Friday, January 22, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

پاکستان کا وفادار اسرائیل تسلیم نہیں کرسکتا، مولانا فضل الرحمن

جمعیت علما اسلام کے  سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کراچی میں اسرائیل نامنظور ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو پاکستان کا...

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور علی زیدی میں تلخ کلامی

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر علی زیدی میں تلخ کلامی، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر...

ن لیگ پر تنقید کے بعد حکومت نے بجلی مہنگی کردی

 وفاقی وزارت بجلی کی پوری ٹیم نے پریس کانفرنس میں ن لیگ کی سابقہ حکومت پر شدید تنقید کے بعد بجلی کی قیمت میں...

ریلی اور میچ کے باعث شہر میں بدترین ٹریفک جام

شہرقائد کے باسیوں کو بد ترین ٹریفک جام کا سامنا، ذرائع کے مطابق آج 21 جنوری بروز جمعرات کو جمعیت علما اسلام کے اسرائیل...

حکومت کی ذمہ داری (روہیل اکبر)

corruption-in-pakistan-316x248 شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اور انہیں زندہ رہنے کے لیے سہولیات فراہم کرنا حکومت وقت کا کام ہوتا ہے مگر یہاں الٹ کام چل پڑا ہے عوام حکومت کو اپنے ٹیکسوں سے زندہ رکھ رہی ہے جبکہ حکومت اور حکومتی ادارے عوام کو خطرناک تباہی کی طرف دھکیل کر نہ جانے کس بات کا انتقام لے رہے ہیں ایک طرف اشرافیہ ہے تو دوسری طرف عوام ایک کا کام مزے کرنا ہے تو دوسری کا کام دنگے فساد اور مرنا مارنا بن چکا ہے ایک طرف غربت اور بے روزگاری نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں تو دوسری طرف کے لوگوں کے پاس پیسے خرچ کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے یہ ہمارے حکمرانوں کا کمال ہے کہ امیر ،پیسے والے اور حکمرانوں کے قریبی ہر جائز اور ناجائز فائدے بے دھڑک اٹھا رہے ہیں جبکہ غریب اور محنت کش افراد اخراجات کے بوجھ تلے دب کر اپنی موت آپ مر تے جارہے ہیں آج کے اس دور میں جتنی ایک فرد تنخواہ لیتا ہے اس سے وہ اپنے بوڑھے والدین کے لیے ایک دن کی دوائی بھی نہیں خرید سکتا اور رہی زندگی کی عیاشیوں کی بات وہ غریب انسان کی اب سوچ سے بھی نکل چکی ہے اب تو صبح سے لیکر شام تک ایک عام شہری کو اپنی دال روٹی اور گھر کے اخراجات کی فکرہی کہیں اور جانے کی اجازت نہیں دیتی ہمارے ادارے کرپشن کی نظر ہو چکے ہیں سرکاری ہسپتالوں میں عام انسان کے لیے ذلت اور خواری کے سوا کچھ نہیں ہے جہاں انہیں اپنا معائنہ کروانے سے لیکر ادویات کے حصول تک اور پھر ٹیسٹوںکے لیے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ بھی انتہائی ہتک آمیز ہوتی ہیں اب تو ہسپتال میں ڈاکٹروں سے چیک اپ کروانے کے لیے بھی ایم ایس کی سفارش کی ضرورت پڑتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب مریض کو ذرا دھیان سے چیک کرلیں یہی نظام ہمارے باقی کے اداروں کا ہے پولیس نے تو ہر اس غیر قانونی کام کی سرپرستی کا ٹھیکہ لے لیا ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا زریعہ بن رہا ہے حکومت نے ان سب برائیوں سے آنکھ بند کرکے غریب کو اس کے حال پر چھوڑدیا ہے ہمارے دیہات کے لوگ بدترین غربت کا شکار ہو چکے ہیں ایک وقت کی روٹی کے لیے سارا دن چوہدری کے ڈیرے کا طواف کرتے رہے ہیں لوگوں نے کئی کئی سال سے اپنی جوتیاں اور کپڑے تبدیل نہیں کیے بچوں کے پاس نیکر ہے تو شرٹ نہیں ادویات خریدنے کی سکت نہیں ہے علاج معالجہ کے لیے دم درود اور تعویزوں سے کام چلایا جارہا ہے غربت ہے کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی اور کرپشن اتنی بڑھ چکی ہے کہ کوئی غریب اپنے کسی ذاتی کام کے لیے بھی کسی کے پاس چلا جائے تو سب سے پہلے وہ کام کروانے والا پوچھے گا کہ مجھے کیا دوگے سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم ختم ہوتا جارہا ہے پرائیوٹ سکولوں میں بچوں کو پڑھانے والے اپنا پیٹ کاٹ کر ان کی فیسیں ادا کررہے ہیں چور ،ڈاکو اور فراڈیے دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ شریف اور حافظ قران افراد کو پولیس مشکوک سمجھ کر پکڑ رہی ہے اور بعد میں مظاہرین بے دردری سے تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں آگ لگا دیتے ہیں اور ہمارے ریاستی ادارے ان مظاہرین کا منہ دیکھتے رہتے ہیں اور عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آنے والے عوام کے لیے ہی پریشانی کاباعث بن کر انہیں مشکلات سے دوچار کردیتے ہیں ہم لوگ اپنے بچے کا رونا بھی برداشت نہیںکرتے اور ان ظالم لوگوں نے جیتے جاگتے انسانوں کو آگ لگا کر کتنی بڑی اذیت سے دوچار کیا ہوگا وہ تو
corruption-graphicشہادت کا رتبہ پاکر جنت میں چلے گئے ہونگے مگر ان کے والدین کی ساری زندگی جہنم بن گئی جنہوں نے پیدا کرنے سے لیکر ان کی جوانی تک کے سفر میں نہ جانے کتنی مشکلات کا سامنا کیا ہوگا اور اپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھ کر نہ جانے کیا کیا منصوبے بنا رکھے ہونگے مگر ہمارے حکومتی اداروں کے ظلم کا شکار ہو کر تشدد کا شکار ہوگئے ہمارے پاس مثال کے لیے کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جو کرپشن اور سفارش کے کلچر سے پاک ہو جہاں پاکستان اور پاکستانیوں کی فلاح وبہبود کے لیے کام کررہا ہو جہاں چور بازاری اور مک مکا کی سیاست نہ ہو پاکستان اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں پر رہنے والے انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق ان کی دہلیز پر پہنچائے جائیں نہ کہ اس لیے بنا تھا کہ ایک عام انسان سے اسکے حقوق چھین کر اسے جیتے جی موت کے منہ میں دھکیل دیا جائے اگر پاکستان کو آگے لیکر جانا ہے اور عوام کو خوشحالی کی زندگی دینا ہے تو پھر ہمیں اپنے بنائے ہوئے قانون پر عمل کرنے کے لیے چوربازاری کا راستہ روکنا ہوگا بکھری ہوئی قوم کو متحد کرنے کیلیے حکمران اپنے اندر انصاف کا نظام لائیں اپنے آپ کو ایک سچا ،مخلص اور ہمدرد پاکستانی ثابت کرنے کےلیے ملک میں عوام کو سہولیات فراہم کرنے کا جال بچھا دیں چوروں ،ڈاکوﺅں اور کرپٹ افراد کو نشان عبرت بنا کرایک مثال قائم کردیں مگر یہ سب کچھ اس وقت ہی اچھا لگے گا جب کسی کو اپنی جائز ضرورت پوری کرنے کیلیئے کسی ناجائز طریقے کے استعمال کی ضرورت نہ پڑے اس لیے سب سے پہلے عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں اسکے بعد احتساب کا نظام رائج کیا جائے ۔
rohailakbar@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat