہا ہے۔ 2018 بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کے لحاظ سے مایوس کن رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top